ابلیس کا چیلنج
Al-Risala, January 2009, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آدم کے آگے جھکنے کے سوال پر ابلیس (شیطان) غصہ ہوگیا۔ اُس نے خدا سے کہا کہ مجھے موقع دیا جائے تو میں ساری نسلِ آدم کو بہکادوں گا۔ اُس وقت اِس نے چیلنج دیتے ہوئے کہا: ولا تجد أكثرهم شاكرين (الأعراف : 17) یعنی تو اِن میں سے اکثر لوگوں کو اپنا شکر گزار نہ پائے گا:
Most of them, You will not find grateful. (7:17)
انسان کے اوپر خدا کے اِن گنت احسانات ہیں۔ اِس کے با وجود کیوں ایسا ہوتا ہے کہ انسان اِن نعمتوں کا اعتراف نہیں کرتا اور وہ ناشکر گزار بن جاتا ہے۔ اِس کا راز خود ابلیس کے کردار کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ ابلیس ایک جن تھا (الکہف : 50)۔ جنوں کے اوپر خدا کے بے شمار جن غیر موجود تھے، خدا نے اُن کو وجود دیا۔ جنوں کو آزادی کی نعمت دی۔ اُن کو غیر معمولی اُن کو طویل زندگی عطا کی۔ خدا کی دنیا میں زندہ رہنے کے لیے اِن کو تمام ضروری سامان اِس کے باوجود کیوں ایسا ہوا کہ ابلیس ، خدا کا ناشکر گزار بن گیا۔ اِس کا راز یہ تھا کہ ابلیس پر شکایتی احساس اتنا زیادہ غالب ہوا کہ وہ خدا کے تمام انعامات کو بھول گیا۔ شکایت کے صرف ایک واقعے کو اِس نے اِس طرح جنز لائز کیا کہ اِس کو شکایت کے سوا کوئی اور بات یاد ہی نہ رہی۔ ابلیس کا خاص طریقہ یہی ہے کہ وہ انسانوں کے اندر شکایتی مزاج اِس طرح بنائے کہ انسان شکایت کے ایک واقعے کو لے لے اور دوسری تمام اچھی باتوں کو نظر انداز کر کے اُسی ایک شکایتی بات کو اپنا مرکزی خیال بنا وہ ایک منفی بات کو اِس طرح جنز لائز کرے کہ دوسری تمام مثبت باتیں اِس کی نظروں سے اوجھل ہوجائیں، یہاں تک کہ شکرگزاری کے بے شمار پہلوؤں کے باوجود وہ ناشکر گزار بن جائے۔ جو لوگ اپنے آپ کو اِس طرح کے احساس ناشکری میں پائیں، اُنھیں یقین کرنا چاہیے کہ وہ شیطان کے زیر اثر آگئے ہیں۔ ایسے لوگوں کو فوراً تو بہ کر کے اپنی اصلاح کرنا چاہیے، ورنہ وہ خدا کی سخت پکڑ کی زد میں آجائیں گے۔