Al-Risala · February 2009

That area is no-angel zone.

Al-Risala, February 2009, p. 7

By Maulana Wahiduddin Khan

اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے مشن میں جو لوگ تیار ہورہے ہیں، ان کا ذوق کیا ہے۔ چیزوں کو دیکھنے کے معاملے میں ان کا زاویۂ نظر بالکل بدل گیا ہے۔ عام لوگ چیزوں کو مادی نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اِس کے برعکس، ہمارے مشن سے وابستہ افراد چیزوں کو روحانی نقطۂ نظر سے دیکھتے وہ ہر چیز سے روحانی سبق حاصل کرتے ہیں۔

نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائر پورٹ پر ہم لوگ انتظار گاہ (lounge) میں بیٹھے ہوئے میرے دونوں ساتھی لوگوں کو دعوتی لٹریچر دے رہے تھے۔ میرے ایک ساتھی نے ایک تعلیم یافتہ خاتون کو انگریزی میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر دیا۔ یہ خاتون شمالی امریکا کے ملک پیرو (Peru) کی رہنے انھوں نے نہایت خوشی سے اس کو لیا۔ لینے کے بعد انھوں نے اپنے بیگ کے اندر سے ایک چھوٹا پرس نکالا۔ یہ پرس انڈین سکّوں سے بھرا ہوا تھا۔ مذکورہ خاتون نے میرے ساتھی کی طرف یہ سکّے بڑھاتے ہوئے کہا: لٹریچر کی کتنی قیمت دینا ہے (How much?)۔ میرے ساتھی نے کہا۔ یہ آپ کے لیے فری اسپرچول گفٹ ہے:

Printed page