دعوت کا عالمی نشانہ
Al-Risala, September 2009, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
بعد کے زمانے کے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشین گوئی حدیث میں اس طرح آئی ہے: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الاسلام (مسند احمد) زمین کی پشت پر کوئی گھر یا خیمہ باقی نہیں رہے گا مگر اللہ اس اندر اسلام کا کلمہ داخل کر دے گا۔
اس حدیث رسول میں بعد کے زمانے کے لئے ایک پیشین گوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مذکورہ واقعہ پر اسرار طور پر ہوگا یا ایسا ہوگا کہ اپنے آپ خدا کا کلام ہر گھر میں داخل ہو جائے۔ واقعہ مکمل طور پر اسباب کے تحت پیش آئے گا۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بعد کے زمانہ میں ایسے امکانات پیدا ہوں گے جن کو استعمال کر کے یہ ممکن ہو جائے گا کہ خدا کے دین کے داعی خدا کے کلام کو ساری دنیا میں ہر چھوٹے اور بڑے گھر میں داخل کر دیں۔ اس میں دراصل اسلام کے عالمی دعوت کے نشانہ (universal target of dawah) کے واقعہ بننے کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ قیامت سے پہلے ہوگا تا کہ عمومی طور پر لوگوں کے اوپر اتمام حجت ہو جائے۔
موجودہ زمانے میں پرنٹنگ پریس نے اس امکان کو واقعہ بنا دیا ہے۔ اللہ کی توفیق سے ہمارے ادارے نے ایک ایسا انگریزی ترجمۂ قرآن جدید معیار کے مطابق چھاپا ہے جس کی زبان میں کامل وضوح (clarity) پائی جاتی ہے۔ آج تمام لوگوں کا فرض ہے کہ اس انگریزی ترجمہ کو ساری دنیا میں اس کو ایک ایک عورت اور مرد تک پہنچا دیں۔ یہ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا دعوتی کام غالباً یہی وہ کام ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے: هذا عظيم الناس شهادة عند رب اصحاب رسول کا زمانہ پرنٹنگ پریس سے قبل کا زمانہ ہے۔ وہ قرآن کو پڑھ کر سنایا کرتے چناں چہ ان کو مقری کہا جاتا تھا۔ اب پرنٹنگ پریس کے زمانہ میں مطبوعہ قرآن کو پھیلانا ہے۔ صحابہ اگر قرآن کے مقری بنے تھے تو اب ضرورت ہے کہ ہر مسلمان قرآن کا ڈسٹری بیوٹر بنے۔