Knowledge of things, knowledge of truths
Al-Risala, September 2009, pp. 24–26
By Maulana Wahiduddin Khan
چیزوں کی دریافت میں مشاہداتی طریق استدلال کارآمد ہے، لیکن خدا کے وجود کا معاملہ سچائی کے موضوع سے تعلق رکھتا ہے۔ اِس لیے اس معاملے میں وہی استدلال قابل انطبا ق ہے جس کو استنباطی استدلال (inferential argument) کہا جاتا ہے۔
غالباً 1965 کی بات ہے، میری ملاقات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص سے ہوئی ۔ وہ فلسفہ کے اُن سے خدا کے وجود کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے ایک سوال انھوں نے کہا کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس کیا کرائٹیرین کیا ہے: What criterion do you have to prove the existence of God. میں نے جواب دیا کہ — وہی کرائٹیرین جو آپ کے پاس اِس نوعیت کی کسی چیز کو ثابت کرنے کے لیے ہو:
Same criterion that you have to prove anything else. اِس کے بعد میں نے اُن کے سامنے مذکورہ طریق استدلال کی وضاحت کی۔ میں نے کہا کہ خدا کے وجود کا معاملہ سچائی (truth) کے موضوع سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ سچائی کی نوعیت کی کسی چیز کو
ثابت کرنے کے لیے جس کرائٹیرین کو استعمال کرتے ہیں، اُسی کرائٹیرین کو خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے استعمال کیجئے، اور پھر آپ جان لیں گے کہ خدا کا وجود بھی اُسی علمی معیار سے ثابت ہوتا ہے، جس علمی معیار سے اس نوعیت کی دوسری چیزیں ثابت ہو رہی ہیں۔
سنجیدہ اہل علم نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ مثلاً برٹرینڈ رسل نے اعتراف کیا ہے کہ تھیالوجی جِن عام طور پر خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے وہ طریقہ استعمال کرتے ہیں جس کو ڈزائن سے استدلال (argument from design) کہا جاتا ہے۔ برٹرینڈ رسل کے مطابق، یہ طریقہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے پورے معنوں میں سائنسی منطق (scientific logic) پر مبنی ہے۔ اس لیے یہ استدلال اصولی طور پر اتنا ہی حقیقی ہے، جتنا کہ کوئی دوسرا سائنسی استدلال۔ اس استدلال کا خلاصہ یہ ہے: Where there is design, there is designer and when designer is proved, the existence of God is also proved. اشیاء کا سائنسی مطالعہ 1609 میں شروع ہوا، جب کہ اطالوی سائنس داں گلیلیو (وفات: 1642) نے ابتدائی دوربین (telescope) کے ذریعے ستاروں کا مشاہدہ کیا۔ اس کے بعد دور بینی مشاہدے میں مزید ترقی ہوئی، یہاں تک کہ 1949 میں پیلو مرآبزرویٹری (کیلی فورنیا) قائم ہوئی جس کے ذریعے زیادہ بڑے پیمانے پر آسمانی مشاہدہ ممکن ہو گیا۔ اس کے بعد الیکٹرانک دوربین ایجاد ہوئی جس کو 1990 میں امریکا کی ہبل آبزرویٹری میں نصب کیا گیا۔
اس قسم کے مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ تقریباً 15 بلین سال پہلے خلا میں بگ بینگ کا واقعہ ہوا جس کے بعد ستاروں اور سیاروں کی موجودہ دنیا وجود میں آئی۔ اس کے بعد تقریباً ایک بلین سال پہلے لٹل بینگ (little bang) ہوا جس کے ذریعے موجودہ شمسی نظام (solar system) وجود اس کے بعد سیارۂ ارض پر واٹر بینگ (water bang) ہوا اور زمین پانی سے بھر گئی۔ بعد زندگی اور زندگی سے متعلق تمام چیزیں پیدا ہوئیں۔
بگ بینگ کے واقعہ کے مزید مطالعے کے لیے 1989 میں امریکا کے ادارہ ناسا (NASA)
نے ایک خصوصی سیٹلائٹ (Cosmic Background Explorer) خلا میں بھیجا۔ نے بالائی خلا کی جو تصویریں بھیجی ہیں، اُن سے معلوم ہوا ہے کہ کائنات کے بیرونی حصے میں لہر دار سطح (ripples) موجود ہیں۔ تصویر میں ان لہروں کو دیکھ کر ایک مغربی سائنس داں بولٹزمین (Boltzmann) وہ کون خدا تھا جس نے یہ نشانیاں لکھ دیں :