خاموش تدبیر کا طریقہ
Al-Risala, August 2009, pp. 39–42
By Maulana Wahiduddin Khan
انگریزی زبان کا ایک مقولہ ہے— ایک ہلکا دھکا ایک پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹا سکتا ہے: A gentle push can move a mountain. اس مقولے میں ایک نہایت اہم بات بتائی گئی ہے، وہ یہ کہ معتدل انداز میں کوشش ہمیشہ بڑے بڑے نتیجے پیدا کرتی ہے، اور پُر شور قسم کے ہنگامے نتیجے کے اعتبار سے ہمیشہ بے سود ثابت یہ مقولہ دراصل ایک قانونِ فطرت کو بتاتا ہے، اور قانونِ فطرت کے معاملے میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔
کسی مقصد کو حاصل کرنے کے دو طریقے ہیں— ایک، ہنگامہ خیز طریقہ۔ اور دوسرا، خاموش تدبیر ہنگامہ خیز طریقے سے صرف وقتی شور و شر پیدا ہوتا ہے، مگر نتیجے کے اعتبار سے وہ ہمیشہ بے فائدہ ثابت ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، خاموش منصوبہ اور پُر امن تدبیر کا نتیجہ کامیابی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ہنگامہ خیز تدبیر صرف نقصان میں مزید اضافہ کرتی ہے، جب کہ خاموش تدبیر کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی مزید نقصان کا باعث نہیں بنتی اور نشانے کے مطابق، اپنی منزل تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا اٹل اصول ہے جس میں کوئی استثناء نہیں، نہ مذہبی انسان کے لیے اور نہ غیر مذہبی انسان کے لیے۔ موجودہ دنیا میں جب بھی کوئی آدمی کسی مقصد کو حاصل کرنا چاہتا ہے تو اُس میں اس کا اپنا حصہ صرف پچاس فی صد ہوتا ہے، بقیہ پچاس فی صد کا تعلق اُس چیز سے ہوتا ہے جس کو قانونِ فطرت (law of nature) کہا جاتا ہے۔
قانونِ فطرت سے موافقت کے بغیر اس دنیا میں کوئی شخص کامیاب نہیں ہو سکتا۔ فطرت کا قانون یہ ہے کہ اپنے مقصد کے لیے جو کوشش کی جائے، وہ حقیقت پسندانہ انداز میں کی جائے۔ حقیقت پسندانہ انداز میں کام کرنا، فطرت سے موافقت کرکے کام کرنا ہے۔ جو لوگ ایسا کریں، وہی اس دنیا میں کامیابی کی منزل تک پہنچتے ہیں۔ اور جو لوگ ایسا نہ کریں، اُن کے لیے اس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور چیز مقدر نہیں۔
9 مئی 2009 کوانڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں خدا کے وجود کے موضوع پر انگریزی زبان میں آپ کی ایک تقریر تھی۔ میں اس تقریر میں شروع سے آخر تک شریک رہا۔ میں نے دیکھا کہ سامعین نے خدا کے وجود پر دئے گئے سائنسی دلائل سے پورا اتفاق کیا۔ تاہم ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ سینئر ہندو خاتون نے تقریر کے بعد مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب کی بات سے مجھ کو پورا مگر میرا خیال ہے کہ خدا کے وجود پر سائنسی دلائل کی ضرورت نہیں۔ کیوں کہ خدا تو ہمارے اندر موجود ہے۔ براہ کرم، اس معاملے کی وضاحت فرمائیں (محمد ذکوان ندوی، نئی دہلی) مذکورہ خاتون نے جو بات کہی، وہ کوئی سادہ بات نہیں تھی۔ اصل یہ ہے کہ خدا کے بارے میں دو الگ تصور (concept) پائے جاتے ہیں۔ ایک ہے، توحید (monotheism)، یعنی خدا کو ایک شخصی وجود (personal God) کے طور پر ماننا۔ اور دوسرا ہے تصور وحدتِ وجود (monism)، یعنی خدا کو غیر شخصی ہستی (impersonal God) کے طور پر ماننا۔ یہ وہی چیز ہے جس کو کچھ دوسرے لوگ داخل میں بسا ہوا خدا (indwelling god) کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں۔
وحدتِ وجود کو سنسکرت میں ادویت واد کہا جاتا ہے۔ اس تصور کے مطابق، خدا صرف ایک اسپرٹ ہے، جس طرح قوتِ کشش (gravity) ایک اسپرٹ ہے۔ وحدتِ وجود کے نظریے کو اگر چہ مسلم صوفیوں نے اختیار کر لیا، لیکن میرے نزدیک وہ سرتا سر ایک بے اصل (baseless) نظریہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وحدتِ وجود کوئی مذہبی تصور نہیں، وہ صرف ایک فلسفیانہ تصور ہے جس کو مذہب میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اسی بنا پر ہندو مذہب میں اس اعتبار سے سخت تضاد پیدا ہو گیا ہے۔ ایک طرف وہ زرا کار خدا (formless god) کو مانتے ہیں اور دوسری طرف وہ دیوتاؤں کی مورتی بنا کر اُس کو آکار (form) کا درجہ دئے ہوئے ہیں۔
موجودہ زمانے میں سائنس نے کائنات کا جو مطالعہ کیا ہے، اُس سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے انتظام میں ایک برتر ذہن (superior mind) کام کر رہا ہے، جس کو ایک سائنس داں نے شعوری وجود (conscious being) کا نام دیا ہے۔ اِس طرح سائنس کی دریافتوں نے وحدتِ وجود کے تحت مفروضہ خدا کی مکمل طور پر تردید کردی ہے، جس طرح اُس نے زمین مرکزی (geo-centric) شمسی نظام کی تردید کردی تھی۔ اِس کے برعکس، سائنس کی دریافتیں پورے معنوں میں عقیدۂ توحید کے تحت بیان کردہ تصور خدا کی علمی تصدیق بن گئی ہیں۔ موجودہ زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے لوگ اپنے اپنے انداز میں اسلام کی تعبیرات (interpretations) پیش کر رہے ہیں۔ اِس طرح اسلام کے بہت سے تصورات بن گئے ہیں۔ صورت حال کو دیکھ کر عام انسان سخت پریشان ہے۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس کے تصورِ اسلام کو درست سمجھے، اور کس کے تصورِ اسلام کو نا درست۔ براہِ کرم، اِس معاملے کی وضاحت فرمائیں (ایک قاری الرسالہ، سری نگر، کشمیر)
یہ سوال عام طور پر وہ لوگ کرتے ہیں جن کا مطالعہ اسلام کے بارے میں بہت کم ہوتا ہے۔ مختلف لوگوں کی بات سنتے ہیں اور مختلف قسم کی کتاب اپنی مادری زبان میں پڑھتے ہیں۔ اُن کے اندر تجزیہ اور محاکمہ (analysis) کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اپنی اِس کمی کی بنا پر وہ اسلام کے بارے میں کنفیوژن (confusion) کا شکار ہوجاتے ہیں۔
اِس قسم کے لوگوں کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب ہے ــــ یا تو وہ اپنی دوسری مصروفیتوں کو چھوڑ کر عربی زبان سیکھیں اور پھر براہِ راست طور پر اسلام کا تفصیلی مطالعہ کریں۔ گہرے مطالعے کے بعد وہ جس نتیجے پر پہنچیں، اِس کو اختیار کر لیں۔ لیکن اگر وہ اِس قسم کے تفصیلی مطالعے کا موقع نہ رکھتے ہوں تو اُن کے لیے دوسرا انتخاب صرف یہ ہے کہ وہ کسی عالم کو اپنا رہنما بنا لیں۔
مختلف علماء میں سے جس عالم کے علم اور اخلاص پر اُن کو اعتماد ہو، وہ اُس کو پکڑ لیں۔ وہ اس کی کتابوں کو پڑھیں اور جہاں ضرورت ہو، اُس سے رجوع کریں۔ ان دو کے سوا جو طریقہ وہ اختیار کریں گے، وہ صرف اُن کی گمراہی کو بڑھائے گا، وہ اُن کو ہدایت تک پہنچانے والا نہیں۔
عجیب بات ہے کہ اکثر لوگ اِس کے خلاف عمل کرتے ہیں ۔ وہ مختلف علماء اور غیر علماء سے اپنے سوالات پر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ چوں کہ اُن کے اندر محاکمہ کی صلاحیت نہیں ہوتی، اِس لیے وہ ہمیشہ خیالات کے جنگل میں جیتے ہیں اور ہمیشہ کنفیوژن کا شکار رہتے ہیں۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ آدمی کنفیوژن کا شکار ہو، وہ ہمیشہ بے یقینی کا شکار رہے گا، اور بے یقینی آدمی کو اس سے محروم کردیتی ہے کہ
وہ سچائی کو دریافت کرے اور اُس پر یقین کے ساتھ کھڑا ہو جائے۔