حیاتِ اجتماعی، حیاتِ انفرادی
Al-Risala, October 2009, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عمر فاروق کے زمانۂ خلافت کا واقعہ ہے۔ ایک بار حضرت عمر حج کے لیے مکہ گئے۔ وہاں انھوں نے دیکھا کہ ایک بوڑھی خاتون کعبہ کا طواف کر رہی ہے۔ وہ اتنی معذور تھی کہ بیٹھ کر اور گھسٹ گھسٹ کر چل رہی تھی۔ وہ دوسروں کے لیے مسئلہ بنی ہوئی تھی۔ حضرت عمر نے اُس کو دیکھ کر کہا: کاش، آپ اپنے گھر پر بیٹھتیں (لو قعدت فی بیتک)۔ یہ صرف ایک انفرادی واقعہ نہیں، اِس سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ زندگی کے دو الگ الگ دائرے ہیں— ایک ہے، اور دوسرا ہے، حیاتِ اجتماعی۔ انفرادی دائرے میں آدمی کا معاملہ اس کی اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے۔ انفرادی دائرے میں آدمی خواہ جس طرح بھی رہے، اس کا اثر کسی دوسرے انسان تک نہیں پہنچتا۔ وہ اپنی کسی روش سے دوسروں کے لیے مسئلہ (problem) نہیں بنتا۔ مگر حیاتِ اجتماعی کا معاملہ اِس سے بالکل مختلف ہے۔ حیاتِ اجتماعی میں ایک آدمی دوسرے بہت سے لوگوں کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کی ہر روش براہِ راست یا بالواسطہ طور پر دوسروں کو متاثر وہ خواہ قصدًا دوسروں کو تکلیف دینا نہ چاہے، لیکن جب وہ ایک عمل کرتا ہے تو اس کے نتیجے کے طور پر بہر حال ایسا ہوتا ہے کہ اس کے عمل کے اثرات بلا اعلان دوسروں تک پہنچ جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں ہر عورت اور ہر مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے انفرادی عمل اور اپنے اجتماعی عمل میں فرق کرے۔ جب وہ اکیلا ہو اور صرف اپنی ذات کی سطح پر کوئی عمل کر رہا ہو تو اُس وقت وہ اپنے آپ کو آزاد سمجھے۔ لیکن جب وہ دوسرے لوگوں کے درمیان ہو تو وہ اپنے عمل سے پہلے یہ سوچے کہ اس کی وجہ سے دوسروں کے لیے تو کوئی مسئلہ نہیں پیدا ہوگا۔ اگر اس کا عمل دوسروں کے لیے مسئلہ پیدا کرنے والا ہو تو وہ ایسے عمل سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ اپنے عمل کو اس طرح انجام دے کہ دوسرے لوگ اس کے نقصان سے محفوظ رہیں۔ موجودہ کمیونیکیشن کے زمانے میں یہ احتیاط صرف قریبی پڑوسی کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق دور کے پڑوسی سے بھی ہو گیا ہے۔