Al-Risala · November 2009

خیرخواہی یا بدخواہی

Al-Risala, November 2009, pp. 40–41

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک باپ نے اپنی بیٹی کی شادی دور کے مقام پر کی۔ یہ بیٹی اپنے میکہ میں اس طرح رکھی گئی تھی کہ اس نے کبھی کوئی کام نہیں کیا۔ اس کے والدین کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی تھی کہ بیٹی خوش رہے۔ کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔ مگر باپ جانتا تھا کہ سسرال میں ایسا ہونے والا نہیں ہے۔ اس نے بیٹی کو رخصت کرتے ہوئے کہا کہ اب تم جہاں جارہی ہو، وہ تمھارے لئے ایک مختلف دنیا ہوگی۔ میکہ میں تم کو جو آرام ملا، سسرال میں تم اس کی امید نہ رکھنا۔

باپ نے اپنی سمجھ کے مطابق ، یہ مشورہ خیرخواہی کے جذبہ کے تحت دیا۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ بدخواہی کا مشورہ تھا۔ حقیقت کے اعتبار سے اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کی بیٹی اپنے سسرال میں ہمیشہ منفی ذہن کے تحت رہے۔ وہ ہمیشہ احساسِ محرومی کا شکار رہے۔ وہ ہمیشہ یہ سمجھتی رہے کہ میرے میکہ کے لوگ بہت اچھے تھے اور میری سسرال کے لوگ بہت برے ہیں۔ میکہ والوں کے لئے اس کے دل میں جھوٹی محبت اور سسرال والوں کے لیے اس کے دل میں جھوٹی شکایت بھر جائے۔ وہ اس احساس میں جئے کہ میری شادی غلط ہوگئی۔ وہ ہمیشہ میکہ والوں کو اچھا سمجھے اور سسرال والوں کو ہمیشہ برا سمجھتی رہے۔

موجودہ زمانے میں تقریباً ہر ماں باپ اپنی بیٹی کے حق میں اسی قسم کی فرضی خیرخواہی کرتے ہیں جو عملاً بیٹی کے لئے صرف ایک مستقل بدخواہی بن جاتی ہے۔ بیٹی اپنے میکہ کی کنڈیشننگ کی بنا پر خود سے کبھی اس معاملہ کو سمجھ نہیں پاتی۔ اور ماں باپ کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کی کنڈیشننگ کو مزید پختہ کر دیتے ہیں، وہ اس کی کنڈیشننگ کا خاتمہ نہیں کرتے۔

صحیح یہ ہے کہ باپ یا تو اپنی بیٹی کے ساتھ لاڈ پیار(pampering) کا سلوک نہ کرے، یا کم از کم یہ کرے کہ وہ اپنی بیٹی سے بوقتِ رخصت کہہ دے کہ ہم نے جو کچھ کیا، وہ غیر فطری طریقہ تھا، فطری طریقہ وہی ہے جس سے تم کو سسرال میں سابقہ پیش آئے گا۔

سوال و جواب عرض یہ ہے کہ ایک بار میں دہلی میں آپ کے پاس آیا تھا۔ اُس وقت آپ نے مجھ کو یہ حدیث سنائی تھی: مَنْ صَمَتَ نَجَا یعنی جو چپ رہا اور جس نے بولنے سے پہلے سوچا، وہ کامیاب آپ نے میری ڈائری میں لکھوایا تھا کہ اس حدیث کو مضبوطی سے پکڑ لیں اور اس کے مطابق اپنی زندگی بنائیں تو آپ کامیاب رہیں گے۔ عرض یہ ہے کہ اس حدیث کے مطابق، زندگی بنانے کا مطلب کیا ہے، براہ کرم مطلع فرمائیں۔ (جوادالحق مظاہری، ہری دوار)

اس حدیث میں چپ رہنے کا مطلب کامل معنوں میں چپ رہنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کم بولنا۔ جو آدمی کم بولے، اس کو بیک وقت دو فائدے حاصل ہوتے ہیں—ایک، یہ کہ وہ زیادہ کم بولنے کا دوسرا پہلو زیادہ سوچنا ہے۔ جب آدمی بولتا ہے تو اُس وقت وہ سوچ نہیں پاتا۔ اسی لیے کسی نے بالکل درست طور پر کہا ہے:

Printed page