شکایت کا مزاج
Al-Risala, November 2009, pp. 18–23
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص نے کسی کے بارے میں کچھ شکایت کی بات کی۔ میں نے کہا کہ شکایت قاتلِ روحانیت شکایت اتنی زیادہ بری چیز ہے کہ آپ کو مطلقاً اس سے دور رہنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ شکایت سے مطلقاً کیسے بچا جاسکتا ہے، کیوں کہ شکایت کے اسباب اس دنیا میں ہمیشہ پیش آتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہی تو آپ کا امتحان ہے کہ آپ شکایت کے باوجود بے شکایت بن کر اس دنیا میں رہیں، منفی تجربات کے باوجود آپ مثبت نفسیات میں جینا سیکھیں۔ یہی اس دنیا میں انسان کا امتحانی پرچہ (test-paper) ہے۔ ہر ایک کو اس امتحان سے گزرنا ہے۔ اس امتحان میں کامیاب ہونے والا ہی کامیاب ہے، اور اس امتحان میں نا کام ہونے والا ہی نا کام۔ مزید یہ کہ یہ نا کامی بھی ابدی ہے، اور یہ کامیابی بھی ابدی۔ شکایت کوئی سادہ چیز نہیں۔ شکایت کے ساتھ ناشکری جڑی ہوئی ہے۔ جس دل میں شکایت ہوگی، وہ شکر کے جذبات سے محروم ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ شکایت گندگی کے مانند ہے۔ گندگی کی ایک بوند پانی کے پورے ٹب کو گندا کر دیتی ہے۔ اسی طرح شکایت کی تھوڑی مقدار بھی شکر کی نفسیات سے آدمی کو محروم کردیتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں اتنا زیادہ حساس ہو کہ وہ کسی بھی حال میں شکر کا ایروژن (erosion) گوارا نہ کرسکے۔ وہ شکایت کی باتوں کو نظر انداز کرتا رہے، تاکہ اس کے شاکرانہ مزاج میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔
اس مہلک برائی سے بچنے کا طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے آغاز ہی میں اُس کا خاتمہ تھوڑی سی شکایت کو بھی اتنا گھٹائیے، اتنا گھٹائیے کہ اس کو زیرو کے درجے تک پہنچادیجئے۔ اور شکر کی تھوڑی سی بات کو بھی اتنا بڑھائیے، اتنا بڑھائیے کہ اس کو صد فی صد تک پہنچادیجئے۔ تدبیر ہے جس کے ذریعے آپ اپنی شخصیت کو ایسا بنا سکتے ہیں کہ آپ کے اندر صرف شکر ہی شکر ہو، ناشکری کا ایک ذرہ بھی آپ کی شخصیت کے اندر باقی نہ رہے۔ شکر کے احساس میں جینے والوں کے لیے ابدی جنت ہے، اور ناشکری کے احساس میں جینے والوں کے لیے ابدی جہنم۔
دو عظیم فکری انقلابات Two Great Intellectual Revolutions مذہبی نقطہ نظر سے انسانی تاریخ میں دو بڑے فکری انقلابات پیش آئے ہیں۔ ایک انقلاب وہ ہے جو اپنی آخری صورت میں ساتویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ اس انقلاب کے ہیرو وہ لوگ تھے جن کو اسلامی تاریخ میں "اصحابِ رسول" کہا جاتا ہے۔ دوسرا فکری انقلاب لانے والوں کو حدیث میں "اخوانِ رسول" کا نام دیا گیا ہے۔ اصحابِ رسول نے شرک (polytheism) کے فکری غلبہ کو ختم کیا تھا اور توحید (monotheism) کے بند دروازوں کو کھولا تھا۔ اخوانِ رسول کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ موجودہ زمانے میں الحاد کے فکری غلبہ کو ختم کر کے دوبارہ توحید کو اس کا غالب مقام عطا کریں۔ امت کے دو گروہ ایسے ہیں جن کو خصوصی تاریخی درجہ حاصل ہے ـــــ اصحابِ رسول، اور اخوانِ رسول۔ یہ دونوں پُر اسرار الفاظ نہیں ہیں اور نہ کسی پراسرار فضیلت کی بنا پر اُن کو یہ امتیازی درجہ عطا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں گروہ اسلام کی تاریخ میں دو بڑے کارنامے انجام دیں گے۔ اسی کارنامے کی بنا پر وہ بڑا درجہ پائیں گے ـــــ اصحابِ رسول کے کارنامے کا تعلق، اسلام کے دورِ اول سے ہے، اور اخوانِ رسول وہ لوگ ہیں جو اسلام کے دورِ آخر میں اپنا کارنامہ انجام دیں گے۔ اصل یہ ہے کہ تاریخ کے دو دور ہیں۔ پہلا، دورِ شرک اور دوسرا، دورِ الحاد۔ قدیم بادشاہت کے زمانے میں شرک کو ریاستی مذہب (state religion) کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اس بنا پر قدیم زمانے میں مذہبی جبر (religious persecution) کے حالات پیدا ہوئے۔ اصحابِ رسول نے یہ کیا کہ غیر معمولی جد و جہد اور قربانی کے ذریعے شرک کا رشتہ سیاسی اقتدار سے منقطع کر دیا اور اس طرح شرک کو مکمل طور پر ایک بے زر عقیدہ بنا دیا، اصحابِ رسول کا یہی وہ غیر معمولی عمل تھا جس کی بنا پر دنیا میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا دور آیا اور شرک محض ایک بے زور شخصی عقیدہ بن کر رہ گیا۔ بعد کے زمانے میں ایک نیا فتنہ پیدا ہوا جس کو سائنسی الحاد کہا جاسکتا ہے۔
ہمیشہ سے دنیا میں پایا جاتا رہا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں ملحد مفکرین کو یہ موقع ملا کہ وہ بظاہر سائنسی دلائل کے ذریعے الحاد کو نئی طاقت کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کر سکیں۔ مثال کے طور پر ڈارون ازم (Darwinism) کو الحاد کی حمایت میں سائنسی دلیل کے طور پر پیش کرنا۔
موجودہ زمانے کا سائنسی الحاد اصلاََ سائنسی الحاد نہیں ہے، بلکہ وہ مغالطہ آمیز قسم کے بظاہر سائنسی دلائل کی بنیاد پر الحادی فکر کی عمارت کھڑی کرنا ہے۔ اب اُن لوگوں کو اخوانِ رسول کا درجہ ملے گا جو اس فریب کا پردہ چاک کریں اور الحاد کا رشتہ مفروضہ دلائل سے منقطع کر دیں، اور اس طرح الحاد کو بے دلیل اور علمی اعتبار سے بے وزن بنا دیں۔
پچھلے دور میں اصحابِ رسول نے جو کارنامہ انجام دیا، اُس کے لیے اللہ تعالیٰ نے سینکڑوں سال کے عمل کے دوران مخصوص تاریخی حالات پیدا کیے تھے۔ یہ تاریخی حالات وہ مواقع تھے جن کو اصحابِ رسول نے سمجھا اور اُن کو دانش مندانہ طور پر استعمال کر کے مطلوب انقلاب برپا کیا۔ اِسی طرح بعد کے زمانے میں اخوانِ رسول کے ذریعے جو فکری انقلاب واقع ہوگا، اس کے لیے ضروری مواقع بھی خدا کی طرف سے پیدا کیے جانے والے ہیں۔ اخوانِ رسول کا کام بھی یہی ہے کہ وہ اپنے دور میں پیدا ہونے والے مواقع کو سمجھیں اور اُن کو دانش مندانہ طور پر استعمال کر کے اُس تاریخی عمل کو انجام دیں جس کو ظہور میں لانا اُن کے لیے مقدر کیا گیا ہے۔ ذیل میں دوسرے دور کے حالات کا مختصر طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔ الحاد (atheism) کوئی نیا ظاہر نہیں ۔ قدیم زمانے میں بھی کسی نہ کسی صورت میں الحادی فکر پایا جاتا رہا ہے۔ لیکن قدیم زمانے میں الحاد کے لیے کوئی فکری بنیاد (rational base) موجود نہ اس لیے قدیم زمانے میں الحاد کو زیادہ فروغ حاصل نہ ہوسکا۔
موجودہ زمانے میں جب سائنسی تحقیقات سامنے آئیں تو دورِ جدید کے ملحدین نے محسوس کیا کہ وہ سائنسی تحقیقات کو اپنے حق میں ایک علمی ثبوت کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس طرح وہ فلسفہ وجود میں آیا جس کو سائنسی فلسفہ (scientific philosophy) کہا جاتا ہے۔ سائنسی فلسفہ کیا ہے۔
سائنسی فلسفہ دراصل مبنی بر سائنس الحاد (science-based atheism) کا دوسرا نام ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں بہت سے فلسفی اُٹھے جنہوں نے سائنسی تحقیقات کو ملحدانہ فلسفے کے حق میں اِس طرح وہ جدید الحاد وجود میں آیا جس کو سائنسی الحاد کہا جاسکتا ہے۔ اِس موضوع پر کثیر تعداد میں کتابیں لکھی گئی ہیں۔ بطور مثال یہاں صرف ایک کتاب کا نام درج کیا جاتا ہے: Julian Huxley, Religion Without Revelation (1967)
سائنسی الحاد، خالص منطقی اعتبار سے، ایک غیر علمی الحاد ہے۔ سائنسی الحاد کے داعیوں نے غیر علمی طور پر سائنسی حقیقتوں کو اپنے حق میں پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ چناں چہ اِسی زمانے میں ایک اور طبقہ پیدا ہوا جو نسبتاً زیادہ سنجیدہ تھا۔ وہ سائنسی حقائق کے غیر علمی استعمال کے خلاف تھا۔ طبقے نے کوشش کی کہ سائنسی حقائق کو اس کے صحیح تناظر (perspective) میں پیش کیا جائے ۔ طبقہ اپنے اعلان کی حد تک مذہبی نہیں تھا، وہ بظاہر سیکولر تھا۔ لیکن اُس نے یہ اہم کام انجام دیا کہ اس نے جدید ملحدین کو خالص علمی اعتبار سے مکمل طور پر رد کر دیا۔ اِس معاملے کے چند خاص پہلو ہیں۔ اُس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جدید سائنس (physical science) نے اپنا میدان تمام تر مادی اشیاء کی تحقیق کو بنایا۔ اِس کے نتیجے میں بڑی بڑی مادی حقیقتیں دریافت ہوئیں اور مادی نظریات اِس صورتِ حال کو استعمال کرتے ہوئے جدید ملحدین نے یہ کیا کہ انھوں نے سچائی کی مادی تعبیر (material interpretation of truth) کا نظریہ وضع کیا۔ انہوں نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ حقیقت وہی ہے جو مادی اصطلاحوں میں بیان کی جاسکے، جو چیز مادی اصطلاحوں میں بیان نہ کی جاسکے، وہ حقیقت بھی نہیں۔ اِس نظریے کے رد میں کئی مفکرین نے قیمتی کتابیں لکھیں۔ بطور مثال ایک کتاب کا نام یہ ہے:
Bertrand Russell, Human Knowledge (1948)
اِس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ فزیکل سائنس کے مطالعے سے معلوم ہوا کہ دنیا میں جو واقعات ہوتے ہیں، اُن کے پیچھے کوئی سبب (cause) کارفرما ہوتا ہے۔ مثلاً پانی کو گرم کرنے سے
سٹیم کا وجود میں آنا۔ سائنس کے اس پہلو کو لے کر وہ الحاد موافق نظریہ وضع کیا گیا جس کو اصولِ تعلیل (principle of causation) کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا کہ ہماری دنیا میں جو واقعات وجود میں آتے ہیں، وہ کسی مادی سبب کا نتیجہ ہوتے ہیں، نہ کہ کسی خالق کی کارفرمائی کا نتیجہ۔ اس نظریے کی تردید میں متعدد قیمتی کتابیں لکھی گئیں۔ مثال کے طور پر اُن میں سے ایک کتاب کا نام یہاں درج کیا جاتا ہے:
James Jeans, The Mysterious Universe (1930)
3- اس معاملے میں غالباً سب سے زیادہ گم راہ کن رول چارلس ڈارون (وفات: 1882) اس نے حیاتیاتی نمونوں کے مطالعے کے دوران یہ پایا کہ مختلف حیاتیاتی نمونوں کے درمیان مشابہت (similarity) پائی جاتی ہے۔ اس کو لے کر اس نے یہ دعویٰ کیا کہ تمام ذی حیات اشیاء ایک ہی مشترک اصل سے نکلی ہیں۔ یہ تصور نظریہ ارتقا (theory of evolution) کے نام سے جانا جاتا یہ نظریہ جدید دور میں بہت زیادہ پھیلا۔ اس کے بارے میں بے شمار کتابیں لکھی گئیں، یہاں تک کہ جدید علمی حلقے میں اس کو عمومی مقبولیت (general acceptance) حاصل ہوگئی۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ نظریہ تمام تر علمی مغالطے پر قائم ہے۔ چناں چہ اس کے بارے میں سیکولر علماء نے تحقیق کی اور اس نظریے کی تردید میں متعدد قیمتی کتابیں شائع ہوئیں۔ مثال کے طور پر اُن میں سے ایک کتاب کا نام یہ ہے:
Arnold Lunn, Revolt Against Reason (1951)
دورِ جدید کے یہ اہلِ علم جن کو ہم نے سیکولر اہلِ علم کہا ہے، انھوں نے بہت بڑا تائیدی رول انجام دیا ہے۔ قدیم زمانے میں بہت سے لوگوں نے عظیم تائیدی رول انجام دیا تھا۔ انھوں نے وہ مواقع پیدا کیے تھے جن کو استعمال کر کے اصحابِ رسول نے شرک کے رد اور توحید کے اثبات کا تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ اسی طرح موجودہ زمانے کے مذکورہ سیکولر اہلِ علم نے ایک عظیم تائیدی رول ادا کیا انھوں نے وہ مواقع پیدا کیے ہیں جن کو استعمال کر کے دوبارہ الحاد کے رد اور توحید کے اثبات کا
مطلوب عمل انجام دیا جاسکے۔ بعد میں اٹھنے والے جس گروہ کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے، اُس کا کام غالباً یہی ہوگا کہ وہ جدید مواقع کو پہچانے اور ان کو دانش مندانہ استعمال کے ذریعے دوبارہ الحاد کی تردید اور توحید کے اثبات کا مطلوبہ کارنامہ انجام دے۔