Al-Risala · October 2009

منطقی علم، فطری شعور

Al-Risala, October 2009, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی عورت یا مرد کو سب سے زیادہ محبت اپنی ماں سے ہوتی ہے۔ یہ محبت کسی دلیل یا منطق(logic) کے زور پر نہیں ہوتی۔ وہ مکمل طور پر داخلی شعور کے تحت ہوتی ہے۔ اگر یہ داخلی شعور موجود نہ ہو تو کوئی بھی شخص اپنی ماں سے محبت کا تعلق قائم نہیں کر سکتا۔ یہی معاملہ بڑے پیمانے پر خدا کا ہے، جو کہ ہمارا خالق اور مالک ہے۔

خدا کا وجود بلاشبہ ایک حقیقت ہے، لیکن خدا ہم کو اپنی مادی آنکھوں کے ذریعے دکھائی نہیں اسی طرح عقلی اور منطقی دلائل بھی خدا کے وجود کو ثابت کرنے کے لیے صرف جزئی حد تک کافی خدا کے بارے میں کوئی بھی عقلی یا منطقی دلیل آدمی کو صرف امکان (probability) کی حد تک پہنچاتی ہے، نہ کہ یقین (conviction) کی حد تک۔ یہ خالق کی ایک عظیم رحمت ہے کہ اس نے اپنے شعور کو انسان کی فطرت میں ودیعت کر دیا۔ خدا کو پہچاننا انسان کے لیے ویسا ہی ایک حتمی معاملہ بن گیا ہے، جیسا کہ اپنی ماں کو پہچاننا اور اس کے ساتھ خصوصی محبت کا تعلق قائم کرنا۔ یہ فطری شعور ہر ایک کے لیے ایک داخلی جبر (inner compulsion) کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ داخلی شعور انسان کے لیے بہت بڑی نعمت ہے، بلکہ سب سے بڑی نعمت۔ کیوں کہ انسان کی فطرت میں اگر یہ جبری شعور نہ ہوتا تو صرف عقلی یا منطقی استدلال اس کے لیے اطمینان کا سبب نہیں بن سکتا ایسی حالت میں اگر آدمی خدا کو مانتا بھی تو وہ کامل یقین کے درجے میں اس کو نہیں مان سکتا تھا۔ شعور کی غیر موجودگی میں شاید کوئی بھی شخص خدا کا سچا مومن نہ بنتا۔ اس معاملے میں صرف پیغمبروں کا استثناء ہو سکتا تھا جن کو خدا نے براہِ راست مشاہدے کے ذریعے ایمان کا تجربہ کرا دیا ہے۔ انسان کی سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کی معرفت حاصل کر سکے۔ حالت میں اگر صرف منطقی طور پر خدا کو پہچاننا ہوتو وہ انسان کے لیے بہت بڑا رسک (risk) ہوتا۔ یہ خالق کی بہت بڑی رحمت ہے کہ اس نے انسان کو اس سنگین رسک سے بچا لیا۔

Printed page