Al-Risala · August 2009

انٹلیکچول ایمپاورمینٹ

Al-Risala, August 2009, p. 31

By Maulana Wahiduddin Khan

آج کل ایک لفظ بہت استعمال ہوتا ہے، وہ ایمپاورمینٹ (empowerment) کا لفظ ایمپاورمینٹ کا مطلب وہی ہے جس کو عربی زبان میں تمکین کہتے ہیں، یعنی طاقت ور بنانا۔ این.جی.او (NGOs) سے وابستہ لوگ اکثر اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں۔ Women empowerment, rural empowerment, Muslims empowerment, etc. اس قسم کے ایمپاورمینٹ کی جزئی افادیت ہوسکتی ہے، لیکن زیادہ اہم ایمپاورمینٹ، انٹلیکچول ایمپاورمینٹ (intellectual empowerment) ہے، یعنی لوگوں کو فکری طاقت دینا، اُن کے اندر معاملہ فہمی کی صلاحیت پیدا کرنا، ان کے اندر آرٹ آف تھنکنگ (art of thinking) پیدا کرنا، ان کو اس قابل بنانا کہ وہ ایک چیز اور دوسری چیز کے فرق کو سمجھیں، وہ درست منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا کام کریں۔ لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا، فارمل ایجوکیشن کے معنوں میں بھی، اور ان فارمل ایجوکیشن کے معنوں میں بھی۔ لوگوں کے اندر سب سے زیادہ کمی یہی ہے کہ وہ نہیں جانتے کہ صحیح طرزِ فکر کیا ہے اور غلط طرزِ فکر اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ عام طور پر لوگ شکایت کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ وہ اپنی غلط سوچ اور اپنے غلط عمل کی قیمت ادا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی سازش اور ظلم کی بنا پر ایسا ہورہا ہے۔ اسی بنا پر لوگوں کا یہ حال ہے کہ جہاں چپ رہنا چاہیے، وہاں وہ بولتے ہیں۔ جہاں اقدام نہ کرنا چاہیے، وہاں وہ چھلانگ لگا دیتے ہیں۔ جہاں ایڈجسٹ کرنا چاہیے، وہاں وہ لڑنے کے لیے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ جن لوگوں سے دوستانہ تعلق قائم کرنا چاہئے، اُن کو وہ اپنا دشمن سمجھ کر اُن سے دور ہوجاتے ہیں۔ وہ خود ساختہ طور پر دوسروں کو اپنا’’غیر‘‘ سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ اس دنیا میں ہرشخص اپناہے، کوئی بھی کسی کے لیے غیر نہیں۔ اسی بنا پر لوگ صبر وتحمل کی اہمیت کو نہیں سمجھتے، حالاں کہ اس دنیا میں کامیابی کا سب سے زیادہ کارگر فارمولا وہی ہے جس کو صبر وتحمل کہا جاتا ہے۔

Printed page