Killing of a sensation is sin and vice versa.
Al-Risala, December 2009, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ نظریہ بلاشبہہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں یہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں، جیسا کہ اس مضمون میں دوسرے مقام پر واضح کیا جائے گا۔ زندگی کو مارنا ہمارا اختیار انسان جب تک زندہ ہے، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر بے شمار زندگیوں کو ہلاک کرتا رہتا ہے۔ جو آدمی اس ’’گناہ‘‘ سے بچنا چاہے، اس کے لیے دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار (option) ہے، یا تو وہ خودکشی کرکے اپنے آپ کو ختم کرلے، یا وہ ایک اور دنیا کی تخلیق کرے جس کے قوانین اس سے مختلف ہوں جو موجودہ دنیا کے قوانین ہیں۔
اسلام میں غذاؤں میں حلال اور حرام کا اصول بنیادی طور پر یہ ہے کہ چند مخصوص چیزوں کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ بقیہ تمام چیزیں اسلام میں جائز خوراک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حرام اور حلال کا یہ اصول جو اسلام نے بتایا ہے، وہ فطرت کے قوانین پر مبنی ہے۔
آج بھی ایک محدود گروہ کو چھوڑ کر ساری دنیا حلال و حرام کے اسی اصول کا اتباع کررہی ہے۔ گروہ بھی صرف کہنے کے لیے اپنا نظریہ بتاتا ہے، ورنہ جہاں تک عمل کا تعلق ہے، وہ بھی بالفعل اسی فطری اصول پر قائم ہے۔ مثلاً یہ تمام لوگ عام طور پر دودھ اور دہی وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ دودھ اور دہی وغیرہ غیر حیوانی غذائیں ہیں۔ مگر اب قطعیّت کے ساتھ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ سب بھی پورے معنی میں حیوانی غذائیں ہیں۔ جس آدمی کو اس بات پر شک ہو، وہ کسی بھی قریبی تجربہ گاہ (laboratory) میں جا کر خورد بین (microscope) میں دودھ اور دہی کا مشاہدہ کرے ۔ ایک ہی نظر میں وہ جان لے گا کہ اس معاملہ میں حقیقت کیا ہے۔
اسلام میں حلال جانور اور حرام جانور کی جو تفریق کی گئی ہے، وہ بنیادی طور پر اس اصول پر مبنی ہے کہ لحمی غذا کھانے والے جانور حرام ہیں اور غیر لحمی غذا کھانے والے جانور حلال ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جو جانور براہ راست حیوانات کو کھا کر اپنی خوراک بناتے ہیں، ان کا گوشت انسان کے لیے باعتبار صحت موزوں نہیں ہوتا۔ دوسرے جانوروں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے اندر مخصوص فطری نظام ہوتا ہے جس کے مطابق، ایسا ہوتا ہے کہ جو زرعی غذا وہ کھاتے ہیں اس کو وہ مخصوص عمل کے ذریعہ پروٹین میں تبدیل کرتے ہیں، چناں چہ وہ ہمارے لیے صحت بخش اور زود ہضم بن جاتا ہے۔