Prayer as a Source of Peace.
Al-Risala, February 2009, pp. 26–47
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے اپنی تقریر میں کہا کہ سب سے پہلے یہ متعین کرنا چاہیے کہ پر یئر کی تعریف کیا ہے۔ میں نے کہا کہ لغت کے مطابق، پر یئر کا مطلب _ حقیقت اعلیٰ سے روحانی ربط قائم کرنا ہے: Dictionary meaning of the ‘prayer’ is — establishing spiritual communion with the Higher Reality. اس کے بعد میں نے بتایا کہ اسلام کے تصور عبادت اور تصور روحانیت کے مطابق ، انسان کا اصل کام اپنے خالق سے ربط قائم کرنا ہے۔ اس ربط کے ذریعے آدمی کے اندر تمام اعلیٰ اوصاف پیدا ہوتے ہیں۔
تقریر کے بعد ایک امریکن پروفیسر جان پناما (John Panama) مجھ سے ملے۔ میری تقریر پر اپنی پسندیگی کا اظہار کیا۔ اُن کا تازہ چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا جس میں راقم الحروف کا ایک مفصل دیباچہ شامل ہے۔ وہ قرآن کا انگریزی ترجمہ پا کر خوش ہوئے۔ اور کہا کہ کیا مجھے آپ اس کا ایک اور نسخہ دے سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکا میں میرے ایک دوست ہیں۔ کی ڈائریکٹ پہنچ براک اوباما تک ہے۔ میں قرآن کے اس نسخے کو صدر امریکا براک اوباما تک چناں چہ انھیں اس انگریزی ترجمہ قرآن کا ایک اور نسخہ دے دیا گیا۔ انھوں نے مزید کہا کہ میں ٹیلی فون پر براک اوباما سے آپ کی بات کرانے کی کوشش کروں گا۔
ڈسکشن کے دوران یہ واقعہ پیش آیا کہ بہت سے مقامی طلبا اور طالبات ہال کے اندر داخل ہوئے۔ اُس وقت تمام سیٹیں بھر چکی تھیں ۔ چناں چہ وہ لوگ ہال کے چاروں طرف دیوار کے کنارے کھڑے ہو اُس وقت صدر جلسہ نے اعلان کیا کہ اسٹیج کے سامنے بچھے ہوئے قالین پر جگہ خالی ہے۔ ہوئے لوگ یہاں آکر بیٹھ جائیں۔ اس اعلان کے بعد تمام طلبا اور طالبات وہاں جا کر بیٹھ گئے۔ وقت مولانا محمد ذکوان ندوی لٹریچر لیے ہوئے وہاں موجود تھے۔ انھوں نے سوچا کہ ان نوجوانوں تک کس طرح دعوتی لٹریچر پہنچایا جائے ۔ انھوں نے ایک طالب علم سے اس سلسلے میں بات کی، پھر انھوں نے اُس طالب علم کو انگریزی میں چھپے ہوئے پمفلٹ (The Reality of Life) کے کچھ نسخے دیے اور مذکورہ طالب علم سے کہا کہ اس کو اپنے ساتھیوں کے درمیان تقسیم کر دیجیے۔ طالب علم نے نہایت خوشی کے ساتھ پمفلٹ کو لیا اور اپنے ساتھیوں کو مطالعے کے لیے دے دیا۔
بعد کو ہمارے ساتھی نے اُن طلبا سے دوستانہ انداز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ اس ملک میں امن کے پیام بر (ambassador of peace) ہیں۔ آپ کو لازماً یہ کام کرنا ہے کہ آپ پیس اور اسپرچولٹی کے اس لٹریچر کو دوسروں تک پہنچانے میں ہماری مدد کریں۔ اس کے بعد اُن طلبا نے ہمارے ساتھی سے لٹریچر لے لیا اور لوگوں سے مل کر نہایت جوش وخروش کے ساتھ ان کو لٹریچر دینے لگے۔ یونانی زبان میں اُن سے باتیں کر کے ہمارا دعوتی لٹریچر ان کو پہنچارہے تھے۔ یہ تمام طلبا اور طالبات مذہب
کے اعتبار سے کرچن تھے۔ اس کے باوجود انھوں نے اسلامی دعوت کے مشن میں ہمارا ساتھ دیا۔ 17 نومبر 2008 کو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ آسٹیریا (یورپ) کے ایک یہودی ربی (Ribbi) کی صدارت میں ایک پینل ڈسکشن تھا۔ ڈسکشن کے خاتمے پر انھوں نے اپنی صدارتی تقریر میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ تمام آسمانی مذاہب کے لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی مقدس کتابوں کو پڑھیں اور اُن سے رہنمائی لیں۔ انھوں نے کہا کہ میں مسلمانوں سے کہوں گا کہ اگر وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھیں تو وہی ان کی رہنمائی کے لیے کافی ہو جائے گا۔
ہمارے گائڈ مسٹر فلپو اس ڈسکشن میں موجود تھے۔ انھوں نے جب یہ بات سنی تو انھوں نے مذکورہ ربی سے ملاقات کی۔ انھوں نے کہا کہ یہاں قرآن کا ایک ایسا ترجمہ موجود ہے جس میں بہت زیادہ وضوح (clarity) ہے۔ اگر آپ مسلمانوں کے اندر صحیح اسپرٹ پیدا کرنا چاہتے ہیں تو آپ انھیں اس ترجمہ قرآن کے مطالعے کا مشورہ دیں۔ اس کے بعد مسٹر فلپو نے مذکورہ ربی سے میری اور میرے دستخط کے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ ان کو مطالعے کے لیے دیا۔ ان واقعات سے دورِ جدید کا ایک پہلو سامنے آتا ہے۔ دورِ جدید کا ایک پہلو وہ ہے جس کو کھلاپن (openness) کہا جاتا ہے۔ آج کا انسان مذہب کے معاملے میں متعصبانہ طرزِ فکر (biased thinking) کو پسند نہیں کرتا۔ آج کے انسان کا مزاج یہ ہوتا ہے کہ مذہب کے معاملے میں رواداری کا طریقہ ہونا چاہیے، نہ کہ کٹرپن کا طریقہ۔ دورِ جدید کا یہ مزاج دعوتی کام کے لیے بے حد مفید ہے۔ اگر اپنی طرف سے کوئی منفی بات نہ کی جائے تو ہر جگہ اس مزاج کو دعوتِ الی اللہ کے حق میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح 17 نومبر اور 18 نومبر 2008 کو مختلف موضوعات پر الگ الگ پینل ڈسکشن ہر ڈسکشن الگ الگ ہال میں ہوتا تھا۔ پینل ڈسکشن کے موضوعات یہ تھے : 1. Peace in the Mediterranean: Faiths, conflicts and the Challenge of Coexistence. 2. John Paul II and the Prophecy of Peace 3. Xenophobia and Philoxenia: Welcoming the Stranger 4. Has Europe's Time come? (H. C. Akamas Hall)
قبرص کی اس کانفرنس میں 17 نومبر 2008 کی شام کو ایک پینل ڈسکشن کا موضوع یہ تھا: Africa: Religions and Societies of Coexistence میرے ایک ساتھی نے اُس میں شرکت کی اور وہاں لوگوں کو اسلامی لٹریچر دیا۔ اس میں ہمارے یہاں کی مطبوعات میں سے خاص طور پر ایک کتاب (The True Jihad) بھی شامل تھی۔ نے اس کو بہت شوق سے لیا۔ ہمارے ساتھی کا بڑا بیگ جو لٹریچر سے بھرا ہوا تھا، وہ اس ہال میں خالی ہو گیا۔ بعد کو جب ہم لوگ یہاں سے شام کے کھانے کے لیے ہوٹل ہلٹن سائپرس کے وسیع ہال میں اکٹھا ہوئے تو ایک صاحب میرے ساتھی کے پاس آئے۔ انھوں نے کہا کہ آپ اکامس ہال (Akamas Hall) میں جہاد کے موضوع پر ایک کتاب لوگوں کو دے رہے تھے۔ مجھے بھی اس کا ایک نسخہ چاہیے۔ انھوں نے بتایا کہ کرسچن جہاد میں میرا دہنا ہاتھ کٹ گیا تھا، پھر انھوں نے دکھایا کہ کلائی سے لے کر انگلیوں تک ان کا پورا ہاتھ ایک مصنوعی ہاتھ ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اسلام میں جہاد کا تصور کیا ہے۔
انھوں نے یہ بات غصہ اور نفرت کے بغیر بالکل سادہ انداز میں کہی۔ اُن کا نام یہ ہے: Dr. James Morel Wuye, Interfaith Mediation Centre, Nigeria میرے ساتھیوں نے ان کو اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔
اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آج کا انسان کس طرح ہر بات کو جاننا چاہتا ہے۔ شکایتوں سے اوپر اٹھ کر سچائی کی دریافت کرنا چاہتا ہے۔ جدید دور کا یہ مزاج دعوت کے کام کے لیے بے حد مفید ہے۔ ضرورت ہے کہ اس مزاج کو آخری حد تک استعمال کیا جائے اور ساری دنیا میں سچائی کا پیغام پہنچا دیا جائے۔
قبرص کی اس تین روزہ کانفرنس کے دوران میرے ساتھیوں کا حال یہ تھا کہ وہ دن بھر وہاں کے لوگوں سے مل کر ان سے انٹریکشن کرتے اور اُن کو اسلامی لٹریچر پہنچاتے۔ دن بھر یہ لوگ دیوانوں کی طرح کام کرتے۔ شام کو جب یہ لوگ اپنی قیام گاہ پر لوٹتے تو اُن کا حال یہ ہوتا کہ وہ بالکل تھک چکے ہوتے تھے۔ ان کے ہاتھ پیر درد اور تھکاوٹ سے شل ہو چکے ہوتے اور بستر پر لیٹتے ہی اُن کو نیند آجاتی، حتیٰ کہ مجھ سے بات کرنے کی بھی انھیں فرصت نہیں تھی۔ صبح کو اٹھ کر میں اور میرے ساتھی لوگوں کی ہدایت کے لیے خدا سے دعا کرتے، اور پھر اس کی پلاننگ کرتے کہ آج کے پروگرام میں کس طرح لوگوں تک دعوتی لٹریچر پہنچایا جائے۔ اس کے بعد یہ لوگ اپنے بیگ میں لٹریچر پیک کرتے۔ کے بعد ہم لوگ اپنے کمرے سے نکل کر کانفرنس کے مقام پر پہنچ جاتے۔ یہی روزانہ کا روٹین تھا۔ ہوتے ہی لٹریچر کی پیکنگ اور پلاننگ شروع ہو جاتی۔ غالب نے اپنے زمانے کے ایک شاعر کے حال ان لفظوں میں بیان کیا ہے ـــــ ’’ہوئی صبح اور ادھر ہم کان پر رکھ کر قلم نکلے‘‘۔ میرے ساتھیوں کا حال بھی ایک لفظی فرق کے ساتھ یہی تھا: ’’ہوئی صبح اور ادھر ہم بیگ میں رکھ کر کتب‘‘ نکلے۔ قدیم زمانے کے شاعر کا یہ حال کسب معاش کے لیے ہوتا تھا۔ لیکن میرے ساتھیوں کا یہ حال اشاعت حق کے لیے تھا۔ اس معاملے کو دیکھ کر قرآن کی اس آیت کا مفہوم سمجھ میں آیا: إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طوِيلًا (المزّمّل : 7) ۔ اس تجربے سے یہ سمجھ میں آیا کہ یہاں ’’سَبْح طویل‘‘ سے مراد دعوتی سرگرمی
ہے، یعنی دعوت وتبلیغ کی مجاہدانہ مصروفیت۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ جس طرح آپ لوگ دوسرے انسانوں تک دعوتی لٹریچر پہنچانے کے لیے تیاری اور پلاننگ کرتے ہیں، صحابہ اسی طرح دعوتی مہم کے لیے تیاریاں کرتے ہوں گے۔ انسانی تاریخ پر رسول اور اصحاب رسول کا یہ عظیم ترین احسان ہے کہ انھوں نے تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ انھوں نے تاریخ میں پہلی بار قلم کو تلوار کا قائم مقام بنا اب ایک آدمی قلم کے ذریعے دعوت الی اللہ کا وہ کام بخوبی طور پر کر سکتا ہے جس کو قدیم مذہبی جبر کے دور میں صرف تلوار کے زور پر کیا جا سکتا تھا۔
کانفرنس کی وسیع دنیا میں جب ہم لوگ داخل ہوئے تو وہاں ہر طرف انسانوں کا ہجوم تھا۔ میں نے سوچا کہ کاش، میں ان تمام انسانوں کو خدا کی رحمتوں کے سائے میں پہنچا سکتا۔ کاش، میں ان تمام لوگوں کو جنت کی ابدی دنیا میں داخل کر سکتا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ ان تمام انسانوں کو ہدایت دینا میرے اختیار میں نہیں ہے۔ ایک بات میرے اختیار میں ہے۔ وہ یہ کہ میں ان لوگوں کی ہدایت کے لیے تڑپوں، میں ان کی ہدایت کے لیے دردمندانہ انداز میں دعا کروں۔ میں ان کی ہدایت کے لیے خدا کے سامنے آنسو بہاؤں۔ ان حالات میں میری زبان پر بے ساختہ دعاؤں کے کلمات جاری ہوجاتے تھے۔ اے اللہ، تو مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو توفیق دے کہ ہم اس بھٹکی ہوئی دنیا کو سچائی کا پیغام دے سکیں ۔ دعا کے وقت میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ شاید ہم لوگوں کو اسی لیے خدا یہاں لایا ہے، تاکہ ہم اُن کو دیکھیں اور درد مندی کے ساتھ اُن کی ہدایت کے لیے دعا کر سکیں۔ جو آج سے چودہ سو سال پہلے قبرص کی اسی سر زمین پر اصحاب رسول نے کی تھی۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ دعوت اور دعا دونوں ایک دوسرے کا لازمی حصہ ہیں۔ داعی جب انسانوں کی ہدایت کے لیے اٹھتا ہے تو ایک طرف اُس کو انسانوں کا سمندر دکھائی دیتا ہے۔ اُس کو محسوس ہوتا ہے کہ ان تمام عورتوں اور مردوں کے دلوں میں حق کی آواز اتارنا اُس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے، جتنا کہ ہمالیہ پہاڑ کو اپنی جگہ سے کھسکانا ۔ دوسری طرف، اس کو شدت کے ساتھ یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس عظیم کام کے مقابلے میں اُس کے پاس عجز کے سوا کوئی اور سرمایہ نہیں۔ اس دو طرفہ احساس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر مدعو کے لیے دعا کا چشمہ اہل پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعا کے بغیر دعوت نہیں، اور دعوت کے بغیر دعا نہیں۔
جس داعی کے اندر مدعو کے لیے سچی دعا نہ ہو، اس کی حیثیت صرف ایک اداکار (actor) کی ہے، جس کی کوئی حیثیت نہ انسانوں کی نظر میں ہے اور نہ خدا کی نظر میں۔
مجھے اپنی طویل زندگی میں بہت سے سفر پیش آئے ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میری زندگی سفروں میں ریکارڈ کے مطابق، صرف ہوائی جہاز کے ذریعے سفر کی تعداد تقریباً 170 تک پہنچ چکی ہے۔ مگر قبرص کا سفر میری زندگی میں ایک استثنائی سفر تھا۔ یہ ایک عجیب سفر تھا جو شروع سے آخر تک گویا کہ شاہانہ انداز میں ہوا۔ اس سے کم کسی لفظ کے ذریعے اس سفر کی نوعیت کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ میں دیکھتا تھا کہ ہر جگہ دوسرے لوگ لمبی لائن میں کھڑے ہوئے ہیں اور مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو کسی روک ٹوک کے بغیر ہر جگہ عزت کے ساتھ بہ سہولت آگے جانے کا موقع دیا جا رہا ہے، وغیرہ۔
قبرص کی کانفرنس کے لیے جب دعوت نامہ ملا تو میں وہاں جانے کے لیے تیار نہ تھا۔ کے شدید اصرار کی بنا پر مجھے اس کے لیے آمادہ ہونا پڑا۔ یہ اصرار بھی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا۔ بیرونی سفر کے لیے پہلا معاملہ ویزا (visa) کا ہوتا ہے۔ منتظمین نے نئی دہلی میں واقع قبرص کے سفارت خانے میں ایک خصوصی خط بھیج دیا۔ جس کی بنا پر ویزا حاصل کرنے کا مسئلہ استثنائی طور پر نہایت آسان سفر شروع ہوا تو جدید ترین سہولتوں کے ساتھ دو قابل اعتماد اور لائق ساتھی میرے ہم راہ تھے۔ اُن کی وجہ سے سفر کے ہر مرحلے میں ایسا ہوا کہ مجھے خود کچھ نہیں کرنا پڑا۔ سارا کام دوسرے لوگ انجام ائیرپورٹ کی رسمی کارروائی، جہاز کے اندر کے لمحات، اس کے بعد دبئی کے لاؤنج میں قیام، پھر اگلے سفر کے بعد قبرص کے ہوائی اڈے پر تعاون کے خصوصی انتظامات، اس کے بعد ہوٹل اور کانفرنس کی کارروائیوں کے درمیان خصوصی معاملات، سب کے سب اس طرح پیش آئے کہ میں نے کسی مرحلے میں خود کچھ نہیں کیا اور سب کچھ انتہائی اعلیٰ معیار پر انجام پاتا چلا گیا۔ ان تجربات سے گزرتے ہوئے بار بار مجھ کو قرآن کی وہ آیت یاد آتی رہی جس میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں کچھ لوگوں کے ساتھ یہ خصوصی معاملہ ہوگا کہ اُنھیں آسان حساب کے ذریعے جنت میں پہنچا دیا جائے گا: فسوف يحاسب حساباً يسيراً (الانشقاق: 8)۔ میں بار بار اپنے لیے
اور اپنے ساتھیوں کے لیے یہ دعا کرتا رہا کہ خدایا، ہم کو آخرت کے دن حسابِ عسیر سے بچا اور ہم سب کو حسابِ یسیر کے ساتھ جنت میں داخل کردے۔
راستے میں بار بار میں اپنے ساتھیوں سے کہتا رہا کہ یہ خصوصی اہتمام کا معاملہ جو ہمارے ساتھ پیش آرہا ہے، اس کے متعلق ہرگز یہ مت سمجھیے گا کہ یہ ہماری کسی صلاحیت کی وجہ سے ہم کو ملا ہے۔ سب یک طرفہ طور پر صرف خدا کی رحمت کے نتیجے میں ہو رہا ہے۔ مزید یہ کہ یہ بات گہرے قلبی احساس کے تحت ہونا چاہیے، نہ کہ صرف زبانی طور پر بولے ہوئے الفاظ کے ذریعے ۔
18 نومبر 2008 کی شام کو اس کا نفرنس کا آخری پروگرام ہوا۔ یہ پروگرام نیکوسیا شہر کے قدیم حصے میں منعقد ہوا۔ اس پروگرام کا عنوان یہ تھا امن کے لیے دعا Prayer For Peace اس پروگرام کے تحت مختلف مذہب کے لوگوں کے لیے الگ الگ مقامات مقرر کیے گئے تھے۔ ہر مذہب کے لوگ اپنے مقرر مذہبی مقام پر پہنچے اور اپنے طریقے کے مطابق عبادت کر کے وہاں امن عالم کے لیے دعا کی۔ مسیحی لوگ نیکوسیا کے بڑے چرچ میں اکٹھا ہوئے۔ کانفرنس کے مسلم شرکا مسجد عمر (Omeriye Mosque) میں اکٹھا ہوئے۔ یہ اس شہر کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ میں میونسپل مارکیٹ (main municipal market) کے قریب والڈ سٹی (walled city) میں واقع ہم لوگ اجتماعی صورت میں پیدل چل کر وہاں پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ وہاں مغرب کی نماز کے لیے جماعت کھڑی ہو رہی تھی۔ یہ کافی بڑی جماعت تھی۔ ہم لوگوں نے جماعت میں شریک ہو کر وہاں مغرب کی نماز ادا کی۔ نماز کے بعد ڈاکٹر فتحی عثمان نے مختصر طور پر عربی اور انگریزی میں تقریر کی اور آخر میں امن عالم کے لیے دعا کی۔
مسجد عمر ایک قدیم مسجد ہے۔ 1571 میں قبرص کے علاقے میں ترک داخل ہوئے ۔ کے ایک جنرل مصطفی پاشا (وفات: 1580) نے یہاں موجودہ مسجد قائم کی۔ اس مسجد کی وجہ تسمیہ کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ساتویں صدی عیسوی میں خلیفہ عمر فاروق نے مصر جاتے ہوئے ایک رات یہاں قیام کیا تھا۔ اسی وجہ سے اس کا نام ”مسجد عمر“ رکھا گیا۔ تاہم تاریخی اعتبار سے یہ بات غیر ثابت شدہ
اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں لوگ تفاؤل (good omen) کے طور پر اس طرح کے نام رکھ غالباً اسی مزاج کی بنا پر اس مسجد کا نام مسجد عمر رکھا گیا۔
اس مسجد میں میرے ساتھیوں نے وہاں کے امام کی اجازت سے قرآن کے انگریزی ترجمے کے دو نسخے رکھے اور لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا۔ یہاں کئی پاکستانی نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ تقریباً ایک لاکھ پاکستانی قبرص میں موجود ہیں۔ یہ لوگ یہاں جاب (job) کی تلاش میں آئے ہیں۔ ان میں سے کچھ نوجوان وہ ہیں جو قبرص کی یونی ورسٹی میں پروفیشنل کورس کر رہے ہیں۔ اسی کے ساتھ وہ یہاں جاب بھی کرتے ہیں۔ میرے ساتھی یہاں کچھ نوجوانوں سے ملے اور ان کو انگریزی زبان میں چھپا ہوا لٹریچر دیا۔ انھوں نے ان نوجوانوں سے دعوت کے موضوع پر بات کی اور کہا کہ آپ لوگ اس ملک میں خدا کے سفیر ہیں۔ آپ یہاں دعوت کا کام کیجیے، آپ کو اس کام کے لیے جتنا لٹریچر مطلوب ہوگا، وہ لٹریچر ان شاء اللہ ہم آپ کو انڈیا سے بھیج دیں گے۔ مجھے پیشگی طور پر اندازہ نہ تھا کہ قبرص میں اتنے زیادہ مسلم تارکینِ وطن (emigrants) موجود میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانے میں دنیا کے تقریباً ہر ملک اور ہر جگہ مسلمان پہنچے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ صرف تلاشِ معاش کے جذبے کے تحت ان مقامات پر گئے ہیں۔ تلاشِ معاش اپنے آپ میں کوئی نا جائز چیز نہیں۔ لیکن مسلمان کے لیے تلاشِ معاش صرف ایک ثانوی چیز ہے۔ میں دس ملین سے زیادہ ایسے مسلمان ہیں جو اپنے ملکوں سے نکل کر کسی دوسرے ملک میں گئے ہیں۔ لوگ اگر ون مین ٹو مشن (one man two mission) کے اصول پر ان ملکوں میں رہیں، یعنی وہ اپنے وقت اور اپنی توانائی کا ایک حصہ دعوت کے کام میں لگائیں اور ایک حصہ کسبِ معاش کے کام میں۔ اگر وہ ایسا کریں تو اُن کا یہ ترکِ وطن اُن کے لیے ایک قابلِ اجر کام بن جائے گا، بصورتِ دیگر اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اُن کا سخت محاسبہ کیا جائے، اُن سے پوچھا جائے کہ مواقعِ معاش کو جاننے کے لیے تم چیونٹیوں کی طرح ہر جگہ پہنچے، لیکن مواقعِ دعوت کو جاننے کے لیے تم اندھے اور بہرے بنے رہے۔ مسجد عمر میں دعا اور عبادت سے فارغ ہو کر تمام لوگ اپنے اپنے مذہبی مقامات سے نکلے اور
اجتماعی صورت میں سڑک پر پیدل چلنے لگے۔ اس سفر کی قیادت قبرص کے آرک بشپ (Chrysostomos Kykkotis) کر رہے تھے۔ اس طرح چلتے ہوئے تمام لوگ اُس مقام پر پہنچے جس کا نام یہ تھا— آرک بشپ یارڈ (Archbishopic Yard)۔ یہاں خصوصی انداز میں ایک بہت بڑا اسٹیج بنایا گیا تھا۔ اس اسٹیج پر تقریباً ڈیڑھ سو آدمی بٹھائے گئے۔ بقیہ ہجوم آگے کے میدان میں لگی ہوئی کرسیوں کے اوپر سامعین کی حیثیت سے بیٹھا ہوا تھا۔ یہاں امن کے موضوع پر تین چھوٹے چھوٹے بچوں نے لوگوں کو پھول پیش کئے۔ تمام مذاہب کے نمائندوں نے مل کر امن کی مشعل جلائی۔ لوگوں نے امن کے اعلامیہ (declaration) پر دستخط کیے۔ آخر میں لوگ کھڑے ہو کر ایک دوسرے سے اس طرح ملے کہ اُن میں سے ہر ایک دوسرے سے یہ کہہ رہا تھا: Peace be upon you, Peace be upon you. اس کارروائی میں رات ہو چکی تھی۔ یہاں سے واپس ہو کر لوگ اجتماعی ڈنر میں شریک ہوئے۔ ڈنر کے بعد کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو کے صدر اور قبرص کے آرک بشپ نے تمام شرکا اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا، اس کے بعد لوگ اپنی اپنی قیام گاہوں پر چلے گئے۔
”پریئر فار پیس“ کے اس آخری پروگرام کے موقع پر بھی ہمارے ساتھیوں نے دعوت ورک کیا۔ پروگرام میں عالمی سطح کے بہت سے اہم مذہبی اور سیاسی اشخاص موجود تھے۔ ہمارے ساتھیوں نے اُن کو دعوتی پمفلٹ دیے۔ قبرص کے آرک بشپ کو بھی اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ 18 نومبر 2008 کو اٹلی کی ایک بڑی ٹی وی کمپنی (Mediaset) کی ٹیم نے ایک ویڈیو انٹرویو انٹرویو ر کا نام یہ تھا— ماریہ (Maria Cecilia Sangiorgi)۔ انٹرویو کے دوران انھوں نے اسلام اور عالمی حالات کے بارے میں مختلف سوالات کئے۔ میں نے قرآن اور حدیث کی روشنی میں ان سوالات کا جواب دیا۔ اُن کا آخری سوال یہ تھا کہ آج کی دنیا بہت سنگین مسائل سے ان حالات میں آپ ان کی طرف سے پرامید ہیں، یا ناامید۔ میں نے کہا میں ایک پرامید (optimist) شخص ہوں۔ میں ہمیشہ واقعات میں امید کے پہلو دیکھتا ہوں۔ مثلاً ابھی حال میں
امریکہ کے الیکشن میں سابق صدر جارج بش ہار گئے، اور بلیک صدر براک او با ما جیت گئے۔ یہ میرے لیے امید کا ایک پیغام ہے۔ میں نے کہا کہ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں وائٹ پریزیڈنٹ کی جگہ ایک بلیک پریزیڈنٹ آ گیا ہے۔ یہ ایک بڑا واقعہ ہے۔ براک او با ما نے جیت کے بعد اپنی پہلی تقریب میں کہا تھا کہ امریکہ میں تبدیلی آگئی۔ میں کہوں گا کہ دنیا میں تبدیلی آگئی: Black president replaced white president in White House. After قبرص کی اس کانفرنس میں حسب ذیل اعلیٰ تعلیم یافتہ عرب خواتین نے بھی شرکت کی: Asma Benkada, Programme producer of Al-Jazeera TV, Qatar Aisha Yosuf al-Manna'i, Dean of Shariah & Islamic Studies, Qatar Khadija Benganna, Al-Jazeera TV, Qatar. ان خواتین نے کانفرنس ہال میں مجھ سے ملاقات کی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ انھوں نے میری کتاب الإسلام يتحدى پڑھی ہے، وہ اس کتاب سے بہت متاثر ہیں۔ خاتون اسماء، مشہور عرب عالم ڈاکٹر یوسف القرضاوی کی اہلیہ ہیں۔ انھوں نے موجودہ مسائل پر مجھ سے گفتگو کی ۔ آخر الذکر خاتون خدیجہ بن قنہ نے الجزیرہ ٹی وی کے لیے "اسلام اور امن" کے موضوع پر میرا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ میرے ساتھیوں نے ان لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا۔ ان خواتین کی باتوں سے اندازہ ہوا کہ وہ سب نہایت ذہین خواتین ہیں اور مفید کام انجام دے رہی میرا تجربہ ہے کہ خواتین میں غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے، لیکن عام طور پر ان کی صلاحیتیں بروئے کار نہیں آتیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ روایتی ماحول کی بنا پر مردان کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔ کار آمد بنانے کے لیے جو کچھ کرنا چاہیے، اس کو عام طور پر ہمارے معاشرے کے مرد انجام نہیں دیتے۔ اپنے روایتی ذہن کی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ عورتوں کو صرف خاتون خانہ بنانا ہے، اس کے سوا کوئی اور کام اُنھیں انجام نہیں دینا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے اپنے مخصوص انداز میں مسلم عورتوں کے بارے میں کہا تھا کہ:
تعلیم لڑکیوں کی ضروری تو ہے ، مگر خاتون خانہ ہوں، وہ سہا کی پری نہ ہوں اس شعر میں ایک سخت قسم کا مغالطہ موجود ہے۔ اس شعر میں یہ بتایا گیا ہے کہ عورتوں کے لیے امکانی پوزیشن صرف دو ہے— یا تو وہ خاتون خانہ بنیں ، یا وہ سہا کی پری بن جائیں۔ مگر یہ تصور ایک غلط قسم کی ثنائیت (dichotomy) پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں ایک تیسری زیادہ بہتر پوزیشن بھی موجود ہے، وہ یہ کہ عورت اپنے حدود کے اندر رہتے ہوئے اعلیٰ تعلیم حاصل کرے اور پھر وہ معاشرے میں کوئی دینی اور تعمیری خدمت انجام دے۔ مثلاً ایجوکیشن اور دعوہ ورکر، وغیرہ۔
اس سفر کی ایک ملاقات وہ ہے جو ہلٹن پارک کے ڈائننگ ہال کی خاتون مینجر سے تعلق یہ ایک تعلیم یافتہ خاتون تھیں ۔ وہ پولینڈ کی رہنے والی تھیں ۔ ان کا نام یہ تھا— پالینا (Paulina Theodorou) ۔ وہ اس بات سے بہت متاثر تھیں کہ ڈائننگ ہال میں جو لوگ کھانے کے لیے آتے تھے، اُن میں ہم لوگ نمایاں طور پر دوسروں سے مختلف ہوتے تھے۔ نے اُن سے گفتگو کی اور ان کو اسلامی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ پڑھنے کے لیے دیا۔ میرے ساتھیوں سے کہا کہ اتنی بڑی کا نفرنس میں آپ ہی لوگ ہم کو اسپرچول دکھائی دیتے ہیں ، ورنہ آج کل ہر آدمی صرف ایک مادی حیوان ہو کر رہ گیا ہے۔ دوسرے لوگوں کی طرح ، آپ لوگ یہاں نہ جوک (joke) چھوڑتے ہیں اور نہ قہقہے بلند کرتے ہیں۔
اُس خاتون کی گفتگو مجھ سے ہوئی تو میں نے کہا کہ آپ مجھ کو اندر سے سیڈ (sad) دکھائی دیتی انھوں نے اس کو مانا، پھر اپنے کچھ گھریلو مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملات میں میرے شوہر تو پازیٹو (positive) ہیں، لیکن میں اکثر نگٹیو (negative) ہو جاتی ہوں۔ میں نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی بات اسلام کی تعلیم کے مطابق ، عورت اور مرد دونوں ، ایک واحد یونٹ کے دو برابر کے نصف حصے ہیں: Men and women are two equal halves of a single unit. اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اور آپ کے شوہر دونوں ایک واحد یونٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جب کہ آپ کے بیان کے مطابق، آپ کے شوہر پازیٹو ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی شخصیت کا نصف حصہ ابھی بھی پازیٹو ہے۔ اب آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ آپ بقیہ نصف حصے کو، پہلے نصف حصے کے
مانند بنالیں ۔ اس بات کو سن کر وہ بہت خوش ہوئیں ۔ انھوں نے کہا کہ آج سے میں ایسا ہی کروں گی ۔ 19 نومبر 2008 کو سفر سے واپسی کا دن تھا۔ آج شام کو ہمیں واپسی کا جہاز لینا تھا۔ سے فارغ ہو کر ہم لوگ ہوٹل سے ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوئے۔ ہمارا پروگرام یہ تھا کہ پہلے ہم لوگ ہالہ سلطان جا کر ام حرام بنت ملحان کا مقبرہ دیکھیں گے اور اس کے بعد ائیر پورٹ جائیں گے۔ ائیر پورٹ سے بہت قریب سالٹ لیک (Salt Lake) کے کنارے سمندر کے پاس واقع ہے۔ ہوئے جب ہمارا جہاز لارنا کا ائیر پورٹ کے قریب پہنچا تو جہاز سے ہم نے یہ مقبرہ دیکھ لیا تھا۔ 19 نومبر 2008 کی سہ پہر کو ہم بذریعہ روڈ سفر کرتے ہوئے یہاں پہنچے۔ یہ مقبرہ بہت بڑے رقبے میں واقع ہے۔ ام حرام کے انتقال کے بعد اُس کو یہاں ایک سادہ قبر کے طور پر بنایا گیا۔ اٹھارویں صدی عیسوی میں یہاں ایک ترک درویش شیخ حسن آئے۔ انھوں نے 1760 میں قبر کے اوپر ایک گنبد تعمیر کیا۔ ترک اقتدار کے زمانے میں 1816 میں وہاں مقبرہ سے متصل ایک بڑی مسجد تعمیر کی گئی اور ایک بڑے رقبے میں کامپلیکس کی صورت میں کئی تعمیرات کرائی گئیں ۔
یونائی ٹِڈ نیشنِس (United Nations Development Programme) کے تحت ہالہ سلطان کی اس مسجد کو کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا بڑا مقدس مقام بتایا گیا ہے: The mosque was described by the UNDP in Cyprus as Islam's third holiest site, after the Ka'ba in Makkah and the Mosque of the Prophet in Medina. ہالہ سلطان کے کیمپس کے گیٹ پر ایک بورڈ لگا ہوا تھا۔ اس بورڈ پر یہ الفاظ درج تھے: This project was financed with a grant from the Bi-Communal Development Programme, which was supported by USAID and UNDP and executed by UNOPS. The works were conducted in collaboration with the Department of Antiquities (Ministry of Communications and Works). پہلے میرا خیال یہ تھا کہ یہاں صرف ایک قبر ہو گی جس کو بہت کم لوگ جانتے ہوں گے، مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہاں ایک بہت بڑا کامپلیکس بنا ہوا ہے۔ ترکوں نے اس کا نام ہالہ سلطان تکیہ
رکھا تھا، (Hala Sultan Tekke) یعنی سلطان انبیام کی خالہ کا مقبرہ۔ کہا جاتا ہے کہ ام حرام بنت ملحان، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دایہ حلیمہ سعدیہ کی بہن تھیں۔ اس نسبت سے ام حرام، آپ کی رضاعی خالہ تھیں ۔ اس بنا پر اس علاقے کا ترکی نام ہالہ سلطان رکھا گیا۔ یہ کا مپلیکس اتنا بڑا ہے کہ اس کے اندر بڑے پیمانے پر ایک تعلیمی یا دعوتی ادارہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن بروقت اس کا بظاہر کوئی خاص استعمال نہیں ہے۔ یہاں مختلف ملکوں سے ٹورسٹ آتے ہیں اور دیکھ کر چلے جاتے ہیں۔ ہالہ سلطان پہنچ کر ہم لوگوں نے وضو کیا اور مسجد کے اندر داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھی۔ وسیع مسجد ہے جس کے اندر عمدہ قسم کا قالین بچھا ہوا ہے۔ مسجد کے محراب کے بائیں گوشے میں ایک دروازہ کھلتا ہے۔ اس دروازے سے داخل ہو کر ہم لوگ اندر پہنچے۔ یہ ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔ کمرے کے بیچ میں ام حرام کا مقبرہ ہے۔ یہ مقبرہ پتھر کی دیوار سے گھرا ہوا ہے۔ مقبرہ کی چھت سے قبر کے اوپر تک چاروں طرف ایک موٹا غلاف آویزاں ہے۔ ام حرام کی قبر ایک سبز چادر سے ڈھکی ہوئی قبر کے داہنے اور بائیں جانب پیتل کی موٹی جالیان ہیں۔ یہاں قبر کے چاروں طرف کشادہ گیلری ہے جس پر دبیز قالین بچھا ہوا ہے۔
ہم نے وہاں ایک مسلم نوجوان کو دیکھا۔ یہ نوجوان جرمن کا رہنے والا تھا۔ وہ آج کل قبرص میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتا ہے۔ اس نے مسجد میں نماز پڑھی۔ نماز کے بعد وہ ام حرام کے مقبرے میں وہاں اس نے چوکھٹ پر سجدہ کیا۔ اور قبر کی جالی پکڑ کر کھڑا ہو گیا۔ ہمارے ساتھیوں نے اس سے گفتگو کی اور اس کو اسلامی لٹریچر دیا۔ ام حرام کے مقبرے کے باہر ایک درخت لگا ہوا ہے۔ دیکھا کہ یہ درخت دھاگوں اور سفید پٹیوں سے بھرا ہوا ہے۔ لوگ اپنی مرادیں مانگنے کے لیے یہاں درخت پر کاغذ اور کپڑے کی پٹیاں باندھتے ہیں۔ اس قسم کی بدعتیں غالباً ترکی سے یہاں آئی ہیں۔ یہاں کوئی تعلیمی یا دعوتی ادارہ قائم ہوتا تو اس قسم کی بدعتیں یہاں فروغ نہ پاتیں ۔ ہمارے ساتھیوں نے یہاں کی مسجد میں قرآن کا دو انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر رکھا۔ وہاں اُس وقت کئی غیر ملکی ٹورسٹ انھوں نے ان لوگوں کو دعوتی لٹریچر دیا۔
یہاں کی مسجد میں ہم لوگ دیر تک رہے۔ یہاں ہم نے نماز پڑھی اور دعا کی۔ ہماری دعا کا خاص پہلو یہ تھا کہ ہم نے کہا کہ خدایا، ہم کو حدیث کے مطابق، جماعتِ آخرین میں شامل کردے، یعنی اہلِ ایمان کا وہ دوسرا گروہ جو بعد کے زمانے میں سفر کر کے قبرص کے اس جزیرے میں آئے گا اور یہاں دعوت الی اللہ کا کام کرے گا۔ ہماری اس دعا کا پس منظر ایک روایت ہے، جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح بخاری میں یہ روایت چار ابواب کے تحت نقل ہوئی ہے۔ کتاب الاستئذان کے تحت درج شدہ روایت میں ابن حجر العسقلانی نے تقریباً دس صفحات پر مشتمل اس کی شرح لکھی ہے۔ روایات میں جو بات آئی ہے، اُس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے:
اُم حرام بنت ملحان، انس بن مالک کی خالہ اور عبادہ بن صامت انصاری کی اہلیہ تھیں۔ رُمَیصاء کہا جاتا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھی اُن کے گھر جا کر وہاں آرام کرتے تھے۔ بار رسول اللہ اُن کے گھر گئے۔ وہاں دوپہر کے وقت آپ سو گئے۔ آپ نیند سے بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا کہ خواب میں مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے۔ وہ تخت نشیں بادشاہوں کے مانند (کَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ) تھے۔ وہ بحرِ اخضر (Mediterranean Sea) کا سفر کریں گے۔ اُمّ حرام نے کہا کہ اے خدا کے رسول، دعا کیجیے کہ اللہ مجھ کو اُن لوگوں میں شامل آپ نے فرمایا کہ تم اُن میں شامل ہو۔ اس کے بعد آپ دوبارہ سو گئے، پھر آپ بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے۔ اُمّ حرام کے پوچھنے پر آپ نے دوبارہ فرمایا کہ خواب میں مجھے میری امت کے کچھ لوگ دکھائے گئے جو بحرِ اخضر کا سفر کریں گے۔ وہ تخت نشیں بادشاہوں کے مانند ہوں گے۔ اُمّ حرام نے کہا کہ اے خدا کے رسول، دعا کیجیے کہ اللہ مجھ کو اُن لوگوں میں شامل کردے۔ آپ نے فرمایا کہ تم پہلے گروہ میں شامل ہو، دوسرے گروہ میں نہیں (أنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ، لست من الآخرين)۔ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمان کی خلافت کے زمانے میں صحابہ کی ایک جماعت نے 28 ہجری (649ء) میں ایک دعوتی سفر کیا۔ صحابہ کی اس جماعت کی قیادت امیر معاویہ کر رہے تھے۔ مدینہ سے روانہ ہو کر شام کے علاقے میں داخل ہوئے اور دمشق پہنچے، پھر یہاں سے مزید سفر کر کے وہ
حمص پہنچے جو بحرِ اخضر (Mediterranean Sea) کے ساحل پر واقع ہے۔ حمص تک کا سفر انہوں نے اونٹوں اور خچروں کے ذریعے کیا۔ یہاں سے انھوں نے کشتیوں پر بحری سفر کیا اور اس طرح وہ قبرص کے ساحل پر اترے۔ یہاں کے لوگوں کے درمیان انھوں نے دعوتی کام کیا۔ ان کے دعوتی کام کے مثبت اثر کا ایک ثبوت یہ ہے کہ جب ایک صحابیہ ام حرام جن کی عمر اُس وقت 70 سال سے زیادہ ہو چکی تھی، یہاں اُن کا انتقال ہوا تو قبرص کے ساحلی شہر لارناکا میں اُن کی قبر بنائی گئی۔ صحابیہ کے حسنِ سیرت کی بنا پر مقامی لوگ اِس قبر کو نیک خاتون کی قبر (قبر المرأة الصَّالحة) کہنے لگے۔ جب ہم لوگ ہالہ سلطان کی مسجد میں تھے تو ہم نے اس روایت کو یاد کیا۔ ہم نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ حدیث کے مطابق، اُمّتِ محمدی کی دو جماعتوں کے لیے یہ سعادت مقدر تھی کہ وہ سفر کر کے قبرص کے اِس مقام پر آئیں اور یہاں کے لوگوں کے درمیان سچائی کا پیغام پہنچائیں۔ پہلی دعوتی جماعت میں شامل ہونے کی سعادت پریس کے دور سے قبل کچھ صحابہ اور صحابیات کو حاصل ہو چکی ہے۔ شاید ہم لوگ تاریخ کی دوسری جماعت ہیں جن کو پریس کے دور میں یہ توفیق حاصل ہوئی کہ وہ خالص دعوتی مقصد کے تحت یہاں آئے اور یہاں کے لوگوں میں مطبوعہ لٹریچر کے ذریعے بڑے پیمانے پر اسلام کا پیغام پہنچایا۔ خدایا، تو ہماری جماعت کو وہ دوسری جماعت بنا دے جس کی بشارت تیرے پیغمبر نے اپنے زمانے میں دی تھی۔ حدیث اور تاریخ کی کتابوں میں عام طور پر قبرص کے اِس سفر کو ’’غزوہ‘‘ کے عنوان کے تحت بیان کیا گیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک دعوتی سفر تھا، نہ کہ کوئی جنگی سفر۔ چناں چہ یہ ثابت ہے کہ جب صحابہ کی جماعت اِس مقام پر پہنچی تو وہاں کے مقامی باشندوں سے ان کی کوئی لڑائی پیش نہیں آئی۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا۔ اِس بنا پر داعیوں کو بھی اپنے سفر میں حفاظتی طور پر کچھ ہتھیار رکھنا پڑتا تھا، تاکہ اگر لوگوں کی طرف سے تشدد اور جارحیت کی صورت پیش آجائے تو بروقت اس کا دفاع کیا جا سکے۔ چناں چہ ساتویں صدی عیسوی میں جب ’’جماعتِ اوّل‘‘ نے یہاں کے لیے دعوتی سفر کیا تو انھوں نے احتیاطی طور پر کچھ ہتھیار بھی اپنے ساتھ رکھ لیے۔ اگرچہ عملاً ان ہتھیاروں کو استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ اس کے برعکس،
موجودہ زمانے میں جب ہم لوگوں نے ’’جماعت ثانی‘‘ کی حیثیت سے قبرص کا سفر کیا تو زمانہ بدل چکا تھا، اس لیے ہمارے ساتھ صرف چھپی ہوئی کتابوں کے بنڈل تھے۔ اس کے سوا کوئی دفاعی چیز لے جانے کی ضرورت ہم کو پیش نہیں آئی۔ ہم نے وہاں کئی دن تک مسلسل طور پر دعوتی کام کیا اور کسی نے ہمارے اوپر کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ ہر موقع پر وہاں کے لوگ ہم کو اپنا تعاون دیتے رہے۔ 19 نومبر 2008 کو میں قبرص میں بحر متوسط کے ساحل پر واقع اُم حرام بنت ملحان کے مقبرے کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ میں نے سوچا کہ لارنا کا کا یہ مقبرہ بھی ایک مقبرہ ہے اور آگرہ کا تاج محل بھی ایک مقبرہ ہے۔ مگر دونوں میں یہ فرق ہے کہ تاج محل کو تاریخ کا ایک صفحہ سمجھا جاتا ہے، جب کہ ام حرام بنت ملحان صحابیہ کا یہ مقبرہ تاریخ کے ایک صفحے کی حیثیت سے نمایاں اس کا سبب یہ ہے کہ تاج محل کا مطالعہ تاریخ کی روشنی میں کیا جاتا ہے، جب کہ صحابیہ کا یہ مقبرہ ہماری کتابوں میں صرف ’’فضائل صحابہ‘‘ کے عنوان کے تحت لکھا ہوا ہے۔
اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے ایک بہت بڑی حقیقت میرے سامنے آئی، ایک ایسی حقیقت جس کو خود میں نے بھی پہلی بار یہاں دریافت کیا۔ یہ حقیقت اگرچہ بہت پہلے سے موجود تھی، لیکن شعوری دریافت کے طور پر وہ غالباً پہلی بار ایک انسان کی سمجھ میں آئی۔
میں نے 1984 میں حجاز کا سفر کیا تھا۔ اُس وقت مدینہ میں ڈاکٹر ضیاء الرحمن المدنی سے میری اُنھوں نے کہا کہ آپ نے لکھا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا تمام انبیاء خالص علمی اعتبار سے، غیر تاریخی پیغمبر تھے۔ آپ نے لکھا ہے کہ کسی شخصیت کے تاریخی شخصیت ہونے کا علمی معیار یہ ہے کہ معاصر تاریخ میں اُس کا حوالہ موجود ہو۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کی معاصر تاریخ میں آپ کا حوالہ کہاں ملتا ہے۔ میں نے کہا کہ میں نے پڑھا ہے کہ بعض سریانی مورخین نے آپ کے نام کے ساتھ آپ کا حوالہ دیا ہے۔ تاہم اؔس وقت یہ بات پوری طرح میرے اوپر واضح نہ تھی۔ اب اچانک یہ سمجھ میں آیا کہ پیغمبر اسلام کے تمام صحابہ اور صحابیات کا معاملہ یہی تھا کہ وہ اِس معاملے میں گویا کہ معاصر مورخین تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ حدیث کا موجودہ ذخیرہ اِس اعتبار سے، پورے معنوں میں ایک تاریخی ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِس ریکارڈ میں پیغمبر اسلام کے ہم زمانہ افراد آپ کے بارے میں تاریخی بیانات دے رہے ہیں۔ مگر حدیث کا یہ پہلو لوگوں پر اِس لیے مخفی رہا کہ وہ حدیث کا مطالعہ ایک’’مقدس کلام‘‘ کی حیثیت سے کرتے رہے، نہ کہ تاریخی ریکارڈ کی حیثیت سے۔
آدمی کی یہ کم زوری ہے کہ وہ چیزوں کو اپنے ذہنی مفروضہ (pre-occupied mind) کے اعتبار سے دیکھتا ہے۔ اِس ذہنی مفروضہ کی بنا پر میں حدیث کے اِس پہلو کو شعوری طور پر نہ جان سکا کہ وہ پیغمبر اسلام کی شخصیت کا ایک معتبر تاریخی ریکارڈ ہے اور تمام صحابہ اس معاملہ میں گویا "راویان تاریخ" کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ دریافت میرے لیے ایک عظیم دریافت تھی۔ کیوں کہ اس سے خالص علمی طور پر یہ ثابت ہو گیا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے تاریخی پیغمبر ہیں جن کا حوالہ آپ کے معاصر مورخین نے بڑے پیمانے پر دیا ہے، اور ان تمام مورخین کے تاریخی حالات اسماء الرجال کی کتابوں میں مستند طور پر پوری طرح محفوظ حالت میں موجود ہیں۔
19 نومبر 2008 کی شام کو ہم لارنا کا ائیر پورٹ پر پہنچے۔ یہاں سے ہم کو واپسی کا جہاز لینا تھا۔ میرے ساتھیوں نے ائیر پورٹ پر دعوت کا کام کیا۔ انھوں نے بہت سے مسافروں سے بات کی اور ان کو اسلامی لٹریچر دیا۔ ائیر پورٹ کے عملہ کو بھی انھوں نے دعوتی لٹریچر پہنچایا۔ لارنا کا سے دوبارہ ہمیں ایمریٹس ائرلائن سے سفر کرنا تھا۔ ائیر پورٹ پر جو خصوصی معاملات پیش آئے، اُن میں سے ایک قابل ذکر معاملہ یہ تھا کہ ائیر پورٹ پر مجھ کو سینئر سٹی زن ہونے کی بنا پر وہیَل چیئر پر ہم لوگ ائیر پورٹ کے باہر پہنچے تو یہاں ایک بڑی گاڑی کھڑی ہوئی تھی۔ پیچھے کی جانب سے اس کا دروازہ کھلا اور وہیَل چیئر کے ساتھ ہم کو اس کے اندر داخل کر دیا گیا۔ میرے دونوں ساتھی بھی میرے ہم راہ تھے۔ اس کے بعد گاڑی کا دروازہ بند ہوا اور وہ آگے کے لیے روانہ ہوگئی۔ اس کے بعد گاڑی چلتی ہوئی ہوائی جہاز کے پاس پہنچی۔ یہاں مخصوص مشین کے ذریعے گاڑی کی باڈی اوپر اٹھنے لگی، یہاں تک کہ وہ ہوائی جہاز کے دروازہ کے برابر پہنچ گئی۔ دوبارہ گاڑی کا دروازہ کھلا اور مجھ کو وہیَل چیئر پر بیٹھے بیٹھے ہوائی جہاز کے اندر داخل کر دیا گیا۔ یہاں مخصوص انداز کی شان دار کرسی موجود تھی، مجھ کو اُس کرسی پر بٹھا دیا ہم لوگ سب سے پہلے مسافر تھے جو اس جہاز کے اندر داخل ہوئے۔ بقیہ تمام لوگ ہمارے بعد یہ پورا معاملہ جس طرح ہوا، اُس کو انسانی زبان میں بیان کرنا ہو تو یہی کہا جائے گا کہ یہ معاملہ گویا کہ حدیث کے الفاظ میں: كالملوك علی الأسرة کی ایک تصویر تھا۔
جہاز کے اندر میرے پاس کی سیٹ پر ایک پاکستانی مسلمان بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں چیئرمین ہیں۔ مادی اعتبار سے وہ ایک کامیاب انسان معلوم ہوتے تھے۔ جہاز کے پورے سفر میں میں نے دیکھا کہ وہ صرف ایک چیز میں مشغول ہیں اور وہ اُن کا لیپ ٹاپ ان سے میں نے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن انھوں نے زیادہ دل چسپی نہیں دکھائی۔ آخروت تک وہ اپنے لیپ ٹاپ میں مشغول رہے اور پھر لیپ ٹاپ بند کر کے وہ دبئی میں اتر گئے۔ یہی موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ اور خوش حال لوگوں کی تصویر ہے۔ یہ لوگ سفر میں ہوں یا حضر میں، وہ ہر وقت کسی نہ کسی طور پر بس منی بزنس (money business) میں مشغول رہتے ہیں۔
یہ معلوم نہیں کہ ”منی بزنس“ سے بھی زیادہ بڑی ایک چیز ہے جس کو اُنھیں حاصل کرنا چاہیے۔ یہ زیادہ بڑی چیز ذہنی اور روحانی ارتقا ہے۔ اس ارتقا کا ذریعہ یہ ہے کہ آدمی آس پاس کی دنیا پر غور کرے، وہ کتابوں کا مطالعہ کرے، وہ لوگوں سے علمی اور فکری موضوعات پر تبادلہ خیال کرے، وغیرہ۔ دبئی ایئر پورٹ کے لاؤنج (lounge) میں ہم لوگوں کو آتے ہوئے اور جاتے ہوئے، دونوں بار کچھ گھنٹے کے لیے ٹھہرنا پڑا۔ یہاں لاؤنج کے ایک حصے میں ایک ڈسک (desk) تھا، جس میں اخبارات اور جرائد برائے مطالعہ رکھے ہوئے تھے۔ ایک عربی جریدے میں ایک مضمون نظر سے گزرا۔ یہ مضمون دکتور خالد النجار کا لکھا ہوا تھا۔ اس مضمون کا عنوان یہ تھا ـــ امیر البیان شکیب أرسلان: جندي ذو ثلاثة أهداف (امیر شکیب ارسلان: ایک مسلم سپاہی جن کی جدوجہد کے تین نشانے تھے)۔ امیر شکیب ارسلان کی جدوجہد کے یہ تین نشانے مضمون کے مطابق، حسب ذیل تھے : الاتحاد، التحرّر، السير فى موكب النهضة والعلم، یعنی مسلمانوں کے درمیان باہمی اتحاد، مغربی استعمار سے آزادی، علم اور ترقی کے سفر میں قافلہ انسانی کے ساتھ چلنا۔ امیر شکیب ارسلان 1869 میں لبنان میں پیدا ہوئے، اور 1946 میں بیروت میں ان کا وہ نہایت باصلاحیت آدمی تھے۔ سید جمال الدین افغانی نے جب پہلی بار اُن کو دیکھا تو اُن کی زبان سے یہ الفاظ نکلے: أنا أهنئ أرض الإسلام التي أنبتتك (میں اس سرزمینِ اسلام کو مبارک باد دیتا ہوں جس نے تمھارے جیسے انسان کو پیدا کیا)۔ امیر شکیب ارسلان، عربی کے علاوہ انگریزی اور فرانسیسی زبان بھی جانتے تھے۔ انھوں نے بہت سے ملکوں کے سفر کیے۔ اُن کو اپنے زمانے کی بڑی بڑی شخصیتوں سے استفادے کا موقع ملا۔ مثلاً شیخ محمد عبدہ، سعد زغلول، احمد زکی پاشا، سید جمال الدین افغانی، وغیرہ۔ امیرشکیب ارسلان بہت زیادہ مشغول رہتے تھے۔ وہ اپنے وقت کا ایک ایک لمحہ استعمال کرتے تھے۔ انھوں نے کثرت سے مطالعہ کیا۔ انھوں نے بہت سے مقالات کے علاوہ تقریباً پچاس کتابیں لکھیں۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ امیر شکیب ارسلان کوئی بڑا کام نہ کر سکے۔ مثلاً جدید فکری تحدیات کے مقابلے میں کوئی مؤثر کتاب تیار کرنا، جدید ضرورتوں کے مطابق، کوئی ایسا ادارہ قائم کرنا جو اُن کے
بعد بھی مسلمانوں کو فائدہ پہنچا تار ہے۔ جدید مسلم نسلوں میں کوئی ایسا فکر پیدا کرنا جس کے نتیجے میں وہ نئے مواقع کو سمجھیں اور اُن کو بڑے پیمانے پر استعمال کریں، وغیرہ۔ ان کی اس نا کامی کا سبب میرے نزدیک صرف ایک تھا، وہ یہ کہ انھوں نے تین مختلف نشانوں کو اپنی زندگی کا نشانہ بنا لیا۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ بظاہر کرنے کے بہت سے کام ہوتے ہیں۔ لیکن آدمی کو گہرے غوروفکر کے ذریعے یہ دریافت کرنا پڑتا ہے کہ کسی وقت خاص میں کرنے کا بنیادی کام کیا ہے، یعنی وہ کام جس میں محنت کرنے سے دوسرے کام اپنے آپ انجام پاتے چلے جائیں۔ امیر شکیب اُس بنیادی کام کو دریافت نہ کر سکے۔ اس لیے ہر قسم کی اعلیٰ صلاحیتوں کے باوجود ان کی کوششیں بکھر کر رہ گئیں۔ مذکورہ مضمون میں امیر شکیب ارسلان کے تذکرے کے تحت یہ الفاظ درج ہیں : وكان شكيب أرسلان يرى أن العدو الأول للإسلام والمسلمين هو الجهل (امیر شکیب ارسلان یہ سمجھتے تھے کہ اسلام اور مسلمانوں کا دشمن نمبر ایک ان کی جہالت ہے)۔ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ بات انھوں نے گہری شعوری دریافت کے نتیجے میں کہی تھی۔ اگر حقیقی معنوں میں یہ ان کی دریافت ہوتی ، تو وہ اپنی ساری زندگی اِسی ایک کام میں لگا دیتے۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مغربي استعمار کے خلاف لکھنے اور بولنے میں صرف کر دیا، جو نتیجے کے اعتبار سے سرتا سرا ایک بے فائدہ کام تھا۔ میں اکثر یہ کہا کرتا ہوں کہ ایک کام کرنے کے لیے دوسرے کام کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ بات ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلم رہ نما اِس حقیقت سے بے خبر رہے۔ تقریباً ہر مسلم رہ نما کا یہ حال ہوا کہ وہ بیک وقت مختلف نشانوں کی طرف دوڑتا رہا۔ ان تمام رہ نماؤں کے اوپر یہ مثل صادق آئی کہ۔ جو آدمی کئی خرگوشوں کی پیچھے دوڑے، وہ ایک کو بھی نہیں پکڑ سکتا۔ ان رہ نماؤں سے یہ غلطی اس لیے ہوئی کہ وہ اس حقیقت کو نہ سمجھ سکے کہ ہر صورتِ حال میں مختلف قسم کے مسائل ہوتے ہیں۔ عقل مند آدمی وہ ہے جو مسائل (problems) کو نظر انداز کرے اور مواقع (opportunities) کو استعمال کرے۔ فطرت کا اصول ہے لیکن موجودہ زمانے میں شاید کوئی بھی مسلم رہ نما فطرت کے اس اصول کو سمجھ نہ سکا۔ شاعر کے الفاظ میں ہر ایک کا انجام یہ ہوا ــــ خوش درخشید ، ولے شعلہ مستعجل بود
دبئی سے دہلی کے لیے دوبارہ عرب امریٹس کی فلائٹ (510 EK) سے واپسی ہوئی۔ کا وقت تھا۔ اس لیے زیادہ وقت کھانے پینے یا سونے میں گزرا، کوئی خاص واقعہ درمیان میں پیش نہیں آیا۔ 20 نومبر 2008 کی صبح 9 بجے ہمارا جہاز دہلی کے انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ میں جہاز سے باہر آیا تو میں نے دیکھا کہ ایئر پورٹ کا آدمی وہاں دوبارہ وییل چڑ لیے ہوئے کھڑا ہے۔ وہ مجھ کو وییل چڑ پر بٹھا کر تیزی سے لے چلا۔ میرے دونوں ساتھی بھی میرے ہم راہ تھے۔ ہم لوگوں کو ونڈو پر پہنچ کر ضروری اندراجات کروانا تھا۔ میں نے دیکھا کہ عام ونڈو پر کافی بھیڑ ہے۔ لیکن مجھ کو نئے راستے سے چلا کر ایک خاص ونڈو پر لے جایا گیا جو کہ خالی تھی۔ ہم تینوں کے کاغذات کو فوراً کلیر کر دیا گیا اور ہم جلد ہی ایئر پورٹ سے باہر آ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔ میں نے کہا کہ خدایا، اسی قسم کا زیادہ سخت مرحلہ آخرت میں پیش آنے والا ہے۔ اُس وقت تو میرے اور میرے ساتھیوں کے ساتھ اسی طرح آسانی کا معاملہ فرما۔ ہم لوگ ایئر پورٹ سے باہر نکلے تو ہمارے یہاں کے ایک کارکن مسٹر اشوک گاڑی کے ساتھ یہاں موجود تھے۔ ان کے ساتھ روانہ ہو کر ہم لوگ دوبارہ نظام الدین ویسٹ پہنچ گئے۔ 15 نومبر 2008 کی شام کو میں دہلی سے قبرص کے لیے روانہ ہوا تھا اور 20 نومبر 2008 کو میں دوبارہ دہلی واپس آگیا۔ جب میں اس سفر پر غور کرتا ہوں تو مجھے یہ پورا سفر ایک خواب معلوم ہوتا مولانا اقبال احمد سہیل (وفات: 1955) نے ایک طویل نظم لکھی تھی۔ اس نظم کا عنوان رویائے صادقہ (سچا خواب) تھا۔ اس نظم کے آخری دو شعر یہ تھے، جو کہ مجھے اپنے حسب حال معلوم ہوتے ہیں: محوِ نظارہ تھا میں، ناگاہ آئی یہ صدا آ گئی صبح مسرت، سونے والو ہوشیار یہ صدا سن کر یکایک میری آنکھیں کھل گئیں پھر وہی میں، اور وہی ہنگامہ لیل و نہار (یہ سفر نامہ مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے تیار کیا گیا)۔