سائنس دانوں کا مذہب
Al-Risala, August 2009, pp. 18–21
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنس کیا ہے۔ سائنس کے لفظی معنی علم (knowledge) کے ہوتے ہیں۔ میں سائنس سے مراد وہ شعبہ علم ہے جس میں منضبط انداز میں عالم فطرت کا مطالعہ کیا جاتا ہے: Science: The systematized knowledge of nature and the physical world. سائنسی علوم میں مطالعے کی بنیاد علم الحساب (mathematics) ہوتا ہے۔ اس بنا پر ان علوم میں قطعی نتائج تک پہنچنا ممکن ہو جاتا ہے۔ اس لیے سائنسی علوم کو علوم قطعیہ (exact sciences) کہا جاتا ہے۔ سائنس داں اس شعبۂ علم کا مطالعہ کرتا ہے۔ وہ اس میں اپنے آپ کو مشغول کرتا ہے۔ علوم قطعیہ میں اس مشغولیت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائنس داں کے اندر قطعی طرزِ فکر (exact thinking) پیدا ہو جاتی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس دانوں کا ذہن ادیبوں اور شاعروں سے بالکل مختلف ہوتا ہے۔ سائنس داں اپنی فکر کے اعتبار سے بے حد حقیقت پسند ہوتا ہے۔ اپنے میدان مطالعہ کی بنا پر سائنس داں کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے کہ وہ خیالی انداز میں سوچے، وہ ثابت شدہ حقیقت کا انکار کر دے۔ سائنسی مطالعہ ایک سائنس داں کو کامل طور پر ایک سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ بہت سے اہل علم نے اس معاملے کا مطالعہ مذہب کے زاویۂ نظر سے کیا ہے۔ انھوں نے پایا ہے کہ تمام سائنس داں کسی نہ کسی طور پر اپنے اندر وہ احساس پاتے تھے جس کو مذہبی احساس (religious feeling) کہا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں یہاں دو کتابوں کے نام لکھے جاتے ہیں: Einstein and Religion, by Max Jammer The God Delusion, by Richard Dawkins اس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ کوئی سائنس داں جب فطرت کا مطالعہ کرتا ہے، تو وہ نہایت گہرائی کے ساتھ اس حقیقت کا ادراک کرتا ہے کہ فطرت کے نظام میں کامل درجے کی معنویت اور ہم آہنگی
پائی جاتی ہے۔ سائنس داں کو فطرت کے اس نظام کے اندر ایک پُر اسرار قسم کی طاقت کار فرما نظر آتی وہ اپنے آپ کو اس پوزیشن میں نہیں پاتا کہ وہ اس کی توجیہہ کر سکے۔ اس کے باوجود وہ اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اس پر اسرار احساس کو مشہور جرمن سائنس داں آئن اسٹائن (وفات: 1955) نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— ایک شخص جو فطرت کا مطالعہ کرے، اُس کا سب سے زیادہ خوب صورت تجربہ یہ ہوتا ہے کہ فطرت میں گہری پُر اسراریت ہے۔ تم مشکل سے کوئی ایسا آدمی پاؤ گے جو گہرا سائنسی ذہن رکھتا ہو، پھر بھی وہ مذہبی احساسات سے خالی ہو:
The most beautiful experience one may enjoy is a ‘sense of mystery; you will hardly find one among the profounder sort of scientific minds without a ‘religious feeling’ (The Times of India, New Delhi, April 5, 2008, p. 20. Quoted by, Andrew Whitaker, Professor of Physics at Queen’s University, Belfast, Ireland.)
سائنس داں فطرت میں اپنے اس تجربے کو کاسمک ریلیجن (cosmic religion) سے تعبیر تاہم سائنس داں عام طور پر خدا (God) کا لفظ استعمال نہیں کرتے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ شخصی خدا (personal God) کے تصور کو ماننا نہیں چاہتے۔ کیوں کہ شخصی خدا کے ساتھ اتھارٹی (authority) کا تصور جڑا ہوا ہے، اور اتھارٹی کے ساتھ انعام اور سزا (reward and punishment) کا تصور، اور یہ وہ چیز ہے جس کو کوئی سائنس داں، یا جدید ذہن ماننے کے لیے تیار نہیں۔ سائنس داں فطرت کے مطالعہ کے دوران ایک حیرت انگیز قسم کے پُر اسرار احساس سے دوچار ہوتا ہے۔ اس کو ایک احساسِ استجاب (sense of awe) کا نام دیا جا سکتا ہے۔ احساس کسی سائنس داں کے لیے سب سے بڑی داخلی طاقت ہوتا ہے۔ آئن اسٹائن کے ایک سوانح نگار نے اس کے بارے میں یہ الفاظ لکھے ہیں— آئن اسٹائن اس کو کاسمک ریلیجن کہتا ہے۔ کے نظام میں حیران کن انضباط کی موجودگی، سائنس داں کے لیے ایک ایسا سوال بنی ہوئی ہے جو اُس کو مذہب جیسی ایک سوچ کی طرف لے جاتی ہے:
He called it ‘cosmic religion’ and it was a sense of awe at the nobility and marvelous order which are reflected in nature and in
سائنس، نیچر کے مطالعے کا نام ہے۔ دوسرے لفظوں میں سائنس خدا کی تخلیق کا مطالعہ اس مطالعے میں فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ تخلیقی قوانین میں خالق کی جھلکیاں نظر آتی سائنس داں کا موضوع اگرچہ فطرت کے قوانین کا مطالعہ ہے، لیکن فطرت کو اس کے خاطر سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے فطرت کے مطالعے کا بالواسطہ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سائنس داں، فطرت کی دریافت کے ساتھ فاطر کے بہت قریب آجاتا ہے۔
تقریباً تمام سائنس دانوں نے بالواسطہ انداز میں خدا کے وجود کا اعتراف کیا ہے۔ نیوٹن (وفات: 1727) اور کیپلر (وفات: 1630) نے اس ہستی کو آرڈر (order) کا نام دیا۔ اس کے بعد اسپینوزا (وفات: 1677) اور آئن اسٹائن (وفات: 1955) نے اس کو کاسمک اسپرٹ (cosmic spirit) بتایا۔ اس کے بعد سر آرتھر ایڈنگٹن (وفات: 1944) اور سر جیمز جینز (وفات: 1946) نے اس کوریاضیاتی مائنڈ (mathematical mind) کا نام دیا۔ تاہم غالباً کسی بھی سائنس داں نے اس خالق کا اعتراف خدا یا پرسنل گاڈ (personal God) کے الفاظ میں نہیں کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ سائنس دانوں نے خدا کے وجود کا اعتراف بالواسطہ انداز میں تو ضرور کیا، لیکن براہِ راست انداز میں خدا کے وجود کا کھلا اعتراف ابھی تک سائنٹفک کمیونٹی کی طرف سے نہیں آیا۔
سائنس کے دو بڑے شعبے ہیں۔ نظریاتی سائنس (theoretical science) اور عملی سائنس (practical science)۔ خدا کا موضوع نظریاتی سائنس سے تعلق رکھتا ہے۔ میں بدقسمتی سے ایسا ہوا کہ بیسویں صدی کے نصف آخر میں پہنچ کر نظریاتی سائنس میں تحقیق کا کام تقریباً ختم ہو گیا۔ اب صرف انطباقی سائنس (applied science) کے میدان میں تحقیق کا کام ہونے
کیوں کہ انطباقی سائنس میں مادی مفاد (material interest) بہت زیادہ شامل ہو گیا۔ نظریاتی سائنس کے میدان میں مزید بڑا کام کرنے کے لیے نہایت اعلیٰ دماغ درکار ہے۔ صرف ڈگری یافتہ لوگ ایسا نہیں کر سکتے۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کا بڑا سائنسی دماغ ایک ہے، اور وہ برطانیہ کا اسٹیفن ہاکنگ (Stephen Hawking) ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ نے نظریاتی سائنس کے میدان میں عملاً بھی کچھ بڑے کام کیے ہیں۔ مثلاً سنگل اسٹرنگ تھیوری (Single String Theory) جو توحید کے نظریے کو اصولی طور پر ثابت کرتی ہے۔ لیکن نظریاتی سائنس کے میدان میں کام کرنے کے لیے اعلیٰ سائنس دانوں کی ایک پوری جماعت درکار ہے۔ اور بدقسمتی سے آج ایسی جماعت موجود نہیں۔ جدید سائنس کی تاریخ بتاتی ہے کہ تدریجی طور پر سائنس اب یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ سائنس داں کائنات میں دماغ (mind) جیسے کسی عنصر کی کارفرمائی تسلیم کرتے ہیں۔ حقیقت کے اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ دماغ کو ماننا بالواسطہ طور پر خدا کو ماننے کے ہم معنی ہے۔ اب ضرورت ہے کہ اس بالواسطہ سائنس کو براہِ راست سائنسی اقرار کے درجے تک پہنچایا جائے۔ یہ بلاشبہ موجودہ زمانے کا سب سے بڑا علمی اور فکری کام ہے۔ یہ کام کوئی اعلیٰ سائنسی دماغ ہی کر سکتا ہے۔ یہ کام صرف وہ شخص انجام دے گا جو اعلیٰ ریاضیات (higher mathematics) کی زبان میں اس کو انجام دے سکتا ہو۔ شاید یہ کام ڈاکٹر عبد السلام (وفات : 1996) انجام دے سکتے تھے، جن کو 1979 میں سائنس کا نوبل پرائز ملا تھا۔ لیکن مسلمانوں کے تعصبانہ مزاج کی بنا پر یہ امکان واقعہ نہ بن سکا۔