I am, therefore God is.
Al-Risala, September 2009, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
فلسفہ کی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تقریباً تمام فلسفی کسی نہ کسی طور پر ایک برتر ہستی کا اقرار کرتے اگر چہ انہوں نے ’’خدا‘‘ کا لفظ استعمال کرنے سے احتراز کیا، لیکن کچھ دوسرے الفاظ بول کر وہ خدا جیسی ایک ہستی کی موجودگی کا اعتراف کرتے رہے۔ مثلاً جرمنی کے مشہور فلسفی فریڈرک ہیگل (وفات: 1831) نے اس برتر ہستی کو ورلڈ اسپرٹ (world spirit) کا نام دیا، وغیرہ۔ اس کے بعد میں نے چاہا کہ میں سائنسی طریق استدلال (scientific method) کے ذریعے اس معاملے کی تحقیق کروں۔ سائنسی مطالعہ میں جو مسلّمہ طریقہ استعمال کیا جاتا ہے، وہ مشاہدات پر مبنی ہوتا ہے۔ مگر اس مشاہداتی استدلال کے دو دور ہیں۔ سائنس کا مطالعہ جب تک عالم کبیر (macro world) تک محدود تھا، اُس وقت تک اس استدلال کا صرف ایک طریقہ رائج لیکن جب سائنس کا مطالعاتی سفر عالمِ صغیر (micro world) تک پہنچ گیا تو اس استدلال میں ایک تبدیلی واقع ہوئی۔ وہ یہ کہ پہلے اگر مشاہداتی استدلال (observational argument) کو درست مانا جاتا تھا، تو اب استنباطی استدلال (infcrential argument) کو بھی یکساں طور پر درست (valid) مانا جانے لگا، یعنی پہلے اگر آرجومینٹ فرام سین ٹو سین (argument from seen to seen) کا اصول رائج تھا تو اب آرجومینٹ فرام سین ٹو اُن سین (argument from seen to unseen) کا اصول بھی درست استدلال کی حیثیت سے تسلیم کر لیا گیا۔ ان دونوں طریقوں کو فنی زبان میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:
1. Observation, hypothesis, verification 2. Hypothesis, observation, verification ایک سادہ مثال سے اس معاملے کی عملی وضاحت ہوتی ہے۔ مثلاً آپ سیب کو شمار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کہتے ہیں۔ دو سیب جمع دو سیب، برابر چار سیب۔ یہ مشاہداتی استدلال کی ایک مثال ہے۔ دوسرے استدلال کی مثال یہ ہے کہ نیوٹن (وفات: 1727) نے دیکھا کہ ایک سیب درخت سے گر کر
یہ ایک مشاہدہ تھا۔ اُس نے سوچنا شروع کیا کہ سیب درخت سے ٹوٹ کر اوپر کیوں نہیں گیا، وہ نیچے کیوں آگیا۔ اِس سوچ کے بعد وہ ایک استنباط تک پہنچا، وہ یہ کہ زمین میں قوت کشش ہے۔ بعد اس نے دوسرے متعلق شواہد (relevant data) کا جائزہ لیا تو اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ اس کا استنباط درست (valid) تھا۔
سائنسی میتھڈالوجی کو سمجھنے کے لیے میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں۔ یہاں میں ایک کتاب کا حوالہ دینا چاہتا ہوں ۔ یہ مشہور برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات: 1970) کی کتاب ہیومن نالج (Human Knowledge) ہے۔ اِس کتاب میں مصنف نے بتایا ہے کہ علم کی دو قسمیں ہیں— چیزوں کا علم، سچائیوں کا علم :