اصلاحِ نصاب، یا اصلاحِ ماحول
Al-Risala, November 2009, pp. 32–33
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلم رہنماؤں کے درمیان عرصے سے یہ تحریک چل رہی ہے کہ دینی مدارس کا نصاب (syllabus) بدلا جائے ۔ یہ اصل مسئلے کا صرف کم تر اندازہ ہے۔ دینی مدارس میں بلاشبہ اصلاح کی ضرورت ہے، لیکن اس ضرورت کا تعلق اصلاً اصلاحِ نصاب سے نہیں ہے، بلکہ اصلاحِ ماحول سے موجودہ حالت میں خواہ مدارس کا نصاب بدل دیا جائے یا اس کو باقی رکھا جائے، دونوں صورتوں میں یقینی طور پر مطلوب نتیجہ نکلنے والا نہیں۔
دینی مدارس کا اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ وہاں کا نصاب قابلِ تبدیلی ہے، دینی مدارس کا اصل مسئلہ وہاں کا قدامت پرستانہ ماحول ہے جس کو بدلنا ضروری ہے۔ موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دینی مدارس میں مکمل طور پر جمود (stagnation) کی فضا قائم ہے۔ ان مدارس میں آزادانہ سوچ کو شجرِ ممنوعہ سمجھا جاتا ہے۔ ہر مدرسے کے کچھ مقدس اکابر ہیں۔ ان اکابر کے خلاف سوچنا لوگوں کے نزدیک جرمِ عظیم کا درجہ رکھتا ہے۔ مدارس کا یہی جامد ماحول مدارس کے جدید رول کی ادائیگی میں سب سے بڑی جب تک اس ماحول کو بدلا نہ جائے، مدارس سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ دورِ جدید میں اپنا مطلوب رول ادا کر سکیں گے۔
مولانا شبلی نعمانی (وفات : 1914) نے لکھا تھا کہ ہمارے مدارس میں مُتون پڑھائے جاتے ہیں، فنون نہیں پڑھائے جاتے۔ یہ ایک صحیح بات تھی ۔ اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے مدارس میں اساتذہ اور طلباکی سوچ تمام تر کچھ کتابوں اور ان کتابوں کے مصنفین پر مُرکز رہتی ہے۔ وہ انھیں چند کتابوں کو علم سمجھتے ہیں اور ان کے مصنفین کو علماء کا درجہ دیتے ہیں ۔ اس سے طلباء اور اساتذہ کے اندر بندذہن پیدا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس، اگر ہمارے مدارس میں فنون پڑھا جائیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ موضوعات (subjects) زیرِ بحث آنے لگیں گے۔ اس طرح غور وفکر کا دائرہ بہت زیادہ وسیع ہو جائے گا۔
طرح سوچ کا دائرہ چند مخصوص علماء تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ کسی موضوع پر دوسرے اہل علم نے جو کچھ لکھا ہے، وہ بھی غور و بحث کے دائرے میں آ جائے گا۔ اس طرح لوگوں کے ذہن کھلیں گے ۔ کا ذہنی ارتقاء ہوگا ۔ لوگوں کے اندر تقلید کے بجائے اجتہاد کی صلاحیت ترقی کرے گی ۔ ہر آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ چاہنے لگے گا کہ پچھلے لوگ جو کام کر چکے ہیں، میں اُن سے آگے جاؤں، میں علمی ارتقاء کی مزید منزلیں طے کروں۔
اس معاملے کی ایک مثال مولانا شبلی نعمانی کی زندگی میں پائی جاتی ہے۔ مولانا شبلی نعمانی نہ صرف یہ کہ ایک اچھے عالم تھے، بلکہ وہ ایک فعال آدمی تھے۔ وہ اظہارِ خیال کی آزادی کو بہت زیادہ پسند وہ جہاں بھی رہتے تھے، وہاں وہ لوگوں کے اندر یہ اسپرٹ پیدا کرتے تھے کہ وہ کھلے ذہن کے تحت سوچیں اور کھلے ذہن کے تحت رائے قائم کریں اور دورِ جدید کے لحاظ سے اعلیٰ قابلیت اس سلسلے میں وہ انگریزی زبان سیکھنے پر بھی زور دیا کرتے تھے۔
اس کے نتیجے میں ایسا ہوا کہ مولانا شبلی کے قیامِ ندوہ (1913-1905) کے زمانے میں وہاں ایک زندہ علمی ماحول پیدا ہوگیا ۔ اسی کا یہ نتیجہ تھا کہ مولانا شبلی نعمانی کے زمانے میں کئی اعلیٰ علمی شخصیتیں پیدا ہوئیں ۔ مثلاً مولانا سید سلیمان ندوی (وفات: 1953)، مولانا ابوالکلام آزاد (وفات: 1958)، مولانا عبد الباری ندوی (وفات: 1976)، مولانا عبد الماجد دریا آبادی (وفات: 1977)، وغیرہ۔ تعلیم کے سلسلے میں دو چیزیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں نصاب، اور اساتذہ ۔ ادارے میں بلاشبہ نصاب کی بہت اہمیت ہے۔ لیکن نتیجے کے اعتبار سے دیکھا جائے تو نصاب سے بھی زیادہ اہمیت اساتذہ کی ہے۔ نصاب کی حیثیت عملاً ایک ذریعہ کی ہے۔ تاہم اس ذریعہ کا جو استعمال کرتا ہے، وہ استاذ ہے۔ استاذ اگر لائق اور فعال ہو تو وہ کسی بھی نصاب کو استعمال کر کے طلبا کے اندر مطلوب روح پیدا کر سکتا ہے، اور اگر استاذ لائق اور فعال نہ ہو تو اچھے سے اچھا نصاب بھی عملاً بے نتیجہ ہو کر رہ جائے گا۔