Man does not stand alone
Al-Risala, December 2009, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
5 - بدھ ازم کو موجودہ زمانہ میں سیکولر طبقہ کے درمیان کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس کو یہ مقبولیت کسی سائنسی بنیاد پر نہیں ہوئی ہے بلکہ صرف ایک مغالطہ کی بنیاد پر ہوئی ہے۔ عام طور پر لوگ چیزوں کا سائنسی تجزیہ کر کے اس کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس بنا پر اکثر لوگ مغالطہ آمیز فکر کا شکار ہوتے ہیں۔ بدھ ازم کی موجودہ مقبولیت بھی انھیں میں سے ایک ہے۔ بدھسٹ فلسفہ کے مطابق انسان نسل در نسل ایک لمبا سفر کر رہا ہے۔ اس کی آخری منزل نرون اس آخری منزل تک پہنچنے کا ایک حتمی کورس ہے۔ یہ علت اور سبب کا کورس ہے۔ ہر عورت یا مرد
اپنے عمل کے مطابق، ایک جنم کے بعد دوسرے جنم میں پیدا ہوتے رہتے ہیں، کبھی اچھی حالت میں اور کبھی بری حالت میں۔ اس نظریہ کو پتر جنم کہا جاتا ہے۔ اور پھر کئی ملین سال تک یہ سفر کرتے کرتے وہ نجات (salvation) تک پہنچتے ہیں جس کو بدھازم میں ’’نروان‘‘ کا نام دیا گیا ہے: یہ فلسفہ صرف ایک مغالطہ ہے۔ پتر جنم کا یہ نظریہ کہتا ہے کہ آدمی اپنے پچھلے جنم میں کئے ہوئے کرم کے مطابق اگلے جنم میں اچھی حالت یا بری حالت میں پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو ہر ایک کو اپنے پچھلے جنم کا حال یاد رہنا چاہیے۔ جس طرح جیل میں سزا پانے والے ایک قیدی کو اپنے پچھلے دنوں کا جرم یاد رہتا ہے، یا ترقی پر پہنچنے والے ایک شخص کو اپنے پچھلے زمانہ کی وہ کوششیں یاد رہتی ہیں جس کی وجہ سے وہ اس عہدے تک پہنچا۔ لیکن جیسا کہ معلوم ہے، دنیا بھر میں بسنے والے عورتوں اور مردوں کو اپنے پچھلے جنم کے بارے میں کچھ بھی یاد نہیں۔
یہ واقعہ پتر جنم کے فلسفہ کو سراسر غیر علمی ثابت کر رہا ہے۔ موجودہ زمانہ میں نفسیات کے تحت انسان کا نہایت تفصیلی مطالعہ کیا گیا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یادداشت (memory) انسان کی شخصیت (personality) کا لاینفک حصہ ہے۔ انسانی شخصیت کو اس کی یادداشت سے جدا نہیں کیا لیکن پتر جنم کے معاملہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر آدمی کی شخصیت ایک جنم سے دوسرے جنم کی طرف اس طرح سفر کرتی ہے کہ اپنے پچھلے زمانہ کے بارے میں اس کی یادداشت اس کے ساتھ موجود کسی آدمی کے اگلے جنم میں اگر اس کی پچھلی شخصیت منتقل ہوتی ہے تو اس کی یادداشت بھی اس کے ساتھ لازماً موجود رہنی چاہیے۔ یہ واقعہ اس پورے نظریہ کو سراسر بے بنیاد ثابت کر رہا ہے۔ قبل سائنسی دور میں فرضی قیاس کے تحت اس قسم کا نظریہ مانا جاسکتا تھا۔ لیکن سائنسی دور میں وہ بالکل نا قابل قبول ہو چکا ہے۔ جدید سائنس نے جس طرح دوسرے تمام فرضی تصورات کو بے بنیاد ثابت کر دیا ہے، اسی طرح پتر جنم کا تصور بھی اب بلاشبہ بے بنیاد قرار پائے گا۔
6- اٹھیں فکری مغالطوں میں سے ایک مغالطہ وہ ہے جو ویجیٹیریان ازم (vegetarianism) کے نام سے معروف ہے۔ یہاں اس معاملے کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔
لوہا اور پتھر جیسی چیزیں غیر ذی روح مادہ (dead matter) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ کے وجود کے لیے زندہ اجسام کی ضرورت نہیں۔ مگر انسان کی حیثیت ایک زندہ وجود کی ہے۔ بقا کے لیے زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لیے اسے ہر لمحہ زندگی بخش غذاؤں کی ضرورت ہے۔ یہ غذا انسان کو سبزی اور پھل اور اناج وغیرہ کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ غذائی اجزا کو کھا کر پیٹ میں ڈالنا ہی کافی نہیں۔ اس کے بعد ایک اور عمل درکار ہے جس کو عمل ہضم کہا جاتا ہے۔ یہ عمل ایک پیچیدہ نظام ہضم (digestive system) کے تحت انجام پاتا ہے۔ بعد ہی یہ غذائی اجزا جسم کا جزء بنتے ہیں۔ اس ہضمیاتی عمل (digestive process) میں اصل حصہ زندہ بیکٹیریا کا ہوتا ہے۔ بیکٹیریا اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے۔ وہ مکمل معنوں میں ایک زندہ وجود ہیں۔ یہ بیکٹیریا یا بے شمار تعداد میں انسان کے جسم میں داخل ہو کر ہضمیاتی عمل کی تکمیل کرتے ہیں۔ اگر بیکٹیریا کی مدد نہ ملے تو کوئی بھی غذا انسان کے لیے صحت بخش غذا نہ بن سکے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (26 دسمبر 2007) کے صفحہ اول پر ایک نمایاں اور رنگین اشتہار چھپا ہے۔ اس کا عنوان جلی الفاظ میں یہ ہے— ڈیلی پیو، ہیلدی جیو: