Al-Risala · February 2009

This is a free spiritual gift for you.

Al-Risala, February 2009, pp. 7–26

By Maulana Wahiduddin Khan

دہلی سے قبرص کے لیے ہمارا یہ سفر ایمِرلْس (Emirates) کی فلائٹ (515 EK) کے

ایمیٹس ائرلائن نہایت معیاری ائرلائن ہے۔ اس کا کرایہ دوسرے جہازوں سے کافی زیادہ ایمیٹس ائرلائن 1985 میں شروع ہوئی۔ اس کی اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر اس کو 300 انٹرنیشنل ایوارڈ مل چکے ہیں۔ دبئی سے اس کی پروازیں دنیا کے تقریباً 100 مقامات پر جاتی ہیں۔ اب دبئی میں صرف ایمیٹس ائرلائنز کے لیے ایک مستقل ائرپورٹ بنایا جا رہا ہے۔

ہم لوگ جہاز کے اندر داخل ہوئے تو اس کے اندر تمام انتظامات شاہانہ معیار کے نظر آئے۔ دوران تمام سہولتیں اعلیٰ سطح پر موجود تھیں۔ دہلی سے دبئی کا سفر تقریباً 4 گھنٹے کا تھا۔ یہ پورا سفر جس طرح طے ہوا، وہ حدیث کے الفاظ میں ”کالملوك علی الأسرة“ کا تجربہ کرارہا تھا۔ تاہم ایک مسئلہ میرے لیے پریشانی کا باعث تھا۔ دبئی سے ہم کو لارناکا (Larnaca) کے لیے اگلی پرواز لینا تھا۔ دبئی میں یہ وقفہ 8 گھنٹے اپنے مزاج کے مطابق، میں فکرمند تھا کہ اتنا لمبا وقت ائرپورٹ پر کیسے گزرے گا۔ پر پہنچتے ہی بالکل نیا منظر سامنے آیا۔ ائرپورٹ پر میرے لیے سینسرٹی زن ہونے کی بنا پر ویل چیر موجود ائرپورٹ کا کارکن تیزی سے چلاتے ہوئے ہم کو ائرپورٹ کے لاؤنج (lounge) میں لے گیا۔ ریسپشن پر حسب قاعدہ ہماری انٹری کی گئی۔ اس کے بعد ہم تینوں لوگ لاؤنج میں داخل ہوئے۔ اگلی فلائٹ کے وقفہ انتظار کے لیے بنایا گیا یہ لاؤنج نہایت کشادہ تھا۔ وہ بالکل جدید طرز پر بنایا گیا تھا۔ اُس میں بیٹھنے اور لیٹنے کی تمام سہولتیں موجود تھیں ۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر کھانے اور پینے کے اعلیٰ انتظامات تھے۔ مختلف قسم کے مشروبات اور ہر ذوق کے کھانے وہاں افراط کے ساتھ رکھے گئے تھے۔ ہم لوگوں نے یہاں بڑھے ہوئے جذبات شکر کے ساتھ نماز پڑھی۔

یہ لاؤنج (lounge) لمبائی کی صورت میں تھا۔ اس کے دونوں طرف کی دیواروں میں نہایت شفاف قسم کے بڑے بڑے شیشے لگے ہوئے تھے۔ یہ شیشے ساؤنڈ پروف تھے۔ باہر ہوائی جہاز مسلسل پرواز کر رہے تھے اور اتر رہے تھے، لیکن ان کا شور ہم لوگوں تک نہیں پہنچتا تھا۔ ہم باہر کے مناظر بخوبی طور پر دیکھتے تھے، لیکن باہر کے شور سے ہم پوری طرح محفوظ تھے۔ یہ ایک وسیع اور صاف ستھری دنیا تھی۔ اندر کھانے پینے سے لے کر ضرورت کی تمام چیزیں اپنی اعلیٰ صورت میں موجود تھیں۔ ہم جہاں چاہیں،

بیٹھیں اور جہاں چاہیں لیں، اور اپنی پسند کے مطابق جو چاہیں کھائیں یا پئیں۔ مزید یہ کہ ٹیلی فون کے ذریعے ہم کسی بھی مقام پر کسی بھی شخص سے فوری طور پر رابطہ قائم کر سکتے تھے۔ یہ ایک عجیب تجربہ تھا۔ اس تجربہ کے دوران قرآن کی دو آیتیں یاد آئیں : وإذا رأيت ثمّ رأيت نعيماً وملکاً كبيراً (الدهر : 20) یعنی تم جہاں دیکھو گے، وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی اور: نتبوّأ من الجنة حيث نشاء (الزّمر : 74) یعنی ہم جہاں چاہیں، جنت میں مقام قرآن میں بتایا گیا ہے کہ موجود دنیا جنت کا ابتدائی تعارف ہے (البقرۃ : 25)۔ چناں چہ یہ جگہ اپنی مذکورہ خصوصیات کی بنا پر ہمارے لیے جنت کا ایک ابتدائی تعارف بن گئی۔ ہم سب کے دل سے یہ دعا نکلی کہ خدایا، ہمیں اس آیت کا مصداق بنا دے : ویدخلهم الجنّة عرفها لهم (محمد: 6) یعنی خدا اُن کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اُنھیں پہچان کرا دی ہے۔

جنت مومن کے لیے ایک معلوم چیز ہے۔ مومن اپنی بڑھی ہوئی معرفت کے ذریعے جنت کا تصوراتی ادراک کر لیتا ہے۔ وہ فطرت کے حسین مناظر میں جنت کی ابتدائی جھلکیاں دیکھ لیتا ہے۔ چھپی ہوئی جنت کا یہی گہرا ادراک ہے جو آدمی کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ قربانی کی قیمت پر اُس کا طالب اگر ایسا نہ ہو تو کوئی شخص آج کی دنیا کو قربان کر کے کل کی جنت کا طالب نہ بنے۔ دبئی کا یہ ائر پورٹ کئی منزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ اؔس کی مختلف منزلوں پر مسافروں کے لیے الگ الگ تین مسجدیں بنی ہوئی ہیں۔ ایک عورتوں کے لیے اور دو مردوں کے لیے۔ ہر مسجد ایک کشادہ کمرے پر مشتمل تھی۔ اس کے باہر کے ایک حصے میں وضو کا انتظام تھا۔ یہاں گیٹ پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے— المصلی (Prayer Room)۔ ہمارے ساتھیوں نے ان مسجدوں میں قرآن کے انگریزی ترجمے کا ایک ایک نسخہ مسافروں کے مطالعے کے لیے رکھ دیا— دبئی ائر پورٹ پر ہمارا قیام بظاہر برائے استراحت تھا، لیکن عملاً وہ ہمارے لیے دعوت کا ایک نیا میدان بن گیا۔ میرے ساتھیوں نے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اُنھیں اسلامی لٹریچر پڑھنے کے لیے دیا۔

ائر پورٹ پر اور بھی کئی قسم کے تجربات ہوئے۔ مثلاً ائر پورٹ کے ایک نوجوان کارکن سے

ملاقات ہوئی ۔ وہ انڈیا کا رہنے والا تھا۔ میرے ساتھی نے اس سے پوچھا کہ کیا آپ یہاں خوش ہیں۔ اُس نے منفی انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں نے مجھ کو یہاں ایک اور کام کے نام پر بلایا تھا اور آنے کے بعد انھوں نے مجھ کو دوسرا کام دے دیا۔ اس واقعے کو جنرلائز کیجیے تو اس میں تمام انسانوں کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ موجودہ زمانے میں ہر عورت اور مرد شکایت میں جی رہے ہیں۔ کیوں کہ ہر ایک نے اپنی توقعات (expectations) کو غیر واقعی طور پر بڑھا رکھا ہے۔ اس لیے جو کچھ اُس کو ملتا ہے، وہ اس کو اپنی توقع سے کم نظر آتا ہے۔ اس مزاج نے موجودہ زمانے کے لوگوں کو سب سے بڑی نعمت سے محروم کر رکھا ہے، اور وہ ہے شکر خداوندی کی نعمت۔ 16 نومبر 2008 کی صبح کو ساڑھے دس بجے ہم ایمرٹس ائر لائن کی اگلی فلائٹ (107-EK) میں سوار ہوئے۔ یہ جہاز دبئی سے لارنا کا (Larnaca) کے لیے جا رہا تھا۔ اس جہاز کے اندر بدستور اُسی طرح شاہانہ انتظامات تھے جس کا نمونہ ہم نے پچھلے جہاز میں دیکھا تھا۔ جہاز میں 16 نومبر کے مختلف اخبارات مطالعے کے لیے موجود تھے۔ ایک اخبار میں ایک خبر کی سرخی یہ تھی— انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی طرف سے پاکستان کو سات بلین ڈالر سے زیادہ قرض: Pak gets $ 7.6 billion loan from IMF. خبر میں بتایا گیا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارہ اس پر راضی ہو گیا ہے کہ وہ سات بلین ڈالر سے زیادہ کی رقم پاکستان کو بطور قرض دے۔ اس قرض کا مقصد پاکستان کو یہ موقع دینا ہے کہ وہ اپنے پچھلے قرضوں کو ادا کر سکے اور اس طرح مالیاتی ادائیگی کے معاملے میں وہ عہد شکن (defaulter) ملک قرار پانے سے بچ جائے: The International Monetary Fund (IMF) has "in principle" agreed to extend a credit of $7.6 billion to Pakistan to stabilize its ailing economy and help it avoid defaulting on foreign debt repayments, the government said on Saturday. "Pakistan would get $4.6 billion this month while the remaining $3 billion would be disbursed next year," Pakistan's advisor on finance Shaukat Tarin said. Tarin said the credit facility will be for two years under a standby arrangement. "The facility has been obtained to strengthen the country's foreign exchange reservoirs and it will not be utilized to bailout the stock market".

اس خبر کو پڑھ کر میں نے سوچا کہ موجودہ زمانے میں دو ملک ایسے تھے جو مذہبی نعرہ پر بنے۔ اسرائیل اور پاکستان۔ اسرائیل کا نعرہ زائن ازم تھا، اور پاکستان کا نعرہ اسلام ازم۔ مگر اقتصادی اعتبار سے دونوں کا انجام ایک ہی ہوا، وہ یہ کہ دونوں خود کفیل (self-sufficient) ملک نہ بن سکے۔ کی اقتصادیات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے—امریکہ کی مسلسل مدد، اور بیرونی ملکوں میں رہنے والے یہودیوں کا مسلسل مالی تعاون۔ عجیب بات ہے کہ پاکستان کے بھی یہی دو بنیادی اقتصادی ذرائع ہیں—امریکہ کی مسلسل مدد، اور غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کا مسلسل مالی تعاون۔ اسرائیل اور پاکستان کے اس تجربے میں بہت بڑا سبق ہے، وہ یہ کہ صرف مذہبی نعرہ کسی قوم یا کسی ملک کو ترقی یافتہ نہیں بنا سکتا۔ کسی قوم کی تعمیر میں مذہبی نظریے کا حصہ صرف پچاس فی صد ہوتا ہے، اور بقیہ پچاس فی صد کا تعلق مادی اسباب، خصوصاً اقتصادیات سے۔ اگر مادی استحکام اور اقتصادی ذرائع موجود نہ ہوں تو صرف مذہبی نعرہ کسی ملک یا قوم کو ترقی کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا۔ زندگی کا یہ اصول قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ نمبر 4 میں ارشاد ہوا ہے: ولا تؤتوا السفهاء أموالكم التي جعل الله لكم قیاماً (النساء: 5) یعنی تم نادانوں کو اپنا مال نہ دو جس کو اللہ نے تمھارے لیے قیام کا ذریعہ بنایا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اموال کو قیام کا ذریعہ (means of support) بتایا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مالیاتی یا اقتصادی ذرائع کی اہمیت زندگی میں کیا ہے۔ اس کے ذریعے کسی فرد یا قوم کو دنیا کی زندگی میں قیام اور استحکام حاصل ہوتا ہے۔ کوئی مذہبی نعرہ کسی بھی قوم کے لیے دنیوی استحکام کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ موجودہ زمانے میں اکثر مسلم ملکوں میں اسلامی ریاست کے قیام کی تحریکیں چلائی گئی ہیں۔ مگر یہ تحریکیں ہر جگہ مکمل طور پر ناکام ہوگئیں۔ کا سبب یہ تھا کہ ان ’’علم بردارانِ اسلام‘‘ کے پاس اسلام کا نعرہ تو تھا، مگر اُن کے پاس وہ مادی زمین موجود نہ تھی جس کے اوپر وہ اپنا مطلوب اسلامی قلعہ تعمیر کر سکیں۔

لاؤنج کے کاؤنٹر پر ہمارا بورڈنگ کارڈ لے لیا گیا تھا۔ جب اگلی فلائٹ کا وقت قریب آیا تو کاؤنٹر سے مائک کے ذریعے میرے نام کا اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد ائر پورٹ کا ایک آدمی وہیل چیئر

لے کر آیا۔ وہ مجھ کو وہیل چیئر پر بٹھا کر روانہ ہوا۔ میرے دونوں ساتھی میرے ہم راہ تھے۔ ہم لوگ گیٹ پر پہنچے تو وہاں مسافروں کی بھیڑ انتظار میں کھڑی ہوئی تھی۔ ایئرپورٹ کا کارکن excuse me, excuse me کہتے ہوئے آگے بڑھتا رہا۔ اس طرح اس نے تیزی سے اس بھیڑ کو پار کیا اور سب سے پہلے اس نے ہم لوگوں کو جہاز کے اندر پہنچا دیا۔ ہم لوگ جہاز کے اندر داخل ہوکر جب اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے، اس کے کچھ دیر بعد دوسرے مسافر جہاز کے اندر داخل ہوئے۔

یہ جہاز بظاہر ایک نیا جہاز تھا۔ اس کی ہر چیز نمایاں طور پر شان دار نظر آئی، اس کی سیٹیں بالکل شاہی تخت کے انداز میں بنائی گئی تھیں۔ اندر داخل ہونے کے بعد اعلیٰ قسم کے مشروبات اور ماکولات سے تواضع شروع ہوگئی۔ مجھے ذاتی طور پر ان چیزوں سے کوئی رغبت نہیں ہوتی۔ اپنے مزاج کے اعتبار سے مجھے تکلفات کے مقابلے میں سادگی زیادہ پسند ہے، لیکن اس قسم کے مواقع میرے لیے ہمیشہ جنت کا بعید تعارف بن جاتے ہیں۔ میں اس قسم کی پر راحت چیزوں کا استقبال اکثر دعاؤں اور آنسوؤں کے ساتھ کرتا ہوں، نہ کہ خوشیوں اور قہقہوں کے ساتھ۔

جہاز کے اندر ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ دمّام (سعودی عرب) میں ایک جاب کے تحت دس سال سے رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جب میں اپنے گھر میں رہتا ہوں تو خوش رہتا ہوں، لیکن دمّام پہنچتے ہی میں ذہنی الجھن میں مبتلا ہو جاتا ہوں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ تمھارے اوپر کسی نے عمل کر دیا ہے۔ میں نے جھاڑ پھونک کروائی، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مزید پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ بیوی بچوں کے ساتھ میرا کوئی مسئلہ نہیں ہے، سب میری مرضی کے مطابق ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کی یہ کیفیت صرف فرضی وہم کی بنا پر ہے۔ ایسا اکثر اُن لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے جن کو کسی وجہ سے اپنے گھر والوں سے دور رہنا پڑے۔ یہ ایک نفسیاتی حالت ہے جس کو انگریزی میں ہوم سک (homesick) کہتے ہیں۔ عربی میں اس کو ’علیل الشوق للوطن‘ کہا جاتا ہے، یعنی دوری کی بنا پر گھر کے فراق میں مبتلا۔ میں نے کہا کہ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ شعوری طور پر اس حقیقت کو جان لیں۔ اس کیفیت کو صرف ایک فرضی وہم سمجھ کر اس کو اپنے ذہن سے نکال دیں۔ یہ کام آپ کو

ابھی اور اسی وقت کرنا ہے۔ اگر آپ یہ کام ابھی اور اسی وقت نہ کریں تو پھر آپ اُس کو کبھی نہیں کر پائیں اسی طرح کے معاملات کے لیے انگریزی زبان میں یہ مثل ہے کہ ــــــ ابھی، یا پھر کبھی نہیں: Now, or never دبئی سے ہوائی جہاز روانہ ہوا تو جہاز کے اندر مسلسل یہ دکھایا جارہا تھا کہ جہاز کن ممالک کے اوپر سے گزر رہا ہے۔ مثلاً سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک، وغیرہ۔ یہ دورِ جدید کا ایک انوکھا تجربہ ہے جو ہوائی جہاز کے مسافروں کو پیش آتا ہے۔ قدیم زمانے میں اس قسم کا سفر ناممکن تھا کہ آدمی بالائی فضا میں اُڑتے ہوئے مختلف ممالک سے گزرے اور دور اپنی منزل پر پہنچ جائے۔ اس اعتبار سے ہوائی جہاز گویا ایک اُڑتا ہوا تخت (flying throne) ہے جو سوچنے والے کو خدا کی اتھاہ عظمت کے تصور سے لرزا وہ ایک طرف، خدا کی قدرت اور دوسری طرف، اپنے عجز کا لرزہ خیز تجربہ کرا تا ہے۔ لیکن یہ دیکھ کر مجھ کو تعجب ہورہا تھا کہ جہاز کے مسافر اس عظیم ربانی تجربے سے بالکل بے خبر کوئی مسافر اپنے کان میں مائکروفون لگائے ہوئے میوزک سن رہا تھا، کوئی اپنی سیٹ کے سامنے لگی ہوئی اسکرین پر فلم دیکھ رہا تھا، کوئی اپنے لیپ ٹاپ (laptop) کو کھول کر اس میں مصروف تھا، کوئی کھانے اور پینے کی چیز سے محظوظ ہورہا تھا، کوئی اپنے بچوں کو دیکھ کر ان کی محبت میں گم تھا۔ کے سمندر سے گزرتے ہوئے لوگ روحانی سیرابی سے محروم تھے۔

ایسا کیوں ہوا۔ کیا وجہ ہے کہ لوگ اُس وقت عین خداوندی کرشموں کے درمیان تھے، اِس کے باوجود کیوں اس کی حقیقت سے بے خبر ہے۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ اس قسم کا اعلیٰ تجربہ کسی کو اچانک پیش نہیں آتا۔ ایک انسان جب زمین پر ہوتا ہے، اُس وقت وہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بناتا ہے۔ اِس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ جب یہ تیار ذہن ہوائی جہاز میں سوار ہو کر زمین کی بالائی فضا میں پرواز کرے تو وہ اْس اعلیٰ کیفیت کا تجربہ کرے جس کے لیے اْس نے اپنے آپ کو پیشگی طور پر تیار کیا تھا۔ بلاشبہ ہوائی جہاز کا سفر ایک اعلیٰ ربانی تجربے کا ذریعہ ہے۔ اعلیٰ ربانی تجربہ صرف اُس انسان کے حصے میں آتا ہے جو ہوائی جہاز کی سواری سے پہلے اپنے آپ کو

ذہنی اعتبار سے اس کے لیے تیار کر چکا ہو۔ الرسالة مشن کا مقصد ایک اعتبار سے لوگوں کے اندر اسی قسم کی ذہنی استعداد پیدا کرنا ہے، نہ صرف ہوائی جہاز کے سفر میں، بلکہ زندگی کے ہر تجربے میں۔ جہاز کے اندر جو شاہرانہ انتظامات تھے، اُن میں سے ایک یہ تھا کہ سیٹ کے سامنے ایک مخصوص اسکرین لگی ہوئی تھی۔ اس اسکرین پر تین نشانات دکھائی دے رہے تھے-I, C, E۔ آئی کا مطلب انفارمیشن تھا، سی کا مطلب کمیونیکیشن ، اور ای کا مطلب انٹرٹین مینٹ۔ اسکرین پر دکھائی دینے والے ان حروف کو ٹچ کرنے سے متعلقہ معلومات سامنے آجاتی تھیں۔ مثلاً اگر آپ آئی کے حرف کو ٹچ کریں تو ایئرٹس سے متعلق انفارمیشن اسکرین پر آجاتی تھی۔ یہ انفارمیشن مختلف شعبوں کے بارے میں تھی۔ میں ایک دل چسپ آپشن اپ ورڈ (upward) اور ڈاؤن ورڈ (downward) کیمرہ تھا۔ اپ ورڈ کیمرے کے نشان کو ٹچ کریں تو جہاز کے باہر کی خلائی تصویر اسکرین پر آنے لگتی تھی۔ ڈاؤن ورڈ کے نشان کو ٹچ کرنے سے جہاز کے نیچے کی دنیا نظر آتی تھی۔ مثلاً سمندر اور پہاڑ اور صحرا، اس کے علاوہ بقیہ دو نشانات کمیونیکیشن اور انٹرٹین مینٹ کے لیے تھے۔ مثلاً فلم، گیم، اور سی کے نشان کو ٹچ کرنے پر بتایا جاتا تھا کہ آپ جہاز کے اندر بیٹھے ہوئے کسی آدمی سے کس طرح ٹیلی فون پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

اس سفر کے دوران کئی بار بریک فاسٹ اور لنچ اور ڈنر کا وقت آیا۔ ہر بار ہوائی جہاز کے عملے کی طرف سے خوب صورت چھپا ہوا مینو کارڈ (menu card) دیا جاتا تھا۔ اس میں تفصیل کے ساتھ یہ درج ہوتا تھا کہ یہاں کھانے پینے کی کیا کیا چیزیں موجود ہیں۔ اس میں طرح طرح کے ماکولات اور مشروبات درج رہتے اُس کو دیکھ کر مجھے قرآن کی یہ آیت یاد آتی تھی: ولکم فیھا ما تشتهی أنفسکم (حم السجدة : 31) یعنی اہل جنت کے لیے، جنت میں ہر وہ چیز موجود ہوگی جس کو وہ چاہیں ۔

تاہم میں نے ایک بار بھی اس مینو کارڈ کو نہیں پڑھا۔ وہ لوگ مختلف قسم کے کھانے پینے کی چیزیں لاتے تھے۔ لیکن میں اپنے مزاج کی بنا پر اُن کا استعمال نہ کر سکا۔ عام طور پر میں یہ کرتا تھا کہ براؤن بریڈ (brown bread) لے لیتا تھا اور کسی سادہ چیز سے کھا لیتا تھا، مثلاً سبزی، وغیرہ۔

پینے اور راحت کے سامان کے بارے میں میرا یہ سادہ مزاج ہمیشہ اور ہر جگہ باقی رہتا ہے۔ حدیث میں سادگی کو مومن کا مزاج بتایا گیا ہے (البذاذة من الإيمان)۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ ایمان کسی آدمی کو دنیا کی چیزوں سے اٹھا کر آخرت میں جینے والا بنا دیتا ہے۔ کے دماغ میں ہر وقت یہ خیال چھایا رہتا ہے کہ آخرت میں اُس سے ان تمام چیزوں کے بارے میں باز پرس ہونے والی ہے۔ اِس معرفت کی بنا پر اِس کا وہ حال ہو جاتا ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لو علمتم ما أعلم، لضحكتم قليلاً ولبكيتم كثيراً۔

جن لوگوں کے لیے پھانسی کا حکم سنایا جاتا ہے، اُن کے لیے یہ قانون ہے کہ پھانسی کا پھندا گلے میں ڈالنے سے پہلے اُن کی پسندیدہ غذا اُن کے سامنے پیش کی جائے۔ چناں چہ آخر وقت میں ہر مجرم کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔ لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے سامنے ان کی پسندیدہ غذا موجود ہوتی ہے، لیکن وہ اس کو کھا نہیں پاتے۔ بلاتشبیہ، یہی معاملہ سچے مومن کے ساتھ پیش آتا ہے۔ سامنے تمام لذیذ غذائیں موجود ہوں، تب بھی وہ اُن سے محظوظ نہیں ہو پاتا۔ آخرت کی باز پرس کا معاملہ اُس کے لیے قاطع لذت بن جاتا ہے۔

دبئی سے آگے کے سفر کا ایک حصہ وہ تھا جو بحرمتوسط (Mediterranean Sea) کے اوپر سے جہاز جب سمندر کے اوپر سے گزرتا ہوا تیزی سے پرواز کرتا ہے تو یہ ایک عجیب منظر ہوتا نیچے کی طرف نظر آتا ہے کہ پانی کے جہاز سمندر کے اوپر تیر رہے ہیں، اور اس کے اوپر ہوائی جہاز تیزی کے ساتھ پرواز کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک انوکھا منظر ہوتا ہے جو ماضی میں ہزاروں سال تک انسان کو دیکھنے کے لیے نہیں ملتا تھا۔ یہ منظر اتنا زیادہ انوکھا ہوتا ہے کہ وہ آدمی کو معرفت کے سمندر میں غرق کر دے۔ اُس وقت میں نے سوچا کہ کتنی عظیم قدرت والا ہوگا وہ خدا جو ایسی انوکھی دنیا کو بنائے اور ایسے انوکھے انسان کو بنائے جو فطرت کے امکانات کو واقعہ کی صورت دے سکے۔ جہاز میں شیشے کی کھڑکیاں لگی ہوئی تھیں۔ یہ کھڑکیاں ہمارے لیے معرفت کی کھڑکیاں بن گئیں۔ ہر منظر ہمارے لیے خدا کی عظمت کے نشان میں ڈھل گیا۔ جہاز کے اندر کی دنیا ہمارے لیے شکر کا ماحول فراہم

کر رہی تھی اور جہاز کے باہر کی دنیا، خدا کے اتھاہ جمال و جلال کا مشاہدہ کرارہی تھی۔ ایک صاحب نے پوچھا کہ خدا سے محبت کیسے کی جائے۔ میں نے کہا کہ یہ بے خبری کا سوال آپ دنیا میں آنکھ کھول کر رہنا سیکھیے تو ہر چیز آپ کو خدائی عطیہ کی صورت میں نظر آنے لگے گی۔ ہر چیز میں آپ خدا کی رحمت (blessings) کو دیکھنے لگیں گے۔ ساری دنیا انعاماتِ الہیٰ کا ایک عظیم باغ بن جائے گی اور خدا آپ کو ایک منعمِ حقیقی کی صورت میں نظر آنے لگے گا۔ جب ایسا ہوگا تو آپ دیکھیں گے کہ خدا کی محبت آپ کے دل میں ایک طوفان بن کر داخل ہوگئی ہے۔

تقریباً چار گھنٹے کی پرواز کے بعد پائلٹ نے اعلان کیا کہ ہمارا جہاز جلد لارنا کا(Larnaca) کے ائرپورٹ پراترنے والا ہے۔ اس کے کچھ دیر کے بعد جہاز آہستگی کے ساتھ لارنا کا ائرپورٹ کے رن وے پر اتر کر دوڑنے لگا۔ میں نے سوچا کہ یہ کیسا عجیب واقعہ ہے کہ سیکڑوں مسافروں کو لیے ہوئے ایک طیارہ زمین سے اوپر اٹھ کر چالیس ہزار فٹ کی بلندی پر تقریباً 600 کلومیٹر کی رفتار سے اڑتے ہوئے اگلی منزل پر اتر جاتا یہ سارا معاملہ اتنا عجیب ہے کہ اس کو معجزہ سے کم کسی لفظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ میں نے سوچا کہ یہ کوئی مشین نہیں تھی، بلکہ فرشتے تھے جو ہوائی جہاز کو اڑاتے ہوئے یہاں تک لے آئے۔ یہی مطلب ہے آدم کے سامنے فرشتوں کے سجدہ کرنے کا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسی کا نام معرفت ہے۔ معرفت یہ ہے کہ بظاہر اسباب کے تحت ہونے والے واقعے کو آدمی براہ راست خدا کی طرف سے ہونے والا واقعہ سمجھے۔ ایک چیز جو بظاہر انسانی واقعہ نظر آئے، اس کا کریڈٹ وہ خداوند ذوالجلال کو دے سکے۔

لارنا کا میں جہاز کا بند دروازہ کھلا۔ ہم لوگ جہاز سے باہر آئے۔ یہ ائر پورٹ بحر متوسط کے عین کنارے واقع ہے، چناں چہ ہمارے ایک طرف ائرپورٹ کی عمارتیں تھیں اور دوسری طرف دور تک پھیلا ہوا سمندر جس کے اوپر کشتیاں اور جہاز تیرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ یہ پورا ماحول دوبارہ خدا کی رحمتوں اور قدرتوں کا ایک انوکھا منظر پیش کررہا تھا۔ مجھے قرآن کی وہ آیت یاد آئی جس میں بتایا گیا ہے کہ ”کہو کہ اگر سمندر میرے رب کے کلمات کو لکھنے کے لیے روشنائی ہو جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا، اس سے پہلے کہ میرے رب کے کلمات ختم ہوں، اگرچہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں“(الکہف: 109)۔

یہاں رن وے کے کنارے خصوصی قسم کی لکژری بس پہلے سے موجود تھی۔ ہم لوگ اُس میں داخل ہو کر اس کے اندر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد بس چلتی ہوئی ائر پورٹ کے گیٹ پر پہنچ گئی۔ بس سے اتر کر ہم لوگ باہر نکلے تو پیشگی طور پر وہاں کانفرنس کے دو نمائندے ہم کو رسیو کرنے کے لیے موجود تھے۔ اُن کو دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے خدا نے اپنے دو فرشتوں کو حکم دیا کہ تم فلاں مقام پر جاؤ۔ وہاں پر ایک عاجز بندہ سواری سے اترے گا۔ اُس کی معاونت کرکے تم اُس کو اس کی منزل پر پہنچاؤ۔ ہوائی اڈے کے اندر داخل ہوئے تو ہم لوگوں کو کچھ نہیں کرنا پڑا۔ مذکورہ دونوں صاحبان نے ائر پورٹ کی تمام ضروری کارروائیاں پوری کیں۔ ہمارے ساتھ کتابوں کے دس بڑے بڑے بنڈل اس کو بھی اُنھوں نے کنوئیز بیلٹ (conveyorbelt) سے حاصل کیا اور باہر کھڑی ہوئی کار تک پہنچایا۔ ہم لوگوں کا دعوتی کام ائر پورٹ ہی سے شروع ہو گیا۔ ہمارے ساتھیوں نے لوگوں سے مل کر اُن کو پمفلٹ اور بروشر دینا شروع کر دیا۔ لارنا کا ائر پورٹ دبئی وغیرہ کے مقابلے میں ایک چھوٹا ائر پورٹ تھا۔ لیکن وہ صاف ستھرا اور خوب صورت تھا۔ اس کی سادگی میرے ذوق کے عین مطابق تھی۔ میں ذاتی طور پر سادگی کو حسن کا اعلیٰ معیار سمجھتا ہوں ۔ میرا یہ ماننا ہے کہ: Simple is beautiful جس کانفرنس میں ہم کو بلایا گیا تھا، اس کا اہتمام روم کی ایک مسیحی تنظیم نے کیا تھا۔ ائر پورٹ پر جن دو صاحبان نے ہماری کتابوں کے بنڈل کو لے جانے میں مدد کی، وہ دونوں بھی مسیحی حضرات یہ موجودہ زمانے کا ایک عجیب ظاہر ہ ہے ۔ انٹرنیشنل کانفرنس کا اہتمام دوسرے لوگ کر رہے ہیں اور ہم کو وہ کھلا موقع دے رہے ہیں کہ ہم وہاں آنے والوں کو اسلامی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔ کامل مذہبی آزادی تاریخ میں پہلی بار آئی ہے۔ غالباً یہ اُسی معاملے کا ایک پہلو ہے جس کو قرآن میں پیشگی طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا تھا: ويكون الدين كله لله (الأنفال : 39) یہ ائر پورٹ لارنا کا شہر میں واقع ہے۔ یہاں سے ہم کو قبرص کے دوسرے شہر نکوسیا (Nicosia) نکوسیا قبرص کا دارالسلطنت ہے۔ لارنا کا سے نکوسیا کا سفر تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر تھا۔

ایئر پورٹ سے باہر نکلے تو یہاں کانفرنس کے منتظمین کی طرف سے ایک کار موجود تھی۔ یہ جدید طرز کی ایک کار تھی جس کو عام طور پر لگزری کار کہا جاتا ہے۔ لیکن میرا اپنا مزاج یہ ہے کہ مجھے کسی بھی سواری کے بجائے پیدل چلنا زیادہ پسند ہے۔ پیدل سفر میں آدمی نیچر سے براہ راست مربوط ہو کر سفر کرتا ہے، جب کہ سواری میں سفر کرنا غیر شعوری طور پر آدمی کو اس احساس میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ انسانی ساخت کی ایک مشین کے ذریعے سفر کر رہا ہے۔ چناں چہ مسافت اگر کم ہو تو مجھے پیدل سفر کرنا ہمیشہ زیادہ مرغوب ہوتا ہے۔ سڑک کے دونوں طرف پہاڑی علاقہ تھا۔ پہاڑیاں اور وادیاں دور تک پھیلی ہوئی تھیں ۔ پہاڑیاں زردی مائل سفید رنگ (cream-cloured) کی تھیں ۔ اُن پر چھوٹے چھوٹے درخت اُگے ہماری گاڑی تیزی کے ساتھ سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف پھیلے ہوئے خوب صورت مناظر حسن فطرت کا ایک نیا نمونہ دکھا رہے تھے۔ یہاں سڑک پر کاروں کا ہجوم نہیں تھا، البتہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کچھ کاریں آگے پیچھے دوڑتی ہوئی نظر آ رہی تھیں ۔ راستے میں کہیں کہیں کچھ عمارتیں سڑک کے دونوں طرف دکھائی دے رہی تھیں ۔ یہ عمارتیں زیادہ تر مارکیٹ یا شاپنگ سنٹر کے طور پر بنائی گئی تھیں ۔ کچھ رہائشی مکانات بھی نظر آئے۔ یہ مکانات سادہ اور خوب صورت تھے۔ ایک طرف دور پہاڑ پر ایک جھنڈا دکھائی دیا۔ یہ جھنڈا پہاڑ کے اوپر کندہ (engraved) ہمارے ڈرائیور مسٹر پیٹر (Peter) نے بتایا کہ یہ ترکی کا جھنڈا ہے۔ ترکوں نے 1974 میں قبرص کے مشرقی سمت میں داخل ہو کر اس کا 37 فی صد حصہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ اُس وقت سے یہ علاقہ ترکوں کے زیرِ قبضہ ہے۔ ترکوں کے اس فعل کی وجہ سے قبرص کے مسیحی لوگوں کے اندر اُن کے خلاف منفی جذبات پیدا ہو گئے۔ یہ منفی جذبات دعوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ مسلمان اگر اپنی طرف سے اس طرح کے مسائل نہ کھڑے کریں اور پر امن انداز میں دعوت کا کام کریں تو اس کے بعد معتدل ماحول میں دعوت کا نہ رکنے والا پر اس شروع ہو جائے اور خدا کے بہت سے بندے اور بندیاں اس کی ابدی رحمتوں کے سائے میں آ جائیں۔ میں نے سوچا کہ دورِ اول میں مسلمانوں کا سب سے بڑا کنسَرن یہ تھا کہ وہ لوگوں کے دلوں میں سچائی کا پیغام داخل کریں۔

زمانے میں مسلمانوں کا سب سے بڑا کنسرن یہ بن گیا کہ وہ زمین کے اوپر اپنا سیاسی جھنڈا ہلائیں۔ اُسی کا ایک نمونہ مشرقی قبرص میں دکھائی دیتا ہے۔

نکوسیا میں انٹرنیشنل ہوٹل ہلٹن (Hilton) کی دو شاخیں ہیں—— ہلٹن پارک (Hilton Park)، اور ہلٹن سائپرس (Hilton Cyprus)۔ ہم لوگوں کے قیام کا انتظام ہوٹل ہلٹن پارک میں کیا گیا تھا اور کانفرنس کی کارروائی ہلٹن سائپرس میں رکھی گئی تھی۔ ائیرپورٹ سے چل کر ہم لوگ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد ہلٹن پارک پہنچے۔ جب ہم ہوٹل کے گیٹ کے سامنے اترے تو ہم نے دیکھا کہ یہ شیشے کا گیٹ ہمیں اُس کو کھولنا نہیں پڑا۔ قریب پہنچتے ہی وہ اپنے آپ کھل گیا اور ہم اندر داخل ہو گئے۔ ایسا میرے ساتھ بار بار ہوا ہے۔ جب بھی مجھے ایسے گیٹ کا تجربہ ہوتا ہے جو قریب پہنچتے ہی اپنے آپ کھل جائے تو اُس وقت بے اختیار میرے دل سے یہ دعا نکلتی ہے— خدایا، جب میں آخرت میں پہنچوں تو وہاں بھی میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ ہو کہ جنت کے دروازے اپنے آپ میرے لیے اور میرے ساتھیوں کے لیے کھلتے چلے جائیں۔ اور بلاشبہ یہ اللہ کی رحمت سے کوئی بعید بات نہیں۔ ہوٹل پہنچتے ہی وہاں کمیونٹی آف سینٹ ایچی ڈیو کے ایک ممبر مسٹر فلپو (Philipo Sbrata) وہ ہمارے گائیڈ تھے جو آخر وقت تک ہمارے ساتھ رہے۔ وہ اٹلی کی ایک یوتی ورسٹی میں ریسرچ اسکالر یہاں کے قیام کی پوری مدت میں وہ ہمارے بہترین مددگار بنے رہے۔ ہوٹل کے کارکنوں نے ہمارا سامان اور کتابوں کے تمام بنڈل اُس کے کمرہ نمبر 343 میں پہنچا دیا۔ کانفرنس کے دوران ہمارا قیام ہوٹل کے اُسی وسیع کمرے میں تھا۔ یہیں سے ہم لٹریچر کی تقسیم کا انتظام کرتے رہے۔ ہوٹل کے جس کارکن نے ہمارا سامان ہمارے کمرے میں پہنچایا تھا، وہ رومانیہ کا باشندہ تھا۔ اُس نے مجھ سے ہاتھ ملایا اور پوچھا کہ آپ کس ملک سے آئے ہیں۔ میں نے کہا کہ انڈیا سے۔ یہ سن کر وہ بہت خوش ہو گیا۔ اُس نے کہا کہ گاندھی کے ملک سے، یہ کہہ کر اُس نے دوبارہ ہاتھ ملایا اور نہایت خوشی کا اظہار کیا۔ اس قسم کا تجربہ مجھے باہر کے ملکوں میں بار بار ہوا ہے۔ باہر کے لوگ انڈیا کو سب سے زیادہ گاندھی کے نام کے حوالے سے جانتے ہیں۔ گاندھی کا نام ساری دنیا میں ایک محترم نام بن چکا ہے۔

سبب یہ ہے کہ آج کی دنیا کے لوگ تشدد (violence) کو بہت برا سمجھتے ہیں۔ جب وہ یہ سنتے یا پڑھتے ہیں کہ مہاتما گاندھی نے اپنی پوری تحریک عدم تشدد (non-violence) کے اصول پر چلائی تو وہ بہت خوش یہ جدید دور کا مزاج ہے۔ آج کا انسان تشدد کرنے والے کے نام سے بے زاری کا اظہار اس کے مقابلے میں امن کا کام کرنے والے کے لیے وہ اپنے دل میں احترام کا جذبہ پاتا ہے۔ ہلٹن ، ہوٹلوں کی ایک انٹرنیشنل امریکی تنظیم کا نام ہے۔ یہ تنظیم 1919 میں قائم ہوئی۔ شاخیں دنیا کے 80 سے زیادہ ملکوں میں موجود ہیں۔ میں نے سوچا کہ ہلٹن ہوٹل ساری دنیا میں کامیابی کے ساتھ اپنی تنظیم چلا رہا ہے۔ لیکن مسلمانوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ مسلمان ایک ادارہ قائم کرتے ہیں اور پھر وہ اختلاف کا شکار ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہلٹن کی تنظیم عالمی طور پر مسلمہ اصول (internationally accepted norms) کے مطابق قائم کی جاتی ہے۔ وہ مروّجہ قوانین کے مطابق ہوتی ہے، جب کہ مسلمان عام طور پر شخصی تعلقات یا گھریلو انداز میں اپنا ادارہ قائم کرتے ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جس نے دونوں قسم کی تنظیموں میں انجام کے اعتبار سے فرق پیدا کر دیا ہے۔ 16 نومبر 2008 کو دوپہر کے بعد ہم لوگ ہوٹل ہلٹن پارک پہنچے تھے۔ آج ہی کے دن شام کو ساڑھے چار بجے کانفرنس کا افتتاح (opening assembly) تھا۔ یہ افتتاح یونی ورسٹی آف سائپرس کے اسپورٹ سنٹر میں کیا گیا۔ اسپورٹ سنٹر کا یہ ہال جدید طرز پر بنایا گیا تھا اور غیر معمولی طور پر وسیع اور پُرشکوہ تھا۔ کانفرنس کا یہ افتتاحی پروگرام حسب ذیل افراد کی صدارت میں کیا گیا: Françoise Rivière, Director General Adj. of UNESCO Siti Musdah Mulia, University Islam Syarif Hidayatullah, Indonesia اس افتتاحی پروگرام میں مختلف ملکوں کی اعلیٰ مذہبی اور سیاسی شخصیتوں نے خطاب کیا مثلاً: Dimitris Christofias, President of the Republic of Cyprus Chrysostomos II, Archbishop of New Justinian and All Cyprus Andrea Reccardi, Community of Sant’ Egidio Stanislaw Dziwisz, Cardinal, Archbishop of Cracow, Poland Shear-Yashuv Coheu, Chief Rabbi of Haifa, Israel

Cresenzio Sepe, Cardinal, Archbishop of Naples, Italy Muhammad Fathi Usman Institute for the Study of Islam in the Contemporary World, USA Edward Fenech-Adami, President of the Republic of Malta Bamir Topi, President of the Republic of Albania Filip Vujanovic, President of Republic Republic of Montenegro قبرص کی یہ کانفرنس امن کے موضوع پر تھی۔ اس کا مقرر عنوان حسب ذیل تھا: The Civilization of Peace, Faiths and Culture in Dialogue. اسپورٹ سنٹر کا یہ وسیع ہال سامعین سے پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ میڈیا کے لوگ بھی بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے۔ مقررین نے مختلف زبانوں میں اس موضوع پر تقریریں کیں۔ وہاں ترجمے کا لوگ ہیڈ فون کے ذریعے اپنی مطلوب زبان میں ان کی تقریریں سنتے رہے۔ میں مقامی لوگوں کے علاوہ، مختلف ملکوں اور مختلف مذہبوں کے نمائندے موجود تھے۔ افتتاحی پروگرام کا خاتمہ اس طرح ہوا کہ آخر میں چرچ آف سائپرس کے کچھ لوگ ایک مقرر مقام پر سامنے آئے۔ انھوں نے اپنی زبان میں کورس (corus) کی شکل میں کھڑے ہو کر ایک نظم پڑھی۔ اس افتتاحی پروگرام کے موقع پر ہمارے ساتھیوں نے بڑے پیمانے پر لوگوں کے درمیان دعوتی لٹریچر تقسیم کیا۔ افتتاحی پروگرام کے خصوصی مقررین اور مختلف ملکوں کے اعلیٰ عہدے داروں اور مختلف مذاہب کے نمائندوں کو ہمارے یہاں کا تیار کیا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ ہمارے ایک ساتھی نے اسپورٹ سنٹر کے گیٹ پر کھڑے ہو کر بقیہ سامعین کے درمیان انگریزی میں چھپے ہوئے خوب صورت دعوتی پمفلٹ تقسیم کیے ۔ لوگوں نے اُس کوششریے کے ساتھ لیا، اور اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ لوگ لٹریچر حاصل کر رہے تھے اور Thank you, Thank you کہتے جارہے تھے۔

سائپرس یونی ورسٹی (University of Cyprus) جہاں مذکورہ افتتاحی پروگرام ہوا، وہ قبرص کی پہلی بڑی یونی ورسٹی ہے۔ وہ 1989 میں قائم ہوئی۔ یہاں تقریباً چار ہزار طلباز زیر تعلیم ہیں۔

یہاں کی ایک مکمل یونیورسٹی (full-fledged university) ہے۔ قبرص میں اور کئی یونی ورسٹیاں ہیں، لیکن ان دوسری یونی ورسٹیوں میں ہر قسم کے تعلیمی شعبے موجود نہیں۔

یہاں جن لوگوں کو اسلامی لٹریچر دیا گیا تھا، اُن میں سے ایک شام کے مسیحی پادری یوحنا ابراہیم (Mar Gregorios Yohanna Ibrahim) تھے۔ اُن کا تعلق، آرتھوڈاکس میٹروپولیٹن، سیرین چرچ (Orthodox Metropolitan, Syrian Church) سے تھا۔ اُن کو ہال کے اندر قرآن کے انگریزی ترجمے کا ایک نسخہ دیا گیا تھا۔ پروگرام کے خاتمے پر باہر نکلتے ہوئے اُن سے دوبارہ ملاقات وہ اچھی عربی بولتے تھے۔ مولانامحمد ذکوان ندوی نے ان کو انگریزی پمفلٹ دیا۔ انھوں نے کہا کہ کیا آپ ہم کو اس ترجمہ قرآن کا ایک اور نسخہ دے سکتے ہیں۔ مولانامحمد ذکوان ندوی نے کہا کہ ضرور، مگر اس وقت میرے پاس قرآن کے سارے نسخے ختم ہو چکے ہیں۔ میں ہوٹل میں آپ کو قرآن کا ایک مزید نسخہ دے دوں گا۔ انھوں نے کہا کہ مجھے اُس پر شیخ وحید الدین کے دستخط مطلوب ہیں۔ ہوٹل پہنچنے پر اُن کو ایک اور نسخہ دیا گیا۔ انھوں نے خوشی کے ساتھ اس کو لیا۔

افتتاحی پروگرام سے فارغ ہو کر تمام شرکاء گاڑیوں کے ذریعے ہوٹل ہلٹن سائیپرس لائے گئے۔ یہاں سب کے لیے ڈنر (شام کے کھانے کا انتظام تھا۔ ہوٹل کے وسیع لان کے اندر تمام لوگ میزوں کے کنارے بیٹھ گئے۔ مختلف قسم کے اور ہر ذوق کے کھانے یہاں موجود تھے۔ تقریباً ہر شخص کچھ بول رہا تھا۔ جہاں تک میں نے اندازہ کیا، کوئی بھی شخص کا نفرنس کے متعین موضوع پر گفتگو نہیں کر رہا تھا۔ ہر آدمی ادھر اُدھر کی باتیں کر رہا تھا، اور درمیان میں بار بار قہقہے بلند ہو رہے تھے۔ اس میں عرب اور غیر عرب دونوں قسم کے لوگ تھے، لیکن موضوع گفتگو کے اعتبار سے، کسی کا کوئی استثناء تھا۔ یہی منظر میں نے تمام کا نفرنسوں میں لوگ جس موضوع کے نام پر کا نفرنس میں آتے ہیں، اُس موضوع پر وہ صرف اُس وقت بولتے ہیں جب کہ وہ اسٹیج پر بیٹھے ہوئے ہوں۔ اسٹیج کے بعد ان کی گفتگو کا موضوع ہمیشہ کچھ اور ہوتا ہے۔ یہ طریقہ کا نفرنس کے اصول کے سراسر خلاف ہے۔ منتظمین کے پروگرام کے مطابق، ہر کا نفرنس کے دو حصے ہوتے ہیں—ایک، وہ جب کہ لوگ اسٹیج پر بولنے کے لیے آتے ہیں اور دوسرا، اسٹیج کے باہر۔

کانفرنس کے اصول کے مطابق یہ ہونا چاہیئے کہ آنے والے لوگ دونوں صورتوں میں کانفرنس کے موضوع پر بات کریں۔ اسٹیج پر وہ بحث موضوع پر تقریر کریں۔ اور اسٹیج کے باہر وہ اُس موضوع پر آپس میں ڈسکشن کریں۔ مگر میرے تجربے کے مطابق، کسی کانفرنس میں ایسا نہیں ہوتا۔ البتہ وہ کانفرنسیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو کسی تکنیکل موضوع پر کی گئی ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آنے والے لوگ نہ دوسروں کو کوئی مثبت چیز دے پاتے ہیں اور نہ خود کوئی مثبت چیز لے کر وہاں سے لوٹتے ہیں۔ شام کے کھانے سے فراغت کے بعد لوگوں کو دوبارہ ان کی قیام گاہوں پر پہنچا دیا گیا۔ لوگ عام طور پر بسوں کے ذریعے واپس بھیجے گئے۔ لیکن منتظمین نے ہمارے لیے خصوصی طور پر ایک بڑی کار کا انتظام کیا تھا۔ یہ کار ہمارے لیے مخصوص تھی ۔ جب تک ہم وہاں رہے، اِس کار کے ذریعے ہم سفر کرتے رہے۔ کھانے سے فارغ ہو کر ہم لوگ ہوٹل ہلٹن پارک میں آگئے، جہاں ہمارے لیے قیام کا انتظام تھا۔

اس وقت دنیا میں اقوام متحدہ کی ممبر شپ کے مطابق ، ممالک کی تعداد 192 ہے۔ اس کے علاوہ ہیں جو اقوام متحدہ کے باقاعدہ ممبر نہیں ہیں۔ قبرص کی کانفرنس میں تقریباً ایک سو ملکوں کے لوگ آئے ہوئے تھے۔ یہ ہر مذہب اور ہر مکتب فکر کے لوگ تھے۔ ان میں عالمی سطح کی بڑی بڑی شخصیات بھی شامل تھیں۔ یہ لوگ مختلف قسم کے علمی اور مذہبی اور سیاسی میدانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر عجیب بات ہے کہ اُن میں سے کسی کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا، نہ مسلمانوں کے پاس اور نہ دوسرے مذہب کے لوگوں کے پاس ، حتیٰ کہ ان کی تقریریں بھی کنفیوژن سے بھری ہوئی ہوتی تھیں ۔ اس سے سننے والوں کو کوئی پیغام نہیں ملتا تھا۔ اس بھری ہوئی کانفرنس میں صرف ہم لوگوں کا معاملہ استثنائی معاملہ تھا۔ ہم لوگوں کے پاس اسلامی لٹریچر کا ایک بڑا ذخیرہ تھا۔ میرے ساتھی دیوانوں کی طرح اس لٹریچر کو لوگوں تک پہنچانے میں سرگرم تھے۔

ایسا کیوں ہوا کہ لوگوں کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے کچھ نہ تھا ۔ غور کرنے کے بعد سمجھ میں آتا ہے کہ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ کسی کے لیے دوسرے لوگ اُس کا کَنْسَرن

کسی کو دوسروں سے نہ محبت ہے اور نہ خیر خواہی ۔ ہر ایک کسی نہ کسی بات کو لے کر دوسروں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہے ، مسلمان بھی اور دوسرے مذہب کے لوگ بھی ۔ عام انسان سے محبت آج عنقا کی طرح معدوم ہو چکی ہے ۔ نفرت کی اسی عام فضا کا نتیجہ ہے کہ کوئی شخص دوسروں کے بارے میں خالص خیر خواہانہ انداز میں نہیں سوچتا ، اور نہ کسی کے پاس خیر خواہی کا کوئی تحفہ ہے جس کو وہ دوسروں کو دینے کے لیے بے چین ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کے اندر یہ جرات موجود نہیں کہ وہ دوسرے انسانوں کو سچائی کا پیغام پہنچائیں ۔ اس قسم کی پیغام رسانی کے لیے جرات درکار ہے ۔ جہاں محبت نہ ہو، وہاں یقیناً جرات بھی موجود نہ ہوگی۔

جہاں تک مسلمانوں کا معاملہ ہے ، میں اپنے طویل تجربے کی بنا پر کہہ سکتا ہوں کہ الرسالہ مشن سے وابستہ لوگوں کے سوا، ساری دنیا میں میں نے کوئی شخص نہیں پایا جو حقیقی معنوں میں انسان سے محبت کرتا ہو ۔ ہر مسلم عورت اور ہر مسلم مرد کسی نہ کسی بات کو لے کر عام انسان کے خلاف نفرت میں جی رہے ہیں ۔ بعض لوگ بظاہر اچھی اچھی باتیں کرتے ہوئے دکھائی دیں گے ، لیکن اگر گہرائی کے ساتھ اُن کی اسکروٹنی (scrutiny) کی جائے تو معلوم ہوگا کہ وہ بھی دوسروں کے خلاف اپنے اندر نفرتیں لیے ہوئے ہیں ۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں ۔ اس کی ذمے داری براہِ راست طور پر موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلم رہ نماؤں پر آتی ہے ۔ موجودہ زمانے میں جب ”مغربی استعمار کا دور آیا تو تمام مسلم حکومتیں اس کی زد میں آگئیں ۔ اسی طرح مسلم قو میں عمومی طور پر مغربی تہذیب کا شکار ہوئیں ۔ اس واقعے کے بعد تمام مسلم رہ نما ساری دنیا میں منفی نعرے لے کر کھڑے ہو گئے ۔ انھوں نے مغربی قوموں کو دشمن کے روپ میں پیش کیا ۔ یہ ایک معکوس رہ نمائی تھی ۔ جن مغربی قوموں کو ہمارے رہ نما دشمن بتا رہے تھے ، وہ سب ہمارے لیے مدعو کا درجہ رکھتی تھیں ۔ ان قوموں کے اوپر ہمیں خیر خواہانہ دعوت کا عمل کرنا تھا ، نہ کہ اُن کو دشمن قرار دے کر اُن کے خلاف نفرت کی مہم چلانا ۔ مسلم رہ نماؤں کی اسی معکوس رہ نمائی کا یہ براہِ راست نتیجہ تھا کہ تمام دنیا کے مسلمان دوسری قوموں کے خلاف نفرت میں مبتلا ہو گئے ۔ ایک انوکھی بات یہ تھی کہ اس کانفرنس میں میرے ساتھی کھلے طور پر اسلامی لٹریچر لوگوں کو دے

وہ قرآن کا انگریزی ترجمہ لوگوں کو پہنچارہے تھے،لیکن یہاں کوئی اُنھیں روکنے والا نہ تھا۔ یہ دعوتی کام یہاں مکمل آزادی کے ماحول میں ہو رہا تھا، حتیٰ کہ کانفرنس کے لوگ حسب ضرورت ہمارے تعاون کے لیے تیار رہتے تھے۔ عجیب تر بات یہ ہے کہ اس قسم کا تجربہ مسلم جماعتوں اور مسلم اداروں میں پیش نہیں آتا۔ معروف مسلم جماعتیں اور مسلم ادارے بھی بار بار اپنے اجتماعات کرتے ہیں۔ لیکن یہ عام تجربہ ہے کہ ہمارے لوگ اگر وہاں اسلامی مرکز کی چھپی ہوئی مطبوعات لے کر جائیں تو اُن کو وہاں یہ موقع نہیں دیا جاتا کہ وہ کھلے طور پر ان کتابوں کو تقسیم کریں۔ موجودہ زمانہ مذہبی آزادی کا زمانہ ہے، لیکن نام نہاد مسلم جماعتوں اور اداروں کے درمیان آزادی کا یہ دور ابھی تک نہیں آیا۔ قبرص کی کانفرنس صحیح معنوں میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ اس میں ہر مذہب کے لوگ اور تقریباً ہر ملک کے لوگ شریک ہوئے۔ ہم لوگوں کے پاس اسلامی لٹریچر چھپا ہوا کافی تعداد میں موجود ہمارے ساتھی تین دن تک کتاب اور پمفلٹ اور برو شر دیوانہ وار لوگوں کے درمیان تقسیم کرتے اس میں سب سے بڑا آئٹم ہمارے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا نیا انگریزی ترجمہ تھا۔ کی خصوصیت یہ ہے کہ دوسرے انگریزی ترجموں کے مقابلے میں، اس میں وضوح (clarity) بہت اس میں قاری کو کوئی کنفیوژن محسوس نہیں ہوتا۔ لوگوں نے بہت شوق کے ساتھ اس کو لیا۔ مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو پہلی بار معلوم ہوا کہ یہاں ہم حقیقی معنوں میں انٹرنیشنل دعوہ ورک کر رہے ہیں، ليكون للعالمين نذيراً (الفرقان: 1) کی خبر یہاں واقعۃً بنی ہوئی نظر آئی۔ یہ انٹرنیشنل دعوہ ورک کوئی سادہ بات نہ تھی۔ یہ اُس تاریخی انقلاب کی بنا پر ممکن ہوا جو موجودہ زمانے میں پہلی بار ظہور میں آیا ہے۔ اس انقلاب کے اجزا ہیں— گلوبل انٹریشن، کمیونیکیشن، پرنٹنگ پریس، مذہبی آزادی، عالمی سطح پر اُس انقلابی ذہن کا پیدا ہونا جس کو اسپُرٹ آف انکوائری کہا جاتا ہے، وغیرہ۔ میرے لیے اور میرے ساتھیوں کے لیے انٹرنیشنل انٹریشن بھی تھا اور انٹرنیشنل دعوہ ورک بھی۔ 17 نومبر 2008 سے کانفرنس کے دوسرے حصے کا آغاز ہوا۔ اب شرکاء کانفرنس کے 22 پینل (panel) بنائے گئے۔ ہر پینل کا الگ الگ موضوع تھا اور ہر ایک کے لیے الگ الگ ہال مخصوص کیا گیا تھا۔

سامعین کو اختیار تھا کہ وہ اپنے ذوق کے مطابق، جس پینل میں چاہیں شریک ہوں۔ مثال کے طور پر فلسطین کے ایشو پر بھی ایک پینل بنایا گیا تھا۔ اس پینل کے مقررین میں عرب بھی شامل تھے اور اسرائیلی بھی۔ ان میں سے دو خاص مقررین کے نام یہ ہیں:

Salah A. Zuheika, Deputy Minister of Religious Affairs, Palestine David Rosen, Grand Rabbi, President of the IJIC, Israel اس پینل میں دونوں جانب سے پر جوش تقریریں ہوئیں۔ عرب مقرر نے اسرائیل کو فلسطینی المیہ کا ذمہ دار بتایا۔ اور اسرائیلی مقرر نے عربوں کو سارے معاملے کا ذمے دار ٹھہرایا۔ یہ ڈسکشن کسی مثبت نتیجے تک پہنچے بغیر ختم ہوگیا۔ ہمارے ساتھیوں نے اس موقع پر اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ لوگوں کو دیا۔ یہاں انھوں نے راقم الحروف کا تیار کیا ہوا 15 صفحات کا ایک پمفلٹ بھی تقسیم کیا جس کا ٹائٹل یہ تھا: How to Establish Peace in the Holy Land— Ten Point Program یہ پمفلٹ ہمارے ویب سائٹ (www.cpsglobal.org) پر بھی دستیاب ہے۔

17 نومبر 2008 کی صبح کو راقم الحروف کا پروگرام تھا۔ مجھے پینل نمبر 6 میں بولنے کا موقع دیا اس پینل کی کارروائی ہلٹن سائپرس کے ہال (Achera) میں منعقد ہوئی۔ اس پینل کے چیئر پرسن ناروے (اسکینڈی نیویا) کے بشپ (Ole Chr. M. Kvarme) کو بنایا گیا تھا۔ اس پینل میں میرے سوا چار اور مقرر تھے۔ اس پینل کا موضوع یہ تھا:

Printed page