Al-Risala · October 2009
Change in personality, statusquoism in system.
Al-Risala, October 2009, p. 12
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلامی تحریک کی یہی فطری ترتیب ہے۔ اگر اس ترتیب کو بدل دیا جائے، یعنی اگر پولیٹکل سسٹم کو بدلنے سے تحریک کا آغاز کیا جائے تو سوسائٹی کی جدوجہد کے بعد بھی کوئی مثبت نتیجہ نکلنے فرد کی تبدیلی سے آغاز کر کے نظام کی تبدیلی تک پہنچنا ممکن ہوتا ہے۔ لیکن اگر نظام کی تبدیلی سے آغاز کیا جائے تو ایسی تحریک کسی انجام تک پہنچنے والی نہیں۔ ایسی تحریک صرف تباہی میں اضافہ کرے گی، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔
فرد کے اندر ذہنی تبدیلی سے تحریک کا آغاز کرنے کی صورت میں فی الفور تحریک کو مثبت آغاز مل لیکن سسٹم سے آغاز کرنے کا نتیجہ صرف یہ ہوتا ہے کہ آخر کار تحریک ایک بندگلی (blind alley) میں پہنچ کر رک جاتی ہے۔ اس کے پیچھے بھی اندھیرا ہوتا ہے اور اس کے آگے بھی اندھیرا۔