سائنس، الحاد کی تردید
Al-Risala, November 2009, pp. 23–24
By Maulana Wahiduddin Khan
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، قدیم زمانے میں یہ مطلوب تھا کہ شرک کو رد کر کے توحید کا اثبات کیا یہ کارنامہ اصحابِ رسول نے اپنی کامل صورت میں ساتویں صدی عیسوی میں انجام دیا۔ انھوں نے اپنے زمانے میں پیدا شدہ مواقع کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس نے انسانی تاریخ میں ایک نئے عمل (process) کا مؤثر آغاز کیا۔ یہ عمل جاری رہا، یہاں تک کہ شرک، نظریاتی بنیاد (ideological base) سے محروم ہو گیا۔ اب وہ صرف ایک بے روح رسم کے طور پر کچھ تو ہم پسند لوگوں میں باقی ہے، عملی اعتبار سے وہ ایک زندہ قوت کے طور پر کہیں موجود نہیں۔ یہی معاملہ الحاد کا ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں الحاد بظاہر سائنسی دلائل کے زور پر ابھرا تھا۔ لیکن جلد ہی خود سیکولر حلقے میں ایسے مفکرین پیدا ہوئے جنھوں نے عملی طور پر الحاد کی بظاہر اس سائنسی بنیاد کو ڈھادیا اور حقیقت کے اعتبار سے الحاد کو ایک بے دلیل نظریے کی حیثیت دے دی۔ موجودہ زمانے میں دوبارہ امکانی طور پر وہ موافق حالات پیدا ہوئے ہیں جن کو لے کر کچھ لوگ الحاد کو مکمل طور پر رد کر دیں اور اس کے بجائے توحید کو ایک ثابت شدہ نظریہ بنا دیں، اور اس طرح وہ اُس رول کو انجام دیں جس کو اخوانِ رسول کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔
یہ حالات پیدا ہو چکے تھے اور میں اکثر ان کے بارے میں غور کرتا تھا۔ آخر کار 1963 میں ایک واقعہ پیش آیا جو میرے لیے گویا کہ ایک رہنما واقعے کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس واقعے کا ذکر میں نے اپنی کتاب ’’ظہورِ اسلام‘‘ کے آغاز میں اس طرح کیا ہے:
’’ستمبر 1963 کی 21 تاریخ تھی۔ راقم الحروف ندوہ (لکھنؤ) کی مسجد میں تھا اور ظہر کی سنتیں پڑھ کر جماعت کے انتظار میں بیٹھا ہوا تھا۔ ذہن میں خیال گھوم رہا تھا کہ اسلام کے تعارف
کے لئے آج ایک ایسی کتاب کی ضرورت ہے جو وقت کی زبان اور اسلوب (modern idiom) میں لکھی گئی ہو اور جدید انسان کو مطالعہ کے لیے دی جا سکے۔ ’’کاش اللہ تعالیٰ مجھے اس کتاب کے لکھنے کی توفیق دے‘‘ یہ تمنا بے ساختہ دعا کی شکل میں میری زبان سے نکلی اور اس کے بعد یکایک یہ انگریزی لفظ میری زبان پر تھا: