Al-Risala · November 2009

ہر گھر بگاڑ کا کارخانہ

Al-Risala, November 2009, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

آج کل عام طور پر یہ حال ہے کہ ہر گھر میں ایک طرف اپنے بچوں اور اپنے خاندان والوں کی تعریف کی جاتی ہے، اُن کا ذکر ہمیشہ مثبت انداز میں کیا جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جب بھی دوسروں کا چرچا کیا جاتا ہے تو وہ تنقیص کے انداز میں ہوتا ہے۔

اپنوں کے بارے میں مثبت باتوں کا چرچا اور دوسروں کے بارے میں منفی باتوں کا چرچا، یہ کلچر اتنا زیادہ عام ہے کہ شاید ہی کوئی گھر اس سے خالی ہو۔

گھر کے اندر سماج کے شہری بنتے ہیں، لیکن مذکورہ کلچر نے گھر کو اس قابل نہیں رکھا ہے کہ وہ اپنے سماج کے لیے اچھے شہری سلائی کرے۔ ہر گھر میں ایسے عورت اور ایسے مرد بن کر تیار ہو رہے ہیں جو اپنوں کے بارے میں مثبت رائے اور دوسروں کے بارے میں منفی رائے رکھتے ہیں، جن کو اپنوں سے محبت ہے اور دوسروں سے نفرت، جو اپنوں کے بارے میں روادار (tolerant) ہیں اور دوسروں کے بارے میں وہ غیر روادار (intolerant) بنے ہوئے ہیں، جن کے اندر اپنوں کو دینے کا ذہن ہے اور دوسروں سے صرف لینے کا ذہن، جو اپنوں کو برتر سمجھتے ہیں اور دوسروں کو کم تر، جو اپنوں کی ترقی پر خوش ہوتے ہیں اور دوسروں کی ترقی دیکھ کر اُنھیں کوئی خوشی نہیں ہوتی، جو اپنوں کی تکلیف سے فکر مند ہوتے ہیں اور دوسروں کی تکلیف کو دیکھ کر اُنھیں کوئی فکر مندی لاحق نہیں ہوتی، وغیرہ۔ اس صورتِ حال کا یہ نتیجہ ہے کہ اب سماجی اقدار (social values) کا تصور ختم ہو گیا ہے۔ اب ایک ہی چیز ہے جو ہر ایک کا واحد کنسرن (sole concern) بنی ہوئی ہے، اور وہ ہے ذاتی اس صورتِ حال نے ہر ایک کو خود غرض اور استحصال پسند بنا دیا ہے، کسی کو کم اور کسی کو زیادہ۔ یہ صورتِ حال بے حد سنگین ہے۔ اس کی اصلاح جلسوں اور تقریروں کے ذریعے نہیں ہو سکتی، اس کی اصلاح کا طریقہ صرف یہ ہے کہ گھر والے اپنے گھر کے ماحول کو درست کریں۔ ماحول کو درست کیے بغیر اس سنگین صورتِ حال کی اصلاح ممکن نہیں۔

Printed page