حضرت ابراہیم علیہ السلام
Al-Risala, December 2009, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابراہیم 1985 ق م میں عراق کے قدیم شہرار (Ur) میں پیدا ہوئے۔ 175 سال سے زیادہ عمر پائی۔ ’’اُر‘‘ قدیم عراق کی راجدھانی تھا۔ مزید یہ کہ یہ علاقہ قدیم آباد دنیا
(میسوپوٹامیہ) کا مرکز تھا۔ حضرت ابراہیم نے اپنی تمام صلاحیتوں اور کامل درد مندی کے ساتھ اپنے معاصرین کو توحید کی طرف بلایا۔ اس وقت کے عراقی بادشاہ نمرود (Nemrud) تک بھی اپنی دعوت لیکن کوئی بھی شخص آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوا، حتیٰ کہ آپ جب اتمام حجت کے بعد عراق سے نکلے تو آپ کے ساتھ صرف دو انسان تھے۔ آپ کے بھتیجے اور آپ کی اہلیہ۔ حضرت ابراہیم سے پہلے، مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں خدا کے پیغمبر آتے رہے اور لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہے۔ لیکن ان تمام پیغمبروں کے ساتھ یکساں طور پر یہ ہوا کہ لوگ ان کا انکار کرتے رہے۔ انھوں نے پیغمبروں کا استقبال استہزا (یٰس : 30) کے ساتھ کیا۔ حضرت ابراہیم کے اوپر پیغمبر کی تاریخ کا ایک دور ختم ہو گیا۔ اب ضرورت تھی کہ دعوت الی اللہ کی نئی منصوبہ بندی کی جائے ۔ اس منصوبہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا انتخاب کیا۔ چناں چہ حضرت ابراہیم عراق سے نکلے اور مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے آخر کار وہاں پہنچے جہاں آج مکہ آباد ہے۔ جیسا کہ صحیح البخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے، آپ کا یہ سفر فرشتہ جبرئیل کی رہنمائی میں طے ہوا۔