سوال و جواب
Al-Risala, November 2009, pp. 41–42
By Maulana Wahiduddin Khan
آپ کی باتیں بہت اچھی ہیں، مگر اس وجہ سے نہیں کہ آپ اعمال کو آخرت کے ساتھ جوڑتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ ان کی افادیت اسی دنیا میں ہے۔ آخرت سے متعلق تمام تر باتیں ظنی ہیں اور وہ صرف ظنی ہی ہو سکتی ہیں۔ آخرت کو قطعیبت کے ساتھ ثابت ہی نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً حدیث میں ہے کہ
میری امت کے 73 فرقے ہوں گے جن میں سے صرف ایک حق پر ہوگا اور باقی گمراہ۔ ظاہر ہے کہ کوئی بھی عالم دین روئے زمین پر ایسا نہیں ہے جو مذکورہ 72 گمراہ فرقوں کی تعیین کر سکے، اور جب آپ تعیین کی قدرت نہیں رکھتے ہیں تو آپ کا علم ظنی سے بھی نچلی سطح پر آجاتا ہے۔ نیز قیامت آنے سے پہلے ہی آپ یعنی علماء 72 کے عدد کو پار کر چکے ہیں، پھر مزید کتنے فرقے وجود میں آنے باقی اس طرح پورا معاملہ ہی گڈمڈ ہو جاتا ہے۔ علم وہ ہے جو حتمی ہو، جو تبدیلی کو نہ چاہتا ہو، جو پتھر کی لکیر آج کچھ کہا، کل کچھ کہیں گے، یہ کوئی علم نہیں (خط میں نام درج نہیں، پونہ)۔ 1 - خالص سائنسی اعتبار سے دیکھا جائے تو اس دنیا میں تمام علوم ’’ظنی‘‘ ہیں۔ مطابق، اس دنیا میں ہماری واقفیت صرف امکان (probability) تک پہنچ سکتی ہے، نہ کہ حتمیت قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو صرف علم قلیل (الإسراء : 85) دیا گیا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس کا بھی یہی موقف ہے۔ اس موقف کو علمی نقطہ نظر کہا جا سکتا ہے۔ اس کے سوا علمی طور پر کوئی اور نقطہ نظر موجودہ دنیا میں ممکن نہیں۔
2 - حدیث میں مذکورہ 72 فرقوں کو نام بنام متعین کرنا، یا یہ متعین کرنا کہ ان میں سے کون سا فرقہ برسر حق فرقہ ہے، یہ صرف خدا کا کام ہے، یہ انسان کا کام نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات فرمائی ہے، وہ گم رہی کی نشان دہی کے اعتبار سے ہے، نہ کہ گم راہ فرقوں کی تعیین کے اعتبار سے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس حدیث میں تفرقہ یا فرقہ بندی کی شناعت سے متنبہ کیا گیا ہے۔ تعداد بتانا اس حدیث کا اصل موضوع نہیں۔