جنت کی دنیا
Al-Risala, October 2009, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے کہا کہ جنت میں داخلے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی کے اندر جنتی کردار پایا مگر مشاہدہ بتاتا ہے کہ ساری تاریخ میں بہت کم لوگ ایسے ہوئے ہیں جو جنتی کردار کے حامل ایسی حالت میں جنت تو صرف ایک سونی جگہ ہوگی، نہ کہ رونقوں سے بھری ہوئی جگہ۔ میں نے کہا کہ جنت کی سب سے بڑی رونق خود خداوند ذوالجلال کی ذات ہے۔ خدا کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ وہ آسمان اور زمین کا نور ہے (النور: 35)۔ یہ نور جنت میں بدرجہ کمال موجود پوری جنت خدا کے نور سے بھری ہوئی ہوگی۔ جنت کے ہر عورت اور مرد کو خدا کی موجودگی کا مستقل جنت میں ہم اس قابل ہوں گے کہ خدا کی موجودگی کو مسلسل طور پر محسوس کرسکیں : We will be able to feel continuously the presence of God. اس کے علاوہ، جنت میں خدا کے فرشتے بے شمار تعداد میں موجود ہوں گے۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں آنے والے پیغمبر جنت کے ممتاز افراد کی حیثیت سے وہاں موجود ہوں گے۔ اس کے علاوہ، پوری تاریخ میں پیدا ہونے والی تمام صالح عورتیں اور تمام صالح مرد وہاں اکٹھا کیے جائیں گے۔ طرح وہ بے شمار بچے وہاں بسائے جائیں گے جو معصومیت کی عمر میں مرگئے۔ یہ بچے جنت کی خصوصی رونق ہوں گے۔ غالباً انھیں کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: ويطوف عليهم ولدان مخلدون، إذا رأيتهم حسبتهم لؤلؤاً منثوراً (الدھر: (19) یعنی ان کے پاس پھر رہے ہوں گے ایسے بچے جو ہمیشہ بچے ہی رہیں گے۔ تم انھیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دئے گئے ہیں۔ جس جنت میں اتنی زیادہ رونقیں اور اتنی زیادہ پرکیف سرگرمیاں موجود ہوں، وہ جنت ایک سونی جنت کیسے ہوسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت ایک انتہائی پررونق جگہ ہوگی۔ چناں چہ حدیث میں جنت کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں: فيها ما لا عين رأت، ولا أذن سمعت، ولا خطر علیٰ قلب بشر (صحیح مسلم، کتاب الجنة)۔