آیت یا معجزہ
Al-Risala, August 2009, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کے پیغمبروں نے اپنے معاصرین کو جو نشانیاں دکھائیں، اُن کو عام طور پر معجزہ کہا جاتا ہے، مگر یہ اسلامی تعبیر نہیں۔ ان پیغمبرانہ واقعات کو قرآن اور حدیث میں معجزہ (miracle) کا نام نہیں دیا گیا ہے، بلکہ ان کو آیت (sign) کہا گیا ہے۔ معجزہ (miracle) کہنا گویا کہ ایسے کسی واقعے کو پیغمبرانہ ظاہر (prophetic phenomenon) قرار دینا ہے، جب کہ ایسے کسی واقعے کو آیت (sign) کہنا اس کو فطری ظاہر (natural phenomenon) بتانا ہے۔
حضرت موسیٰ ایک پیغمبر تھے۔ وہ قدیم مصر میں پیدا ہوئے۔ پندرہویں صدی قبل مسیح میں ان کا مقابلہ اُس وقت کے مصری بادشاہ فرعون (Pharaoh II) سے ہوا۔ بادشاہ کے مطالبے پر حضرت موسیٰ نے اپنی ایک وہ نشانی یہ تھی کہ انھوں نے اپنا عصا زمین میں ڈالڈا، تو وہ سانپ بن کر زمین پر چلنے لگا۔ اس واقعے کو بہت سے لوگوں نے دیکھا۔ کچھ لوگ اس سے متاثر ہوئے اور وہ حضرت موسیٰ کے دین پر ایمان لائے۔ یہ واقعہ صرف حضرت موسیٰ کے معاصرین (contemporaries) کے لیے نہ تھا۔ حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک چشم کشا نشانی (eye-opening sign) کی حیثیت رکھتا تھا۔ کے لوگوں کے لیے اس کے اندر ایک عظیم سبق تھا۔ حضرت موسیٰ نے دراصل لوگوں کو خدا کے ایک ابدی اور عمومی قانون کا مشاہدہ کرایا۔ یہ قانون کنورژن کا قانون (law of conversion) تھا۔ موسیٰ نے خدا کی مدد سے لکڑی کے ایک ٹکڑے کو سانپ کی شکل میں تبدیل کر کے دکھایا کہ اسی طرح عالم فطرت کی ہر چیز تبدیلی (conversion) کے ذریعے ایک صورت سے دوسری صورت اختیار کر رہی ہے، حضرت موسیٰ نے لوگوں کو جس واقعے کا مشاہدہ کرایا، وہ دراصل کنورژن کا یہی عمومی قانون تھا: Conversion: The act of changing something from one form to another form. کنورژن کے اس فطری اصول کا حوالہ خود قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 52 میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا میں غیر شی (nothing) شئی (thing) میں تبدیل ہو رہی ہے (الطور: 35)۔
اسی طرح قرآن کی سورہ نمبر 76 میں بتایا گیا ہے کہ یہاں غیر مذکور (non-being) مذکور (being) میں تبدیل ہو رہا ہے (الدهر : 1)، وغیرہ۔
حضرت موسیٰ سولھویں صدی قبل مسیح میں پیدا ہوئے اور پندرھویں صدی قبل مسیح میں ان کی وفات ہوئی۔ یہ زمانہ جدید سائنس سے پہلے کا زمانہ (pre-scientific period) تھا۔ اُس وقت اِس قسم کی نشانی صرف خدا کی خصوصی مداخلت (intervention) کے ذریعے ہی لوگوں کو دکھائی جاسکتی تھی۔ جدید سائنس کے ظہور نے اِس بات کو ممکن بنا دیا ہے کہ فطرت کے اس واقعے کو خود انسانی علم کے ذریعے دریافت کیا جا سکے۔ میں پیش آنے والے اس سائنسی انقلاب کو پیشگی طور پر قرآن میں بتا دیا گیا تھا (حٰم السجدة: 53)۔ کائنات میں مختلف اور متنوع قسم کی چیزیں پائی جاتی ہیں۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ یہ تمام چیزیں کنورژن کے اصول پر وجود میں آئی ہیں، یعنی ایک چیز کا بدل کر دوسری چیز کی صورت اختیار کر لینا۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں یہ ہوا کہ ایک چیز جو سانپ نہیں تھی، وہ سانپ بن گئی۔ یعنی نا سرپنٹ (non-serpent) سرپنٹ میں تبدیل ہو گیا۔ یہی معاملہ اس دنیا میں ہر چیز کا ہے۔ یہاں غیر آب (non-water) آب (water) میں تبدیل ہو رہا ہے۔ اسی طرح غیر درخت (non-tree) درخت میں تبدیل ہو رہا ہے۔ یہاں نان لائٹ (non-light) لائٹ میں تبدیل ہو رہی ہے ۔ نان انرجی (non-energy) انرجی کی صورت اختیار کر رہی ہے۔ یہاں نان آکسیجن (non-oxygen) آکسیجن میں تبدیل ہو رہا ہے، وغیرہ۔
فطرت کے نظام میں کنورژن کا یہ قانون نہایت اہم ہے۔ وہ خدا کے وجود کو اور اس کی ربوبیت کو ثابت کر رہا ہے۔ اس معاملے میں کنورژن کا مطلب ہے مداخلت (intervention)۔ چیزوں کا یہ طریق کنورژن وجود میں آنا، اس معاملے میں مداخلت کو ثابت کرتا ہے۔ اور جب مداخلت کا فعل ثابت ہو جائے تو مداخلت کرنے والا اپنے آپ ثابت ہو جاتا ہے:
Conversion proves intervention, and when intervention is proved, intervenor is also proved, and God is only the other name of this