Al-Risala · July 2009

تاثراتِ سفر

Al-Risala, July 2009, pp. 43–47

By Maulana Wahiduddin Khan

مارچ 2009 کے دوسرے ہفتے میں میں نے لکھنؤ کا سفر کیا۔ اس دوران میں دار العلوم ندوۃ العلماء گیا۔ یہاں میں اس سلسلے میں ندوہ کے کچھ تجربات کا ذکر کروں گا۔ 16 مارچ کو میں نے عصر کی نماز ندوہ کی مسجد میں ادا کی۔ نماز کے بعد میں اپنے ایک استاد سے گفتگو کر رہا تھا۔ ندوہ کے کئی اساتذہ وہاں اکٹھا ہو گئے۔ سب کی زبان پر صرف ایک بات تھی—ہمیں تم سے ایک تم ہمارے پاس الرسالہ کیوں نہیں بھیجتے۔ اس کے بعد کئی اساتذہ نے مجھ کو اپنا پتہ لکھ کر دیا اور کہا کہ مجھے ضرور الرسالہ بھجو اؤ۔ یہی تجربہ ندوہ کے طلباء سے ملاقات کے دوران پیش آیا۔ ندوہ کے ایک سینئر استاد جو کئی سال سے الرسالہ پڑھ رہے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ مختلف زبانوں میں اس وقت جرائد و رسائل کی بھر مار ہے۔ مگر قابلِ مطالعہ مواد (readable material) صرف الرسالہ میں ہوتا ہے۔ الرسالہ کے مضامین براہِ راست انسانی فطرت کو ایڈریس کرتے ہیں۔ ندوہ کے ایک دوسرے استاد سے گفتگو ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میرے تجربے کے مطابق، اُن تمام لوگوں کے لیے الرسالہ کا باقاعدہ مطالعہ کرنا لازمی طور پر ضروری ہے جو اُس کو پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جس آدمی کے ترجیحی مطالعے میں الرسالہ شامل نہ ہو، وہ زمانی بصیرت سے محروم رہے گا، وہ ہرگز’’بصیرِ زمانہ‘‘نہیں بن سکتا۔

ندوۃ العلماء میرا محسنِ علمی ہے۔ جب میں لکھنؤ جاتا ہوں تو اپنے ساتھیوں اور اپنے اساتذہ سے ملاقات کے لیے ندوہ جاتا ہوں۔ یہاں میں اس سلسلے کی صرف تین ملاقاتوں کا ذکر کروں گا۔ 16 مارچ 2009 کی شام کو میں نے ناظم ندوۃ العلماء مولانا محمد رابع حسنی ندوی (1929) سے ملاقات کی۔ مولانا محترم میرے استاد ہیں۔ میں نے اُن سے عربی ادب کا درس لیا ہے۔ زمانہ قیام (1995-1999) کے دوران میں نے مولانا کے ایک سفر نامہ (سمرقند و بخارا کی بازیافت) کی کتابت بھی کی تھی۔ 2001 میں میرا نکاح بھی مولانا نے پڑھایا ہے۔ تقریباً ایک گھنٹے تک مولانا سے

مختلف علمی اور دینی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ الرسالہ مشن سے وابستگی کے بارے میں گفتگو ہوئی تو میں نے کہا کہ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی (وفات : 1999) نے ندوۃ العلماء کے مسلک کو ایک لفظ میں ’’قدیم صالح‘‘ اور ’’جدید نافع‘‘ کہا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ: تاسست ندوۃ العلماء علی الجمع بين القديم الصالح والجديد النافع۔ ایسی حالت میں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ الرسالہ مشن سے جڑ کر میں عین ندوۃ العلماء کے مسلک (قدیم صالح، جدید نافع) پر کھڑا ہوا ہوں۔ العلماء کے مسلک کے مطابق، ’’قدیم صالح‘‘ کی معرفت میں نے ندوہ سے حاصل کی۔ ’’جدید نافع‘‘ کی معرفت میں الرسالہ مشن کے ذریعے حاصل کر رہا ہوں۔

میری بات سن کر مولانا رابع حسنی صاحب بے ساختہ طور پر مسکرائے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کی بات بالکل درست ہے۔ چوں کہ آپ سے تعلق ہے، اس لیے مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ آپ معتدل ذہن کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ سے مزید کام لے اور خصوصی توفیق عطا فرمائے۔ گفتگو کے دوران میں نے صدر اسلامی مرکز مولانا وحید الدین خاں صاحب کی ذاتی زندگی کے کئی واقعات مولانا محمد رابع حسنی ندوی صاحب کو بتائے۔ یہ واقعات تواضع اور اخلاص اور خدا کی اعلیٰ معرفت سے تعلق رکھنے والے واقعات تھے۔

میں نے ایک بات یہ کہی کہ مولانا کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے۔ مولانا ایک خالص عملی انسان ہیں۔ میں نے پایا کہ اُن کی تحریر اور ان کی حقیقی زندگی دونوں ایک دوسرے سے پوری طرح ہم آہنگ ہیں، دونوں کے درمیان میں نے کوئی فرق نہیں پایا۔ جس جنت کی طرف وہ لوگوں کو بلاتے ہیں، اُس کے وہ خود سب سے زیادہ حریص ہیں۔ جس جہنم سے وہ لوگوں کو ڈراتے ہیں، اِس سے وہ خود سب سے زیادہ ڈرنے والے ہیں۔ مختصر یہ کہ ان کی تحریریں خود ان کی اپنی زندگی کا عکس ہیں، وہ دور کے کسی شخص کا تعارف نہیں۔

میں نے اس سلسلے میں مولانا کی زندگی کے کئی چشم دید واقعات بیان کیے ۔ ان واقعات کو سن کر مولانا نے کہا کہ آپ نے مولانا وحید الدین خاں صاحب کے بارے میں جو باتیں بتائیں، وہ میرے

علم میں نہیں تھیں ۔ ان واقعات کو سن کر میرے دل میں مولانا کی مزید قدر پیدا ہوگئی ہے۔ ان کی خدمات کو قبول کرے اور اُنھیں صحت و عافیت عطا فرمائے۔ مولانا وحید الدین خاں صاحب کی ایک کتاب (ہند۔ پاک ڈائری) میں نے مولانا کی خدمت میں پیش کی ۔ مولانا نے نہایت خوشی کے ساتھ اُس کو لیا اور کہا کہ میں ضرور اِس کو پڑھوں گا۔ میں نے مولانا سے دریافت کیا کہ آپ کو الرساله مل مولانا نے کہا کہ ہاں ، الرساله بہت پابندی سے مل رہا ہے۔ اسفار کی وجہ سے وقت پر میں اس کو دیکھ نہیں پاتا، البتہ سفر سے واپسی کے بعد میں اس کو دیکھتا ہوں۔ آخر میں مولانا رابع حسنی ندوی نے سیرت رسول کے موضوع پر اپنی ایک تازہ تصنیف اپنے دستخط کے ساتھ مجھ کو عنایت فرمائی۔ کا نام یہ ہے ــــ رہبر انسانیت ۔

مغرب کی نماز کے بعد مہتمم دار العلوم مولانا سعید الرحمن الاعظمی ندوی (1934) سے ملاقات کے لیے میں ندوہ سے متصل ان کی رہائش گاہ (مکارم نگر) پہنچا۔ مولانا محترم میرے استاد ہیں۔ نے اُن سے عربی ادب اور انشاء پڑھی ہے۔ اس کے علاوہ ، مولانا سے میرے خاندانی نوعیت کے قریبی ندوہ کے زمانہ طالب علمی میں میں نے مولانا کے کچھ مضامین کی کتابت کی تھی ۔ مضامین ایک کتاب کی صورت میں شائع ہوگئے ہیں۔ اُس کتاب کا نام ہے ـــــ اُسوہ حسنہ کے آئینے ملاقات کے دوران میرے ساتھ ڈاکٹر سکندر علی اصلاحی، اور مولانا محمد آفتاب عالم ندوی (القرآن انسٹی ٹیوٹ، امین آباد، لکھنؤ) بھی موجود تھے۔

میں نے مولانا سعید الرحمن الاعظمی ندوی سے معلوم کیا کہ آپ کو الرساله مل رہا ہے۔ کہا کہ ہاں ، الرساله پابندی سے مل رہا ہے۔ مولانا نے پوچھا کہ کیا مولانا وحید الدین خاں صاحب ہر وقت غور وفکر کرتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہاں، لکھنے پڑھنے کے اوقات کے علاوہ، اُن کا مشغلہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے مسلسل غوروفکر۔

میں نے کہا کہ اپنے براہ راست ذاتی مشاہدے کی بنا پر میں کہہ سکتا ہوں کہ مولانا کی سب سے بڑی عبادت "التفکر والاعتبار" ہے۔ میری بات سن کر مولانا سعید الرحمن الاعظمی

نے کہا کہ اسی تدبر وتفکر کا نتیجہ ہے کہ الرسالہ میں اس قدر متنوع علمی اور فکری مضامین ہوتے گہرے غور وفکر کے بغیر اس طرح کے اعلیٰ مضامین نہیں لکھے جاسکتے۔ مولانا نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مولانا وحید الدین خاں صاحب المفکر الاسلامی ہیں۔ وہ بلا شبہ المفکر الاسلامی المُنتِج المبدع کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ اُن کی تحریروں میں دو چیزیں میں نے خاص طور پر دیکھی ہیں— ایک، یہ کہ وہ ہر چیز کو عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اُس سے خدا کی معرفت اخذ کرتے ہیں۔ اور دوسرے، یہ کہ وہ بظاہر سیکولر قسم کے واقعات میں بھی اسلام کی ابدیت اور اس کی حقانیت کا مثبت پہلو دریافت کر لیتے ہیں۔ مولانا سعید الرحمن الاعظمی ندوی نے بتایا کہ 1984 میں جامعہ اسلامیہ (مدینہ) میں اسلام اور عصری تحدیات کے موضوع پر مولانا وحید الدین خاں صاحب کے کچھ محاضرات ہوئے تھے۔ موقع پر میں بھی جامعہ اسلامیہ میں موجود تھا۔ میرا اور مولانا کا قیام ایک ہی ہوٹل میں تھا۔ میں نے دیکھا کہ عرب شیوخ اور علماء مولانا وحید الدین خاں سے ملاقات کے لیے ہوٹل آرہے ہیں۔ یہ لوگ ہوٹل میں داخل ہوکر پوچھتے: فی أی غرفۃ المفکر الاسلامی (مفکرِ اسلام مولانا وحیدالدین خاں کا قیام ہوٹل کے کس کمرے میں ہے)۔

عشاء سے کچھ پہلے میں مکہ گنج (سیتا پور روڈ) کے لیے روانہ ہوا۔ وہاں میںنے استادِ محترم مولا نابو سبحان روح القدس ندوی (1954) سے ان کی رہائش گاہ (مؤسسۃ القدس) پر ملاقات مولانا میرے استادِ حدیث ہیں۔ اُن سے میں نے الترمذی ثانی کا درس لیا ہے۔ میں نے مولانا کے پتے پر الرسالہ بھجوایا تھا۔ ملاقات کے دوران مولانا نے بتایا کہ الرسالہ اُن کو پابندی سے مل رہا ہے۔ مولانا ابو سبحان روح القدس ندوی نے کہا کہ ’’بہت دنوں سے میرے ذہن میں یہ سوال تھا کہ مفکر (thinker) کس کو کہتے ہیں۔ الرسالہ پڑھنے کے بعد مجھے اس سوال کا جواب مل گیا۔ الرسالہ کے صفحات میں واضح طور پر مفکرانہ بصیرت کا مطالعہ کیا۔ الرسالہ سے مجھ کو فکری رہنمائی ملی۔ الرسالہ کا مطالعہ کرنے کے بعد میرا فکری کنفیوژن دور ہوگیا۔

مولانا نے بتایا کہ اُن کے بچے انگلش میڈیم اسکول میں پڑھتے ہیں۔ روایتی اسلوب میں پیش کی جانے والی دینی تعلیم ان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتی تھی۔ اب میں روزانہ اُنہیں الرسالہ کے مضامین پڑھواتا ہوں۔ جدید ذہن کی وجہ سے وہ ان مضامین سے بہت متاثر ہورہے وہ الرسالہ کی باتوں کو فوراً اخذ (grasp) کرلیتے ہیں۔

مولانا ابو سبحان روح القدس ندوی نے کہا کہ اپنے مطالعے کی بنا پر اگر میں ایک لفظ میں مولانا وحید الدین خاں صاحب کے متعلق اپنا تاثر بیان کروں تو میں کہوں گا کہ وہ پورے معنوں میں ”مجدّد الفکر الاسلامی‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جو آدمی وقت کے اسلوب میں اسلام کا فکری مطالعہ کرنا چاہے، اُس کو چاہئے کہ وہ مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتابوں کا گہرا مطالعہ کرے۔ آخر میں مولانا ابو سبحان ندوی نے اپنی چند کتابیں مجھے عنایت فرمائیں۔ مثلاً تخریج الحدیث اور سیرت نبوی کا تربیتی پہلو، وغیرہ۔ (محمد ذکوان ندوی)

Printed page