دوسرا شجر ممنوعہ
Al-Risala, September 2009, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
آدم پہلے انسان تھے۔ پیدائش کے بعد اُن کو جنت میں رکھا گیا۔ وہاں اُن کو ہر قسم کی آزادی لیکن جنت میں ایک شجر ممنوعہ (forbidden tree) تھا۔ آدم سے کہا گیا کہ جنت میں تم آزادانہ طور پر رہ سکتے ہو، لیکن اس شجر ممنوعہ کے قریب مت جانا، ورنہ تم کو جنت سے نکال دیا جائے گا۔ اسی طرح موجودہ دنیا میں بھی ایک شجر ممنوعہ ہے، اور وہ تشدد ہے:
There was a forbidden tree in Paradise. There is also a forbidden tree in this wrold, and that is violence. جو لوگ تشدد میں ملوث ہوں، اُن کو اپنے اس جرم کی یہ بھاری قیمت دینی پڑے گی کہ وہ جنت میں داخلے سے محروم کر دئے جائیں۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم اور اُن کی بیوی کو جب کرۂ ارض پر بسائے گئے تو یہاں آغاز ہی میں ایک حادثہ پیش آیا۔
اُن کے دو بیٹوں، قابیل اور ہابیل کے درمیان نزاع ہوئی، یہاں تک کہ قابیل نے ہابیل کو مار قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ لکھ دیا کہ: ”جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا زمین میں فساد برپا کیا ہو تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل “ (المائدة: 32)
قرآن میں اس قسم کے سخت الفاظ کسی بھی دوسرے جرم کے لیے نہیں آئے ہیں۔ اندازہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ سنگین جرم یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے خلاف جارحانہ تشدد کرے۔ اس معاملے میں اگر کوئی استثناء ہے تو وہ ایک منظم حکومت یا ایک باقاعدہ عدالت کے لیے ہے۔ عام انسان کے لیے اس معاملے میں کوئی استثناء نہیں۔
تشدد کی یہ سخت ممانعت اس لیے ہے کہ تشدد فطری نظام کے خلاف ہے۔ خالق کا قائم کردہ فطری نظام یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کو آزادانہ طور پر کام کرنے کا موقع ملے، لیکن تشدد اور جارحیت سے
یہ فطری نظام درہم برہم ہو کر رہ جاتا ہے۔ تشدد خالق کے فطری نظام میں مداخلت ہے۔ اور اس قسم کی مداخلت بلاشبہ سب سے زیادہ سنگین جرم کی حیثیت رکھتی ہے۔
موجودہ دنیا میں تشدد اور جارحیت سے پاک ماحول کس طرح بنایا جائے، اس کا جواب صرف ایک ہے— اللہ سے ڈرنے والوں کو اپنے اوپر یہ ذمے داری لینا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر صبر کریں، وہ تشدد کے تجربے کے باوجود عملاً بے تشدد بن جائیں۔ صرف اسی طرح تشدد سے پاک ماحول دنیا میں بن سکتا ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 5 میں بتایا گیا ہے کہ جب قابیل نے ہابیل کو مارنا چاہا تو ہابیل نے کہا: لئِن بسطتَ إليَّ يدک لتقتلني، ما أنا بباسط يديَ إليك لأقتلكَ، إنّي أخاف الله ربَّ العالمين (المائدۃ: 28) یعنی اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے، جو سارے جہان کا رب ہے۔ تشدد پر یک طرفہ صبر کی یہ آخری مثال ہے جو آدم کے بیٹے ہابیل نے قائم کی۔ آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بعد کے زمانے میں سیاسی بگاڑ پیدا ہوگا، مگر تم اپنے حکم رانوں سے ہرگز ٹکراؤ نہ کرنا۔ ایک صحابی نے پوچھا کہ اگر وہ خود ہمارے گھر میں ہم کو مارنے کے لیے آ جائیں تو ہم کیا کریں۔ آپ نے جواب دیا: فليكن خير ابني آدم (سنن أبى داؤد، کتاب الفتن) یعنی تم آدم کے دو بیٹوں میں سے اچھے بیٹے بن جاؤ۔ یعنی خواہ تم دوسروں کے ہاتھ سے قتل ہو جاؤ، مگر تم خود دوسروں کو قتل کرنے کی کوشش نہ کرو۔
تشدد کی دو قسم ہے— ایک، غیر فعال تشدد (passive violence)۔ اور دوسرا، فعال تشدد غیر فعال تشدد یہ ہے کہ آپ دوسروں کو ظالم بتا کر ان سے نفرت کریں۔ فعال تشدد یہ ہے کہ آپ دوسروں کو ظالم بتا کر اُن کے خلاف جارحانہ کارروائی شروع کر دیں۔ صورتیں اسلام میں یکساں طور پر گناہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ آپ دونوں میں سے جس تشدد کا ارتکاب کریں، آپ شجر ممنوعہ کا پھل کھانے کے مرتکب قرار پائیں گے۔ دونوں قسم کے تشدد کے درمیان صرف ظاہر کا فرق ہے، حقیقت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔