God Arises
Al-Risala, November 2009, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ گویا کتاب کا نام تھا جو اچانک میرے ذہن میں وارد ہوا۔ اس سے پہلے کبھی یہ فقرہ میرے ذہن میں نہیں آیا تھا، حتی کہ کتاب کے نام کی حیثیت سے اس کی معنویت بھی اُس وقت پوری طرح واضح نہ تھی۔ شام کو عصر کی نماز کے بعد میں حسب معمول لکھنؤ کی نریندر دیولا ئبریری گیا جو ندوہ کے قریب دریائے گومتی کے کنارے واقع ہے۔ وہاں ویبسٹر کی لغت میں لفظ Arises کے استعمال دیکھے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ بائبل کی ایک آیت میں استعمال ہوا ہے۔ پورا فقرہ یہ ہے: Let God arise, let His enemies be scattered. Let them also that hate Him flee before Him. As smoke is driven away, so drive them away; As wax melteth before the fire, so let the wicked perish at the presence of God (Psalm 68: 1-2)
’’خدا اٹھے، اس کے دشمن تتر بتر ہوں۔ وہ جو اس کا کینہ رکھتے ہیں، اس کے حضور سے بھاگیں، جس طرح دھواں پراگندہ ہوتا ہے، اسی طرح تو انھیں پراگندہ کر۔ جس طرح موم آگ پر پگھلتا ہے، شریر خدا کے حضور فنا ہوں‘‘۔
یہ میرے لیے ایک انسپریشن (inspiration) تھا۔ یہ گویا ایک قسم کا الہامی تجربہ تھا جو مسجد کے اندر اذان اور اقامت کے درمیان پیش آیا۔ اس پر غور کرنے کے بعد میں نے سمجھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارہ ہے، تاکہ میں پیدا شدہ جدید علمی مواقع کا جائزہ لوں اور اُن کو الحاد کی تردید اور توحید کے علمی اثبات کے لیے استعمال کروں۔ یہ گویا سیکولر اہل علم کے پیدا کردہ علمی امکانات کو
اسلامائز کرنا تھا۔ اور جدید دور میں اظہارِ دین کے اُس علمی واقعے کو بروئے کار لانا تھا جس کے امکانات وقوع میں آچکے ہیں، لیکن ابھی ان کو استعمال نہ کیا جاسکا۔
اِس موضوع پر میں پہلے بھی کام کر رہا تھا۔ لیکن مذکورہ تجربے کے بعد میرے شعور میں ایک نئی بیداری آئی اور میں اِس قابل ہو گیا کہ زیادہ حوصلے کے ساتھ اِس علمی خدمت کو انجام دوں۔ طویل کوشش کے بعد وہ کتاب وجود میں آئی جو مذکورہ تجربے کی روشنی میں گاڈ آرائز ز (God Arises) کے نام سے 1985 میں شائع ہوئی۔ اِس سے پہلے یہ کتاب اردو اور عربی زبان میں چھپ چکی تھی۔ لیکن مذکورہ انگریزی ایڈیشن مزید اضافے کے ساتھ اس کا زیادہ جامع ایڈیشن تھا۔ اِس کے بعد یہی موضوع (modern challenges to Islam) میرا مستقل موضوع بن اِس کے بعد مضامین اور کتابوں کی شکل میں میری سیکڑوں کوششیں مختلف زبانوں میں شائع میری ان تمام تحریروں کا موضوع مشترک طور پر صرف ایک تھا، اور وہ اسلام اور عصری تحدیات بعد کے زمانے میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہی میری زندگی کا مستقل موضوع بن گیا۔ شاہ، بھارت کے زمانے میں برباد ہو گیا ہے۔ یہ روپ ہے اس کا جو