Do good things in life.
Al-Risala, August 2009, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
اس پروگرام کے چیف گیسٹ مسٹر خوشونت سنگھ تھے۔ ان کی عمر تقریباً 95 سال ہو چکی ہے۔ سیدھے نہیں چل سکتے تھے۔ دو آدمیوں کے سہارے دھیرے دھیرے چل کر وہ اسٹیج پر پہنچے۔ طرح وہاں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے چہرے پر کوئی خوشی نہ تھی۔ وہ افسردگی کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ جس وقت ان کے تعارف میں ان کا مذکورہ فارمولا بتایا گیا، اس وقت وہ اسٹیج پر اس طرح دکھائی دیتے تھے جیسے کہ وہ کہہ رہے ہوں کہ_ زندگی کا یہ فارمولا اس دنیا میں قابل عمل نہیں: Enjoy good things in life only to become so weak that you are unable to enjoy at all.
اس وقت مذکورہ پمفلٹ (Reality of Life) خوشونت سنگھ سمیت تمام لوگوں کے ہاتھ میں یہ پمفلٹ خاموش زبان میں برعکس طور پر لوگوں کو یہ پیغام دے رہا تھا زندگی میں اچھے کام کرو، تا کہ تم موت کے بعد کی ابدی دنیا میں زندگی کی خوشیوں کو پاسکو:
Do good things in life so that you may enjoy life eternally in the world hereafter. ہر زمانے میں انسانوں کی بڑی تعداد یہ سمجھتی رہی ہے کہ موجودہ دنیا اُس کے لیے ٹھیک ویسی ہی ہے جیسے کہ جانور کے لیے سرسبز چراگاہ، یعنی کھاؤ پیو اور خوش رہو، اس سے زیادہ تمھاری کوئی اور ذمے داری نہیں۔
تاریخ کے تمام زمانوں میں بیش تر لوگ اسی قسم کی سوچ میں مبتلا رہے ہیں۔ ہر زمانے کے لوگ مختلف انداز میں اپنی اس سوچ کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر شہنشاہ بابر (وفات: 1530) نے کہا تھا کہ بابر عیش کر لو، کیوں کہ یہ موقع دوبارہ ملنے والا نہیں: بابر به عیش کوش که عالم دوباره نیست مگر تجربہ بتاتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی شخص عیش و عشرت کی مطلوب زندگی حاصل نہ ہر آدمی کا انجام صرف یہ ہوا کہ وہ موہوم آرزؤں میں جیے اور پھر ناکامی کی موت مر کر اس دنیا سے چلا جائے۔
زندگی کے معاملے کو سمجھنے کے لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی خدا کے تخلیقی پلان (creation plan) کو دریافت کرے اور پھر اس کے مطابق اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ خود ساختہ طور پر زندگی کی ایک منزل مقرر کرنا اور اس کے مطابق جینے کی کوشش کرنا کسی کے لیے بھی قابل عمل نہیں، نہ عام انسان کے لیے اور نہ نام نہاد قسم کے بڑے انسانوں کے لیے۔ اس معاملے میں چھوٹے انسان اور بڑے انسان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔