The environs of which, We have blessed.
Al-Risala, October 2009, pp. 28–36
By Maulana Wahiduddin Khan
فلسطینی لوگ اپنے ممتاز فطری اوصاف کی بنا پر بہت بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں، وہ ہر میدان میں اعلیٰ ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن دورِ جدید کا یہ ایک انوکھا المیہ ہے کہ فلسطین کی یہ بالقوہ صلاحیت (potential) اُن کے حق میں بالفعل (actual) واقعہ نہ بن سکی۔ اس المیہ کا واحد سبب یہ ہے کہ فلسطین کے لیڈروں نے فلسطینیوں کو نفرت اور تشدد کے راستے پر ڈال دیا۔ انھوں نے غلط طور پر زمین (land) کو سب کچھ سمجھ لیا۔ وہ زمین کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ اُن کو معلوم نہیں کہ ایک فلسطینی کی زندگی اِس زمینی خطہ سے ہزاروں گُنا زیادہ قیمتی ہے، جس کو حاصل کرنے کے لیے وہ ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ فلسطینی جدید امکانات سے باخبر ہوتے، تو یقیناً وہ جان لیتے کہ ان امکانات کو استعمال کر کے وہ نہ صرف فلسطین کی سطح پر، بلکہ عالمی سطح پر بڑی بڑی ترقیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
آخری بات یہ کہ پرامن عمل اور متشددانہ عمل کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ براہِ راست
طور پر قانونِ فطرت کا معاملہ ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، پُرامن عمل انسان کی تخلیقیت (creativity) کو بڑھاتا ہے۔ جو گروہ ایسا کرے کہ وہ پر امن ذرائع تک محدود رہتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری کرے، ایسا گروہ، فطرت کے قانون کے مطابق، دن بدن تخلیقی گروہ (creative group) بنتا چلا جائے گا۔ اس کے برعکس، جو گروہ نفرت اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے، وہ فطرت کے قانون کے مطابق، دن بدن غیر تخلیقی گروہ (uncreative) بنتا چلا جائے گا۔
یہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔ اس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ پر امن طریقہ کار ہمیشہ کسی گروہ کو تخلیقی گروہ بناتا ہے۔ اس کے برعکس، نفرت اور تشدد کا طریقہ ہمیشہ غیر تخلیقیت کی طرف لے کوئی بھی دوسرا عمل اس نقصان کی تلافی نہیں بن سکتا۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اس دنیا میں تمام کامیابیاں تخلیقی گروہ کے لیے مقدّر رہیں، اور تمام ناکامیاں غیر تخلیقی گروہ کے لیے۔ قضیۂ فلسطین کا حل ابوسعید الخدری الانصاری (وفات: 74ھ / 693ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اُن سے 1170 حدیثیں مروی ہیں۔ انھوں نے پیغمبر اسلام سے سنا ہوا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے: يخرج رجل من أمتى يقول بسنتى، ينزل الله عزّ وجلّ له القطر من السماء وتخرج الارض بركتها، وتملأ الأرض منه قسطاً وعدلاً كما ملئت جوراً وظلماً، يعمل على هذه الأمة سبع سنين، وينزل بيت المقدس (رواه الطّبراني في معجمه الأوسط ، جلد 2، صفحہ 15) یعنی میری امت میں سے ایک آدمی نکلے گا۔ وہ میری سنت کے مطابق کلام کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسمان سے بارش نازل کرے گا۔ اور زمین اپنی برکت نکال اور اس کے ذریعے سے زمین عدل اور قسط سے بھر دی جائے گی، جس طرح وہ ظلم اور جور سے بھر دی گئی تھی۔ وہ اس امت میں سات سال تک کام کرے گا۔ اور وہ بیت المقدس میں اُترے گا۔ اس حدیث رسول میں پیشگی طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ تاریخ کے آخری زمانے میں ایک اہم واقعہ یہ واقعہ بیت المقدس (فلسطین) کے حوالے سے پیش آئے گا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہوگا
کہ قیامت بہت قریب آچکی ہے۔ زمین اپنی برکتیں نکال دے گی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اُس زمانے میں مواقع (opportunities) کی بہت زیادہ کثرت ہو جائے گی۔ ان مواقع کو استعمال کر کے یہ ممکن ہو جائے گا کہ دنیا میں امن کی عمومی فضا قائم کی جا سکے۔
اس حدیثِ رسول کی روشنی میں بیت المقدس، یا فلسطین کے مسئلے پر غور کیجیے۔ فلسطین کا مسئلہ اپنی موجودہ صورت میں، بیسویں صدی کے وسط میں پیدا ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ مسئلہ عربوں کا ایک قومی، یا جغرافی مسئلہ تھا۔ لیکن تمام مسلمانوں کا مسئلہ بنانے کے لیے اس کو اسلامی مسئلے کی حیثیت سے نمایاں حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو تحریکیں اٹھیں، وہ تقریباً سب کی سب، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، فلسطین کے مسئلے کا رد عمل تھیں— الاخوان المسلمون، حماس، القاعدہ، تحریک طالبان، وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔
اس قسم کی مسلم تحریکیں جو موجودہ زمانے میں مختلف علاقوں میں اٹھیں، ان کے مجموعے کو صحوۃ إسلامية (Islamic Ressurgence) کہا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تحریکیں صحوۃ فلسطينية (Palestinian Ressurgence) ہیں ۔ فلسطین کا مسئلہ ان تحریکوں میں براہِ راست طور پر شامل ہے، یا بالواسطہ طور پر۔
فلسطین کا مسئلہ اپنی فعّال صورت میں 1948 میں شروع ہوا۔ اس کے بعد تمام دنیا کے مسلم رہ نما منفی رد عمل میں مبتلا ہو گئے۔ مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تشدد کی تحریکیں چل پڑیں۔ نفرت اور تشدد کا پہلا نشانہ اسرائیل تھا اور اس کے بعد برطانیہ اس کا نشانہ بن گیا، کیوں کہ برطانیہ (Biritish Empire) نے بال فور ڈکلریشن کے تحت، اسرائیل کو قائم کیا تھا۔ اس کے بعد نفرت اور تشدد کا یہ مسلم سیلاب امریکا (U.S.A.) کے خلاف متحرک ہو گیا، کیوں کہ امریکا، فلسطین کے ایشو پر اسرائیل کی سر پرستی کرنے لگا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے منفی جذبات کا رخ انڈیا جیسے ملکوں تک پھیل گیا جو اسرائیل سے مصالحت کا تعلق قائم کیے ہوئے تھے، یہاں تک کہ منفی جذبات سے بھرے ہوئے یہ مسلمان خود مسلم حکومتوں کے خلاف ہو گئے، کیوں کہ مسلم حکومتیں اسرائیل کے خلاف وہ انتہائی اقدامات
نہیں کر رہی تھیں جو مسلمان اُن سے چاہتے تھے۔
مسئلے کامذکورہ حدیثِ رسول میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ ’’ارض‘‘، ظلم و جور سے بھر دی جائے گی اور پھر اس کو قسط اور عدل سے بھرا جائے گا۔ یہ ایک تعبیری اسلوب ہے۔ اس سے مراد یہی مذکورہ صورتِ حال ہے۔ موجودہ زمانے میں عملاً یہی پیش آیا ہے کہ ارضِ فلسطین کے حوالے سے، ساری دنیا کے مسلمان نفرت اور تشدد میں مبتلا ہوگئے ۔ اسی نفرت اور تشدد کو ’’ظلم اور جور‘‘ سے تعبیر کیا گیا اس کے بعد حدیث کے مطابق ، جو ہونا ہے، وہ یہ کہ ’’ارض‘‘، کو قسط اور عدل سے بھر دیا یہ امن کی تعبیر ہے۔ اس حدیث میں قسط اور عدل سے مراد امن پر مبنی معتدل فضا ہے جو مسلمانوں کے لیے دعوت کے مواقع کو کھو لنے والی ہے۔ اسلام کا سب سے بڑا کنسرن (concern) دعوت ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ نفرت اور تشدد کا ماحول دعوت کے دروازوں کو بند کر دیتا ہے، اور امن اور معتدل تعلقات کا ماحول دعوت کے دروازوں کو کھولنے والا ہے۔
حدیث میں جس واقعے کی پیشین گوئی کی گئی ہے، اس کا تعلق نہ جنگ سے ہے اور نہ حکومت سے، یعنی اس مطلوب کے حصول کے لیے نہ تو جنگ کی جائے گی اور نہ وہ حکومت کی طاقت سے قائم ہوگا۔ معاملہ ایک نظریاتی معاملہ ہوگا، یعنی ایک منفی آئیڈیالوجی دنیا میں نفرت اور تشدد کے حالات پیدا کرے گی۔ اس کے مقابلے میں ایک مثبت آئیڈیالوجی ابھرے گی، جو دنیا میں امن اور اعتدال کا ماحول قائم کرے گی۔ موجودہ زمانے میں فلسطین کا مسئلہ ساری مسلم دنیا کا مسئلہ بن گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر نفرت اور تشدد کا عمومی ماحول پیدا ہوا۔ اس کا اصل سبب بلاشبہ فلسطین کا مسئلہ تھا۔ ایسی حالت میں سب سے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ فلسطین کے مسئلے کا ایک ایسا حل تلاش کیا جائے جو نفرت اور تشدد کے موجودہ ماحول کو ختم کرسکتا ہو۔ یہ حل عربوں یا مسلمانوں کی امنگوں (aspirations) کے مطابق نہیں ہوسکتا۔ یہ حل لازمی طور پر مبنی بر حقیقت فارمولے ہی کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔ میں عادلانہ حل صرف وہ ہے جو امن قائم کرنے والا ہو، نہ کہ لوگوں کے جذبات کو تسکین دینے والا۔ بنیادی اصول کو پیش نظر رکھتے ہوئے فلسطین کے مذکورہ بالا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ اس تجزیے کی
روشنی میں اس مسئلے کا جو قابلِ عمل منصفانہ حل ممکن ہے، اس کو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی طرف سے اس معاملے میں اب تک جو باتیں کہی جاتی رہی ہیں، اُس میں ہمیشہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فلسطین کا ایشو، ظالم اور مظلوم کا ایشو ہے، یعنی اسرائیل یک طرفہ طور پر ظالم ہے، اور عرب یک طرفہ طور پر مظلوم۔ مسئلے کا بے لاگ جائزہ بتاتا ہے کہ یہ تقسیم ایک غیر حقیقی تقسیم ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اس معاملے میں عرب اور اسرائیل، دونوں کی حیثیت یکساں ہے۔ میں سے کسی کا کیس بھی عدل اور معقولیت پر مبنی کیس نہیں ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جو الزام دیتے ہیں، وہ خوداُس میں برابری کے درجے میں شریک ہیں۔ خالص اصول کی روشنی میں، دونوں میں سے کسی کا کیس بھی موجودہ حالت میں ، حق پر مبنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہاں اس سلسلے میں مختصر طور پر چند متعلق پہلوؤں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
1 - انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں یہود کے درمیان ایک تحریک اُٹھی جس کو صہیونی تحریک (Zionism) کہا جاتا ہے۔ صیہون (Zion) دراصل یروشلم میں واقع ایک پہاڑی کا نام ہے۔ اس پہاڑی کو یہودی لوگ مقدس مانتے ہیں اور اس کو یہودی قومیت کا مرکزی نشان سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر ہرزل (Theodor Herzl) کی قیادت میں 1890 میں صہیونی تحریک شروع ہوئی۔ اس کا پہلا انٹرنیشنل اجلاس 1897 میں سوئزر لینڈ کے شہر باسل (Basel) میں صہیونی تحریک کا مقصد یہ تھا کہ یہودی ڈائس پورا (Jews in diaspora) کو فلسطین واپس لانا، اور یہاں ان کی نیشنل اسٹیٹ قائم کرنا۔ اس تحریک کے نتیجے میں بال فور کمیشن قائم ہوا، اور اس کی سفارش کے مطابق، 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔
عرب رہنماؤں نے متفقہ طور پر یہودی ڈائس پورا کی فلسطین واپسی کی مخالفت کی۔ اس حد تک پہنچی کہ انھوں نے اسرائیل کے خلاف متشددانہ جہاد شروع کر دیا۔ یہ مخالفانہ تحریک بڑھتی ساری دنیا کا مسلم پریس، اور ساری دنیا کا مسلم مائنڈ عمومی طور پر اس سے متاثر ہو گیا۔
قابل ذکر مسلمان نہ تھا جو یہ کہے کہ یہودی ڈائس پور ا کو فلسطین آنے کا حق ہے، جس طرح تمام تارکین وطن کو اپنے وطن واپس آنے کا حق ہوتا ہے۔
دوسری طرف، یہودیوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ فلسطین میں جو عرب آباد تھے، ان کی بڑی تعداد اسرائیل کے قیام کے بعد فلسطین چھوڑ کر باہر چلی گئی۔ یہ لوگ عرب ڈائس پورا (Arabs in diaspora) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن عربوں کو بھی اُسی طرح اپنے وطن واپس آنے کا حق ہے، جس طرح یہودیوں کو اپنے وطن واپس آنے کا حق تھا۔ لیکن یہودی، عربوں کے اس حق کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اس طرح اس معاملے میں دونوں گروہ مشترک طور پر ایک ہی غلطی کا شکار ہیں۔ عرب رہ نما، یہودی ڈائس پورا کو واپسی کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اِسی طرح یہودی رہ نما، عرب ڈائس پورا کو واپسی کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اب جو فریق یہ چاہتا ہو کہ اس کو اس کا یہ جائز حق ملے، اس کو سب سے پہلے یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے سابقہ موقف کی غلطی کا کھلا اعتراف کرے اور پھر دل سے فریق ثانی کو اس معاملے میں اس کا حق دینے پر راضی ہو جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس طرح کے متنازع معاملے میں دوسرے کا حق تسلیم کرنے ہی سے اپنا حق ملتا ہے۔ اگر آپ دوسرے کا حق تسلیم نہ کریں، تو آپ کو اپنا حق بھی ملنے والا نہیں۔ 2- 1948 میں بال فور ڈیکلریشن کے مطابق، اسرائیل کا قیام عمل میں آیا، تو اُس وقت یہود کو فلسطین کا نصف سے کم حصہ ملا تھا۔ بال فور تقسیم کے مطابق، عربوں کے پاس فلسطین کا نصف سے زیادہ حصہ تھا، جس میں یروشلم بھی شامل تھا۔ اسرائیل کا موجودہ تو سیعی رقبہ 1967 کی عرب۔ کے بعد بنا ہے۔ اس لحاظ سے بین الاقوامی اصول کے مطابق، اسرائیل کی جائز حدود وہی ہیں جو 1948 میں اس کو حاصل تھیں ۔ موجودہ تو سیعی رقبہ، اسرائیل کا جائز حصہ نہیں۔ 1948 میں قائم ہونے والا اسرائیل، بین الاقوامی طور پر ایک مسلمہ ریاست کی حیثیت رکھتا تھا۔ موجودہ تو سیعی رقبہ، اسرائیل کے لیے غیر قانونی قبضہ (illegal occupation) کی حیثیت رکھتا ہے۔
عرب قیادت یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ اسرائیل اپنی 1967 کی حد پر واپس چلا جائے۔ کا یہ مطالبہ خالص اصولی اعتبار سے درست ہے، مگر عملی طور پر وہ ممکن نہیں۔ کیوں کہ عرب رہ نما خود بھی
اس سے پہلے 1956 میں وہی فعل کر چ ہیں جس کا ارتکاب، اسرائیل کی طرف سے 1967 میں اس لیے 'البادی أظلم‘ کے اصول کے مطابق ،اس بحرانی صورت حال کو پیدا کرنے کی زیادہ بڑی ذمے داری عرب قیادت پر آتی ہے۔ ایسی حالت میں عرب اور اسرائیل، دونوں کے درمیان کوئی حقیقی فرق نہیں۔ جب دونوں فریق یکساں طور پر ایک ہی غلطی کا شکار ہوں، تو کوئی ایک فریق دوسرے فریق کو ذمے دار ٹھہرانے کا حق کھودیتا ہے۔
جیسا کہ عرض کیا گیا، اسی نوعیت کی ایک سنگین غلطی وہ تھی جو اس سے پہلے خود عرب قیادت سوئز کے معاملے میں کر چکی ہے۔ سوئز نہر (Suez Canal) ایک مصنوعی نہر ہے جو میڈی ٹیرینین (Mediterranean) کو ریڈسی (Red Sea) سے ملاتی ہے۔ یہ نہر یورپین کمپنیوں نے (1859-69) بنائی تھی۔ پھر حکومت مصر نے اس کو برٹش اور فرنچ کمپنی (.Suez Canal Co) کو 99 سال کے لیے پٹہ (lease) پر دے دیا۔ معاہدے کے مطابق ، یہ پٹہ 1968 میں ختم ہورہا تھا۔ لیکن عرب رہنما اُس زمانے میںرومانوی جوش کا شکار تھے۔ اس ماحول میں یہ ہوا کہ مصر کے سابق صدر جمال عبدالناصر (وفات : 1970) نے 1956 میں یک طرفہ طور پر اس معاہدے کو ختم کردیا اور یورپین کمپنی کو بے دخل کرکے نہر سوئز کو حکومت مصر کے براہِ راست قبضے میں لے لیا۔ اس کے بعد فطری طور پر ایسا ہوا کہ برطانیہ اور فرانس دونوں سخت برہم ہوگئے۔ انھوں نے مصر کے خلاف انتقامی کارروائی کا منصوبہ بنایا۔ برطانیہ اور فرانس نے اس معاملے میں خاموشی کے ساتھ اسرائیل کی مدد کی اور اسرائیل کے ذریعے مصر پر 1967 میں باقاعدہ حملہ کرادیا۔ 1967 کی اِس جنگ میں مصر کو زبردست شکست ہوئی ۔ اس کے بعد اسرائیل نے اپنا رقبہ تقریباً پانچ گنا حد تک بڑھالیا۔ نہر سوئز کے معاملے میں حکومتِ مصر کی یہ کارروائی بین الاقوامی قانون کے سرتا سر خلاف عرب قیادت اگر صرف بارہ سال انتظار کرتی، تو 1968 میں نہر سوئز اس کو اپنے آپ مل جاتی، جس طرح ہانگ کانگ کے پٹہ کے تحت ، حکومت برطانیہ کے قبضے میں تھا۔ لیکن چین نے اس معاملے میں پیشگی طور پر قبضے کی کارروائی نہیں کی، بلکہ معاہدے کی مدت کے ختم ہونے کا انتظار کیا، چناں چہ 1997
میں جب یہ معاہدہ ختم ہوا تو فطری طور پر ہانگ کانگ ، چین کو واپس مل گیا ۔ 1956 میں صدر جمال عبدالناصر کا نہر سوئز پر قبضہ کرنا کوئی شخصی فعل نہ تھا ، بلکہ تمام عرب قیادت اس میں شریک تھی ۔ اس واقعے نے عرب قیادت اور اسرائیل دونوں کو ایک سطح پر کھڑا کر دیا عرب قیادت مطالبہ کر رہی ہے کہ اسرائیل نے 1967 میں فلسطین کی مزید زمین پر نا جائز قبضہ (illegal occupation) کر لیا ہے۔ حالاں کہ خود عرب قیادت نے 1956 میں اسی طرح نہر سوئز پر نا جائز قبضہ (illegal occupation) کر لیا تھا۔
خالص انصاف کی رو سے دیکھا جائے ، تو معاہدے کی خلاف ورزی ، یا نا جائز قبضے کے معاملے میں عرب قیادت اور اسرائیل ، دونوں ایک ہی فعل کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ جب دو فریق یکساں طور پر ایک ہی غلطی کا شکار ہوں ، تو کسی ایک فریق کو یہ حق نہیں رہتا کہ وہ دوسرے فریق کو مجرم ٹھہرائے ، جب کہ وہ خود بھی اُسی جرم میں مبتلا ہو۔
اگر کوئی ایک فریق یہ چاہتا ہو کہ وہ دوسرے فریق کی غلطی کی اصلاح کرے ، تو مطالبہ کرنے والے فریق کو سب سے پہلے خود اپنی غلطی کا کھلے طور پر اعتراف کرنا چاہیے ۔ اپنی غلطی کا کھلا اعتراف کیے بغیر ، دوسرے کی غلطی کا اعلان کرنا ایک مضحکہ خیز کارروائی ہے ، وہ نہ کوئی درست کام ہے اور نہ اس کا کوئی مثبت نتیجہ بر آمد ہونے والا ہے۔
3- عرب رہ نما ، بلکہ تمام مسلم رہ نما مسلسل طور پر یہ کہتے رہے ہیں کہ اسرائیل ایک ظالم ریاست وہ فلسطینی عربوں کے اوپر بم برساتا ہے۔ اسرائیلی فوج ان کو اپنی گولیوں کا نشانہ بناتی ہے ، مگر عین اُسی وقت خود عرب اور غیر عرب مسلمان تشدد کا یہی فعل کر رہے ہیں ۔ وہ نہ صرف اسرائیل کو اپنے تشدد کا نشانہ بناتے ہیں ، بلکہ وہ جس کو اسرائیل کا حلیف دیکھتے ہیں ، اس کو بھی اپنے تشدد کا نشانہ بنائے ہوئے ہیں ، حتیٰ کہ جہاں ان کے لیے بم اور گولی کا موقع نہیں ہوتا ، وہاں وہ خودکش بم باری کے ذریعے ان کو جان اور مال کی ہلاکت میں مبتلا کر رہے ہیں۔ مسلم رہ نما ، عرب اور غیر عرب دونوں ، اسرائیل کے تشدد کا تو خوب تذکرہ کرتے ہیں ، لیکن وہ کبھی عربوں اور مسلمانوں کے تشدد کی مذمت نہیں کرتے۔
اس صورتِ حال نے مسلم قیادت اور اسرائیل دونوں کو ایک سطح پر کھڑا کر دیا ہے۔ یکساں طور پر دہشت اور تشدد پھیلانے کے ذمے دار ہیں۔ ایسی حالت میں دونوں نے اپنے آپ کو دوسرے فریق کے خلاف بولنے سے اخلاقی طور پر محروم کر لیا ہے۔ اب اگر دونوں میں سے کوئی فریق، دوسرے کو پر امن بنانا چاہتا ہے، تو سب سے پہلے اس کو خود پر امن بننا پڑے گا۔ اور اس معاملے میں پر امن بننے کی پہلی شرط یہ ہے کہ خود اپنے لوگوں کے دہشت اور تشدد کی کھلی مذمت کی جائے۔ لوگوں کی غلطی پر خاموش رہنا، اور دوسرے لوگوں کی طرف سے اُسی قسم کی غلطی پر بولنا، ایک مجرمانہ فعل اس کا کوئی مثبت نتیجہ خدا کی اس دنیا میں نکلنے والا نہیں۔