قبر کا سفر
Al-Risala, February 2009, pp. 2–3
By Maulana Wahiduddin Khan
اٹلی میں ویٹکن (Vatican) کی سرپرستی میں ایک مسیحی تنظیم قائم ہے۔ اس کا نام کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو(Community of St. Egidio) ہے۔ وہ 1968 میں قائم ہوئی۔ اُن کی طرف سے مجھ کو دعوت نامہ ملا۔ اس میں مجھ کو ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ کانفرنس قبرص (Cyprus) میں 18-16 نومبر 2008 کو ہوئی ۔ یہ کانفرنس کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو اور سائپرس چرچ (Church of Cyprus) کے مشترکہ تعاون سے کی گئی۔
اس سے پہلے اگست 2008 میں اس تنظیم کے ارکان پر مشتمل 20 افراد کا ایک وفد دہلی آیا تھا۔ وہ لوگ ہمارے مرکز میں بھی آئے اور ان سے اسلام اور امن کے موضوع پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سے ہر ایک کو اسلامی لٹریچر دیا گیا۔ دعوت نامے کے بعد بار بار ای میل اور ٹیلی فون پر ان کے پیغامات تاہم میں فیصلہ نہیں کر پا تا تھا کہ مجھ کو وہاں جانا چاہیے، یا نہیں ۔ آخر کار ایک واقعہ پیش آیا۔ اس کے بعد میں نے وہاں جانے کا فیصلہ کر لیا۔
مجھ کو مختصر طور پر معلوم تھا کہ قبرص (Cyprus) میں ایک صحابیہ کی قبر ہے، لیکن اس کی تفصیل میرے ذہن میں نہ تھی۔ مثلاً حیاۃ الصحابہ میں اُم حرام بنت ملحان کے تذکرہ کے تحت حاشیہ میں یہ مختصر جملہ میں نے پڑھا تھا: دُفنت أمّ حرام بنت ملحان في قُبْرص، ويسمى قبرها هناك "قبر المرأة الصالحة" (جلد 1، صفحہ (592) ۔ میرے ایک ساتھی کو اس کا علم ہوا تو انھوں نے اس صحابیہ کے بارے میں تاریخی تفصیل انٹرنیٹ کے ذریعہ فراہم کردی ۔ اس میں صحابیہ کے اُس مقبرے کی تصویر بھی شامل تھی جو بحر متوسط (Mediterranean Sea) کے ساحل پر واقع ہے۔ فطری طور پر میرے اندر یہ خواہش پیدا ہوئی کہ میں قبرص کا سفر کروں اور صحابیہ کی قبر کو دیکھوں ۔ چناں چہ کانفرنس کے منتظمین کو کنفرمیشن کی اطلاع دے دی گئی۔ میرا یہ سفر ایک قافلے کی صورت میں ہوا۔ میرے ساتھ اس سفر میں میرے دو رفیق بھی شامل تھے مولانا محمد ذکوان ندوی ، مسٹر رجت ملہوترا ۔
قبرص (Cyprus) ایک جزیرہ ہے۔ اُس کا رقبہ 9,251 مربع کلومیٹر ہے۔ وہ بحر متوسط (Mediterranean Sea) کے درمیان اس کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ وہ تین براعظموں کے قریب ہے— ایشیا، افریقہ، یورپ۔ قبل مسیح زمانے میں اس پر یونانیوں کی حکومت تھی، پھر یہاں رومیوں کی حکومت قائم ہوئی۔ اس کے بعد یہاں ترکوں کی حکومت آئی۔ کے بعد یہ جزیرہ برطانیہ کے زیرِ اقتدار آیا۔ اب قبرص کے دو حصے ہیں۔ اس کے 60 فی صد حصے پر مسیحیوں کی حکومت ہے، اور تقریباً 40 فی صد حصے پر ترکوں کی حکومت۔ یہاں کی زبان یونانی اور ترکی لیکن انگریزی زبان بھی عام طور پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
برٹش انسائیکلو پیڈیا میں قبرص کے بارے میں جو تفصیل ہے، اس کا ایک جُز یہ ہے کہ— سکندرِ اعظم نے جب 333 قبل مسیح میں قبرص پر قبضہ کیا تو یہاں کے باشندوں نے عام طور پر اس کا استقبال کیا: After the victory of Alexander the Great at Issus in 333, all the states of Cyprus welcomed the conqueror (EB 5/406)
یہ الفاظ دنیا کی سیاسی تاریخ کے ایک خاص پہلو کو بتاتے ہیں۔ مختلف حکم رانوں کے بارے میں کتابوں میں یہ بتایا جاتا ہے کہ جب وہ کسی ملک میں بطورِ فاتح داخل ہوئے تو مفتوح قوم نے خوشی کے ساتھ اُن کا استقبال کیا۔ اس قسم کے بیانات مسلم تاریخ میں بھی مسلم فاتحین کے بارے میں بار بار ملتے اس کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں ہے کہ قدیم حکم رانوں کے مقابلے میں نئے حکم راں زیادہ بہتر اس کا تعلق انسان کے اُس عام مزاج سے ہے جس کو تبدیلی (change) کہا جاتا ہے۔ امریکی صدر براک اوباما جب نومبر 2008 میں امریکا کے صدر منتخب ہوئے تو انھوں نے شکاگو میں اپنی پہلی پبلک تقریر ان الفاظ سے شروع کی: