خلاصہ
Al-Risala, October 2009, p. 36
By Maulana Wahiduddin Khan
اوپر کے تجزیے سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ فلسطین کے معاملے میں عرب اور اسرائیل کی حیثیت یہ نہیں ہے کہ اُن میں سے ایک فریق یک طرفہ طور پر ظالم ہے اور دوسرا فریق یک طرفہ طور پر مظلوم۔ اس معاملے میں صحیح تقسیم یہ ہے کہ اصولی طور پر دونوں فریق یکساں حیثیت رکھتے ہیں۔ فریق جس فعل کا الزام دوسرے فریق کو دے رہا ہے، وہ خود بھی ٹھیک اُسی فعل میں مبتلا ہے۔ ایسی حالت میں فلسطین میں امن کا قیام اُسی وقت ہوسکتا ہے، جب کہ دونوں فریق حقیقت پسندی کا طریقہ اختیار کریں، اور اس معاملے میں حقیقت پسندی یہ ہے کہ ایک فریق دوسرے فریق سے جو کچھ لینا چاہتا ہے، وہ خود بھی دوسرے فریق کو وہی چیز دینے کے لیے تیار ہو۔ یہ بلاشبہ لینے اور دینے (give and take) کا معاملہ ہے۔ اس معاملے میں یہی واحد مبنی برحقیقت پالیسی ہے۔ فارمولا اس معاملے میں ہرگز قابلِ عمل نہیں۔