معرفت کا سفر
Al-Risala, November 2009, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
گورنمنٹ سروس میں ایک ضابطہ ہے جس کو بریک ان سروس (break in service)
کہا جاتا ہے۔ اگر آپ گورنمنٹ سروس میں ہوں اور آپ ہیں سال تک سروس کرتے رہیں، اِس کے بعد اچانک آپ بلاسبب اور بلا اجازت ڈیوٹی پر نہ آئیں تو آپ کی ساری سینئرٹی (seniority) ختم ہو جائے گی۔ آپ پیچھے لوٹ کر دوبارہ وہاں پہنچ جائیں گے، جہاں سے آپ نے سروس شروع کی تھی۔ اِس معاملے کو اصطلاح میں بریک ان سروس کہا جاتا ہے۔
یہی معاملہ معرفت (realization of God) کے سفر کا بھی ہے۔ اگر آپ معرفت کا سفر شروع کریں اور ایک مدت تک آپ مسلسل اُس پر چلتے رہیں، پھر آپ ایک عذر (excuse) لے کر وقتی طور پر معرفت کے سفر کو روک دیں، تو یہ رکنا صرف ایک وقتی رکنا نہ ہوگا، بلکہ وہ بریک اِن معرفت کے ہم معنی بن جائے گا، یعنی آپ پیچھے لوٹ کر دوبارہ اُس ابتدائی مقام پر پہنچ جائیں گے جہاں سے آپ نے اپنا سفر معرفت شروع کیا تھا۔
آدمی پر حقیقت کھلتی ہے اور وہ معرفت کا مسافر بن جاتا ہے، پھر درمیان میں کچھ غیر متعلق تقاضے پیش آتے ہیں جن کو عذر بنا کر آدمی اپنے سفرِ معرفت کو روک دیتا ہے۔ تقاضا، مادی منفعت کا تقاضا، ذاتی رجحان کا تقاضا، وغیرہ۔
ایسے موقع پر آدمی کو چاہئے کہ وہ اِس قسم کے کسی تقاضے کو ہرگز اپنے لیے عذر نہ بنائے۔ دوسرے تمام تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے معرفت کے سفر کو جاری رکھے۔ ایسا ہی شخص منزل تک اور جس آدمی نے کسی غیر متعلق تقاضے کو لے کر اس کو اپنے لیے عذر بنا لیا تو وہ اُس کے لیے بریک ان معرفت کا واقعہ بن جائے گا۔
یہ ایک نہایت سنگین معاملہ ہے۔ معرفتِ حق کے مسافر کو ایسی غلطی کبھی نہیں کرنا چاہیے، ورنہ وہ ایسے نقصان سے دوچار ہوگا جس کی تلافی دوبارہ ممکن نہیں۔