Protein is the main building block of our body.
Al-Risala, December 2009, pp. 22–25
By Maulana Wahiduddin Khan
پروٹین کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ لحمی غذا ہے۔ لحمی غذا سے ہم کو اعلیٰ پروٹین حاصل ہوتی غیر لحمی غذاؤں سے بھی کچھ پروٹین ملتی ہے لیکن وہ نسبتاً ناقص پروٹین ہوتی ہے: Meat is the best source for high-quality protein. Plant protein is a lower biological value. مزید یہ کہ لحمی پروٹین اور غیر لحمی پروٹین کی تقسیم بھی صرف تقریب فہم کے لیے ہے، وہ حقیقی تقسیم اس لیے کہ خوردبین کی دریافت کے بعد سائنس کے میدان میں جو مطالعہ کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام غذائی اشیاء کے اندر بے شمار بیکٹیریل یا موجود رہتے ہیں جو مکمل طور پر زندہ اجسام کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جن غیر لحمی غذاؤں کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ ان میں بڑی مقدار میں پروٹین ہوتا ہے مثلاً دودھ، دہی، پنیر وغیرہ، وہ سب بیکٹیریل یا نا قابل مشاہدہ پراس کے ذریعہ انجام پاتا بیکٹیریا کا عمل اگر اس کے اندر نہ ہو تو کسی بھی غیر لحمی غذا سے پروٹین حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ بیکٹیریا کو علمی زبان میں مائیکرو آرگنزم (micro-organism) کہا جاتا ہے، یعنی اس کے مقابلہ میں حیوانات مثلاً بکری اور بھیڑ وغیرہ کی حیثیت میکر و آرگنزم (macro organism) کی ہے، یعنی اجسام کبیر ۔ اس حقیقت کو سامنے رکھے تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ ہر آدمی عملاً لحمی غذا کھار ہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نام نہاد وتحبیّرین اس کو اجسام صغیر کی صورت میں لے رہے ہیں اور نان وتحبیّرین لوگ اس کو اجسام کبیر کی صورت میں لے رہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہر انسان کا معدہ ایک عظیم مذبح (slaughter house) کی حیثیت اس غیر مرئی مذبح میں ہر روز ملین اینڈ ملین اجسام صغیر ختم ہوتے رہتے ہیں۔ ان کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ساری دنیا میں اجسام کبیر کے جو مذبح خانے ہیں ان کی مجموعی تعداد سے بھی زیادہ۔ اس سارے معاملے کا تعلق خالق کے تخلیقی نظام سے ہے۔ خالق نے تخلیق کا جو نظام مقرر کیا ہے، وہ یہی ہے کہ انسان کے جسم کی غذائی ضرورت زندہ اجسام (living organism) کے
ذریعے پوری ہو فطرَت کے نقشہ کے مطابق، زندہ اجسام کو اپنے اندر داخل کیے بغیر کوئی مرد یا عورت اپنی زندگی کو باقی نہیں رکھ سکتا۔ خالق کے نقشہ کے مطابق، زندہ چیزیں ہی زندہ وجود کی خوراک بنتی ہیں۔ جن چیزوں میں زندگی نہ ہو، وہ زندہ لوگوں کے لیے خوراک کی ضرورت فراہم نہیں کرسکتیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ویجیٹیریان ازم (vegetarianism) اور نان ویجیٹیریان ازم (non-vegetarianism) کی اصطلاحیں صرف ادبی اصطلاحیں ہیں، وہ سائنسی اصطلاحیں نہیں۔
اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کے لیے اس کے سوا کوئی چوائس (choice) نہیں کہ وہ نان ویجیٹیریان بننے پر راضی ہو۔ جو آدمی خالص ویجیٹیریان بن کر زندہ رہنا چاہتا ہو، اس کو یا تو اپنے آپ کو موت کے حوالے کرنا ہوگا یا پھر اس کو ایک اور عالم تخلیق کرنا ہوگا جہاں کے قوانین موجودہ دنیا کے قوانین سے مختلف ہوں۔ ان دو کے سوا کوئی دوسرا چوائس کسی انسان کے لیے نہیں۔ تاریخ کے فکری مغالطے فلسفہ قیاسی علوم (speculative sciences) میں سے ایک علم ہے۔ فلسفہ قدیم ترین شعبہ علم ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے دماغ فلسفیانہ غور وفکر میں مشغول رہے ہیں۔ لیکن لمبی تاریخ کے باوجود فلاسفہ کا گروہ انسان کو کوئی مثبت چیز نہ دے سکا، بلکہ فلسفے نے صرف انسان کی فکری پیچیدگیوں میں اضافہ کیا۔ فارسی شاعر نے بالکل درست طور پر کہا ہے:
فلسفی سرِ حقیقت نہ توانست کشود گشت رازِ دگر آں راز که افشای نکرد فلسفے نے انسان کو جو چیزیں دیں، ان کو ایک لفظ میں فکری مغالطہ کہا جاسکتا ہے، یعنی ایسے قیاسات جو حقیقت واقعہ پر مبنی نہ ہوں۔ افکار کی تاریخ ان مثالوں سے بھری ہوئی ہے۔ تمام فلسفیوں کی مشترک غلطی یہ رہی ہے کہ ہر ایک کے ذہن میں چیزوں کا ایک معیاری ماڈل (ideal model) بسا ہوا تھا، جو کبھی اور کسی دور میں حاصل نہ ہوسکا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ فلسفیوں کا یہ ماڈل دنیا کے بارے میں خالق کے تخلیقی نقشہ سے مطابقت نہ رکھتا تھا۔ خالق نے موجودہ دنیا کو امتحان کے لیے پیدا کیا ہے، نہ کہ انعام کے لیے۔ اسی امتحان کے لیے انسان کو آزادی دی گئی ہے۔
آزادی اس راہ میں رکاوٹ ہے کہ اس دنیا میں کبھی کوئی معیاری نظام بن سکے۔ معیاری نظام صرف اس وقت بن سکتا ہے جب کہ تمام لوگ بغیر استثناء اپنی آزادی کو بالکل صحیح صورت میں استعمال کریں، تاہم مختلف اسباب سے ایسا ہونا کبھی ممکن نہیں۔ اس لیے اس دنیا میں معیاری نظام کا بننا بھی کبھی ممکن نہیں۔ تاریخ کے تمام فلسفی اس حقیقت سے بے خبر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام فلسفی اپنے ذہنی ماڈل کے مطابق، معیاری نظام کا خواب دیکھتے رہے۔ مگر فطرت کے قانون کے مطابق، ان کا یہ خواب کبھی پورا نہ ہو سکا۔ یہاں بطور نمونہ چند مثالیں درج کی جاتی ہیں: افلاطون (Plato) قدیم یونان کا مشہور فلسفی ہے۔ اس نے 387 ق م میں ایتھنز (Athens) میں ایک رائل اکیڈمی قائم کی۔ اس کا مقصد حکمراں طبقہ (ruling elite) کو ایجوکیٹ کر کے فلا سفر کنگ بنانا تھا۔ اس کا نشانہ یہ تھا کہ اس اکیڈمی میں تیار شدہ فلاسفر کنگ یونان میں آئیڈیل اسٹیٹ قائم کریں گے جو ساری دنیا کے لیے ایک نمونہ کی اسٹیٹ ہوگی۔ شہزادہ الگزنڈر (Alexander) افلاطون کا محبوب شاگرد تھا۔ اپنے باپ فلپ کے مرنے کے بعد 336 میں وہ یونان کا بادشاہ بنا۔ شاہی تخت پر بیٹھنے کے بعد ہی وہ فلاسفر کنگ کے بجائے ایکسپلائٹر کنگ (exploiter king) بن گیا۔ آئیڈیل اسٹیٹ قائم کرنے کے بجائے اس کا نشانہ یہ ہو گیا کہ وہ ساری دنیا میں اپنا عالمی اقتدار قائم افلاطون کے خواب کے بجائے وہ لارڈ ایکٹن کے اس قول کا مصداق بن گیا: Power corrupts and abslute power corrupts absolutely. آئیڈیل ازم کا یہ فلسفیانہ تصور پوری تاریخ میں چھایا رہا ہے۔ آئیڈیل اسٹیٹ، آئیڈیل سماج، آئیڈیل نظام کا نشانہ ہمیشہ تمام فلسفیوں اور مفکروں کا خوب صورت خواب رہا ہے، مگر یہ خواب کبھی پورا نہ ہو سکا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ خواب اس غلط فکری پر مبنی تھا کہ موجودہ دنیا میں آئیڈیل زندگی صرف جنت میں قابل حصول ہے۔ موجودہ دنیا صرف اس لیے بنی ہے کہ انسان یہاں اپنے آپ کو جنت کا اہل ثابت کرے، تاکہ وہ مرنے کے بعد جنت کی آئیڈیل دنیا میں جگہ جس طرح ایک طالب علم کو امتحان ہال کے اندر اپنا مطلوب جواب نہیں مل سکتا، اس طرح
موجودہ دنیا میں کسی انسان کو آئیڈیل جنت بھی ملنے والی نہیں۔
2- انیسویں صدی عیسوی میں جب سائنسی مشاہدے کا طریقہ دنیا میں رائج ہوا تو فلسفیوں کے اندر ایک نیا فکر پیدا ہوا جس کا یہ کہنا تھا کہ حقیقت وہی ہے جو قابل مشاہدہ (observable) ہو، جو معلوم سائنسی طریقوں کے مطابق قابل تصدیق (verifiable) ہو۔ اسی سوچ کے تحت مختلف اسکول آف تھاٹ بنے۔ مثلاً انیسویں صدی کا فرنچ فلسفی آگوست کامٹے (Auguste Comte) کا پازیٹیو ازم (Positivism) اور بیسویں صدی کے جرمن فلاسفر رڈولف کارنیپ (Rudolf Carnap) کالاجیکل پازی ٹیو ازم وغیرہ۔
اس قسم کے مفکروں اور فلسفیوں نے تقریباً سو سال تک دنیا بھر کے ذہنوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی کہ جو چیز مشاہدہ میں نہ آئے وہ حقیقت بھی نہیں۔ ان نظریات کے تحت وہ فلسفہ پیدا ہوا جس کو سائنسی الحاد (scientific atheism) کہا جاتا ہے۔ ان نظریات کے مطابق، خدا اور مذہب کا عقیدہ علمی اعتبار سے بے بنیاد ثابت ہو گیا۔
علمی حلقوں میں سائنسی الحاد پر چرچا جاری تھا کہ خود سائنس نے اس نظریے کو بے بنیاد ثابت سائنس میں یہ تبدیلی اس وقت آئی جب کہ سائنس دانوں نے اس حقیقت کو دریافت کیا جس کو کوانٹم میکینکس (quantum mechanics) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت کو عظیم ترین فکری فتح (greatest intellectual triumph) کہا جاتا ہے۔ اس سائنسی نظریہ کا ایک نتیجہ یہ تھا کہ ایٹمی ذرات کو امواج (waves) سمجھا جانے لگا۔ اس سائنسی دریافت میں خاص طور پر حسب ذیل سائنس دانوں کے نام شامل ہیں:
Paul Dirac, Heisenberg, Jordan, Schrodinger, Einstein اس سائنسی دریافت نے قدیم نیوٹانین میکینکس کو علمی طور پر قابل رد قرار دے دیا۔ اب علم کا دریا عالم کبیر (macro world) سے گزر کر عالم صغیر (micro world) تک پہنچ گیا، یعنی دکھائی دینے والی چیزوں کے علاوہ نہ دکھائی دینے والی چیزیں بھی علم کا موضوع بن گئیں۔