Al-Risala · December 2009

خاتمہ

Al-Risala, December 2009, pp. 37–45

By Maulana Wahiduddin Khan

ہسٹری آف تھات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ افکار کے اعتبار سے انسانی تاریخ کے دو دور ہیں۔ قبل سائنس دور (pre-scientific era) اور دوسرا، بعد سائنس دور (post-scientific era)۔ قبل سائنس دور میں لوگوں کو اشیا کی حقیقت معلوم نہ تھی، اس لیے محض قیاس آرائی کے تحت چیزوں کے بارے میں رائے قائم کر لی گئی۔ اس لیے قبل سائنس دور کو تو ہماتی دور (age of superstition) کہا جاتا ہے۔ مذکورہ اعتراض دراصل اسی قدیم دور کی ایک یادگار ہے۔ یہ اعتراض دراصل توہماتی افکار کی کنڈیشننگ کے تحت پیدا ہوا، جو روایتی طور پر اب تک چلا جارہا ہے۔

قدیم توہماتی دور میں بہت سے ایسے خیالات رائج ہو گئے جو حقیقت کے اعتبار سے بے بنیاد سائنسی دور آنے کے بعد ان خیالات کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ مثلاً شمسی نظام کے بارے میں قدیم جیوسنٹرک (geocentric) تھیوری ختم ہوگئی اور اس کی جگہ ہیلیوسنٹرک (heliocentric) تھیوری اسی طرح ماڈرن کیمسٹری کے ظہور کے بعد قدیم الکیمی ختم ہوگئی۔ اسی طرح ماڈرن ایسٹرانمی کے ظہور کے بعد قدیم اسٹرالوجی (astrology) کا خاتمہ ہو گیا، وغیرہ۔ مذکورہ اعتراض بھی اسی نوعیت کا ایک اعتراض ہے، اور اب یقینی طور پر اس کا خاتمہ ہوجانا چاہیے۔

گلیلیو سترہویں صدی عیسوی کا اٹلیین سائنٹسٹ تھا۔ اس نے قدیم ٹالمی کے نظریے سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہا کہ زمین شمسی نظام کے سنٹر میں نہیں ہے ، بلکہ زمین ایک سیارہ ہے جو سورج کے گرد مسلسل گھوم رہا ہے۔ یہ نظریہ مسیحی چرچ کے عقیدہ کے خلاف تھا۔ اس وقت مسیحی چرچ کو پورے یورپ میں غلبہ حاصل تھا۔ چناں چہ مسیحی عدالت (inquisition) میں گلیلیو کو بلایا گیا اور سماعت کرنے کے بعد اس کو سخت سزا دی گئی۔ بعد کو اس کی سزا میں تخفیف کرکے اس کو اپنے گھر میں نظر بند (house arrest) کر دیا گیا۔ گلیلیو اسی حال میں 8 سال تک رہا، یہاں تک کہ 1642ء میں وہ اندھا ہو کر مر گیا۔

اس واقعہ کے تقریباً 400 سال بعد مسیحی چرچ نے اپنے عقیدہ پر نظرثانی کی۔ اس کو محسوس ہوا کہ گلیلیو کا نظریہ صحیح تھا، اور مسیحی چرچ کا عقیدہ غلط تھا۔ اس کے بعد مسیحی چرچ نے سائنٹفک کمیونٹی سے معافی مانگی اور اپنی غلطی کا اعلان کر دیا۔ یہی کام ان لوگوں کو کرنا چاہیے جو غلو آمیز ویجیٹیریئن ازم (extremist vegetarianism) کے وکیل بنے ہوئے ہیں۔ یہ نظریہ اب سائنسی تحقیقات کے نتیجہ میں غلط ثابت ہو چکا ہے۔ اب ان حضرات کو چاہیے کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے سابق نظریہ سے رجوع کر لیں، ورنہ ان کے بارے میں کہا جائے گا کہ وہ سائنسی دور میں بھی توہم پرست (superstitious) بنے ہوئے ہیں۔

سوال و جواب ماہ نامہ الرسالہ، اکتوبر 2009 میں "فلسطین کا مسئلہ" کے عنوان سے لکھے گئے مضمون کو غور کے ساتھ پڑھا۔ اس میں فلسطین کی تاریخ کو بہت ہی اچھے اور معلوماتی انداز میں سلسلے وار بیان کیا گیا ہے جو قارئین کو قیمتی معلومات کے ساتھ ساتھ حقیقت سے آگاہ کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس مضمون کو پڑھ کر بہت سی غلط فہمیاں دور ہوئیں۔ یہاں حسب ذیل سوالوں کا جواب مطلوب ہے : 1 - مسجد اقصی کے کیمپس میں صخرہ ایک چوکور چٹان ہے۔ اسی چٹان کو یہودی اپنے لئے مقدس سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہی وہ صخرہ ہے جس پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے اسحاق کی قربانی پیش کی تھی۔ اسلامی تاریخ میں اس قربانی کا مقام منی بتایا گیا ہے۔ یہودیوں کے اس عقیدہ اور تاریخ کی بنیاد کیا ہے۔ کیا تو رات میں اس کا ذکر موجود ہے۔

2- مسجد اقصی کو آپ نے یروشلم کی یہودی عبادت گاہ (ہیکل) بتایا ہے۔ قرآن میں مسجد اقصی کا ذکر ہے جس کے معنی آپ نے دور کی مسجد (farthest place of worship) کے بتائے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کون سا مقام یا مسجد ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کے موقع پر انبیاء سابقین کو امامت کے ساتھ نماز پڑھائی تھی۔

3- مسجد اقصی میں نماز ادا کرنے پر، اور مسجدوں کے مقابلے میں 25 ہزار، مسجد نبوی میں 50 ہزار اور مسجد حرام میں ایک لاکھ درجہ ثواب بتایا جاتا ہے۔ اس مسجد اقصی سے کیا مراد ہے۔ (ابرار حسین قریشی، مدھیہ پردیش)

1- یہ ایک عقیدے کی بات ہے، نہ کہ تاریخ کی۔ مسلمان، حضرت اسماعیل کو ذبیح مانتے ہیں اور منیٰ (مکہ) کو قربانی کا مقام قرار دیتے ہیں۔ اس کے برعکس یہود، حضرت اسحاق کو ذبیح مانتے ہیں اور صخرہ (یروشلم) کو اس قربانی کا مقام قرار دیتے ہیں۔ حضرت اسحاق کے ذبیح ہونے کا ذکر یہود کے

مقدس صحیفہ تو رات کی کتاب پیدائش (Genesis) کے باب 22 میں موجود ہے۔

2- پیغمبر آخر الزماں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب (صلی اللہ علیہ وسلم) کی امامت میں انبیاء سابقین کی نماز کا ذکر حدیث میں آیا ہے (صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب ذکر المسيح، رقم الحدیث : 278) یہ واقعہ غالباً 621 عیسوی میں پیش آیا۔ تاریخی شواہد کے مطابق ، اُس وقت وہاں مسجد اقصی کی موجودہ عمارت موجود نہ تھی۔ اُس وقت یہ مقام کھنڈر کی صورت میں تھا۔ اِس لیے یہ ماننا ہوگا کہ یہ نماز مسجد اقصی کی سائٹ (site) پر ہوئی ، نہ کہ مسقف عمارت کے اندر۔ 3- قرآن میں مسجد اقصی سے مراد مسجد کی سائٹ (site) ہے۔ حدیث میں جس اقصی کا ذکر ہے، وہ حال کے اعتبار سے سائٹ کے معنی میں ہے اور مستقبل کے اعتبار سے مسقف مسجد کے معنی میں۔ جہاں تک نماز کی فضیلت کی بات ہے، اس کا تعلق مجرد طور پر صرف مقامات سے نہیں ہے، بلکہ ان مقامات کی تاریخی حیثیت سے ہے۔ مسجد حرام کی اہمیت یہ ہے کہ اس سے حضرت ابراہیم کی تاریخ جب کوئی شخص مکہ جا کر مسجد حرام میں نماز ادا کرتا ہے تو اس کو اس ابراہیمی تاریخ کی یاد آتی اس بنا پر اس کی نماز میں غیر معمولی کیفیات پیدا ہو جاتی ہیں۔ انھیں بڑھی ہوئی کیفیات کی بنا پر مسجد حرام میں نماز کی اہمیت ہے، نہ کہ صرف درود دیوار کے اعتبار سے۔

اِسی طرح مسجد نبوی سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ وابستہ ہے۔ وہاں جب آدمی نماز، پڑھتا ہے تو اس تاریخ کی یاد آدمی کے اندر غیر معمولی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ انھیں کیفیات کی بنا پر مسجد نبوی کی نماز دوسری مساجد کی نماز سے بہت زیادہ مختلف ہو جاتی ہے۔ اِسی طرح مسجد اقصی سے اسرائیلی پیغمبروں کی تاریخ وابستہ ہے۔ جب کوئی شخص مسجد اقصی میں نماز ادا کرتا ہے تو اس تاریخ کی یاد اس کے اندر خصوصی کیفیات پیدا کر دیتی ہے۔ اس طرح یہاں ادا کی ہوئی نماز دوسری مساجدوں کی نماز سے مختلف ہو جاتی ہے۔

موجودہ زمانے میں عرب علماء نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ جب تک مسجد اقصی پر یہود کا قبضہ باقی ہے، اُس وقت تک باہر کے مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ سفر کر کے وہاں جائیں اور مسجد اقصی میں

نماز ادا کریں ۔ یہ فتویٰ بالکل بے بنیاد ہے ، اس فتوے کی کوئی شرعی اہمیت نہیں ۔ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یروشلم کا سفر کیا اور وہاں نماز ادا کی ، اُس وقت یہ جگہ رومیوں کے قبضے میں تھی۔ اگر رومیوں کے قبضہ کے باوجود مسجد اقصیٰ کے مقام پر نماز پڑھنا جائز تھا تو یہود کے ’’ قبضہ‘‘ کے وقت وہاں نماز ادا کرنا کیوں نا جائز ہو جائے گا ۔ اس قسم کے فتوے بلا شبہ سیاسی فتوے ہیں ، نہ کہ شرعی فتوے ۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ افواہ پھیلی ہوئی ہے کہ اسرائیلی فوجی مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ کے اندر جانے نہیں دیتے ، وہ مسلمانوں کو اس عظیم سعادت سے محروم کئے ہوئے ہیں کہ وہ مسجد اقصیٰ میں جا کر نماز ادا کریں ۔ یہ بلا شبہ ایک خلاف واقعہ بات ہے۔ مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے لیے نماز ادا کرنے پر اسرائیل کی طرف سے کوئی پابندی نہیں۔ اگر پابندی ہے تو وہ سیاسی مظاہرہ کرنے پر ہے، نہ کہ وہاں نماز ادا کرنے پر ۔ جو لوگ اس قسم کی بے بنیاد باتیں کہیں ، اُنھیں سوچنا چاہیے کہ کہیں وہ خدا کے یہاں مقعدِ صدق ( القمر : 55) پر جگہ پانے سے محروم نہ ہو جائیں ، اور بلاشبہ اس سے بڑی کوئی محرومی یہ ایک حقیقت ہے کہ آخرت کی دنیا میں صداقت کے مقام پر کھڑے ہونے کی سعادت صرف انھیں لوگوں کو ملے گی جنھوں نے اس دنیا کی زندگی میں صداقت پر کھڑے ہونے کا ثبوت دیا ہو۔ الرسالہ نے میری زندگی بالکل بدل دی ہے ۔ میں نے الرسالہ کے مختلف مضامین کا کئی بار الرسالہ کے ذریعے مجھے زندگی کا ایک راستہ ملا ، اور یہ راستہ ان شاء اللہ جنت الفردوس تک جا کر ختم ہو گا ۔ آپ کے مضامین میں ایک لفظ نے مجھے برابر سوچنے پر مجبور کیا ہے ، وہ لفظ ہے ـــ آپ اس لفظ کا استعمال الرسالہ میں اکثر کرتے ہیں ۔ کیا اعراض پر آپ کی کوئی مکمل کتاب بھی اگر ہاں ، تو نام ضرور بتائیں ( فاروق عبد اللہ ، چمپارن ، بہار )

اعراض (avoidance) کی اہمیت کو سمجھنے میں اکثر لوگوں کو دقت پیش آتی ہے۔ اس کا سبب

یہ ہے کہ وہ اپنے غلط تصور کی بنا پر اعراض کو پسپائی کا ایک فعل سمجھتے ہیں، حالاں کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اعراض ایک عبادت ہے۔ اعراض کرتے ہوئے اگر آدمی کو یہ احساس ہو کہ وہ عبادت کا ایک فعل کر رہا ہے تو وہ اعراض کی پالیسی کو اطمینانِ قلب کے ساتھ قبول کرے گا۔ وہ کبھی اُس کے بارے میں کنفیوزن (confusion) کا شکار نہ ہوگا۔

اعراض کیا ہے۔ اعراض خدا کے فیصلے پر راضی ہونے کا دوسرا نام ہے۔ خدا نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر ایک کو کامل آزادی حاصل ہے۔ کیوں کہ اس دنیا میں انسان ٹسٹ (امتحان) کے لیے رکھا گیا ہے، اور آزادی کے بغیر کسی کا ٹسٹ نہیں لیا جا سکتا۔ اسی آزادی کی بنا پر وہ مسائل پیدا ہوئے ہیں جن میں اعراض کا حکم دیا گیا ہے۔ آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے، کوئی شخص اپنی بے جاروش سے ایسے اسباب پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں لوگ بھڑک اٹھیں، کوئی شخص نفرت اور تشدد کی بولی بول کر دوسروں کو بھی نفرت اور تشدد میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہی وہ مواقع ہیں جہاں اعراض کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اعراض دراصل یہ ہے کہ نا خوش گوار حالات میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچایا جائے، ناخوش گواریوں کے باوجود اپنے آپ کو اعتدال کی حالت پر قائم رکھا جائے۔

اعراض کی یہ روش اس لیے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو منفی راہوں میں بھٹک جانے سے بچایا جائے، اور اپنے آپ کو ہر حال میں مثبت عمل پر قائم رکھا جائے۔

اعراض کا طریقہ اختیار کرنے میں مشکل پیش آنے کی وجہ یہ ہے کہ کسی آدمی کے سامنے جب اس طرح کی صورتِ حال آتی ہے تو وہ اس کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے جوڑ کر دیکھ نہیں پاتا۔ وہ پیدا شدہ مسئلے کو صرف ایک انسان کا پیدا کردہ مسئلہ سمجھتا ہے، اس بنا پر وہ اُس انسان کے خلاف منفی ذہن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر آدمی یہ سوچے کہ یہ مسئلہ خدا کی دی ہوئی آزادی کی بنا پر پیش آیا ہے تو فوراً اس کا ذہن معتدل ہو جائے گا۔ جس مسئلے کو وہ پہلے ایک انسان کا پیدا کردہ مسئلہ سمجھ رہا تھا، اس کو معلوم ہوگا کہ وہ خود خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق پیش آنے والا ایک مسئلہ ہے، وہ سادہ طور پر صرف کسی انسان کا پیدا کردہ مسئلہ نہیں۔

جامعه ملیه اسلامیه (نئی دہلی) میں یکم تا 9 اگست 2009 ایک بک فئر لگایا گیا۔ اس میں گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) نے بھی اپنا اسٹال لگایا۔ اس اسٹال پر کافی وزٹرز آئے۔ یہاں بڑی تعداد میں لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (نئی دہلی) نے 16 ستمبر 2009 کو اپنے دفتر واقع بہادر شاہ ظفر مارگ میں اسلام اور ہندوازم کے موضوع پر ایک ڈائلاگ کا انتظام کیا۔ اسلام کی نمائندگی صدر اسلامی مرکز نے کی اور ہندوازم کی نمائندگی شری شری روی شنکر نے کی۔ یہ ڈائلاگ ویڈیو کانفرنسنگ کی صورت میں ہوا۔ صدر اسلامی مرکز ٹائمز آف انڈیا کے آفس (نئی دہلی) میں تھے، اور شری شری روی شنکر بنگلور سے بول رہے تھے۔ اس ڈائلاگ میں دونوں نے حسب ذیل موضوعات پر اپنے اپنے مذہب کی نمائندگی کی۔ جہاد اور کرو ک شیتیر کی مہابھارت، خدا کا تصور، اسلام اور ہندوازم میں اور ڈیلی لائف کے لیے اسلام اور ہندوازم کی تعلیمات، وغیرہ۔ اخبار کے اسٹاف نے اس ڈائلاگ کا ریکارڈ تیار کیا۔ وہ ٹائمز آف انڈیا کے ایک خصوصی شمارہ (The Crest Edition 26 Sep-2 Oct, 2009, p. 31) میں شائع کیا جائے گا۔ ڈائلاگ کے بعد اسٹاف کے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔

3- سرو دھرم سنسد (نئی دہلی) کی طرف سے 17 ستمبر 2009 کوسری فورٹ آڈیٹوریم (نئی دہلی) میں ایک آل انڈیا کانفرنس ہوئی۔ یہ کانفرنس عالمی امن کے موضوع پر تھی۔ اس میں تقریباً 3 ہزار اعلی تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرات اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اپنی ٹیم کے 12 افراد کے ساتھ اس میں شرکت کی اور موضوع پر ایک سی پی ایس کی طرف سے حاضرین کو دعوتی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ 4- رمضان 1430 ہجری کے آخری جمعہ (18 ستمبر 2009) کو رسالہ مشن سے وابستہ افراد نے دہلی اور اطراف کی مسجدوں کے علاوہ یوپی، بہار اور دیگر صوبوں میں رمضان کے موضوع پر اردو میں چھپے ہوئے بروشر تقسیم رمضان کے مہینے میں سی پی ایس کی طرف سے مختلف مساجد میں تذکیر القرآن‘ پہنچایا گیا۔ خاص طور پر پٹنہ اور پهلواری شریف (بہار) کی تقریباً 100 مساجد میں وہاں کے ساتھیوں نے تذکیر القرآن پہنچایا۔ 5- شری ستیہ سائی سیوا سمیتی کی طرف سے 19 ستمبر 2009 کو روزہ اور عید الفطر کے موضوع پر نوئیڈا کے سائی سنٹر (سیکٹر (21) میں ایک پروگرام ہوا۔ صدر اسلامی مرکز کو اس میں چیف گیسٹ کے طور پر بلایا گیا تھا۔ دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے سی پی ایس کی ٹیم کے افراد کے ساتھ اس پروگرام میں شرکت کی اور روزہ و عید الفطر کے متعلق تعارفی انداز میں اسلام کی تعلیمات پر روشنی ڈالی۔ افطار کے بعد سائی سنٹر کے آشرم میں مغرب کی نماز باجماعت ادا کی گئی۔ یہاں افطار میں کچھ مقامی مسلمان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ مسلم افراد نے یہاں سے اردو لٹریچر اور تذکیر القرآن کے نسخے حاصل کئے۔ سائی سیوا سمیتی کے ذے داروں نے بڑے پیمانے پر قرآن کا انگریزی ترجمہ خرید کر اپنی لکھنؤ برانچ کو بھیجا ہے۔

سائِی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 23 ستمبر 2009 کو حسب ذیل موضوع پر ایک پروگرام ہوا: Basic Human Values in Islam اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں بنیادی اقدار انسانی کے موضوع پر ایک گھنٹہ تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال وجواب کا پروگرام ہوا۔ اس موقع پر انڈیا کے مختلف مقامات کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو پرنسپل موجود تھے۔ سی پی ایس کی طرف سے اُن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ پروگرام کے بعد ایک پرنسپل نے کھڑے ہو کر اس ترجمہ قرآن کے لیے سی پی ایس کا شکریہ ادا کیا۔ جنرل چھہر نے پرنسپل حضرات سے پرجوش طور پر کہا کہ — اس کو پڑھیے اور دوسروں تک پھیلائیے۔

بحرین کے ایگیزی بیشن سنٹر (مناما) میں 30 ستمبر تا 9 اکتوبر 2009 ایک انٹرنیشنل بک فئر لگایا گیا۔ بک فئر کو بحرین کے اخبار الایام نے اسپانسر کیا تھا۔ یہاں گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) نے بھی اپنا اسٹال لگایا۔ اس موقع پر بڑے پیمانے پر لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ میڈیا نے اس کو نمایاں طور پر کور (cover) کیا۔ سی پی ایس کی طرف سے بڑے پیمانے پر غیر مسلم حضرات تک قرآن کے انگریزی ترجمہ پہنچانے کا کام ہمارے ساتھی مختلف مذاہب کے نمائندوں اور سیاسی رہنماؤں اور دیگر عالمی شخصیات سے رابطہ کر کے انھیں قرآن پہنچارہے ہیں۔ مثلاً یکم اکتوبر 2009 کو انڈیا کے مشہور سائنٹسٹ ڈاکٹر سوامی ناتھن کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ اسی طرح نیوجرسی (امریکہ) کی خاتون ایسٹرڈ (Astrid Thoening) کوان کے سوسالہ یوم پیدائش کے موقع پر بذریعہ ڈاک انگریزی قرآن کا ایک نسخہ روانہ کیا گیا۔

نئی دہلی کے تھنکرس فورم (Thinkers' Forum on Peace and Non-Violence) کی طرف سے یکم اکتوبر 2009 کو ایک سیمنار ہوا۔ یہ سیمنار یوایس ڈی پی بلڈنگ (لودھی اسٹیٹ، نئی دہلی) کے یوایس کانفرنس ہال میں کیا گیا۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ سیمنار کا موضوع یہ تھا: Challenges to Peace and Coexistence: The Option of Non-violence انگریزی زبان میں صدر اسلامی مرکز کی آدھ گھنٹے کی تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ اس موقع پر سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کی طرف سے حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ حاضرین میں ہندو اور مسیحی مذہب سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود تھے۔ انھوں نے شکریہ کے ساتھ قرآن کے نسخے حاصل کیے۔ کئی لوگوں نے قرآن کی تین تین کاپیاں لیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ نسخے ہم اپنے ساتھیوں کو دیں گے۔

انڈین بدھسٹ سوسائٹی (ISBS) کی طرف سے کشمیر یونی ورسٹی میں 7-5 اکتوبر 2009 کو ایک کانفرنس ہوئی ۔ یہ کانفرنس امن کے موضوع پر تھی۔ اس موقع پر کشمیر کے حلقہ الرسالہ سے وابستہ افراد نے بڑے پیمانے پر حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔

-جامعہ کمیونٹی سینٹر (نئی دہلی) میں 19 اکتوبر 2009 کی شام کو نکاح کی ایک تقریب تھی۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی۔ یہاں سی پی ایس کی طرف سے حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دیا گیا۔ -12 کرزن روڈ (نئی دہلی) پر واقع مسجد کستوربا گاندھی مارگ کے احاطے میں 10 اکتوبر 2009 کو ایک تعزیتی پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام مولانا جمیل احمد الیاسی (وفات 18 اگست 2009) کے بارے میں تھا۔ میں دہلی اور اطراف کے ائمہ مساجد کے علاوہ مختلف مذاہب کے مذہبی اور سیاسی رہنما موجود تھے۔ سی پی ایس کے کچھ افراد نے اس پروگرام میں شرکت کی اور حاضرین کو مطالعے کے لیے حسب ذیل لٹریچر دیا گیا۔ سی پی ایس نے ترجمہ قرآن، پوتر قرآن (ہندی)، آخرت کا سفر، مقصد حیات، اپنی تعمیر آپ، مسلمان کی اصل حیثیت، با اصول زندگی، ستھیہ کی کھوج، ریلیٹی آف لائف۔ اس موقع پر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی کو بھی قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ -13 انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر (نئی دہلی) میں 10 اکتوبر 2009 کو ایک فنکشن ہوا۔ یہ فنکشن ویب وارتا (webvarta) کے افتتاح کے طور پر کیا گیا جو ایک آن لائن نیوز ایجنسی ہے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور ایک مختصر تقریر کی۔ سی پی ایس کے ممبروں نے اس موقع پر حاضرین کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر مطالعے کے لیے دیا۔

-14 شری مدھیہ بھارت ہندی سمتی گراؤنڈ (اندور) میں 20-12 ستمبر 2009 ایک بک فئر لگایا گیا۔ موقع پر گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) نے اپنا بک اسٹال لگایا۔ اسٹال پر بڑی تعداد میں وزٹرز (visitors) آئے۔ آنے والے لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹ اور بروشر دیا گیا۔

-15 فرینکفرٹ (جرمنی) میں 18-14 اکتوبر 2009 کے درمیان ایک انٹرنیشنل بک فئر لگایا گیا۔ پر گڈ ورڈ بکس (نئی دہلی) نے بھی اپنا اسٹال لگایا۔ یہاں دنیا بھر سے ٹریڈ کمیونٹی (trade community) کے لوگ آئے ہوئے تھے۔ بک فئر میں بڑی تعداد میں لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ لوگوں نے بہت شوق سے اس کو ایک صاحب کو قرآن کا نسخہ دیا گیا تو انھوں نے کہا:

Printed page