Daily piyo, healthy jiyo
Al-Risala, December 2009, pp. 30–37
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک انٹرنیشنل مشروب کا اشتہار ہے جس کو صحت بخش مشروب (pro-biotic drink) بتایا گیا ہے اور اس کا نام یا کلٹ (Yakult) ہے۔ یہ 1935 میں بنایا گیا اور 30 ملکوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب انڈیا میں بھی اس کا استعمال شروع کیا گیا ہے۔
اس اشتہار میں اس کی سائنٹفک تشریح کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ اس میں مفید بیکٹیریا یا
بہت بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں جو ہضم کے عمل میں بے حد معاون ہوتے ہیں، وہ مختلف پہلوؤں سے انسان کو طاقت دیتے ہیں:
زندگی بخش بیکٹیریا ہر آن انسان کے جسم میں مختلف طریقوں سے داخل ہوتے رہتے ہیں۔ مذکورہ مشروب اسی عمل کو تیز تر کرنے کی ایک تدبیر ہے۔
معلوم ہوا کہ لحمی غذا انسان کے لیے اختیاری بات نہیں، وہ انسان کی مجبورا نہ ضرورت ہے۔ شخص جانتا ہے کہ غذا انسان کے لیے ضروری ہے۔ اس معاملہ میں ویجیٹیریئن فوڈ اور نان ویجیٹیریئن فوڈ کی تقسیم صرف ایک اعتباری تقسیم ہے، وہ حقیقی تقسیم نہیں۔ کیوں کہ اصل حقیقت کے اعتبار سے ہر غذا آخر کار ایک لحمی غذا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ نان ویجیٹیریئن فوڈ میں اس کا لحمی ہونا آنکھوں سے دکھائی دیتا ویجیٹیریئن فوڈ میں بھی لحمی عنصر مکمل طور پر شامل رہتا ہے، اگر چہ وہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ نان ویجیٹیریئن آدمی حیوان کبیر (macro organism) کو اپنی غذا بناتا ہے اور نام نہاد ویجیٹیریئن آدمی حیوان صغیر (micro organism) کو اپنی غذا بنا رہا ہے۔ بظاہر دونوں ایک دوسرے سے مختلف دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ غیر فطری نظریہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ویجیٹیریئن فوڈ ہی انسان کے لیے صحیح فوڈ ہے، وہ ایک ایسی بات کہتے ہیں جو صرف ان کے اپنے ذہن کی پیداوار ہے۔ ان کے اپنے ذہن کے باہر اس کی کوئی دلیل موجود نہیں۔ عرض کیا گیا، ان لوگوں کا کلمہ یہ ہے—احساس کو مارنا گناہ ہے، اس کے برعکس احساس کو زندگی دینا نیکی:
یہ ایک خودساختہ فارمولا ہے اس کی کوئی بنیاد (base) نہ تو فطرت کے قانون میں ہے اور نہ سائنس کی دریافتوں میں ۔ یہ نظریہ مکمل طور پر ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ مثلاً یہ لوگ انسانی دانت کی ساخت کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ انسان کے دانت درندہ جانور سے مختلف ہیں، اس لیے وہ سبزی خور حیوان (herbivorous) ہے، وہ گوشت خور حیوان (carnivorous) نہیں۔ مگر یہ بات درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ انسان کے دانت درندہ جانور سے مختلف نہیں بلکہ مشابہ ہوتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ درندے جانور کے گوشت کو کچا کھاتے ہیں، اس لیے ان کے دانت مختلف بنائے گئے ہیں۔ لیکن انسان گوشت کو پکا کر کھاتا ہے، اس لیے انسان کے دانت درندہ جانور سے جزئی طور پر مشابہ تو ضرور ہیں لیکن وہ عین اس کے مطابق نہیں۔
جیسا کہ معلوم ہے، سیارہ زمین کا تقریباً 71 فی صد حصہ سمندر ہے جو کہ پانی سے بھرا ہوا ہے۔ زمین میں خشکی کا حصہ نسبتاً بہت کم ہے۔ جب کہ زرعی پیداوار حاصل کرنے کے لیے خشک زمین ضروری زمین کا یہ دستیاب خشک حصہ تمام انسانوں کے لیے زرعی خوراک فراہم کرنے کے لیے بالکل جب کہ اسی محدود خشک حصہ پر انسانی آبادیاں ہیں، بڑے بڑے کارخانے ہیں۔ صحرا اور پہاڑ اور جھیل اور دریا ئیں ہیں۔ ایسی حالت میں اگر صرف زرعی خوراک پر انحصار کرنا ہو تو انسانوں کے بڑے حصے کو فاقہ کشی کا شکار ہونا پڑے گا۔
واضح ہو کہ اس وقت کرہ زمین کے اوپر سات بلین سے زیادہ انسان آباد ہیں۔ ایسی حالت میں زرعی خوراک کی یہ کمی صرف لحمی خوراک سے پوری کی جاسکتی ہے جیسا کہ دنیا میں ہو رہا ہے۔ خالق کو یہ بات معلوم تھی ۔ چناں چہ اس نے سمندروں میں نان ویجیٹیرین فوڈ کا بہت بڑا ذخیرہ رکھ دیا۔ ساتھ خدا نے فضاؤں میں اڑنے والی چڑیاں بنائیں اور جنگلوں میں مختلف حیوانات پیدا کر دیے۔ سب اس لیے ہوا، تاکہ انسان زرعی خوراک کی کمی لحمی خوراک کے ذریعے پورا کر سکے۔ انڈیا کے ریفرنس میں ڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھن (پیدائش : 1925) انڈیا کے مشہور زرعی سائنٹسٹ ہیں۔
میں گرین ریولوشن (green revolution) کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔ ان کو انٹرنیشنل ایوارڈ بھی مل نئی دہلی کے انگریزی اخبار اسٹیٹس مین کے شمارہ 4 ستمبر 1967 میں سوامی ناتھن کا ایک خصوصی انٹرویو چھپا جو انھوں نے یو این آئی کے نمائندہ کو دیا تھا۔ اس میں یہ انتباہ دیا گیا تھا کہ انڈیا کے لوگ اپنی غذائی عادتوں کی بنا پر پروٹینی فاقہ (protein hunger) کے خطرہ سے دوچار ہیں۔ میں کہا گیا تھا کہ :
”اگلے دودھوں میں ہندوستان کو بہت بڑے پیمانہ پر ذہنی بونا پن (intellectual dwarfism) کے خطرہ کا سامنا کرنا ہوگا، اگر پروٹینی فاقہ کا مسئلہ حل نہیں ہوا‘۔ یہ الفاظ ڈاکٹر ایم، ایم، سوامی ناتھن نے یو این آئی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہے تھے جو انڈین ایگری کلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (نئی دہلی) کے ڈائرکٹر رہ چکے ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ متوازن غذا کا تصور اگر چہ نیا نہیں ہے، مگر دماغ کے ارتقاء کے سلسلہ میں اس کی اہمیت ایک نئی حیاتیاتی دریافت کی اب یہ بات قطعی ہے کہ چار سال کی عمر میں انسانی دماغ 80 فی صد سے لے کر 90 فیصد تک اپنے پورے وزن کو پہنچ جاتا ہے۔ اور اگر اس نازک مدت میں بچہ کو مناسب پروٹین نہ مل رہی ہو تو دماغ اچھی طرح نشو و نما نہیں پا سکتا۔ ڈاکٹر سوامی ناتھن نے کہا کہ مختلف نسلی گروہوں کے ذہنی فرق کا تقابلی مطالعہ مستقبل میں اس نقطہ نظر سے بھی کرنا چاہیے۔ تغذیہ اور پروٹینی فاقہ کے مسئلہ پر جلد توجہ نہ دی گئی تو اگلے دودھوں میں ہمیں یہ منظر دیکھنا پڑے گا کہ ایک طرف متمدن قوموں کی ذہنی طاقت (intellectual power) میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف ہمارے ملک میں ذہنی بونا پن بڑھ رہا ہے۔ کو پروٹینی فاقہ سے نکالنے میں اگر ہم نے جلدی نہ کی تو نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر روز ہمارے یہاں دس لاکھ ذہنی بونے (intellectual dwarfs) وجود میں آئیں گے۔ اس کا بہت کچھ اثر ہماری نسلوں پر تو حالیہ برسوں ہی میں پڑ چکا ہوگا۔
پوچھا گیا کہ اس مسئلہ کا حل کیا ہے۔ ڈاکٹر سوامی ناتھن نے جواب دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی کارروائیوں کے ذریعہ عوام کے اندر پروٹینی شعور (protein-consciousness) پیدا اور اس سلسلہ میں رائے عامہ کو بیدار کرے ۔
غیر لحمی غذاؤں میں دالیں پروٹین حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ غذاؤں مثلاً دودھ میں زیادہ اعلیٰ قسم کا پروٹین پایا جاتا ہے۔ پروٹین کی ضرورت کا تخمینہ مقدار اور نوعیت دونوں کے اعتبار سے کرنا چاہیے۔ اوسط نشو ونما کے لیے پروٹین کے مرکبات میں 80 قسم کے امینواسید (amino acid) ہونا ضروری ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ غیر لحمی غذاؤں میں بعض قسم کے ایسڈ مثلاً لائسین (Lysine) اور میتھیونین (Methionine) کا موجود ہونا عام ہے، جب کہ جوار میں لائسین کی زیادتی اُن علاقوں میں بیماری کا سبب رہی ہے جہاں کی خاص غذا یہی اناج ہے۔
اگرچہ حیوانی غذا (دودھ) کا بڑے پیمانے پر حصول پسندیدہ چیز ہے، مگر ان کا حصول بہت مہنگا ہے۔ کیوں کہ نباتاتی غذا کو حیوانی غذا کی شکل دینے کے لیے بہت زیادہ قوت ضائع کرنی پڑتی ہے۔ ایگری کلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں دنیا کے تمام حصوں سے گیہوں اور جوار کی قسمیں منگوا کر جمع کی گئیں اور اس اعتبار سے ان کا تجزیہ کیا گیا کہ کس قسم میں کتنے امینو ایسڈ پائے جاتے ہیں۔ تحقیق سے ان میں دلچسپ فرق معلوم ہوا۔ ان میں پروٹین کی مقدار 7 فی صد سے لے کر 16 فی صد تک موجود تھی ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ نائٹروجن کی کھاد استعمال کر کے نصف کے قریب تک ان کا پروٹین بڑھایا جا سکتا ہے۔
کسانوں کے اندر پروٹینی شعور پیدا کرنے کے لیے ڈاکٹر سوامی ناتھن نے یہ تجویز بتائی تھی کہ گیہوں کی خریداری کے لیے قیمتوں کا تعین اس بنیاد پر کیا جائے کہ کس قسم میں کتنا پروٹین پایا جاتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایگری کلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ غلہ کے بعض
بازاروں میں پروٹین جانچ کی ایک سروس جاری کرے گا اور جب اطمینان بخش حقائق جمع ہو جائیں گے تو یہ معیار (criterion) تعیینِ قیمت کی پالیسی میں شامل کیا جا سکے گا۔ کی مقدار کو بڑھانے اور اس کی قسم (quality) کو بہتر بنانے کے دوطرفہ کام کو نسلی طور پر اس طرح مربوط کیا جا سکتا ہے کہ زیادہ فصل دینے والے اور زیادہ بہتر قسم کے اناج، باجرے اور دالوں کی کاشت کی جائے۔ ذہنی بونے پن (intellectual dwarfism) کا جو خطرہ ہمیں درپیش ہے، اس کا مقابلہ کرنے کا یہ سب سے کم خرچ اور فوری طور پر قابلِ عمل طریقہ ہے۔ ‘‘(اسٹیٹس مین، دہلی، 4 ستمبر 1967)
ڈاکٹر سوامی ناتھن کے مذکورہ بیان کی اشاعت کے بعد مختلف اخبارات و رسائل میں اس پر تبصرے کیے گیے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس (7 ستمبر 1967) نے اپنے اداریے میں جو کچھ لکھا تھا، اس کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے:
’’انڈسٹری کی طرح زراعت میں بھی ہمیشہ یہ ممکن نہیں ہوتا کہ ایک متحرک پالیسی کے نتائج کا شروع ہی میں اندازہ کیا جا سکے۔ اس طرح جب مرکزی حکومت نے اناج کی قیمت کے سلسلے میں تائیدی پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو مشکل ہی سے یہ شبہہ کیا جا سکتا تھا کہ غلے کی بہتات کے باوجود پروٹینی فاقہ (protein hunger) کا مسئلہ سامنے آجائے گا_ جیسا کہ انڈین ایگری کلچرل ریسرچ انسٹی ٹیউট کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سوامی ناتھن نے نشاندہی کی ہے۔ زیادہ اعتماد سے ایسی صورت حال پیدا ہوگی جس سے اچھے کھاتے پیتے لوگ بھی ناقص تغذیہ (malnutrition) میں مبتلا ہو جائیں گے۔ جو لوگ پروٹینی فاقہ سے دوچار ہوں گے، جسمانی تکالیف کے علاوہ ان کے ذہنوں پر بھی اثرات پڑیں گے۔ ڈاکٹر سوامی ناتھن کے بیان کے مطابق، یہ ہوگا کہ بچوں کی ذہنی صلاحیت پوری طرح نشو ونما نہیں پائے گی۔ چوں کہ انسانی دماغ اپنے وزن کا 80 فی صد سے لے کر 90 فی صد تک چار سال کی عمر کو پہنچتے پہنچتے پورا
کرلیتا ہے، اس لیے اس کمی کے نتیجے میں ایک بڑا نقصان حالیہ برسوں ہی میں ہو چکا ہو گا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے ملک میں ذہنی بونا پن (intellectual dwarfism) وجود میں اس چیز کو دیکھتے ہوئے موجودہ زرعی پالیسی پر نظرثانی ضروری ہے۔ مگر وہ حد بندیاں (limitations) بھی بہت زیادہ ہیں جن میں حکومت کو عمل کرنا سب سے پہلے یہ کہ زرعی پیداوار کو حیوانی پروٹین میں تبدیل کرنا بے حد مہنگا ہے۔ نے اگرچہ متوازن خوراک (balanced diet) اور گوشت، انڈے اور مچھلی کے زیادہ استعمال کی ایک مہم چلائی ہے، مگر اس کے باوجود عوام اپنی غذائی عادتوں (food habits) کو بدلنے میں بہت سست ہیں۔
عمومی طور پر بھوک کا مسئلہ جانوروں کو پالنے کی مہم چلانے میں اخراجات کا مسئلہ اور لوگوں کی غذائی عادتوں (food habits) کو بدلنے کی مشکلات وہ اسباب ہیں جن کی وجہ سے حکومت کو زراعت کی بنیاد پر اپنی پالیسی بنانی پڑتی ہے۔ مگر مستقبل قریب کو دیکھتے ہوئے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت سوامی ناتھن کی وارنگ کو نظر انداز نہ کر سکے گی۔ دور رس نتائج کے اعتبار سے زرعی پالیسی کی مشکلات کو، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اقتصادیات نہیں بلکہ سائنس حل کرے گی۔ معلوم ہوا ہے کہ اناج خاص طور پر گیہوں کو پروٹین سے مالا مال کیا جا سکتا ہے۔ کھاد جو کہ پیداوار بڑھانے کے لیے استعمال ہوتی ہے، وہ بھی گیہوں کے اندر پروٹین کے جزو کو بڑھاتی ہے۔ تاہم یہ امر مشتبہ ہے کہ صرف غلہ کی کاشت کے طریقہ میں تبدیلی اس مسئلہ کا جواب فراہم جب تک پروٹین کی اونچی اقسام رکھنے والے گیہوں دریافت نہ ہو جائیں۔ تک ایسا نہ ہو گورنمنٹ کو چاہیے کہ دالوں اور حیوانی پیداوار کی اسی طرح حوصلہ افزائی کرے جس طرح وہ اناج کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ (انڈین ایکسپریس، 7 ستمبر 1967) جیسا کہ معلوم ہے، ہندوستان کو اگلے بیس برسوں میں ایک نیا انتہائی بھیانک خطرہ درپیش ہے،
یہ خطرہ زرعی تحقیق کے ادارے کے ڈائریکٹر کے الفاظ میں ’’ذہنی بونا پن‘‘ کا خطرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری آئندہ نسلیں بظاہر جسمانی اعتبار سے دوسروں کے برابر ہوں گی، مگر ذہنی استعداد کے اعتبار سے ہم دنیا کی دوسری متمدن قوموں سے پست ہو چکے ہوں گے۔
یہ خطرہ جو ہمیں درپیش ہے، اس کی وجہ ڈاکٹر سوامی ناتھن کے الفاظ میں یہ ہے کہ ہماری غذا میں پروٹین کا جزء بہت کم ہوتا ہے، یہاں کی آبادی ایک قسم کے پروٹینی فاقہ میں مبتلا ہوتی جارہی ہے۔ پروٹین ایک غذائی جُز ہے جو انسانی جسم کی صحیح نشو نما کے لیے ضروری ہے۔ یہ پروٹین اپنی اعلیٰ ترین شکل میں گوشت سے حاصل ہوتا ہے۔ گوشت کا پروٹین نہ صرف قسم میں اعلیٰ ہوتا ہے، بلکہ وہ انتہائی وافر اور سستی مقدار میں دنیا کے اندر موجود ہے۔