Al-Risala · October 2009

خوفِ خدا کی پہچان

Al-Risala, October 2009, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی انسان کے لیے سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو اس طرح دریافت کرے کہ وہ اُس سے ڈرنے والا بن جائے ۔ خدا کا خوف بلاشبہ کسی کے دین دار ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے ۔ خوفِ خدا کی پہچان کیا ہے ، اس کو کتاب اللہ کے مطالعے سے جانا جا سکتا ہے۔ کی ایک آیت یہ ہے : ولا یجرمنکم شنئان قوم علیٰ ألا تعدلوا ، اعدلوا هو أقرب للتقویٰ (المائدة : 8) یعنی کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو۔ کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔

اخلاقی اعتبار سے انسان کی دو حالتیں ہوتی ہیں ـــــ ایک ، معتدل حالت ۔ اور دوسری ، غیر معتدل حالت ۔ معتدل حالت میں ہر انسان با اخلاق ہی ہوتا ہے۔ معتدل حالت کسی آدمی کے صاحبِ تقویٰ ہونے کی پہچان نہیں ہوسکتی۔ صاحبِ تقویٰ ہونے کی پہچان یہ ہے کہ آدمی غیر معتدل حالت میں کس قسم کی روش کا اظہار کرتا ہے۔ ایک صورت وہ ہے جب کہ آدمی کے ساتھ آپ کے دوستانہ تعلقات ہوں۔ ایسے حالات آپ کے تقویٰ کا امتحان نہیں ہوتے۔ تقویٰ کے امتحان کا وقت وہ ہے جب کہ آدمی کے ساتھ آپ کی اَن بن ہو جائے ، جب کہ آدمی آپ کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ کرے جو آپ کے لیے شکایت کا باعث بن جائے۔ جب آدمی کی کسی روش پر آپ مشتعل ہوجائیں، ، یہی وقت دراصل کسی شخص کے تقویٰ کے امتحان کا وقت ہوتا ہے۔

جو آدمی اختلاف کے وقت اعتدال پر قائم رہے ، جو دشمنی کے وقت انصاف کی بولی بولے ، جو منفی تجربے کے وقت بھی مثبت ردِّ عمل کا اظہار کرے ، وہی متقی انسان ہے۔ وہی وہ انسان ہے جس کے دل میں اللہ کا ڈر بسا ہوا ہے۔ یہ ڈر اُس کے لیے اس بات کا ضامن بن گیا ہو کہ وہ ہر حال میں تقویٰ کی روش پر قائم رہے ، کسی کا ناروا سلوک اُس کو تقویٰ کی روش سے ہٹانے نہ پائے۔ یہی وہ انسان ہے جس کو اللہ کے یہاں متقی انسانوں میں شامل کیا جائے گا۔

Printed page