Al-Risala · February 2009

Change has come to America.

Al-Risala, February 2009, pp. 3–6

By Maulana Wahiduddin Khan

ان الفاظ کو سن کر حاضرین نے خوشی سے تالیاں بجائیں۔ یہ تالیاں پروڈاباما سے زیادہ، اینٹی بش جذبات کا اظہار تھیں ۔ اِسی کو جدید اصطلاح میں اینٹی اِنکمبنسنسی فیکٹر (anti incumbency factor) کہا جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ اپنے حکم رانوں کے بارے میں بڑھی ہوئی توقعات

(over-expectations) میں مبتلا رہتے ہیں۔ کوئی حکم رابراں ان توقعات کو پورا نہیں کر پاتا۔ لوگ اپنے موجودہ حکم راں کے بارے میں ہمیشہ شکایت کے جذبات لیے رہتے ہیں۔ ایسی حالت میں جو نیا حکم راں آتا ہے، وہ خوش نما الفاظ بولتا ہے۔ اس بنا پر لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ نیا حکم راں اُن کے لیے زیادہ بہتر ثابت ہوگا۔ مگر تجربے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ان کی توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ دوبارہ موجود حکم راں کے خلاف ہوجاتے ہیں۔

مسیحی حضرات کے نزدیک قبرص کی خصوصی اہمیت ہے۔ مشہور مسیحی مبلغ سینٹ پال (وفات: 65ء) نے قبرص کا سفر کیا۔ اُن کی تبلیغ سے برناباس (وفات: 61ء) نے مسیحیت قبول کی۔ برناباس کی پیدائش قبرص میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد دھیرے دھیرے قبرص میں مسیحیت پھیل گئی۔ برناباس کا مقبرہ شمالی قبرص کے قدیم شہر سلامی (Salamis) میں واقع ہے۔ موجودہ قبرص میں مسیحیوں کی تعداد تقریباً 80 فی صد ہے، اور مسلمانوں کی تعداد تقریباً 20 فی صد۔

15 نومبر 2008 کو مجھے دہلی سے قبرص کے لیے روانہ ہونا تھا۔ عجیب بات ہے کہ آج ہی صبح کے اخبارات میں یہ خبر آئی کہ انڈیا کا راکٹ چندریان ۔ 1، 24 دن کے اندر تقریباً 4 لاکھ کلومیٹر کا سفر کر کے چاند کی قریبی فضا میں پہنچ گیا۔ وہاں اُس نے مون امپیکٹ پروب (Moon Impact Probe) کو چاند کی سطح پر اتار دیا۔ اِس طرح، انڈیا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا جس نے مشینی طور پر چاند تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اِس واقعے کی رپورٹ تمام اخبارات میں چھپی ہے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (15 نومبر 2008) میں اِس خبر کا عنوان اِن الفاظ میں قائم کیا گیا ہے : Kalam's Brainchild Lands on Moon. اِس عنوان میں مسلم سائنس داں ڈاکٹر عبدالکلام کے رول کا غیر معمولی اعتراف کیا گیا ہے۔ اخبار کے کارٹونسٹ جگ ثریا اور نیلبھ نے اِس واقعے میں ایک مزاحیہ پہلو دریافت کر لیا۔ مذکورہ اخبار میں خبر کے ساتھ اُن کا ایک کارٹون چھاپا گیا ہے۔ اِس کارٹون کے نیچے یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: India has planted its tricolour on the moon. Isn’t it great. It is great. It would be even greater if we could get China’s permission to plant the Indian tricolour in Arunachal Paradesh. (p. 13)

انسان کا ذہن بھی کیسا عجیب ہے۔ وہ ایک خالص سائنسی واقعے میں مزاح کا پہلو نکال سکتا ہے۔ قبرص کے لیے ہمارا سفر 15 نومبر 2008 کی شام کو شروع ہوا۔ ایک قدیم مثل ہے : السفر اُسی کے لیے فارسی میں مثل ہے ــ سفر نمونه سفر، یعنی سفر جہنم کی مانند ہے۔ یہ مثل سفر کا حقیقی سفر میں بہرحال مسائل پیش آتے ہیں، پہلے زمانے میں بھی اور آج بھی۔ لیکن سفر کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سفر میں نئے نئے تجربے حاصل ہوتے ہیں۔ یہ تجربات ذہنی ارتقاء کے لیے بے حد قیمتی اگر سفر میں مشکلات پیش آئیں تو ان قیمتی تجربات میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ 15 نومبر 2008 کی شام کو 6 بجے ائیر پورٹ کے لیے روانگی ہوئی۔ راستے میں کاروں کا ہجوم کاریں مسلسل دوڑ رہی تھیں۔ مجھے یاد آیا کہ ہوائی جہاز کے لیے میرا پہلا سفر 1971 میں ہوا تھا۔ اُس وقت دہلی کی سڑکوں پر بہت کم کاریں دکھائی دیتی تھیں۔ آج ہر طرف موٹر کاریں دوڑتی ہوئی

نظر آتی ہیں۔ ایک عام آدمی اس کو ترقی کی علامت بتائے گا۔ میں نے جب سڑکوں پر دوڑتی ہوئی کاروں کا ہجوم دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے قیامت قریب آگئی ہے، اور خدا نے فرشتوں کو حکم دے دیا ہے کہ لوگوں کو تیزی سے میدانِ حشر کی طرف لے آؤ۔

حقیقت یہ ہے کہ جس آدمی کو سچائی کی دریافت ہو گئی ہو، اس کو قیامت اتنی قریب آئے گی کہ وہ آندھی اور طوفان کو دیکھے گا تو سمجھے گا کہ آنے والی قیامت شاید آگئی۔ وہ سڑکوں پر لوگوں کی دوڑ کو دیکھے گا تو سمجھے گا کہ شاید تمام لوگ فائنل کال کی طرف تیزی سے چلے جا رہے ہیں۔ حساس آدمی قیامت کو بالکل قریب دیکھنے لگتا ہے اور جو آدمی بے حس ہو، وہ اس طرح رہے گا جیسے قیامت یا تو آئے گی نہیں، یا اس کے آنے میں ابھی بہت زیادہ دیر ہے۔ عجیب بات ہے کہ آج مسلمانوں کی نفسیات یہی ہے۔ مشہور مثل ہے کہ ـــ چیزیں تقابل کے ذریعے سمجھ میں آتی ہیں۔ عربی میں کہا جاتا ہے: تعرف الأشیاء بأضدادھا۔ یہی مثل انگریزی زبان میں اس طرح ہے:

Printed page