ایم فیکٹر، کیوفیکٹر
Al-Risala, January 2009, pp. 41–46
By Maulana Wahiduddin Khan
دہلی کے ایک مسلم نو جوان ایک انگریزی میگزین میں کام کرتے تھے۔ اس میگزین کے مالکان سب ہندو تھے۔ چند سال کے بعد منتظمین کی طرف سے مذکورہ مسلم نو جوان سے کہا گیا کہ آپ استعفیٰ چوں کہ یہ اندیشہ تھا کہ اگر وہ استعفیٰ نہ دیں تو اُن کو برخواست کر دیا جائے گا۔ انھوں نے استعفیٰ دے دیا۔
اس کے بعد مذکورہ مسلم نو جوان سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میرے ساتھی کہتے ہیں کہ اس کا سبب ایم فیکٹر (M-factor) ہے۔ میں نے کہا کہ ہرگز نہیں، اس کا سبب صرف کیو فیکٹر (Q-factor) ہے، یعنی مسلم فیکٹر نہیں، بلکہ کوالٹی فیکٹر۔ میں نے کہا کہ آپ اپنے دل سے منفی خیال مکمل طور پر نکال دیں اور آپ صرف ایک کام کریں، وہ ہے اپنی انگلش رائٹنگ کو امپروو (improve) میرے مشورے سے انھوں نے برٹش کونسل میں داخلہ لے لیا۔ وہاں انھوں نے ایک سال اپنی زبان کو امپروو کرنے کی کوشش کی۔ برٹش کونسل سے ایک سال کا کورس پورا کرنے کے بعد ان کی زبان پہلے سے بہتر ہو چکی تھی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک اور انگریزی میگزین میں انٹرویو دیا۔ ان کا سلیکشن ہو گیا۔ اب وہ اس دوسرے انگریزی میگزین میں کام کر رہے ہیں۔ یہاں ان کو پہلے سے تقریباً تین گنا زیادہ تنخواہ ملتی ہے، جب کہ اس دوسرے میگزین کے مالکان بھی ہندو ہیں۔ اس مثال سے زندگی کی ایک حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ اکثر لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ جب وہ کسی ناپسندیدہ صورتِ حال سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ یہ کرتے ہیں کہ اس کو فوراً تعصب (bias) کا معاملہ سمجھ کر اس کی ذمے داری دوسرے کے خانے میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن گہرا مطالعہ بتاتا ہے کہ تعصب کا لفظ صرف ڈکشنری میں پایا جاتا ہے، حقیقی زندگی میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ جب بھی آپ کو دوسروں کی طرف سے کوئی ناخوش گوار تجربہ پیش آئے تو سمجھ لیجیے کہ وہ خود آپ کی کسی کمی کی بنا پر پیش آیا ہے۔ اپنی کمی کو دریافت کرکے اس کو دور کیجیے اور پھر آپ کی شکایت اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔
سوال و جواب جب ہم قرآن کو پڑھتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا بیشتر حصہ ہمارے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کے بیشتر حصے کے مخاطب دوسرے لوگ ہیں، یعنی غیر مسلم اقوام۔ قرآن کہیں منکر کو خطاب کرتا ہے، کہیں اہل کتاب یہودی اور مسیحی لوگوں کو خطاب کرتا ہے، کہیں منافق کو خطاب کرتا ہے اور کہیں منکرین پیغمبر کو خطاب کرتا ہے۔ ایسی حالت میں ایک مسلمان قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ ہم قرآن کے صرف جزئی براہ کرم، اس معاملے کی وضاحت کیجیے (ایک قاری الرسالہ، حیدر آباد)۔ یہ سوال ایک مغالطے پر مبنی ہے۔ وہ مغالطہ یہ ہے کہ۔ ہم مسلمان مذکورہ کردار سے پاک حالاں کہ اگر محاسبہ (introspection) کا مزاج ہو تو قرآن کا مسلمان قاری ہر خطاب کو خود اپنے لیے محسوس کرے گا۔ کیوں کہ منکر، یا منافق، یا یہودی، یا مسیحی، یہ سب گروہ ہی نام نہیں ہیں، بلکہ یہ سب کسی صفت سے متصف لوگوں کے نام ہیں۔ اگر حقیقی محاسبہ موجود ہو تو قاری محسوس کرے گا کہ یہ سب صفات تو خود میرے اندر بھی موجود ہیں، جیسا کہ اصحاب رسول کا حال تھا۔
چناں چہ ایک تابعی (حسن بصری) نے کہا کہ میں 70 صحابہ سے ملا۔ ہر ایک کو یہ احساس تھا کہ میں نفاق میں مبتلا ہو گیا۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ مسلمان بعد کے زمانے میں، یہود و نصاریٰ کے طریقے اختیار کرلیں گے (لتتبعن سنن من كان قبلكم ، شبراً بشبر وذراعاً بذراع)، ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آپس کی لڑائی کرکے تم کافر نہ بن جانا (لا ترجعوا بعدی کفاراً، يضرب بعضكم رقاب بعض)، وغیرہ۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر قاری کے اندر صحیح مزاج موجود ہو تو قرآن میں مذکور ہر کردار اُس کے لیے ایک آئینہ بن جائے گا جس میں آدمی کو خود اپنی تصویر دکھائی دے گی۔
مسلمان کسی نسلی گروہ کا نام نہیں ہے۔ مسلمان کی شخصیت ، گروہ سے تعلق کی بنا پر نہیں، بلکہ
انفرادی کردار کی بنا پر بنتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اس دنیا میں آدمی امتحان کی حالت میں ہے۔ بھی اسی امتحان میں ہیں۔ اس بنا پر ہر وقت یہ اندیشہ ہے کہ وہ نفس یا شیطان کی ترغیبات کی بنا پر کسی گم راہی میں مبتلا ہو جائیں ۔ یہ اندیشہ ہر مسلمان کے لیے موجود رہتا ہے۔ اسی لیے حکم دیا گیا ہے کہ ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہو۔ اگر آدمی کے اندر محاسبہ کی زندہ کیفیت موجود ہو تو وہ بار بار محسوس کرے گا کہ وہ اُس چیز کا شکار ہو رہا ہے، جس کو قرآن میں مس شیطان (الأعراف: 201) کہا گیا ہے۔ بار بار ایسا ہو گا کہ ایک مسلمان اقرار کے اعتبار سے، مسلمان ہوتے ہوئے مختلف قسم کی خفیہ یا علانیہ گم راہی کا شکار ہو جائے۔ یہ مزاج اگر مسلمان کے اندر زندہ ہو تو پورا قرآن اس کے لیے ہدایت کی کتاب بن جائے گا۔ دوسروں سے خطاب میں وہ محسوس کرے گا کہ یہاں قرآن خود مجھ کو اپنا مخاطب بنا رہا ہے۔ اپنی استطاعت کے مطابق، میں Dawah work کرتا ہوں۔ پچھلے دنوں ایک شخص نے مجھ سے religion، civilization، culture اور tradition کے بارے میں کئی سوالات کیے۔ سوالات کو غور سے سننے کے بعد میں نے اُن صاحب سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ان باتوں کا مجھے بخوبی علم نہیں ہے۔ اُن صاحب کے مطابق، ایک مذہب لیکن دو تہذیبیں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں ۔ کی مثال اُنھوں نے دو الگ تہذیبیں رکھنے والے، بنگلہ دیش اور موجودہ پاکستان کے مسلمانوں سے اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہولی کے تیوہار کا تعلق مذہب سے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک culture اور اسے آپ لوگوں کے منانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ اسی طرح عورتوں کا اپنے ماتھے پر بندیا لگانے کو مذہب سے نہیں بلکہ tradition سے جوڑنا چاہیے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ آپ مذہب اور culture کو الگ کر کے دیکھیں ۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ ان سوالات کی وضاحت فرمائیں۔ (منصور سردار، بھیونڈی، مہاراشٹر)
مذکورہ سوالات سب کے سب، غیر علمی سوالات ہیں۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش اور پاکستان میں
لاحْدگی دو تہذیبوں کی بنا پر نہیں ہوئی، بلکہ یہ علاحدگی دوسری سیاسی مفاد (political interest) کی بنا پر بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمن کی پارٹی پورے پاکستان پر حکومت کرنا چاہتی تھی، اور پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی پورے پاکستان پر حکومت کرنا چاہتی تھی۔ دونوں میں سمجھوتہ نہ ہو سکا۔ دونوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا، اور اس ٹکراؤ کے نتیجے میں دو الگ ملک بن گئے۔ ہولی کا تہوار، یا ماتھے پر عورتوں کا بندیا لگانا، بلاشبہ کلچرل چیزیں ہیں۔ لیکن یہ کلچر ہندو روایات (traditions) کے تحت بنا ہے۔ اس طرح کی روایات ہر ملک میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن جس گروہ میں یہ روایتیں پائی جاتی ہیں، اُسی گروہ کے لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ صحیح نہیں کہ اس طرح کی روایتوں کو ہر گروہ کے اوپر چسپاں کیا جائے۔
دو چیزیں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ کمیونٹی کلچر، اور نیشنل کلچر۔ نیشنل کلچر صرف وہ ہے جو کاسٹی ٹیوشن آف انڈیا سے ثابت ہوتا ہو۔ جو چیز کاسٹی ٹیوشن آف انڈیا سے ثابت نہ ہوتی ہو، وہ کمیونٹی کلچر کا حصہ قرار پائے گی، نہ کہ نیشنل کلچر کا حصہ۔ کاسٹی ٹیوشن آف انڈیا کے مطابق، ہر کمیونٹی کو اپنے کلچر پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔ لیکن کسی کمیونٹی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی خود ساختہ توجیہہ کی بنا پر، اپنے کلچر کو دوسرے گروہ کے اوپر چسپاں کرنے لگے۔
آپ دعوت الی اللہ کا کام کر رہے ہیں، تو آپ کو جاننا چاہیے کہ دعوت کا ایک لازمی اصول اعراض (avoidance) ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ ایسی باتوں سے مکمل اعراض کریں جو دعوتی عمل سے براہ راست تعلق نہ رکھتی ہوں۔ اصول اعراض کی کامل پیروی کے بغیر کوئی شخص دعوت الی اللہ کا کام نہیں کر سکتا۔
1 - واشنگٹن (امریکہ) کے ادارہ ہنری ایل اسٹمسن سینٹر (Henry L. Stimson Centre) کے اسپانسرشپ کے تحت، انڈیا کے مختلف شہروں میں سیمینار منعقد کیا گیا۔ دہلی میں اس سیمینار کا انتظام حسب ذیل دواداروں کے ذریعے کیا گیا :
1. Dr. K. R. Narayan Centre for Dalit and Minorities Studies, Jamia Millia Islamia (New Delhi)
2. Centre for Study of Society and Secularism (Bombay)
نئی دہلی میں یہ سیمینار 17 ستمبر 2008 کی شام کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ’’میر تقی میر ہال‘‘ میں کیا گیا۔ اس کے آرگنائز ڈاکٹر امت پانڈیا (Dr. Amit Pandya) تھے۔ اس سیمینار کا موضوع یہ تھا :
Various Issues Facing Indian Muslims, Their Worldview and Vision for the Future. اس سیمینار میں اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان شریک ہوئے۔ اس سیمینار کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر ایک تقریر کی۔ اُن کی تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع کی نشان دہی کر کے ان کو استعمال کیا جائے۔ اس موقع پر سی پی ایس کی ٹیم کے افراد سیمینار میں موجود تھے۔ نے حاضرین کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کیا۔ سی پی ایس کے ممبران نے بھی اس موقع پر اظہار خیال کیا۔ پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔
2- سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 17 ستمبر 2008 کو ایک پروگرام ہوا۔ اس پروگرام کا موضوع یہ تھا : Basic Human Values in Islam اس پروگرام میں کیندریہ ودیالیہ کے پرنسپل حضرات شریک تھے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت اور قرآن و حدیث کی روشنی میں موضوع ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ حاضرین کے درمیان اسلامی لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ لوگوں نے اس کو بہت شوق سے لیا۔ 3- نئی دہلی کی تنظیم انٹر فیتھ کو لیشن فار پیس (ICP) کی طرف سے 23 ستمبر 2008 کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (لودھی روڈ، نئی دہلی) میں انٹر فیتھ پرئیر میٹنگ (Interfaith Prayer Meeting) کے موضوع پر ایک سیمینار اس کا مقصد ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات کے پس منظر میں مختلف مذاہب کی تعلیمات کو بتانا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور موضوع پر اظہار خیال کیا۔ اس موقع پر سی پی ایس ٹیم کے ممبران نے حاضرین کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کیا۔
4- سہارا سے ٹی وی (نئی دہلی) کے اسٹوڈیو میں ’’ماہِ رمضان‘‘ کے پروگرام کے تحت، رمضان اور شانتی کے
موضوع پر 25 ستمبر 2008 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا گیا۔ سوالات کے دوران صدر اسلامی مرکز نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں امن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
5- 26 ستمبر 2008 کو ایف اے این ایس (Foundation for Amity & National Solidarity)
کے تحت، پارلیامینٹ ہاؤس انیکسی میں ایک پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام مشہور جرنلسٹ خشونت کونسل اٹی ایوارڈز دینے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز کے ساتھ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ٹیم نے اس پروگرام میں اس موقع پر اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد موجود تھے۔ ٹیم کے لوگوں نے ان کے درمیان اسلامی لٹریچر تقسیم کیا۔ نے اس کو بہت شوق سے لیا۔ جن لوگوں کو لٹریچر نہیں مل سکا تھا، انھوں نے پروگرام کے بعد ٹیم کے لوگوں سے اپنے شوق کا اظہار کیا اور اُن سے اسلامی لٹریچر حاصل کیا۔
6- نئی دہلی کے سام ٹی وی (SAM TV) نے 27 ستمبر 2008 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کا موضوع یہ تھا کہ آج کل بم دھماکے میں اعظم گڑھ (یوپی) کا نام کیوں آ رہا ہے، جب کہ پہلے ایسا نہ تھا۔ میں بتایا گیا کہ یہ اعظم گڑھ کی بات نہیں ہے، بلکہ میڈیا کی بات ہے۔ پہلے موجودہ میڈیا نہیں تھا۔ اُس وقت اعظم گڑھ جیسے علاقوں میں خبریں نہیں پہنچتی تھیں ۔ اب ہر جگہ خبریں پہنچ رہی ہیں اور ہر جگہ ان کا چرچا ہوتا رہتا ہے۔ اس بنا پر ایسے واقعات ہوتے ہیں۔
7- نئی دہلی کے ٹوٹی فورٹی وی (24 News) کی ٹیم نے 28 ستمبر 2008 کو صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو انٹرویو کا موضوع تھا— عید کی اہمیت کیا ہے۔ جواب کا خلاصہ یہ تھا کہ عید کا مقصد خدا کی نعمتوں کو یاد کرنا اور انسانی تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ انٹرویو ر کا نام مسٹر انکت گپتا تھا۔
8- آل انڈیا ریڈیو (نئی دہلی) کے اسٹوڈیوز میں 29 ستمبر 2008 کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر ریکارڈ اس تقریر کا موضوع تھا— عید الفطر کا پیغام۔ تقریر کا خلاصہ یہ تھا کہ عید مل ملاپ کا تیوہار ہے۔ اس سے سماجی تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے اور انسانی اقدار کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔
9- 2 اکتوبر 2008 عید الفطر (1429 ہجری) کے موقع پر نماز عید کے بعد مختلف مساجد میں دعوتی لٹریچر تقسیم کیا یہ لٹریچر اردو اور انگریزی زبان میں تھا۔ لوگوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا۔ نماز کے بعد سی پی ایس کے ممبران کے سامنے صدر اسلامی مرکز نے ایک گھنٹے کا خطاب کیا۔ یہ خطاب عید الفطر کی دعوتی اہمیت کے موضوع پر تھا۔ کے خاتمے پر دعوت کو زیادہ منظم انداز میں انجام دینے کے لیے مشورہ کیا گیا۔ مشورہ کے بعد دعا پر مجلس ختم ہوئی۔ 10- سی پی ایس انٹرنیشنل اور آئی سی پی (نئی دہلی) کے تعاون سے ایک پروگرام ہوا۔ اس کا عنوان یہ تھا: Perspectives on peacemaking: