قبلۂ اَوّل کی بازیابی کا مسئلہ
Al-Risala, October 2009, pp. 20–28
By Maulana Wahiduddin Khan
عام طور پر مسلمان، فلسطین کے موجودہ مسئلے کو، قبلۂ اَوّل کی بازیابی کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اِن کا کہنا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد جب مدینہ میں ایک مسجد (مسجد نبوی) تعمیر کی، اور اس میں نماز با جماعت قائم کی، تو اُس وقت آپ نے یہودی طریقے کی پیروی کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کو اپنا قبلہ قرار دیا۔ یہ صورتِ حال تقریباً 16 مہینے تک قائم رہی۔ اِس کے بعد قرآن میں
تحویل قبلہ کا حکم آیا، اور پھر آپ نے اس کی پیروی کرتے ہوئے، کعبہ کو نماز کے دائمی قبلہ کے طور پر اختیار کر لیا۔ اس واقعے کے حوالے سے مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ، قبلۂ اول کی بازیابی کا مسئلہ ہے۔ اس اعتبار سے فلسطین کا مسئلہ محض ایک قومی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کا ایک خالص دینی مسئلہ ہے۔
یہ نظریہ سرتا سر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ مسجد اقصٰی کا تعلق، قبلۂ اول سے نہیں ہے۔ مسجد اقصٰی کا ذکر معروف معنوں میں، کسی مسجد کے نام کے طور پر نہیں آیا ہے۔ مسجد اقصٰی کے معنی : دور کی مسجد (farthest place of worship) کے ہیں۔ اس کو دور کی مسجد اس لیے کہا گیا کہ وہ مکہ سے 765 میل (1232 کلومیٹر) کے فاصلے پر یروشلم میں واقع ہے۔ مسجد اقصٰی سے مراد یروشلم کی یہودی عبادت گاہ ہے۔
اس یہودی عبادت گاہ (ہیکل) کو حضرت سلیمان نے 957 قبل مسیح میں تعمیر کیا۔ عبادت گاہ کو بابل (عراق) کے حکم راں نبوخذ نصر (Nebuchadrezzar II) نے 586 قبل مسیح میں مکمل طور پر ڈھادیا۔ ایک عرصے کے بعد یہودیوں نے یہ عبادت گاہ دوبارہ بنائی۔ عبادت گاہ کو بھی رومیوں نے 70 عیسوی میں ڈھا کر کھنڈر کر دیا۔ اس عمارت کی صرف ایک دیوار باقی رہ گئی ہے، جس کو دیوار گریہ (Wailing Wall)، یا مغربی دیوار کہا جاتا ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت یہاں کوئی عمارت نہیں تھی، بلکہ صرف ہیکل کی خالی جگہ (site) تھی۔ خلیفۂ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں 638 عیسوی میں مسلمان یروشلم میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر نے ہیکل کی جگہ (site) پر کوئی عمارت تعمیر نہیں کی۔ بعد کو اموی دور میں خلیفہ عبد الملک بن مروان (وفات: 705ء) نے ہیکل کی جگہ 688 عیسوی میں موجودہ مسجد اقصٰی کی تعمیر کی۔
مسجد اقصٰی کیمپس میں ایک اور عمارت ہے، جس کو قُبَّۃ الصَّخْرۃ (Dome of Rock) کہا جاتا ہے۔ یہاں قدیم زمانے سے یہودیوں کا مقدس صخرہ (چٹان) واقع تھا۔ اسی صخرہ کے اوپر خلیفہ عبد الملک بن مروان نے 688 عیسوی میں موجودہ قبہ (گنبد) کی تعمیر کی۔ یہی مقدس چٹان، یا
قبۃ الصخرہ ، یہودیوں کا قبلہ تھا ، اور یہی قبۃ الصخرہ ، نہ کہ مسجد اقصیٰ ، ہجرت کے بعد عارضی طور پر پیغمبر اسلام کا قبلہ بنا تھا۔ صخرہ سنگِ خارا کی ایک چوکور چٹان ہے۔ اس چٹان کو یہودی اپنے لیے مقدس ان کے نزدیک ، یہی وہ صخرہ ہے جس پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی اصلاً اسی قبۃ الصخرہ کا نام بیت المقدس ہے ، اور توسیعی معنوں میں ، قدیم یروشلم کے پورے علاقے کو بیت المقدس کہا جاتا ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کو فلسطینی جد و جہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان عام طور پر ، مسجدِ اقصیٰ کو قبلہ اول‘‘ سمجھتے ہیں ، حالاں کہ قبلہ اوّل کا کوئی تعلق ، مسجدِ اقصیٰ سے نہیں ۔ قبلہ اول اگر کوئی ہو سکتا ہے ، تو وہ قبۃ الصخرہ (بیت المقدس) ہے ، نہ کہ مسجد اقصیٰ ۔ مزید یہ کہ پیغمبر اسلام جب مکہ میں تھے ، تو آپ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ ہجرت کے بعد آپ نے تقریباً 16 مہینے تک ، قبۃ الصخرہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ اس کے بعد ، خدا کے حکم کے مطابق ، آپ دوبارہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو قبۃ الصخرہ درمیانی قبلہ ہے ، نہ کہ پہلا قبلہ ۔ اس حقیقت کی روشنی میں دیکھیے تو قبلہ اوّل کی بازیابی‘‘ کا لفظ سرتا سر بے اصل ہے۔ مفروضہ بازیابی کو مسجدِ اقصیٰ سے منسوب کیا جائے تو مسجدِ اقصیٰ کبھی بھی پیغمبر اسلام کا قبلہ نہ تھی۔ (622ء) کے وقت وہاں صرف یہودی ہیکل کی خالی جگہ (site) تھی ، نہ کہ موجودہ قسم کی کوئی مسجد ۔ جہاں تک قبۃ الصخرہ کی بات ہے ، اس کی بازیابی کا کوئی سوال نہیں۔ وہ پہلے بھی یہودی قبلہ تھا ، اور اب بھی وہ یہودی قبلہ ہے ۔ قبۃ الصخرہ کی بازیابی کا مطالبہ اُسی طرح غیر معقول ہے ، جیسے مشرک گروہ کعبہ کی واپسی کا مطالبہ کرے ، یہ کہہ کر کہ وہ کبھی اُن کے بتوں کا مرکز تھا۔
بالفور ڈکلیریشن کے تحت 1948 میں جب یہودی باہر سے آکر فلسطین میں بسنے لگے ، تو اْس وقت عربوں کی طرف سے صرف ایک ردِ عمل سامنے آیا ، اور وہ مسلح جہاد کا ردِ عمل تھا۔ عرب ممالک نے فلسطینیوں کو بہت بڑے پیمانے پر مالی امداد دینا شروع کیا۔ یہودی ریاست کے خلاف متشددانہ کارروائیوں کے ذریعے یہ کوشش کی جانے لگی کہ اس کا بالکل خاتمہ کر دیا جائے۔ لیکن عربوں کو اپنے اس
متشددانہ منصوبے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔
یہ بلاشبہ عرب رہ نماؤں کی غلطی تھی۔ یہ عرب رہ نما اگر اسلامی تاریخ سے سبق لیتے، تو اُن کو معلوم ہوتا کہ ان کے لیے ایک اور زیادہ بہتر انتخاب (better choice) موجود ہے۔ وہ یہ کہ وہ ان آنے والے یہودیوں کا ایک پڑوسی کی حیثیت سے استقبال کریں اور فلسطین کے ڈیولپ مینٹ میں ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔ یہ یہودی زیادہ تر مغربی ملکوں سے آئے تھے۔ ان کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل تھی۔ وہ جدید علوم میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ عربوں کے لیے ترقیاتی عمل میں بہترین پارٹنر بن سکتے تھے۔ مگر جذباتیت کے طوفان میں عرب رہ نما معاملے کے اس مثبت پہلو کو سمجھنے سے قاصر رہے۔
حالاں کہ اسلام کی تاریخ میں مسلم اور یہود کے درمیان اس تعاون (collaboration) کی نہایت اعلیٰ مثال موجود تھی۔ بعد کے زمانے میں جب بڑی بڑی مسلم حکومتیں قائم ہوئیں، تو اُس زمانے میں مسلمانوں نے ایک نیا کام شروع کیا— قدیم علمی کتابیں جو یونانی اور دوسری زبانوں میں تھیں، اُن کا ترجمہ عربی زبان میں کرنا، اس مقصد کے لیے مختلف ملکوں سے غیر عربی کتابیں بڑی تعداد میں منگائی گئیں۔ اسی واقعے کو خواجہ الطاف حسین حالی (وفات: 1914) نے اپنی مسدس میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
حریم خلافت میں اونٹوں پہ لد کر چلے آتے تھے مصرو یوناں کے دفتر اس مقصد کے لیے عباسی دورِ حکومت میں بغداد میں بہت بڑا دارالترجمہ قائم ہوا جس کو بیت الحکمت (832ء) کہا جاتا تھا۔ اسی طرح دولت فاطمیہ نے قاہرہ میں اسی مقصد کے لیے دارالحکمت (1005ء) قائم کیا۔ ان اداروں کے تحت، بڑی تعداد میں قدیم کتابوں کے عربی ترجمے اس کے بعد جب عرب، اندلس (اسپین) میں داخل ہوئے، اور وہاں اپنی حکومت بنائی، تو قرطبہ اور غرناطہ میں بڑے بڑے تعلیمی اور تصنیفی ادارے قائم کیے گئے۔ اس طرح جو عربی ترجمے کیے گئے، وہ جلد ہی لاطینی زبان میں ترجمہ ہو کر یورپ میں پھیلے۔ یہ صرف ترجمے کا کام نہ تھا، بلکہ عین اُسی
کے ساتھ مختلف شعبوں میں تحقیق کا کام بڑے پیمانے پر جاری رہا۔ اس طرح جو علمی ترقیاں ہوئیں، اُس کے براہ راست نتیجے کے طور پر یورپ میں نشاة ثانیہ (Renaissance) کا واقعہ پیش آیا۔ طرح اُس زمانے کے مسلمانوں نے قدیم روایتی دور اور جدید سائنسی دور کے درمیان پل کا کام کیا۔ اس واقعے کا اعتراف عام طور پر مغربی مؤرخین نے کیا ہے۔ مثال کے طور پر رابرٹ بریفالٹ (وفات: 1948) نے اس معاملے میں عربوں کے رول کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ــ یہ بہت زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے پیدا ہی نہ ہوتی: It is highly probable that but for the Arabs, modern industrial civilization would never have arisen at all. (Robert Briffault, Making of Humanity, p. 190)
علم و تحقیق کے میدان میں عربوں نے یہ عظیم کارنامہ کس طرح انجام دیا، جب کہ اس سے پہلے اس قسم کے کسی علمی کارنامے کی روایت عربوں کے یہاں موجود نہیں تھی۔ جواب یہ ہے کہ یہ کارنامہ انھوں نے تعاون (collaboration) کی طاقت سے انجام دیا۔ اُس زمانے کے عربوں نے عراق اور مصر اور اسپین میں علم و تحقیق کے جو ادارے بنائے، اُس میں انھوں نے مسیحی اسکالر اور یہودی اسکالر کی خدمات بڑے پیمانے پر حاصل کیں۔ ان اداروں میں عرب علماء اور غیر عرب اسکالر مل کر کام اس تعاون کا نتیجہ وہ شان دار علمی تاریخ ہے، جو قرونِ وسطی کے زمانے میں بنی، اور جس کی بنیاد پر مغربی یورپ نے مزید اعلیٰ ترقی حاصل کی (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ــــ پروفیسر فلپ کے ہٹی کی کتاب : تاریخِ عرب (History of the Arabs) ۔
1948 کے بعد یہی امکان دوبارہ فلسطینیوں کے لیے پیدا ہوا تھا، لیکن جذبات سے مغلوب، عرب رہنماؤں نے غلط رہ نمائی کر کے ان کو تعاون کے بجائے ٹکراؤ کے راستے پر ڈال دیا۔ تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔ اس امکانی تاریخ کا ایک چھوٹا سا نمونہ عربوں کے زیر اقتدار فلسطین، اور یہود کے زیر اقتدار فلسطین کا تقابل کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہود کے زیر اقتدار فلسطین کا یہ حال ہے کہ جہاں 1948 میں خشک صحرا دکھائی دیتا تھا، وہاں آج زراعت اور باغ بانی (horticulture) کی
سرسبز دنیا نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس، فلسطین کا جو حصہ عربوں کے زیر اقتدار ہے، وہاں اب بھی پس ماندگی کی وہی حالت ہے جو 1948 میں وہاں پائی جاتی تھی۔
فلسطین کے لوگ اپنے نادان رہ نماؤں کی رہ نمائی میں ایک بے نتیجہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ پہلے اُن کا نشانہ یہ تھا کہ وہ فلسطین کو 1948 سے پہلے کی حالت پر لے جائیں۔ اب ان کا نشانہ فلسطین کو 1967 سے پہلے کی حالت کی طرف لے جانا ہے۔ یہ دونوں نشانے بلاشبہ ناممکن ہیں۔ یہ تاریخ کے سفر کو پیچھے کی طرف لوٹانے کے ہم معنی ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا کبھی کسی کے لیے ممکن نہیں ہوا۔ کے لیے پہلا انتخاب یہ تھا کہ وہ 1948 کے اسٹیٹس کو (statusquo) پر راضی ہو جائیں۔ اب ان کے لیے دوسرا ممکن انتخاب یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو موجودہ اسٹیٹس کو پر راضی کر لیں۔ اگر انھوں نے اس دوسرے انتخاب کو بھی کھو دیا، تو اس کے بعد کوئی تیسرا انتخاب ان کے لیے کبھی پیش آنے والا نہیں۔ اب تیسرا انتخاب ان کے لیے صرف تباہی اور بربادی کا انتخاب ہے، نہ کہ زندگی اور کامیابی کا انتخاب۔ اسٹیٹس کو ازم (statusquoism) کا مطلب ہے ــ حالتِ موجودہ کو تبدیلی کے بغیر مان یہ کوئی کم زوری کی بات نہیں، یہ ایک اعلیٰ قسم کی دانش مندانہ پالیسی کا نام ہے۔ فطرت کے نظام کے مطابق، اس دنیا میں ہمیشہ اور ہر ایک کے لیے کوئی نہ کوئی نزاعی مسئلہ موجود رہتا ہے۔ ساتھ خود نظامِ فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ ہر صورتِ حال میں کام کرنے کے مواقع بھی موجود ہوں ۔ حالت میں نتیجہ خیز پالیسی (result-oriented policy) یہ ہے کہ آدمی مسائل (problems) کو نظر انداز کرے اور مواقع (opportunities) کو استعمال کرے۔ نزاعی مسائل سے الجھنا ہمیشہ हमेशा اس قیمت پر ہوتا ہے کہ مسائل تو ختم نہ ہوں، لیکن قیمتی مواقع استعمال ہونے سے رہ جائیں۔ فلسطین میں عرب رہ نما لمبی مدت سے کھوئی ہوئی زمین (land) کے لیے لڑ رہے ہیں۔ نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو اُن کی ساری کوششیں اور قربانیاں سرتا سر رائیگاں ہو گئیں۔ وہ اپنے نشانے کے مطابق، زمین (land) تو حاصل نہ کر سکے، البتہ یہ نقصان اُن کے حصے میں آیا کہ وہ قیمتی مواقع کو استعمال (avail) کرنے سے محروم رہے۔
موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ قدیم زرعی دور میں ساری اہمیت زمین کی ہوا کرتی تھی، مگر جدید کمیونیکیشن کے زمانے میں زمین ایک ثانوی اہمیت کی چیز بن گئی ہے۔ اب ساری اہمیت مواقع کی ہے، جو گلوبلائزیشن کے نتیجے میں ہر شخص کو یکساں طور پر حاصل ہے۔ اب ایک شخص بظاہر ایک محدود جگہ پر رہتے ہوئے بھی ساری دنیا کے مواقع کو اپنے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ایسی حالت میں زمین (land) کے حصول کے لیے لڑنا، ایک قسم کی خلافِ زمانہ روش (anachronism) ہے، جو کبھی کسی کے لیے مثبت نتیجہ پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔
فلسطین کی موجودہ صورتِ حال ایک بحران (crisis) کی صورتِ حال ہے۔ یہ صورتِ حال نہ عربوں کے لیے مفید ہے اور نہ اسرائیل کے لیے مفید۔ دونوں کے بہترین مفاد میں یہ بات ہے کہ دونوں معتدل ذہن کے ساتھ مسئلے پر غور کریں اور صورتِ حال کو نارمل بنانے کے لیے کوئی نیا فیصلہ لیں۔ معاملے میں دونوں فریق کو حقیقت پسندی سے کام لینا ہوگا۔ کوئی ایسی شرط جو دونوں فریقوں کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول نہ ہو، وہ صرف ایک خیالی شرط ہوگی، نہ کہ حقیقت پسندانہ شرط۔ میری فہم کے مطابق، اس معاملے کا قابلِ عمل حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ عرب حضرات اپنی طرف سے ہر قسم کے تشدد کو کامل طور پر چھوڑ دیں۔ یہ ایک لازمی شرط ہے۔ اس شرط کو پورا کیے بغیر مسئلے کے حل کی بات کرنا، ایک خیالی دنیا میں سفر کرنا ہے، اور ایسا سفر کبھی واقعہ نہیں بنتا۔ جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، اس کو بھی ایک لازمی شرط کو پورا کرنا ہوگا، وہ یہ کہ اسرائیل، فلسطین میں مقیم عربوں کو وہی حقوق دے، جو اسرائیلی دستور کے رُو سے، اس کے حدود میں رہنے والے باشندوں کو حاصل ہیں۔ یعنی عرب لوگ اسرائیل کے خلاف اپنے تشدد کو کامل طور پر چھوڑ دیں، اور اسرائیل اپنے دستور اور حقوقِ انسانی (human rights) کے عالمی اصول کے مطابق، فلسطینی عربوں کو مساوی بنیاد پر اُن کے تمام ضروری حقوق دے دے۔ یہ دو باتیں اگر اصولی طور پر مان لی جائیں، تو ان کی بنیاد پر پر امن باہمی گفت و شنید (negotiation) کے ذریعے ایک عملی نظام بنایا جا سکتا ہے۔
عام طور پر زمین برائے امن (land for peace) کی بات کی جاتی ہے، یعنی زمین دو اور امن لو۔ مگر اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر میں اس تجویز کو قطعی طور پر ناقابل عمل سمجھتا ہوں۔ معاملے میں جو چیز قابل عمل ہے، وہ صرف حقوق برائے امن (right for peace) ہے، یہی اس معاملے میں واحد قابل عمل فارمولا ہے۔ اس فارمولے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کو ماننے کی صورت میں عربوں کو فوری طور پر ایک نقطۂ آغاز (starting point) مل جائے گا۔ اس وقت فلسطینی تحریک ایک بندگلی (blind alley) میں پھنسی ہوئی ہے۔ مذکورہ تجویز کو اختیار کرنے کی صورت میں یہ ڈیڈلاک (deadlock) فوری طور پر ختم ہو جائے گا، اور عربوں کو یہ کھلا موقع مل جائے گا کہ وہ ترقی کی شاہ راہ پر اپنا سفر شروع کر دیں۔
فلسطین کے معاملے میں تمام دنیا کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں، ایک ہی بات کہتے رہتے ہیں، وہ یہ کہ اسرائیل قبضہ کی ہوئی زمین کو واپس کرے، تو فلسطینی اپنی متشددانہ کارروائیوں کو بند اس تجویز کو السّلام مع العدل (peace with justice) کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، بے شمار کوششوں کے باوجود یہ تجویز عمل میں نہ آسکی۔ اس ناکامی کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہ فارمولا ایک غیر حقیقت پسندانہ فارمولا ہے، اور کوئی غیر حقیقت پسندانہ فارمولا ،حقائق کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ یہ دنیا فطرت کے اٹل قوانین پر چل رہی ہے۔ اس دنیا میں وہی فارمولا کامیاب ہوسکتا ہے، جس کو فطرت کے قوانین کی حمایت حاصل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق، عدل (justice) امن (peace) کا حصہ نہیں عدل کو امن کے ساتھ بریکٹ کرنا، گریمر کے اعتبار سے درست ہوسکتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ ہرگز درست نہیں ۔ کیوں کہ عدل جب بھی کسی کو ملتا ہے، وہ خود اپنی محنت سے ملتا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ امن کے قیام سے کسی کو عدل حاصل ہو جائے۔
اصل یہ ہے کہ امن کے قیام سے جو چیز حاصل ہوتی ہے، وہ صرف مواقع کار ہیں۔ شخص، یا گروہ کے لیے مواقع کا دروازہ کھولتا ہے۔ عدل کے حصول کا کام اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔
اور وہ یہ کہ کھلے ہوئے مواقع کو استعمال کر کے اپنے لیے مطلوب عدل حاصل کیا جائے۔ خدا کے فضل سے میں نے تین بار فلسطین کا سفر کیا ہے۔ پہلی بار اگست 1995 میں، دوسری بار اکتوبر 1997 میں اور تیسری بار اکتوبر 2008 میں۔ اس طرح میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مجھے فلسطین کو براہِ راست دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے فلسطینی مسلمانوں سے میری ملاقات ہوئی ہے، دہلی کے اندر اور دہلی کے باہر۔ فلسطین کے بارے میں، میں نے بہت سی کتابیں بھی پڑھی اپنے تجربات کی بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ فلسطینی قوم ایک زندہ قوم ہے۔ فلسطینی لوگ عام طور پر اعلیٰ صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ ’’علم اور جسم‘‘ دونوں میں ممتاز حیثیت کے حامل ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ کیوں کہ وہ ایک ایسے جغرافی علاقے میں پرورش پاتے ہیں، جس کے بارے میں، قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: الّذی باركنا حوله (الإسراء: 1) یعنی جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے: