قربانی اور اسلام
Al-Risala, December 2009, pp. 5–6
By Maulana Wahiduddin Khan
حج اور عید اضحیٰ کے موقع پر تمام دنیا کے مسلمان ایک مخصوص دن میں خدا کے نام پر جانور کی قربانی کرتے ہیں۔ یہ قربانی عام زندگی سے کوئی علاحدہ چیز نہیں، اس کا تعلق انسان کی تمام زندگی سے اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ قربانی کی اسپرٹ کے ساتھ دنیا میں رہیں۔ قربانی کی اسپرٹ تمام اسلامی اعمال کا خلاصہ ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ: وما خلقت الجن والإنس إلا ليعبدون (الذاريات: 56) یعنی انسان اور جن کو صرف اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ خداوند عالم کی عبادت کریں۔ عبادت کیا ہے۔ ایک حدیث رسول میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: تعبد الله كأنك تراه (البخاری و مسلم)۔ اس حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کے تصورِ عبادت کے مطابق، انسان کے لیے زندگی کا صحیح طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ انسان، خدا کی ہستی کو اس طرح دریافت کرے کہ اُس کو ہر لمحہ خدا کی موجودگی (presence) کا احساس ہونے لگے۔
اس کا شعور اس معاملے میں اتنا بیدار ہو جائے کہ اس کو ایسا محسوس ہونے لگے گویا وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔ یہ احساس اس کی پوری زندگی کو خدائی رنگ میں رنگ دے۔ اس کے ہر قول اور ہر عمل سے ایسا محسوس ہونے لگے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے، جیسے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے، خدا کی براہِ راست نگرانی کے تحت کر رہا ہے۔ اسی زندہ شعور کے ساتھ زندگی گزارنے کا نام عبادت ہے۔ یہ درجہ کسی آدمی کو صرف اُس وقت ملتا ہے، جب کہ اس نے خدا کو اپنا واحد کنسَرن (sole concern) بنا لیا ہو۔ اسلام کے پانچ ارکان عبادت کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ ان میں سے پانچ چیزیں بنیادی عبادت کی حیثیت رکھتی ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بُنسی الإسلام علی خمس: شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمداً عبد ه ورسوله، وإقام الصلوة، وإيتاء الزكوة، والحج،
وصوم رمضان (متفق علیہ ) یعنی اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم ہے۔ اس بات کی گواہی دینا کہ ایک خدا کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور محمد، اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ اور نماز قائم کرنا، اور زکوۃ ادا کرنا، اور حج پورا کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔
یہ گویا کہ پانچ ستون (pillars) ہیں جن کے اوپر اسلام کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ ایک دکھائی دینے والی چیز ہے۔ اس حدیث میں عمارتی ڈھانچے کو بطور تمثیل استعمال کرتے ہوئے اسلام کی حقیقت کو بتایا گیا ہے۔ جس طرح ستونوں کے بغیر کوئی عمارت کھڑی نہیں ہوتی، اسی طرح ان پانچ ارکان کے بغیر اسلام کا قیام بھی نہیں ہوتا۔ اسلام کو قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پانچ ستونوں کو زندگی میں قائم کیا جائے۔
اسلام کے ان پانچ ارکان کی ایک اسپرٹ ہے، اور ایک اس کا فارم ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اصل اہمیت ہمیشہ اسپرٹ کی ہوتی ہے، لیکن فارم بھی یقینی طور پر ضروری ہے۔ جس طرح جسم کے بغیر روح نہیں، اسی طرح فارم کے بغیر اسلام بھی نہیں۔ اس معاملے میں بھی اسپرٹ کا اہتمام بہت ضروری ہے، لیکن یہ اہتمام فارم کے ساتھ ہوسکتا ہے، فارم کے بغیر نہیں۔