اسلام دین فطرت
Al-Risala, October 2009, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام فطرت کا دین ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کے قوانین وہی ہیں جو فطرت کے سائنس میں جس چیز کو لاز آف نیچر (laws of nature) کہا جاتا ہے، اُس کو اسلام میں الفاظ کی صورت دے دی گئی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يدبّر الامر يفصّل الآيات (الرعد: 2)۔
اسی معاملے کی ایک مثال دانت کی صفائی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دانت کی صفائی پر بہت زیادہ زور دیا ہے۔ حدیث کی تقریباً تمام کتابوں میں اس موضوع پر حدیثیں موجود ہیں۔ کے الفاظ یہ ہیں: السواك مطهرة للفم، مرضاة للرب (صحیح البخاری، کتاب الصوم) یعنی مسواک دانت کی صفائی کا ذریعہ ہے، اور خدا کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ایک روایت میں آپ نے فرمایا کہ دس چیزیں فطرت میں شامل ہیں، اُن میں سے ایک مسواک ہے۔ اس سلسلے میں ایک امریکی یونی ورسٹی میں ریسرچ کی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوا ہے کہ دانت کی صفائی کا تعلق انسان کی پوری صحت سے ہے۔ سے نہ صرف منہ کی صفائی ہوتی ہے، بلکہ وہ ہر اعتبار سے انسان کی صحت کے لیے مفید ہے۔ مسواک کی عادت انسان کو دل کے امراض اور فالج سے بچاتی ہے۔ اس کا حافظہ دیر تک باقی رہتا ہے، وغیرہ۔ Keep Mouth Clean Keeping your teeth brushed and flossed can help preserve memory, say researchers. The study at West Virginia University has found a link between gum disease and memory loss. “Older people might want to know there’s more reason to keep their mouths clean— to brush and floss— than ever,” said Richard Crout, an expert on gum disease and associate dean for research in the WVU School of Dentistry. “You’ll not only be more likely to keep your teeth, but you’ll also reduce your risk of heart attack, stroke and memory loss. “This could have great implications for health of our aging populations,” Crout said. “With rates of Alzheimer’s skyrocketing, imagine the benefits of knowing that keeping the mouth free of infection could cut down on cases of dementia,” he added. (The Times of India, New Delhi, June 22, 2009)
فلسطین کا مسئلہ Realism Returns to Palestine فلسطین کی جدید تاریخ 1948 سے شروع ہوتی ہے، جب کہ بال فور ڈکلیریشن (Balfour Declaration) کے تحت فلسطین کی تقسیم عمل میں آئی۔ یہ واقعہ برٹش ایمپائر کے زمانے اس تقسیم کے تحت جو ہوا، وہ یہ کہ سر زمینِ فلسطین کا تقریباً ایک تہائی حصہ یہود کو آباد کاری (settlement) کے لیے دیا گیا، جو کہ اُس وقت بیرونی علاقوں میں بسے ہوئے تھے۔ اور فلسطین کا تقریباً دو تہائی رقبه عربوں کے حصے میں آیا، جو کہ پہلے سے وہاں موجود تھے۔ یہود کو یہ حق پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کے دوران محدود کوٹا سسٹم (limited quota system) کے تحت دیا گیا تھا۔ بعد کو اسرائیل کی جو توسیع عمل میں آئی، وہ بال فور ڈکلیریشن کا نتیجہ نہ تھی، بلکہ یقینی طور پر عربوں کی اپنی غلط پالیسی کا نتیجہ تھی۔ مثلاً سوئز کمپنی کا پٹہ (lease) جو 1968 میں اپنے آپ ختم ہو رہا تھا، اِس کو 1956 میں یک طرفہ طور پر ختم کر دینا۔ فطری طور پر اس کے نہایت گمبھیر نتائج برآمد ہوئے ۔ اِسی طرح فلسطینی عربوں کا اپنی زمینوں کو زیادہ بڑی قیمت پا کر یہودیوں کے ہاتھ بیچ دینا، وغیرہ۔