Who was the God who wrote all these signs?
Al-Risala, September 2009, pp. 26–29
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات کا جب سائنسی مطالعہ کیا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات ایک بے نقص (zero-defect) کا کائنات ہے۔ وسیع خلا میں بے شمار ستارے اور سیارے مسلسل طور پر حرکت میں ہیں، مگر ہمارے شہروں کے برعکس، خلا میں کوئی ایکسیڈنٹ نہیں ہوتا۔ گویا کہ عظیم خلا میں نہایت وسیع پیمانے پر ایک ایکسیڈنٹ فری ٹریفک (accident-free traffic) قائم ہے۔ ہماری زمین پر پنچپر روزانہ بہت سے واقعات ظہور میں لارہی ہے۔ یہ گویا ایک عظیم صنعتی نظام ہے۔ مگر یہ نظام زیرو ڈیفیکٹ انڈسٹری (zero-defect industry) کی سطح پر چل رہا ہے۔ یہ بے مثال کا کنائی کنٹرول اور یہ آفاقی توازن پکار رہا ہے کہ بلاشبہہ اس کے پیچھے ایک عظیم خدا ہے جو ان واقعات کو ظہور میں لا رہا ہے۔ کائنات میں واضح طور پر ایک ذہین منصوبہ بندی (intelligent planning) پائی جاتی ہے۔ ایک چھوٹے ذرے سے لے کر عظیم کہکشانی نظام تک یہ منصوبہ بندی نمایاں طور پر ہمارے مشاہدے میں آتی ہے۔ یہ منصوبہ بندی بلاشبہہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کائنات کے پیچھے ایک بہت بڑا ذہن (mind) کارفرما ہے۔ یہ عقیدہ اتنا ہی سائنسی ہے، جتنا کہ ایکس رے کی قابل مشاہدہ تصویر کو دیکھ کر ناقابل مشاہدہ ایکس ریز (X-Rays) کے وجود کو ماننا۔
موجودات کے مشاہدے سے ایک عظیم حقیقت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اُس میں جگہ جگہ یکسانیت کے ساتھ استثناء (exception amidst uniformity) کی مثالیں موجود ہیں۔ (exception) اُس کو کہا جاتا ہے جو عام قانون کے خلاف ہو، جو عام قانون کی پابندی نہ کرے: Exception: That does not follow the rule نیچر میں اس معاملے کی ایک سادہ مثال یہ ہے کہ ہر عورت اور ہر مرد کے ہاتھ میں پانچ انگلیاں یہ انگلیاں ہر ایک میں یکساں طور پر ہوتی ہیں۔ لیکن ہر ایک کے ہاتھ میں اس کے انگوٹھے کا نشان (fingerprint) ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ہر ایک کا نشان دوسرے کے نشان سے الگ ہوتا ہے۔ اس عموم میں یہ استثناء ایک برتر ہستی کی بالقصد مداخلت کے بغیر ممکن نہیں۔ نیچر میں اس قسم کی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق، خلا میں تقریباً 125 بلین کہکشائیں موجود ہیں۔ ہر کہکشاں (galaxy) کے اندر تقریباً 200 بلین ستارے پائے جاتے ہیں۔ لیکن شمسی نظام (solar system) ایک استثنائی نظام ہے جو صرف ہماری اُس قریبی کہکشاں میں پایا جاتا ہے جس کو ملکی وے (milky way) کہا جاتا ہے۔ عظیم کائنات میں یہ استثناء ایک طاقت ور ہستی کی بالقصد مداخلت کے بغیر نہیں ہو سکتا:
Exception means intervention, and when intervention is proved, intervenor is also proved. And intervenor is only the other name of God. ہماری کہکشاں جس شمسی نظام واقع ہے، وہ اس نوعیت کی ایک انوکھی مثال ہے۔ بتاتا ہے کہ اس کہکشاں کا درمیانی حصہ نا قابلِ برداشت حد تک گرم ہے۔ اگر ہمارا شمسی نظام، کہکشاں کے درمیانی حصے میں ہو تو ہماری زمین پر کسی قسم کی زندگی اور نباتات کا وجود ہی ممکن نہ رہے۔ عجیب بات ہے کہ ہمارا شمسی نظام، کہکشاں کے ایک کنارے واقع ہے۔ اس بنا پر وہ کہکشاں کے پر خطر درمیانی ماحول کے اثر سے بچا ہوا ہے۔ یہ استثناء واضح طور پر ایک منصوبہ بند مداخلت کا ثبوت ہے، اور منصوبہ بند مداخلت بلاشبہ خدائے برتر کی موجودگی کا ثبوت ہے۔
ہمارے شمسی نظام کے اندر بہت سے سیارے (planets) پائے جاتے ہیں۔ اُنھیں میں سے ایک سیارہ وہ ہے جس کو زمین کہا جاتا ہے۔ دوسرے تمام سیارے اپنے مدار (orbit) پر گھومتے ہیں۔ مگر ہماری زمین اپنے مدار پر گردش کرتے ہوئے اپنے محور (axis) پر بھی گھومتی ہے۔ زمین کی یہ دہری گردش (double rotation) ایک انتہائی استثنائی گردش ہے جو کسی بھی ستارے یا سیارے میں نہیں پائی جاتی۔ یہ استثناء اس کے بغیر ممکن نہیں کہ اس کے پیچھے ایک ایسے برتر عامل کو تسلیم کیا جائے جس نے اپنی خصوصی مداخلت کے ذریعے یہ بامعنی استثناء خلا میں قائم کر رکھا ہے۔ ہماری زمین پر استثناء کی ایک ایسی انوکھی مثال پائی جاتی ہے، جو ساری کائنات میں کہیں بھی موجود نہیں، یہ لائف سپورٹ سسٹم (life support system) ہے۔ اس لائف سپورٹ سسٹم کے بغیر زمین پر انسان کا یا کسی اور نوع حیات کا وجود ممکن نہ تھا۔ لائف سپورٹ سسٹم کا یہ استثنائی نظام خدا کی موجودگی کا ایک ایسا ثبوت ہے جس کا انکار کوئی سنجیدہ انسان نہیں کر سکتا۔ البرٹ آئن سٹائن (وفات: 1955) کو بیسویں صدی عیسوی کا سب سے بڑا سائنسی دماغ
مانا جاتا ہے۔ آئن سٹائن نے کائنات کا تفصیلی مطالعہ کیا۔ اُس نے کائنات کے ہر حصے میں حیرت ناک حد تک معنویت (meaning) پائی۔ یہ دیکھ کر اُس نے کہا کہ۔ عالمِ فطرت کے بارے میں سب سے زیادہ نا قابل فہم بات یہ ہے کہ وہ قابل فہم ہے:
The most incomprehensible fact about nature is that it is comprehensible. آئن سٹائن اپنے اِس قول میں بالواسطہ طور پر خدا کے وجود کا اقرار کر رہا ہے۔ اگر اس کے قول کو بدل کر کہا جائے تو وہ اس طرح ہوگا کہ خدا کے بغیر عالمِ فطرت مکمل طور پر نا قابل فہم رہتا ہے، اور خدا کے ساتھ عالمِ فطرت مکمل طور پر قابل فہم بن جاتا ہے:
Without God, nature is totally incomprehensible, and with God, nature becomes totally comprehensible. کائنات بلا شبہ ایک با معنی کائنات (meaningful world) ہے۔ سائنس داں وہ لوگ ہیں جو کائنات کا نہایت گہرائی کے ساتھ مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ عام انسان کے مقابلے میں کائنات کی معنویت سے بہت زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ چناں چہ سائنس دانوں نے عام طور پر اس کا اعتراف کیا ہے۔ سائنس داں اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر "خدا" (God) کا لفظ بولنے سے احتراز کرتے ہیں۔ لیکن نام کے بغیر وہ اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔
مثلاً برٹش سائنس داں سر جیمز جینز (وفات: 1947) نے اپنی کتاب (The Mysterious Universe) میں کہا ہے کہ کائنات ایک ریاضیاتی ذہن (mathematical) کی شہادت دیتی ہے۔ فلکیات سر فریڈ ہائل (وفات: 2001) نے اس حقیقت کا اعتراف یہ کہہ کر کیا ہے کہ ہماری کائنات ایک ذہین کائنات (intelligent universe) ہے۔ امریکی سائنس داں پال ڈیویز (Paul Davis) نے اقرار کیا ہے کہ کائنات کے پیچھے ایک با شعور ہستی (conscious being) موجود ہے۔ برٹش سائنس داں سر آرتھر ایڈنگٹن (وفات: 1944) نے اِس حقیقت کا اعتراف یہ کہہ کر کیا ہے کہ کائنات کا مادّہ ایک ذہین مادہ ہے: