قربانی کی حقیقت
Al-Risala, December 2009, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
حج یا عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانور کی قربانی دی جاتی ہے۔ اس قربانی کے دو پہلو ہیں۔ ایک اس کی اسپرٹ، اور دوسرے اس کی ظاہری صورت۔ اسپرٹ کے اعتبار سے قربانی ایک قسم کا عہد (pledge)
قربانی کی صورت میں عہد کا مطلب ہے عملی عہد (pledge in action)۔ عہد کے اس طریقہ کی اہمیت کو عمومی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس میں کسی کو بھی کوئی اختلاف نہیں۔ یہاں اس نوعیت کی ایک مثال دی جاتی ہے، جس سے اندازہ ہوگا کہ قربانی کا مطلب کیا نومبر 1962 کا واقعہ ہے۔ ہندوستان کی مشرقی سرحد پر ایک پڑوسی طاقت کی جارحیت کی وجہ سے زبردست خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ سارے ملک میں سنسنی خیزی کی کیفیت چھائی ہوئی تھی۔ اُس وقت قوم کی طرف سے جو مظاہرے ہوئے، اس میں سے ایک واقعہ یہ تھا کہ احمد آباد کے 25 ہزار نو جوانوں نے مشتر کہ طور پر یہ عزم کیا کہ وہ ملک کے بچاؤ کے لیے لڑیں گے اور ملک کے خلاف باہر کے حملہ کا مقابلہ کریں گے، خواہ اسی راہ میں ان کو اپنی جان دے دینی پڑے۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد انھوں نے یہ کیا کہ ان میں سے ہر شخص نے اپنے پاس سے ایک ایک پیسہ دیا اور اس طرح 25 ہزار پیسے اس کے بعد انھوں نے اپنے ان پیسوں کو اس وقت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی خدمت میں پیش کیا۔ پیسہ دیتے ہوئے انھوں نے ہندوستانی وزیر اعظم سے کہا کہ یہ 25 ہزار پیسے ہم 25 ہزار نوجوانوں کی طرف سے اپنے آپ کو آپ کے حوالے کرنے کا نشان ہیں: