In comparision that we understand.
Al-Risala, February 2009, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارا سفر شروع ہوا تو مجھے یہ مثل یاد آئی۔ میں نے اپنے سفر کا تقابل حیوانات کے سفر سے کیا۔ حیوانات بھی محدود طور پر سفر کرتے ہیں، لیکن ان کا سفر خود اپنے پیروں کے ذریعے ہوتا ہے۔ برعکس، انسان کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس کا سفر سواریوں کے ذریعے طے ہوتا ہے، خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی اور فضا میں بھی۔ انسان کے ساتھ خدا کا یہی خاص معاملہ ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ولقد کرّمنا بنی آدم، وحملناهم في البر والبحر (الإسراء: 70) اس آیت کے اندر صرف برو بحر کے سفر کا ذکر ہے۔ لیکن توسعی معنی میں اس کے اندر فضائی سفر بھی شامل ہے۔ میں اپنے مزاج کے مطابق، ایک تنہائی پسند آدمی ہوں۔ ایک بیرونی سفر میں ایک عرب شیخ سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ: أنا رجل أحبّ العُزلة۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر میں ہمیشہ اپنی تنہائی کی دنیا میں جیتا ہوں ۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب بھی مجھے کوئی سفر پیش آتا ہے تو اپنے اس مزاج کی بنا پر مجھ کو ہمیشہ سفر کے لیے نکلتے ہوئے ایک قسم کی ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ یہی موجودہ سفر
میں بھی پیش آیا۔ مگر جب میں ائر پورٹ پر پہنچاتو سارا معاملہ بالکل بدل چکا تھا۔ ائر پورٹ میں داخل ہوتے ہی آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایک عالمی قافلے کے پر ہجوم سفر میں شریک ہو گئے ہیں۔ آپ ایک بھیڑ کے درمیان معلوم یا نا معلوم منزل کی طرف چلے جارہے ہیں۔
ہم لوگ ائر پورٹ کے اندر داخل ہوئے تو وہاں ائر پورٹ کا وہ حصہ دکھائی دیا جہاں روشن لفظوں میں ڈیوٹی فری شاپ (Duty Free Shop) لکھا ہوا تھا۔ عربی میں اس کو "السوق الحرّة" کہا جاتا ہے۔ یہ ائر پورٹ کا شاپنگ سنٹر تھا۔ خوب صورت الماریوں میں آئٹم برائے فروخت رکھے میرے ساتھی مسٹر رِجت ملہوترا نے اس کو دیکھ کر کہا: