Al-Risala · October 2009

Diaspora: Jews who lived outside of Palestine.

Al-Risala, October 2009, pp. 18–20

By Maulana Wahiduddin Khan

بالفور ڈکلریشن کے تحت، فلسطین واپسی کا فیصلہ انھیں ڈائس پورا میں رہنے والے یہودیوں کی بابت تھا۔ 1948 میں جب بیرونی علاقوں میں رہنے والے یہودیوں کی ایک تعداد فلسطین واپس آئی، تو اُس وقت عربوں کی طرف سے ان کے خلاف سخت قسم کے منفی ردِّعمل کا اظہار ہوا۔ عربوں کی سب سے بڑی تنظیم الاخوان المسلمون دراصل یہود کے خلاف منفی جذبات کے زیرِ اثر بنی۔ اُس وقت عرب رہ نماؤں

کا یہ نعرہ تھا: سنرميهم فی البحر (ہم ان یہودیوں کو سمندر میں دھکیل دیں گے)۔ تمام عرب اور غیر عرب مسلم رہ نما یہودیوں کے خلاف سرگرم ہو گئے، یہاں تک کہ پوری مسلم دنیا مخالفِ یہود جذبات سے ہر قسم کے تشدد حتیٰ کہ خود کُش بم باری کو یہودیوں کے خلاف جائز قرار دے دیا گیا۔ مگر یہود کے خلاف تمام سرگرمیاں کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوئیں۔ اِن سرگرمیوں کا نقصان براہِ راست طور پر عربوں کے حصے میں آیا، اور بالواسطہ طور پر تمام دنیا کے مسلمانوں کے حصے میں۔ عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی یہ مخالفِ یہود پالیسی واضح طور پر اسلامی تعلیمات کے خلاف بال فور ڈکلیریشن کے تحت، فلسطین کی تقسیم، یہودی تارکین وطن (Jews in diaspora) کے لیے اپنے وطن کی طرف واپسی کے ہم معنی تھی۔ یہ بات واضح طور پر قرآن کی تعلیم کے عین مطابق تھی۔ قرآن کی سورہ نمبر 5 میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں یہود سے کہا گیا تھا: یــــا قـــــوم ادخلوا الأرض المقدسة التى كتب الله لكم (المائدۃ: 21) یعنی تم ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ جس کو خدا نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے:

O my people, enter the holy land which God has assigned to you (5:21)

یہ یہود کون تھے ۔ یہ وہ یہود تھے جو اس وقت سینا کے علاقے میں ڈائس پورا کے حیثیت سے رہ اس آیت میں ارضِ مقدس سے مراد فلسطین ہے۔ اس آیت کا خطاب حضرت موسیٰ کے ہم عصر یہودی ڈائس پورا سے تھا، جو فلسطین کے باہر جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ”جس کو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے‘‘ سے مراد یہ ہے کہ تمھاری یہ واپسی خدائی قانون، بہ الفاظ دیگر، فطرت کے قانون کے عین مطابق ہوگی۔ کیوں کہ فطرت کے قانون کے مطابق، کسی بھی تارکِ وطن گروہ کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے اصل آبائی وطن کی طرف واپس چلا جائے۔

حضرت موسیٰ کے ساتھ جو بنی اسرائیل تھے، وہ کون تھے۔ وہ سب کے سب تارکینِ وطن کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت ابراہیم نے اپنے خاندان کی ایک شاخ کو فلسطین کے

علاقے میں آباد کیا تھا۔ انھیں میں حضرت یوسف پیدا ہوئے، جو حضرت یعقوب کے بیٹے تھے۔ یوسف کے ساتھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہ مصر پہنچ گئے۔ اُس زمانے میں وہاں جس بادشاہ کی حکومت تھی، وہ حضرت یوسف پر مہربان ہو گیا اور اُن کو اپنی حکومت میں ایک بڑا عہدہ دے دیا۔ پھر حضرت یوسف کو جب مصر میں استحکام حاصل ہوا، تو انھوں نے اپنے اہلِ خاندان، بشمول اپنے والد حضرت یعقوب، سے کہا کہ آپ لوگ فلسطین چھوڑ کر مصر آ جائیں۔ اِس طرح یہ لوگ مصر جا کر وہاں آباد ہوئے۔ وہاں اُن کی نسل کافی بڑھی، یہاں تک کہ وہ مصر کی ایک با اثر قوم بن گئے۔ حضرت یوسف کے بعد مصر میں سیاسی انقلاب آیا، اور قدیم بادشاہ (Hyksos Kings) کے بجائے ایک نیا خاندان، مصر کا حکم راں بن گیا جس نے فرعون (Pharaoh) کو اپنے خاندانی لقب کے طور پر اختیار کیا۔ فرعون کی اِسی حکومت کے زمانے میں بنی اسرائیل پر مظالم شروع ہوئے، یہاں تک کہ حضرت موسٰی پیدا ہوئے اور وہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے گئے۔ یہ بنی اسرائیل کے سفر کا پہلا مرحلہ تھا۔ اُن کے سفر کا دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ وہ دوبارہ اپنے آبائی وطن (فلسطین) میں داخل ہو جائیں اور وہاں جا کر آباد ہوں۔

یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حضرت موسٰی کے زمانے میں جن بیرونی یہودیوں کی واپسی کا منصوبہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت بنایا گیا تھا، وہ قدیم یہودی ڈائس پورا سے تعلق رکھتا اِس کے بعد بال فور ڈکلیریشن کے تحت، جن بیرونی یہودیوں کی واپسی کا منصوبہ بنا، وہ جدید یہودی ڈائس پورا سے تعلق رکھتا ہے۔

Printed page