پاکستان کا موجودہ بحران
Al-Risala, August 2009, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان کی فوج اور افغانستان کے طالبان کے درمیان اس وقت سخت جنگ جاری ہے۔ روزانہ دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے جارہے ہیں، حالاں کہ یہ دونوں فریق دونوں کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم اسلامی قانون کو نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اُس حدیثِ رسول کو یاد دلاتی ہے جس میں آپ نے فرمایا تھا کہ قیامت کے قریب دو مسلم فریقوں کے درمیان جنگ ہوگی، جب کہ دونوں کا دعویٰ ایک ہوگا (لا تقوم الساعة حتى تقتتل فئتان عظيفتان من المسلمين، دعواهما واحدة ـ مسند الحميدي، رقم الحديث : 784، صحيح البخاري، رقم الحديث : 6588 ، صحيح مسلم، رقم الحديث : 5142)
پاکستان کی فوج نے افغانی طالبان کے خلاف جو لڑائی چھیڑی ہے، اِس کا نام انھوں نے آپریشن راہِ راست (Direct Action) رکھا ہے۔ عجیب بات ہے کہ پاکستان بننے سے پہلے 1946 میں پاکستانی قیادت نے ہندوؤں کے خلاف ڈائریکٹ ایکشن کا اعلان کیا تھا۔ اب پاکستانی قیادت نے خود مسلمانوں کے خلاف ڈائریکٹ ایکشن شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کے ملٹری چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کہا کہ ــــ ہم یہاں جو لڑائی لڑ رہے ہیں، اِس میں اور روایتی لڑائی میں بہت فرق ہے۔ ایک ایسی جنگ ہے جس میں دوست اور دشمن کے درمیان تمیز کرنا مشکل ہو گیا ہے : There is a difference between conventional war and the present one. In the ongoing war, it is difficult to identify friends or foes. (The Times of India, New Delhi. June 16, 2009)
اس سلسلے میں حدیث کی کتابوں میں مختلف روایتیں آئی ہیں۔ ایک طویل روایت میں یہ الفاظ ہیں : ویُلقى بين الناس التناكر، فلا يكاد أحد أن يعرف أحداً (مسند احمد، جلد 5، صفحه (389) یعنی قرب قیامت کے وقت ایسا ہوگا کہ لوگوں کے درمیان ایک دوسرے سے بے گائیگی پیدا ہو جائے گی۔ لوگوں کا حال یہ ہوگا کہ ایک شخص دوسرے شخص کو نہیں پہچانے گا۔ جنرل کیانی نے جس چیز کو دوست اور
دشمن کے درمیان تمیز اٹھ جانا بتایا ہے، اسی کو مذکورہ حدیث میں تنا کر‘ کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پاکستانی فوج اور افغانی طالبان کے درمیان جو سنگین صورت حال قائم ہے، وہ کسی بیرونی طاقت کی’’سازش‘‘ کی بنا پر نہیں ہے، وہ تمام تر مسلم لیڈروں کی خود اپنی بھیا نک غلطیوں کا نتیجہ ہے۔ ان میں سے دو مبینہ غلطیوں کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے۔
1- پاکستانی قیادت کی پہلی غلطی یہ ہے کہ اس نے اپنے مفروضہ کشمیری جہاد کے لیے غیر فوجی طالبان کو مسلح کیا۔ یہ بلاشبہہ ایک غیر اسلامی فعل تھا، کیوں کہ اسلام میں اسلحے کا استعمال صرف باقاعدہ فوج کے لیے جائز ہے، غیر فوجی افراد یا تنظیموں (NGOs) کے لیے اسلحے کا استعمال جائز نہیں۔ پاکستان میں جو باہمی تشدد ہو رہا ہے، وہ اسی بھیا نک غلطی کی قیمت ہے۔ تقریباً یقینی ہے کہ آپریشن راہ راست سے موجودہ متشددانہ صورت حال کا خاتمہ ہونے والا نہیں۔
2- دوسری بھیا نک غلطی وہ ہے جو اسلام کی سیاسی تعبیر کا نتیجہ ہے۔ پاکستان اور طالبان دونوں نے اسلام کی سیاسی تعبیر کو اپنا رکھا ہے۔ سیاسی تعبیر کا نقصان یہ ہے کہ اسلام اتباع (following) کے بجائے نفاذ (enforcement) کا موضوع بن جاتا ہے۔ اس سیاسی تعبیر کے نتیجے میں یہ ہوا کہ پہلے پاکستان اور افغانستان میں سیاسی غلو (political extremism) آیا۔ اس کے بعد فطری طور پر ٹکڑاؤ کی سیاست شروع ہوئی، اور آخر میں یہ ذہن پیدا ہوا کہ طاقت کے زور پر اسلامی قانون کو نافذ کیا چناں چہ طالبان کا نعرہ ہے—شریعت یا شہادت۔
پاکستان اور افغانستان دونوں جس نازک صورت حال سے دوچار ہیں، اس کا حل کیا ہے۔ حل صرف ایک ہے، اور وہ وہی ہے جس کو شریعت کی زبان میں توبہ کہا جاتا ہے، یعنی اپنی غلطی کا کھلا اعتراف اور تشدد کی روش کو چھوڑ کر امن کی بنیادوں پر اپنے عمل کی از سر نو منصوبہ بندی۔ جس طرح خالص دینی معاملات میں اصلاح کا آغاز توبہ سے ہوتا ہے، اُسی طرح قومی اور سیاسی زندگی میں بھی کوئی نیا بہتر آغاز رجوع واعتراف کے ذریعے ہوتا ہے۔ ماضی کی غلطیوں کو مانے بغیر مستقبل کا کامیاب منصوبہ بندی ممکن نہیں ہوتی، اور پاکستان اس معاملے میں کوئی استثناء نہیں۔