یہود، یا بنی اسرائیل
Al-Risala, October 2009, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
یہود یا بنی اسرائیل کون ہیں۔ یہ دراصل حضرت ابراہیم کے پوتے، حضرت یعقوب سے نسبت رکھنے والے لوگ ہیں۔ حضرت یعقوب کے چوتھے بیٹے کا نام یہودا (Juda) تھا۔ منسوب ہو کر بعد کو یہ لوگ عام طور پر یہودی کہے جانے لگے۔ حضرت یعقوب کا عرفی نام اسرائیل تھا۔ عبرانی زبان میں اسرائیل کے معنی ہیں: اللہ کا بندہ، جیسا کہ اسماعیل کے معنی ہیں: اللہ کا سننا۔ حضرت ابراہیم کا زمانہ تقریباً چار ہزار سال پہلے کا زمانہ ہے۔ حضرت ابراہیم کے
دو بیٹے تھے — اسماعیل اور اسحاق ۔ اسماعیل، آپ کے بڑے بیٹے تھے، جو ہاجرہ کے بطن سے تھے۔ اور اسحاق آپ کے چھوٹے بیٹے تھے، جو آپ کی دوسری بیوی سارہ کے بطن سے تھے۔ حضرت ابراہیم نے خدا کے حکم سے اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب میں آباد کیا۔ اور اپنے دوسرے بیٹے اسحاق کو خدا کے حکم سے فلسطین کے علاقے میں آباد کیا۔ حضرت اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب تھے، جن کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ نسل بنی اسرائیل (Children of Israel) کہلائی۔ اپنے آبائی تعلق کی بنا پر فلسطین، بنی اسرائیل کا وطن قرار پایا، جیسا کہ اسی طرح کے آبائی تعلق کی بنا پر عرب، بنواسماعیل کا وطن مانا جاتا ہے۔ یہودی مذہب ایک نسلی مذہب ہے۔ یہودی مذہب میں کنورژن (conversion) کا کوئی تصور نہیں ۔ اس لیے آج جتنے یہودی دنیا میں پائے جاتے ہیں، وہ سب کے سب براہِ راست طور پر حضرت یعقوب (اسرائیل) کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس نسبت کی بنا پر تمام یہودیوں کا مشترک وطن فلسطین ہے، جیسا کہ ان کے مورثِ اعلیٰ اسحاق اور یعقوب کا وطن فلسطین تھا۔ بنواسماعیل کا وطن عرب قرار پانا، اور بنواسحاق (بنی اسرائیل) کا وطن فلسطین قرار پانا، دونوں کا تقرر حضرت ابراہیم نے کیا، جو کہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت تھا۔
قدیم زمانہ مذہبی معاملات میں عدم رواداری (intolerance) کا زمانہ تھا۔ یہود کو بار بار اس طرح کے ناخوش گوار تجربات پیش آئے ۔ چناں چہ ان کی ایک تعداد فلسطین چھوڑ کر باہر جاتی رہی۔ یہودی تارکین وطن ہیں جن کو یہودی ڈائس پورا (Jews in diaspora) کہا جاتا ہے۔ ڈائس پورا کا مطلب ہے — وہ یہودی تارکینِ وطن، جو فلسطین کے باہر آباد ہوں: