World over, 1 in 4 persons is a Muslim.
Al-Risala, March 2010, pp. 5–10
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان اگر یہ فیصلہ کرے کہ وہ کم از کم چار غیر مسلموں تک خدا کی کتاب (قرآن) پہنچائے گا تو نہایت محدود مدت میں قرآن دنیا کے تمام مردوں اور عورتوں تک پہنچ جدید کمیونیکیشن کے دور سے پہلے یہ ایک بے حد مشکل کام تھا، لیکن اب جدید کمیونیکیشن کے ذرائع نے عالمی سفر کو ممکن بنا دیا ہے۔ عالمی سفر دراصل عالمی انٹریکشن کا دوسرا نام ہے۔ میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ عالمی سفر کو عالمی دعوت کا ذریعہ بنا دیا جائے۔ مسلمانوں کے اندر اگر دعوت کا جذبہ موجود ہو تو یہ ہوگا کہ ہر مسلمان ون مین، ون مشن (one man, one mission) کا کیس بن وہ ایک طرف سفر کرے گا، اور دوسری طرف وہ عالمی سطح پر قرآن کو پھیلانے کا کام کرے گا۔ ’’ادخال کلمہ‘‘ کی جو پیشین گوئی حدیث میں آئی ہے، وہ آج پوری طرح قابل عمل بن چکی ہے۔
ہم لوگ تین آدمی تھے۔ کانفرنس میں لوگوں کو دینے کے لیے ہم قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دوسرے اسلامی لٹریچر اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ ائیر پورٹ پر پہنچ کر ہمارے ساتھیوں نے اس کو چیک ان قطر کے اس سفر میں غیرمعمولی قسم کی سہولیات کا تجربہ ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ قطر کے اس چارروزہ سفر میں ہم کو غیرمتوقع طور پر اتنی زیادہ سہولتیں (facilities) حاصل رہیں کہ ان کو اگر شاہانہ سفر کہا جائے تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔
دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر ہم لوگ داخل ہوئے تو فوراً ہی ائرلائن کی ایک خاتون نے آگے بڑھ کر ہمارا استقبال کیا اور ہم کو ضروری رہنمائی دی۔ یہ منظر دیکھ کر دل سے دعا نکلی کہ خدایا، جب میں آخرت کے گیٹ پر پہنچوں تو وہاں بھی رحمت کا ایک فرشتہ اس عاجز انسان کے استقبال کے لیے موجود ہو۔
ہم لوگ ائیرپورٹ کے اندر داخل ہوئے تو حسب معمول یہاں بہت سے مسافر ہر طرف دکھائی دے رہے تھے، ہندوستانی بھی اور غیرہندوستانی بھی۔ میں نے اُن کو دیکھا تو میں نے محسوس کیا جیسے کہ ہرا ایک خاموش زبان میں یہ کہہ رہا ہے کہ— میرا واحد کنسرن اپنی دنیا کی زندگی کو بہتر بنانا ہے، میری زندگی کا فارمولا صرف یہ ہے:
Right here, Right now!
ائرپورٹ کی رسمی کارروائی کے بعد ہم لوگ وہاں کے لاؤنج (lounge) میں چلے گئے۔ میں مسافروں کے لیے ہرقسم کا اعلیٰ انتظام موجود تھا۔ لاؤنج میں میری ملاقات ایک عرب سے ہوئی ۔ مسقط (عمان) سے تعلق رکھتے تھے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ یہاں ''تبلیغ‘‘ میں آئے وہ عربی زبان کے علاوہ کچھ انگریزی بھی جانتے تھے۔ اُن سے میں نے گفتگو کی کوشش کی، مگر معلوم ہوا کہ وہ سادہ قسم کے آدمی ہیں اور زیادہ علمی بات کے عادی نہیں، ہمارے ساتھیوں نے ان کو سی پی ایس کا دعوتی لٹریچر دیا۔ مجھے اس قسم کے کئی تجربات پیش آئے ہیں۔ ان تجربات کی بنا پر میرا
احساس یہ ہے کہ عرب کے جو لوگ یہاں تبلیغ میں آتے ہیں، وہ دراصل عرب کے ’’میواتی‘‘ ہوتے ہیں، نہ کہ وہاں کے اہلِ علم۔
حبیب بھائی (حیدر آباد) سے دوسری بار ٹیلی فون پر بات ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ دین میں سب سے زیادہ اہمیت شکر کی ہے۔ ہماری زندگی میں بار بار ایسے واقعات پیش آتے ہیں جو شکر کے جذبے کو گھٹانے والے ہوتے ہیں۔ ایسے موقع پر مومن کو بہت زیادہ باشعور ہونا چاہئے۔ لیے شکر کا ایروژن (erosion) نا قابلِ برداشت ہونا چاہئے۔
اصل یہ ہے کہ اگر کسی معاملے میں 99 فی صد شکر کی بات ہو اور صرف ایک فی صد منفی بات تو شیطان یہ کرتا ہے کہ وہ ایک فی صد منفی بات کو اتنا زیادہ بڑھاتا ہے کہ 99 فی صد مثبت بات آدمی کی نظر سے اوجھل ہو جاتی ہے۔ وہ شکر کے سمندر میں رہتے ہوئے بھی ناشکری کے احساس میں جینے لگتا ہے۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہئے کہ وہ فوراً یہ کہے کہ: اللهم إني أعوذ بك من همزات الشياطين ۔ اس کے بعد ان شاء اللہ، شیطان بھاگ جائے گا۔ یہ صرف عقیدہ کی بات نہیں، بلکہ یہی میرا تجربہ ہے۔ میں نے کہا کہ ناشکری کی کوئی بات دماغ میں آئے تو آدمی کو چاہئے کہ وہ اس کو سرتا سر بے اصل سمجھے۔ کسی بھی عذر کی بنا پر وہ اس کو اپنے دماغ میں جگہ نہ دے۔ وہ اس کو بداہۃً قابلِ رد (prima facie its stands rejected) سمجھتے ہوئے فی الفور اپنے دماغ سے نکال دے۔ دہلی ایئر پورٹ پر میں نے قدم قدم پر خدا کی نصرت اور رحمت کے ایسے مناظر دیکھے کہ میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے— خدایا، اگر میں دنیا کی تمام زبانیں جانتا اور تمام زبانوں کی ڈکشنریوں کے تمام الفاظ مجھ کو یاد ہوتے اور میں تیری حمد اور تیرا شکر ادا کرتا تو میں اس کا حق ادا نہیں کر سکتا تھا۔ خدایا، اگر دنیا کے تمام درخت میرے لیے قلم بنائے جاتے اور تمام سمندر میرے لیے سیاہی ہوتے اور میں تیرے احسانات کو لکھنے بیٹھتا تو یقیناً ایسا ہوتا کہ تمام قلم ختم ہو جاتے اور تمام سمندر خشک ہو جاتے، تب بھی تیری حمد کا بیان ختم نہ ہوتا۔ یہ الفاظ جب میری زبان پر آئے تو اُس وقت میں نے سوچا کہ قرآن (لقمان: 27) میں جو یہ
بات کہی گئی ہے، بظاہر وہ خدا کی طرف سے ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ انسانی جذبات کا اظہار وہ علمِ الہی کا بیان نہیں، بلکہ وہ بندہ مومن کا احساس ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ کائنات میں تدبر کر کے آلاءِ خداوندی کو اس طرح دریافت کرے کہ واقعۃً اس کو یہ محسوس ہونے لگے کہ تمام درختوں کے قلم اور تمام سمندروں کی سیاہی بھی اس کے جذبات کو بیان کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ سفر کے دوران میں نے بہت سے لوگوں کو دیکھا، بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ میں ہر مذہب کے لوگ شامل تھے۔ اس تجربے سے میرے اندر ایک عجیب احساس پیدا ہوا، وہ یہ کہ تمام لوگ خدا کی پکڑ سے بالکل بے خوف ہو چکے ہیں۔ ہر مذہبی گروہ نے ایسے فلسفے گھڑ لیے ہیں جس میں سب کچھ ہے، لیکن خدا کی پکڑ (accountability) کا ذکر اس کے اندر موجود نہیں۔ پنرجنم کے فلسفے نے ہندوؤں کو بے خوف کر دیا، کفّارے کے عقیدے نے عیسائیوں کو بے خوف کر دیا، شفاعت کے عقیدے نے مسلمانوں کو بے خوف کر دیا، منتخب گروہ (chosen people) کے عقیدے نے یہود کو بے خوف کر دیا، شیطان کا سب سے بڑا حربہ اسی قسم کے مغالطہ آمیز عقائد اور فلسفے ہیں۔ اپنے ایک ساتھی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ غسل (bath) کو مسلمان عام طور پر صرف طہارت کا ایک حصہ سمجھتے ہیں، حالاں کہ غسل، نظافت (cleanness) کا ایک حصہ ہے۔ ایک بار میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوؤں کی ایک مجلس میں شریک تھا۔ گفتگو کے دوران ایک ہندو نے کہا کہ مسلمان تو صرف جمعہ نہاتے ہیں۔ مسلمانوں کے یہاں صفائی کا کوئی تصور نہیں۔ کہا کہ یہ بات آج کل کے مسلمانوں کے بارے میں درست ہوسکتی ہے، مگر یہ بات دورِ اول کے مسلمانوں کے بارے میں درست نہیں۔ میں نے کہا، خلیفہ سوم حضرت عثمان بن عفان کے ایک خادم اُن کے بارے میں کہتے ہیں کہ: کان يغتسل کل يوم مرّة أو مرّتين (وہ ہر دن ایک بار یا دو بار غسل کرتے تھے)۔ اس کو سن کر سارے ہندو بہت خوش ہوگئے ۔ حاضرین میں سے ایک سوامی چیدانند (رشی کیش) نے کہا کہ ہم کو معلوم نہیں تھا کہ اسلام میں اتنی اچھی اچھی باتیں ہیں ۔ آپ ہم کو اسلام ان ڈیلی لائف (Islam in Daily Life) کے موضوع پر تین سوصفحات کی ایک کتاب تیار کر کے دیجیے۔
ہم اس کو دس زبانوں میں چھاپیں گے اور اس کو ساری دنیا میں پھیلائیں گے۔
19 اکتوبر 2009 کی صبح کو ہم لوگ قطر ائر لائنز کی فلائٹ (233 QR) میں داخل ہوئے۔ دہلی سے قطر کی دوری تقریباً 3 ہزار کلومیٹر ہے۔ یہ سفر تین گھنٹے میں طے ہوا۔ قطر ائر لائنز ایک ٹاپ کی ہوائی کمپنی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے اندر جب میں بیٹھا ہوا تھا تو ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے کہ ایک فلائنگ پیلیس (flying palace) ہے اور میں اس کے اندر ایک تخت نما کرسی پر بیٹھا ہوا پرواز کر رہا ہوں۔ دیکھ کر میری زبان پر یہ دعا جاری ہوگئی— خدایا، دنیا میں تو نے مجھ کو سب کچھ دے دیا، آخرت میں بھی تو مجھ کو سب کچھ دے دے۔ کوئی شریف انسان دینے کے بعد نہیں چھینتا۔ تو تمام شریفوں سے زیادہ اعلیٰ اور تجھ سے میں یہی امید رکھتا ہوں کہ تو آخرت میں اس عاجز بندے کے ساتھ اُس سے زیادہ بہتر معاملہ فرمائے گا جو دنیا میں تو نے اس کے ساتھ کیا ہے۔
جہاز کے اندر مختلف قسم کے میگزین اور اخبار مطالعے کے لیے موجود تھے۔ ان میں مختلف قسم کی تصویریں چھپی ہوئی تھیں۔ ان تصویروں کو دیکھ کر میری زبان پر یہ الفاظ آئے ـــ خدایا، تو نے کچھ لوگوں کو انسان قوی بنایا اور کچھ لوگوں کو انسان ضعیف۔ جو انسان قوی تھا، وہ ”رَبِّي أَكْرَمَنِ“ کی نفسیات میں مبتلا جو انسان ضعیف تھا، وہ ”رَبِّي أَهَانَنِ“ کی نفسیات میں جینے لگا۔ قوت اور ضعف دونوں امتحان کی حالتیں تھیں، لیکن قوی اور ضعیف دونوں قسم کے انسان اپنے امتحان میں فیل ہوگئے ۔ دونوں کا یہ حال ہوا کہ وہ خدا کے تخلیقی پلان کو سمجھے بغیر زندگی گزارتے رہے، اور آخر کار وہ مرکر اس دنیا سے چلے گئے۔ جہاز کے اندر نیویارک ٹائمس کے گلوبل ایڈیشن کا شمارہ 18-17 اکتوبر 2009 دیکھا۔ شمارے میں ایک امریکی جزلسٹ ڈیسٹر فلکنَس (Dexter Filkins) کا لکھا ہوا انٹرویو چھپا تھا۔ انٹرویو انھوں نے افغانستان میں مقیم امریکا کے فوجی افسر جنرل میک کرسٹل (Mc Chriystal) سے لیا اس میں بتایا گیا تھا کہ اس وقت افغانستان میں امریکا کے 65,000 فوجی موجود ہیں۔ میک کرسٹل نے مزید 40,000 فوجیوں کا مطالبہ کیا ہے۔ انٹرویو میں امریکا کے مذکورہ فوجی افسر نے اپنی کسی کامیابی کا ذکر نہیں کیا تھا۔ البتہ آخر میں انھوں نے عراق کی حالیہ جنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ـــ عراق کا ایک سبق یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی حال میں اپنا اعتماد نہیں کھونا چاہیے: One of the big takeaways from Iraq was that, you have to not lose confidence in what you are doing. (p. 4)
دوسرے لفظوں میں یہ کہ ہمیں مایوسی میں بھی امید پر قائم رہنا چاہیے۔ عجیب بات ہے کہ اس سے پہلے سوویت روس نے افغانستان میں فوجی اقدام کر کے اپنے سپر پاور ہونے کی حیثیت کو کھودیا اب امریکا اسی علاقے میں فوجی اقدام کر کے دوبارہ اُسی انجام سے دوچار ہورہا ہے۔ کا سب سے زیادہ انوکھا سبق یہ ہے کہ کسی نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔
فلائٹ کے اندر دوحہ (قطر) سے نکلنے والا ایک اور اخبار (The Peninsula) کا شمارہ 19 اکتوبر 2009 موجود تھا۔ اس کی ایک خبر کا عنوان یہ تھا: