Vodafone Qatar Celebrates Diwali
Al-Risala, March 2010, pp. 11–47
By Maulana Wahiduddin Khan
خبر میں بتایا گیا تھا کہ کمپنی نے دوحہ کے ایک رزارٹ (Sealine Beach Resort) میں دیوالی کا تہوار منایا۔ اس رزارٹ کو انڈیا کے انداز میں سجایا گیا اور اس کا نام لٹل انڈیا (Little India) رکھ دیا گیا۔ کمپنی نے دو ہزار دیوالی گفٹ باکس، برلا پبلک سکول کے بچوں کو دیا، اور چھ ہزار دیوالی گفٹ باکس وہاں کے سوق ایریا میں کام کرنے والوں کے درمیان تقسیم کیا۔ اس موقع پر کمپنی نے اعلان کیا کہ:
Vodafone aims to ‘make a world of difference for all people in Qatar’ قطر ایک مسلم ملک ہے، لیکن وہاں پچاس فی صد سے زیادہ غیر ملکی آباد ہیں۔ یہ لوگ قطر میں اپنے تہوار مناتے رہتے ہیں۔ یہ جدید گلوبلائزیشن کا ایک ظاہر ہے۔ مسلم مبصرین عام طور پر اس ظاہر ے کو منفی معنوں میں لیتے ہیں، لیکن اس ظاہر ے کا ایک عظیم مثبت پہلو ہے، اور وہ دعوت کا پہلو موجودہ زمانے میں گلوبلائزیشن کی وجہ سے ایسا ہوا ہے کہ مدعو خود داعی کے پاس پہنچ گیا ہے۔ لحاظ سے، گلوبلائزیشن بلاشبہ ایک عظیم نعمت ہے۔
اپنے ایک ساتھی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ زندگی کی کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن کو ساری عمر بھگتنا پڑتا ہے، کچھ ناخوش گوار چیزوں کو آخری حد تک برداشت کرنا ہوتا ہے۔ قانون فطرت کے مطابق، اُن کا خاتمہ ممکن نہیں ہوتا۔ مثلاً ترکی کی عثمانی خلافت 1929 ختم ہوئی تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، تقسیم کے بعد 1947 میں پاکستان نے کشمیر کو کھو دیا تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، 1948 میں فلسطین کی تقسیم ہوئی تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، 1992 میں بابری مسجد ڈھادی گئی تو اس کو برداشت ہی کرنا تھا، وغیرہ۔ مگر ہمارے رہنما ان واقعات کو برداشت کے خانے میں نہ ڈال سکے۔ کے نتیجہ میں مزید تباہی کے سوا اور کچھ نہیں ملا۔
تقریباً تین گھنٹے کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز دوحہ (قطر) کے ائیر پورٹ پر اترا۔ مجھے چوں کہ ویل چیئر استعمال کر کے باہر جانا تھا، اس لیے مجھ سے کہا گیا کہ آپ سیٹ پر بیٹھے رہیں۔ اس کے بعد ہوائی جہاز کا ایک مخصوص دروازہ کھولا گیا۔ اس دروازے کے پاس وہ گاڑی لائی گئی جس کو ہائی لفٹ
(highlift) کہا جاتا ہے۔ ہائی لفٹ اوپر اٹھ کر ہوائی جہاز کے دروازے کے برابر آگئی۔ ہوائی جہاز سے نکل کر اس کے اندر داخل ہو گیا اور وہیل چیئر پر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد ہائی لفٹ نیچے آئی اور وہاں سے روانہ ہو کر ائر پورٹ کے لاؤنج میں پہنچی۔ یہ منسٹری لاؤنج (ministry lounge) تھا۔ وہ اپنے آپ میں ایک چھوٹے محل کے مانند تھا۔ یہاں ہم لوگوں کو آرام دہ نشستوں پر بٹھا دیا گیا۔ پورٹ کی بقیہ کارروائی اسٹاف کے لوگوں نے انجام دی۔ ائر پورٹ پر ہم لوگوں کو سیو کرنے کے لیے کانفرنس کے لوگوں کے علاوہ، مولانا عبد الباسط عمری اپنے ساتھیوں کے ہم راہ موجود تھے۔ سے بذریعہ کار روانہ ہو کر ہم لوگ ہوٹل شیریٹن (Sheraton) پہنچے۔ یہ غیر معمولی طور پر ایک بہت بڑا وہ یہاں کا ٹاپ کا ہوٹل سمجھا جاتا ہے۔
ہوٹل پہنچنے کے بعد پہلے مجھ کو رسیپشن (reception) کے ایک حصے میں بٹھا دیا گیا۔ شاہی محل کے انداز میں بنایا گیا ہے۔ وہاں بیٹھتے ہی خصوصی تواضع شروع ہو گئی۔ اس منظر کو دیکھ کر میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہو گئے— خدایا، تجھ سے میں نے اپنے عجز کی تلافی کی دعا کی تھی۔ تو نے اکرام کے درجے میں میرے ساتھ معاملہ فرمایا۔
رسیپشن کی ضروری کارروائی کے بعد ہم لوگ ہوٹل کی پانچویں منزل پر واقع تین کمروں میں دو عام کمرے اور ایک سوئٹ (Suite 512)۔ میں نے سوئٹ میں داخل ہوتے ہی فوراً اے سی بند کروادیہ۔ یہ ہوٹل بحر عرب کے کنارے بنایا گیا ہے اور سوئٹ بحر عرب کے بالکل کنارے واقع تھا۔ سوئٹ کی بالکنی میں بیٹھ کر دور تک سمندر کے مناظر دکھائی دیتے تھے۔ ہوٹل میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ٹینشن کی شکایت کی۔ میں نے کہا کہ ٹینشن ایک غیر فطری چیز ہے۔ ٹینشن فری لائف کا واحد فارمولا یہ ہے کہ آدمی ٹینشن کے ساتھ جینے کا آرٹ جان لے، وہ نا قابلِ اصلاح مسائل کے ساتھ موافقت کا راز سیکھ لے، وہ ٹینشن کو زندگی کے ایک مثبت حصے کے طور پر دریافت کرلے۔ ایسا کرنے کے بعد اُس کا ٹینشن ٹینشن نہ رہے گا، بلکہ وہ نارمل لائف کا ایک فطری حصہ بن جائے گا۔
ہوٹل میں کچھ اہلِ علم حضرات سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر القرون قرنی، ثم الذین یلونهم، ثم الذین یلونهم (صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب فضائل أصحاب النبی) اس حدیث کے مطابق، اسلام کی تاریخ میں تین أدوار مستند ادوار کی حیثیت رکھتے ہیں—دورِ رسالت، دورِ صحابہ، دورِ تابعین۔ ان تین ادوار (periods) کو ”قرون مشہود لہا بالخیر“ کہا جاتا ہے، یعنی وہ دور جن کے بر سرِ خیر ہونے کی گواہی دی گئی ہے۔ اس معیار کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو وہ تمام شخصیتیں جن کو بعد کے مسلمانوں نے اکابر کا درجہ دے دیا، وہ سب کے سب غیر اکابر تھے۔ کیوں کہ وہ قرون مشہود لہا بالخیر کے بعد آنے والے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس معیار کے مطابق ، صرف رسول، اصحابِ رسول اور تابعین، امت میں اکابر کا درجہ رکھتے ہیں۔ بعد کے تمام لوگ، امام ابو حنیفہ کے قول کے مطابق، هم رجال و نحن رجال کا مصداق ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھتے تو ”اکابر“ کا تصور امت میں ایک تباہ کن بدعت نظر آئے گا۔ کیوں کہ اس تصور کے مطابق، یہ ہوتا ہے کہ غیر معیاری انسان معیار کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں، قابلِ تنقید انسان، تنقید سے بالا تر قرار پاجاتے ہیں۔
کوئی شخص اگر یہ کہے کہ ختمِ نبوت کے بعد بھی کوئی نبی آسکتا ہے تو تمام علماء اس کی تکفیر و تضلیل میں سرگرم ہوجاتے ہیں، مگر جن لوگوں نے حدیث میں مذکورہ تین مستند ادوار کے بعد ایک نئے مستند دور (دور اکابر) کا اضافہ کیا، اُن کے خلاف بولنے والا کوئی نہیں۔
20 اکتوبر 2009 کی شام کو عشاء کے بعد قطر میں مقیم علماء تقریباً ایک درجن کی تعداد میں میرے کمرے میں اکٹھا ہوئے۔ یہ سب عمری علماء تھے، یعنی جامعہ دار السلام، عمر آباد (تمل ناڈو) کے قطر میں تقریباً ڈیڑھ سو کی تعداد میں عمری علماء موجود ہیں۔ یہاں ان لوگوں کی ایک باقاعدہ تنظیم قائم ہے۔ ہر عمری عالم ہر ماہ اپنی آمدنی کا ایک حصہ اپنی تنظیم کو دیتا ہے۔ یہ رقم دینی اور دعوتی ضرورت کے لیے خرچ کی جاتی ہے۔ یہاں ان عمری حضرات کا ماہانہ اجتماع ہوتا ہے۔ اس طرح وہ لوگ آپس میں جڑے رہتے ہیں۔ ہر ایک پابندی کے ساتھ اور رضا کارانہ طور پر اپنی ذمے داری کو ادا
ان کے درمیان مکمل اتحاد ہے۔ مختلف مدارس کے فارغین بڑی تعداد میں مختلف ملکوں میں رہتے ہیں، لیکن میرے علم کے مطابق، کہیں بھی ان کے درمیان اس قسم کا اتحاد موجود نہیں۔ ان حضرات سے دیر تک مختلف موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ میرا اصل موضوع تحدیات عصریہ ہے، یعنی جدید فکری چیلنج کے مقابلے میں اسلام کے نقطۂ نظر کی جدید علمی سطح پر وضاحت۔ اسی بنا پر مصر کے ایک عالم نے میری کتاب ”الإسلام يتحدّی“ کا سب ٹائٹل (sub title) ان الفاظ میں مقرر کیا تھا: مدخل علمي إلى الإيمان۔ گفتگو کے دوران ایک عمری عالم نے کہا کہ آپ صبر اور ایڈجسٹمنٹ کی بات بہت زیادہ کرتے ہیں، آخر کب تک ایسا کیا جائے ۔ میں نے کہا کہ صبر اور ایڈجسٹمنٹ (adjustment) کی اہمیت تو آپ خود اپنے تجربے سے سمجھ سکتے ہیں۔ آپ یہاں ایک خلیجی ملک میں ہیں۔ یقینی طور پر آپ کے لیے ایسے مسائل ہوں گے جن کو آپ پسند نہ کرتے ہوں، لیکن آپ ان کے ساتھ ایڈجسٹ کر کے یہاں رہ رہے ہیں۔ اس لیے کہ آپ جانتے ہیں کہ ایڈجسٹ کرنے میں آپ کو اپنے اسی تجربے کی بنا پر آپ میرے نقطۂ نظر کی اہمیت سمجھ سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایڈجسٹ مینٹ ایک عمومی فطری اصول ہے۔ یہ اصول جس طرح آپ کے لیے مفید ہے، اسی طرح وہ دوسرے تمام لوگوں کے لیے مفید ہے۔
میں نے کہا کہ عرب ملکوں میں باہر کے جو مسلمان رہتے ہیں، وہ عملاً یہاں سیکنڈ کلاس کے شہری (second class citizen) بن کر رہتے ہیں، جب کہ یہی مسلمان ہندوستان میں یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہم کو سیکنڈ کلاس شہری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ حالاں کہ میرے تجربے کے مطابق، یہ بات عرب ملکوں کے بارے میں تو ضرور صحیح ہے، مگر وہ ہندوستان کے بارے میں یقینی طور پر درست نہیں۔ طور پر میں ہندوستان میں مہاتما گاندھی اور یہاں کے دوسرے ہندو لیڈروں پر تنقید کرتا ہوں۔ تنقید یہاں کے ہندی اور انگریزی اخباروں میں چھپتی ہے، لیکن اس بنا پر یہاں میرے لیے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا، جب کہ اگر کوئی شخص عرب ملکوں میں وہاں کے سربراہِ سلطنت پر تنقید کرے تو وہاں اس کا
رہناہی سرے سے ناممکن ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک واقعہ یہاں قابلِ ذکر ہے۔ یہ واقعہ میں نے اپنی ڈائری میں 25 جولائی 2009 کو ان الفاظ میں نقل کیا تھا:
”میرے ایک ساتھی مولانا ابو صالح انیس لقمان ندوی ابوظبی (امارات) میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ابوظبی میں کئی ہزار پاکستانی مسلمان غیر قانونی طور پر مقیم تھے۔ اُن کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا۔ انیس لقمان صاحب نے اس سلسلے میں حکومت سے استرحام (plea for mercy) کی بنیاد پر حکم کو واپس لینے کی کوشش کی۔ آخر کار، حکومت نے اپنے حکم کو واپس لے لیا۔ ابوظبی میں پاکستان کے سفیر اس واقعے پر بہت خوش ہوئے۔ نے انیس لقمان صاحب سے کہا کہ آپ کو ہم اعزازی طور پر پاکستان کی شہریت (citizenship) دینا چاہتے ہیں۔ انیس لقمان صاحب نے کہا کہ میں اس کو دو شرطوں پر قبول کر سکتا ہوں— ہم انڈیا کے فادر آف دی نیشن مہاتما گاندھی پر تنقید کرتے ہیں اور وہاں ہماری کوئی پکڑ نہیں ہوتی۔ کیا آپ اس کی اجازت دیں گے کہ میں پاکستان میں وہاں کے فادر آف دی نیشن مسٹر محمد علی جناح پر تنقید کروں اور میری کوئی پکڑ نہ ہو۔ پاکستانی سفیر نے کہا انیس لقمان صاحب نے دوسری بات یہ کہی کہ انڈیا میں ایک مسلمان ”مسلم انڈیا“ کے نام سے میگزین نکالتا ہے۔ کیا آپ پاکستان میں ہندو کو اجازت دیں گے وہ پاکستان میں ”ہندو پاکستان“ کے نام سے میگزین نکالے۔ پاکستانی سفیر نے کہا کہ نہیں۔ صاحب نے کہا کہ پھر مجھے ایسے ملک کی شہریت بھی قبول نہیں۔ ایک عمری عالم نے سوال کیا کہ آپ کا ایک دینی اور دعوتی مشن ہے، پھر آپ سیاسی موضوعات پر کیوں بولتے ہیں۔ میں نے کہا کہ میرا اصل موضوع تحدیاتِ عصریہ ہے، یعنی جدید ذہن کے مطابق، علمی سطح پر اسلام کی تبیین۔ میری تمام تحریریں براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی موضوع سے تعلق رکھتی میں نے کہا کہ اسی قسم کا اعتراض اس سے پہلے سرسید پر کیا گیا تھا۔ اُس وقت اس کا جواب دیتے ہوئے مولانا شبلی نعمانی نے لکھا تھا کہ جو لوگ سرسید کی بعض باتوں پر اعتراض کرتے ہیں، انھوں نے
سرسید کے شاہ نامہ میں سے صرف ’’منیرہ منم‘‘ کو یاد کر رکھا ہے۔
آج عرب ملکوں کے شہر مادی ترقی کے اعتبار سے یورپ کا نمونہ معلوم ہوتے ہیں، لیکن اب سے صرف چالیس سال پہلے ایسا نہ تھا۔ اُس وقت عرب کے لوگ معاشی اعتبار سے نہایت پس ماندہ سمجھے جاتے تھے۔ اُس وقت برصغیر ہند کے دولت مند لوگ عربوں کو مالی مدد بھیجا کرتے تھے۔ دکن میں مدینہ کے نام پر ایک وقف قائم کیا گیا تھا جس کے وقف نامے میں لکھا ہوا تھا کہ اس کی آمدنی مدینہ کے غرباء کے لیے بھیجی جائے گی۔
مولا نا شبلی نعمانی (وفات: 1914) نے 1892ء میں مصر کا سفر کیا تھا۔ انھوں نے لکھا ہے کہ اسکندریہ میں سڑک کے کنارے عرب لوگ معمولی سامان بیچتے تھے اور اپنے سامان کو بیچنے کے لیے کہتے تھے: برأس سیدنا الحسین۔
اس سلسلے میں مجھے خود اپنا ایک واقعہ یاد آتا ہے۔ میری نوجوانی کے زمانے میں عرب کے فقراء ’’مسافر‘‘ کے نام پر ہندوستان آیا کرتے تھے، تا کہ وہ یہاں سے اپنے لیے کچھ تعاون حاصل کرسکیں۔ اِسی قسم کے ایک عرب مسافر ایک بار اعظم گڑھ یوپی میں میرے گاؤں آئے تھے۔ یہ غالباً 1940 کا میں نے اُن کو اپنے گھر ٹھہرایا۔ شام کا کھانا کھانے کے بعد وہ میرے گھر کے مردانہ حصے میں اگلے دن صبح کو جب میں اُن سے ملا تو اُنھوں نے کہا کہ: ما كان النوم معنا بالليل (رات کو میں سو نہ سکا)۔ اُن کا مطلب یہ تھا کہ مچھروں کی وجہ سے مجھ کو نیند نہیں آئی۔ صبح کے ناشتے کے بعد وہ پھر کہیں دوسری جگہ چلے گئے۔
اسی طرح کے ایک عرب مسافر کا واقعہ میرے چچا زاد بھائی مولانا اقبال احمد خان سہیل (وفات: 1955) نے بتایا تھا۔ جس زمانے میں وہ علی گڑھ میں زیرِ تعلیم تھے، وہاں ایک عرب مسافر اُن لوگوں نے عرب مسافر کو کچھ کھانے کی چیز پیش کی۔ اس کے بعد مذکورہ عرب مسافر نے کچھ کہا جو اُنھیں اس طرح سنائی دیا: جَب شیطان۔ سہیل صاحب کو اور ان کے ساتھیوں کو اس کا مطلب سمجھ میں نہ آیا۔ بار بار پوچھنے پر معلوم ہوا کہ عرب مسافر یہ کہہ رہا تھا: جئی بشیئ ثان، یعنی کوئی دوسری چیز
کھانے کے لیے لے آؤ۔
قطر کے بارے میں مجھے بتایا گیا کہ قطر کے حکام (امیرِ دولتِ قطر) چالیس سال پہلے خچر پرسواری کرتے تھے۔ یہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ مگر یہاں زمین کے نیچے گیس کے ذخیرے دریافت اس گیس کے ذریعے تقریباً ایک درجن مختلف چیزیں بنتی ہیں۔ قطر گیس کے معاملے میں دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ گیس کی دریافت کے بعد صرف چند سالوں کے اندر قطر مغرب جیسا ترقی یافتہ ملک بن گیا۔ دوحہ یہاں کا دارالسلطنت ہے۔ دوحہ شہر کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ یورپ کے کسی انتہائی ترقی یافتہ علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔
ایک عالم سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ اسلام کے موضوع پر قدیم عربی کتابیں ہیں، صرف اُنھیں کو پڑھنا چاہیے۔ موجودہ زمانے میں اسلام کے بارے میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں، ان کو پڑھنا غیر ضروری ہے۔ انھوں نے اپنے بارے میں کہا کہ میں صرف قدیم عربی کتابیں پڑھتا ہوں۔ آج کل اسلام کے بارے میں جو کتابیں لکھی گئی ہیں، میں اُن کو پڑھتا ہی نہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ غیر مسلموں میں دعوت کا کام کرتے ہیں۔
میں نے کہا کہ اسلام اگر صرف تاریخ کا موضوع ہو تو آپ کی یہ روش درست قرار پائے گی۔ لیکن اسلام صرف تاریخ کا موضوع نہیں ہے۔ اسلام کی یہ منشا ہے کہ ہر دور کے لوگ اسلام کو ایک ابدی سچائی کے طور پر دریافت کریں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ زمانہ ایک بدلا ہوا زمانہ ہے۔ اگر روایتی دور تھا تو موجودہ دور سائنٹفک دور ہے۔ موجودہ دور کے ذہن کو اگر آپ اسلام کی صداقت پر مطمئن کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو جدید اسلوب (modern idiom) میں بولنا پڑے گا۔ میں آپ پر لازم ہے کہ آپ جدید افکار (modern thought) سے واقفیت حاصل کریں، تاکہ آپ جدید انسان کو اس کی قابلِ فہم زبان میں ایڈریس کرسکیں۔
میں نے کہا کہ ایک کام ہے مسلمانوں کو نماز، روزہ کے مسائل بتانا۔ دوسرا کام ہے جدید ذہن کو اسلام کی صداقت پر مطمئن کرنا۔ مسلمانوں کو نماز، روزہ کے مسائل بتانے کے لیے قدیم کتابوں کا
مطالعہ کافی ہوسکتا ہے، لیکن اسلام کی دعوت کو موثر اسلوب میں پیش کرنے کے لیے جدید افکار سے واقفیت لازمی طور پر ضروری ہے۔
ایک صاحب جو قطر کی ایک مسجد میں امام ہیں اور اپنی فیملی کے ساتھ یہاں رہتے ہیں، انھوں نے کھانے کے لیے اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔ میں نے کہا کہ میں صرف اس شرط پر آؤں گا کہ آپ بالکل سادہ کھانے کھلائیں۔ پھر میں نے کہا کہ سادہ کھانے کی تعریف یہ ہے کہ آپ روزانہ جو کھانا کھاتے ہیں، وہی کھانا ہم کو کھلائیں۔ اس میں کسی اور آئٹم کا اضافہ نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ مگر حدیث میں آیا ہے کہ: مَن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم اس حدیث کے مطابق، مہمان کا اکرام کرنا بھی مومن کی ایک صفت ہے۔ میں نے کہا کہ اکرام ضیف دل سے ہوتا ہے، نہ کہ پُر تکلف کھانا کھلانے سے، جس کا آج کل عام رواج ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے مہمان سے محبت کے ساتھ ملیں، اس کی سچی محبت کریں، اس کے ساتھ خیر خواہی کا معاملہ کریں۔ ضیف کا اکرام دل سے ہوتا ہے، نہ کہ انواع واقسام کا کھانا کھلانے سے۔ آج کل مسلمانوں میں ایک بات بہت زیادہ کہی جاتی ہے، وہ یہ ہے کہ ـــــ اسلاف کی پیروی یہ بات بظاہر درست معلوم ہوتی ہے، لیکن عملی اعتبار سے دیکھیے تو اس میں پوری امت کے لیے کوئی واضح رہنمائی پائی نہیں جاتی۔ پیروی کا لفظ ایک واحد نقطۂ اتحاد (point of unity) چاہتا ہے، لیکن ’’اسلاف کی پیروی‘‘ کے لفظ میں کوئی واحد نقطۂ اتحاد موجودنہیں۔
حدیث کی ایک پیشین گوئی موجودہ زمانے میں واقعہ بن چکی ہے، وہ یہ کہ امت مختلف گروہوں میں بٹ گئی ہے۔ مثلاً سلفی گروہ، حنفی گروہ، بریلوی گروہ، شیعہ گروہ، اسی طرح ندوی گروہ، دیوبندی گروہ، ان میں سے ہرگروہ کے اپنے اپنے اکابر ہیں۔ ہرایک کے اکابر اس کے لیے اپنے اسلاف کا درجہ مثلاً اہل حدیث کے اکابر امام ابن تیمیہ اور امام ابن قیم ہیں، احناف کے اکابر امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف ہیں۔ اسی طرح دیوبندیوں کے اکابر مولانامحمد قاسم نانوتوی اورمولانا حسین احمد مدنی ہیں، اور ندویوں کے اکابر مولانا سید سلیمان ندوی اور مولاناسید ابوالحسن علی ندوی ہیں، وغیرہ۔
ایسی حالت میں اگر یہ کہا جائے کہ ”اسلاف کی پیروی کرو‘‘ تو اس اصول کو جاننے کے باوجود اس کا مفہوم ایک نہیں ہوگا، بلکہ کئی ہو جائے گا، ہر ایک اپنے اکابر سلف کو الگ الگ اپنا مقتدا سمجھے گا۔ اس طرح امت بدستور مختلف گروہوں میں بٹی رہے گی، جیسا کہ وہ اس وقت بٹی ہوئی ہے۔ اس کے بجائے اگر لوگوں کو یہ بتایا جائے کہ رسول اور اصحاب رسول کی پیروی کرو تو لوگوں کو واحد نقطۂ پیروی مل جائے گا، کیوں کہ اس معاملے میں امت کے مختلف گروہوں کے درمیان کوئی ایک ہی رسول ہر ایک کے لیے رسول ہے اور ایک ہی جماعت صحابہ ہر ایک کے لیے جماعت صحابہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسا کہنے کی صورت میں ہر ایک کو مشترک طور پر ایک ہی نقطۂ پیروی مل جائے گا، اور وہ ہے رسول اور اصحاب رسول کی پیروی۔ یہی طریقہ قرآن اور سنت کے مطابق ہے، اور اس طریقے کے ذریعے امت کے اندر صحیح ذہن اور اتحاد پیدا ہوسکتا ہے۔ ایک صاحب نے حجر اسود کے بارے میں سوال کیا۔ اُن کا سوال ان کے الفاظ میں یہ تھا: In the last lecture (18 Oct. 2009) you said that Black Stone (Hajar al Aswad) is just a stone and Prophet Ibrahim took from one of the mountains, that it is just a starting point for Tawaf. Why did Prophet Muhammad kiss it and all Muslims want to kiss it, if this is just a stone taken from a mountain? میں نے اس سوال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حجر اسود کوئی پر اسرار پتھر نہیں۔ حدیث موجود نہیں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظاً یہ کہا ہو کہ تم لوگ حجر اسود کو بوسہ دو۔ حجر اسود کی حیثیت صرف طواف کے لیے ایک نقطۂ آغاز (starting point) کی ہے۔ ایک حاجی اگر حجر اسود کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے اپنا طواف شروع کرے تو یہ بھی عین درست ہوگا، اس سے اُس کے حج میں کوئی کمی واقع نہ ہوگی۔ خلیفۂ ثانی حضرت عمر فاروق کے بارے میں روایات میں آیا ہے کہ: أنه جاء إلى الحجر الأسود فقبله فقال: إنى أعلم أنك حجرٌ، لا تضر ولا تنفع، ولولا أني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يُقبّلك، ما قبلتك (صحیح البخاری، کتاب
انہوں نے اس کو بوسہ دیا، پھر انہوں نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ تو صرف ایک پتھر ہے، تو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھ کو ہرگز بوسہ نہ دیتا۔
حضرت عمر فاروق کے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ حجر اسود کوئی پر اسرار پتھر نہیں۔ ساتھ یہ عقیدہ وابستہ نہیں کہ وہ کوئی نقصان یا فائدہ پہنچانے کی طاقت رکھتا ہے، جیسا کہ بتوں کے متعلق سمجھا جاتا ہے۔ وہ صرف آغاز طواف کا ایک نشان ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
اب یہ سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کا بوسہ کیوں دیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ حجر اسود پیغمبر ابراہیم کی ایک یادگار (momento) ہے، وہ ایک عظیم پیغمبرانہ تاریخ کی یاد دلاتا حجر اسود کو بوسہ دینا دراصل پیغمبر ابراہیم کے لیے اپنے جذبات محبت کا اظہار ہے، نہ کہ کسی بت کے لیے جذبات پرستش کا اظہار۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ کسی بچھڑے ہوئے محبوب کی کوئی چیز ملے تو آدمی اس کو لے کر مختلف طریقے سے اپنے جذبات کا اظہار کرتا ہے، وہ کبھی اس کو چومتا ہے، کبھی اس کو اپنے سر پر رکھتا ہے، کبھی اس کو اپنے سینے سے لگاتا ہے، حجر اسود کو بوسہ دینا اسی طرح حضرت ابراہیم کے لیے اپنے جذبات محبت کا اظہار ہے، اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔
قطر کے زمانہ قیام میں مجھے ہر قسم کی سہولیات (facilities) اعلیٰ معیار پر حاصل تھیں، مگر ایک لمحہ کے لیے وہاں مجھے سکون حاصل نہ تھا۔ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ میرے جیسے انسان کو سکون صرف مادی سامان سے حاصل نہیں ہو سکتا، میرے جیسے انسان کو سکون فکری خوراک سے ہوتا ہے اور وہ یہاں مجھے حاصل نہ تھی۔ عربوں کا معاملہ یہ ہے کہ اُن سے صرف رسمی انداز کی بات ہو سکتی تھی۔ ساتھ اعلیٰ نوعیت کا فکری تبادلہ خیال ممکن نہیں تھا، اور دوسرے ملکوں کے جو لوگ قطر میں آباد ہیں، اُن کا واحد کنسَرن پیسہ کمانا ہے۔ عرب دنیا کا سب سے بڑا خلایہ ہے کہ یہاں فکری آزادی نہیں پائی فکری آزادی ہی سے علمی ترقی ہوتی ہے۔ جہاں لوگوں کو فکری آزادی حاصل نہ ہو، وہاں کبھی علمی ارتقاء کا ماحول نہیں بن سکتا۔
قطر میں جو ہندوستانی ہیں، ان میں زیادہ تر کیرلا کے لوگ ہیں۔ ان میں مسلم بھی ہیں اور غیر مسلم یہ اتفاقی بات نہیں ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ کیرلا کے لوگ، بلکہ ساؤتھ انڈیا کے لوگ، ہر جگہ آسانی سے قابل قبول بن جاتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کے اندر پروفیشنل ازم (professionalism) ہوتا ہے۔ پروفیشنل ازم کا مطلب سادہ لفظوں میں یہ ہے کہ اپنے کام سے کام رکھنا۔ شمالی ہند کے لوگوں کا مزاج سیاسی ہوتا ہے۔ وہ بہت جلد اپنی سیاست شروع کر دیتے اس کے برعکس، جنوبی ہند کے لوگوں کا مزاج ”اپنے کام سے کام“ والا ہوتا ہے۔ ان کی اس صفت نے اُن کو ہر جگہ مقبول بنا دیا ہے۔
ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ اسرائیل کے بارے میں صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں پر تشدد کرتا ہے۔ اسرائیل کے بارے میں اس کے سوا کوئی اور بات آپ نہیں میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو اس معاملے میں عدل سے کام لینا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل یک طرفہ طور پر تشدد نہیں کرتا۔ فلسطینی اُن کو پتھر مارتے ہیں تو اسرائیل اس کے جواب میں اُن کو بم مارتا ہے۔ یہ دو طرفہ معاملہ ہے، نہ کہ یک طرفہ معاملہ۔ مگر عربوں کو یا مسلمانوں کو اسرائیل میں پیش آنے والے اس واقعے کی کوئی خبر نہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلم میڈیا میں اس کا کوئی چرچا نہیں ہوتا۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اسلاف کا لٹریچر ہمارے لیے کافی ہے، ہم کو مزید لٹریچر کی ضرورت نہیں۔ میں نے کہا کہ یہ صرف ایک غیر عملی بات ہے۔ خود ایسا کہنے والے بھی اس پر عمل نہیں کر سکتے۔
میں نے کہا کہ اسلاف کی کتابوں کے دو حصے ہیں — ایک، وہ جو نماز روزہ جیسی عبادات سے دوسرے، وہ جو ملی پالیسی سے تعلق رکھتے ہیں۔ نماز روزہ جیسی عبادات کے معاملے میں آپ اسلاف کی پیروی کر سکتے ہیں، کیوں کہ یہ مسائل اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہیں۔ جہاں تک اُن باتوں کا تعلق ہے جن کو ملی پالیسی کہا جاتا ہے، ان کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ حالات زمانہ کی رعایت بہت ضروری ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملی پالیسی والا شعبہ اُس مشہور فقہی
اصول کے تحت آتا ہے جس کو ان الفاظ کے تحت بیان کیا جاتا ہے: تتغیّر الأحکام بتغیّر الزمان اگر آپ ایسا نہ کریں تو آپ کے ملی معاملات بگڑ کر رہ جائیں گے۔ خود ہمارے اسلاف نے یہ فقہی اصول مقرر کیا ہے کہ: تتغیّر الأحکام بتغیّر الزمان اب سوال یہ ہے کہ اسلاف کا مقرر کیے ہوئے اس اصول کا انطباق کیا ہے، عملی طور پر اس کو کن حالات میں منطبق کیا جائے گا۔ جب بھی زمان ومکان بدلیں گے اور مذکورہ اصول کے مطابق، احکام میں تغیر کیا جائے گا تو یہ تغیر یقینی طور پر اسلاف کا اعادہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ اسلاف کی کہی ہوئی باتوں کے علاوہ کوئی بات ہوگی۔
20 اکتوبر 2009 کو میری تقریر تھی۔ تقریر کا موضوع ’’امن اور اسلام‘‘ تھا۔ میری تقریر انگریزی زبان میں تھی۔ میں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ اس معاملے میں مسلمانوں کا ذہن واضح نہیں ہے۔ وہ اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہم امن چاہتے ہیں۔ لیکن ہم انصاف کے ساتھ امن (السلام مع العدل) چاہتے ہیں۔ یہ سوچ غیر فطری ہے۔ اس سوچ کے تحت کسی کو نہ کبھی امن ملے گا اور انصاف امن کا حصہ نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنی جدوجہد سے کسی کو ملتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ آپ پہلے یک طرفہ بنیاد (unilateral basis) پر امن قائم کیجئے۔ ہوتے ہی ہر قسم کے مواقع (opportunities) کھل جائیں گے۔ اِن موقع کا بھر پور استعمال کر کے آپ انصاف کو حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک عالم سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عربی زبان میں قرآن کی جو تفسیریں لکھی گئی ہیں، وہ عام طور پر شانِ نزول یا اسبابِ نزول کی روایتوں کو لے کر لکھی گئی ہیں۔ اِس طرزِ تفسیر نے قرآن کو بہت محدود کر دیا ہے۔ اسبابِ نزول کی حیثیت ایک وقتی حوالہ (immediate reference) کی صرف اسی کو بناۂ تفسیر قرار دینا، قرآن کو محدود کرنے کے ہم معنی ہے۔ مثال دیتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن (الکهف : 71) میں بتایا گیا ہے کہ خضر نے ایک کشتی کے تختہ کو نکال کر اس کو عیب دار بنا دیا۔ شانِ نزول کے مطابق، مفسرین نے اس واقعے کو
صرف ایک مخصوص کشتی کے ساتھ متعلق سمجھا ہے، مگر یہ تفسیر قرآن کو محدود کرنے کے ہم معنی ہے۔ اس کا مطلب دراصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ کسی آدمی کی زندگی میں ایک ایسا واقعہ پیش آتا ہے جو بظاہر ناگوار واقعہ ہوتا ہے، لیکن اس واقعے کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا گہرا منصوبہ ہوتا فوری طور پر ایسے واقعے کی توجیہہ سمجھ میں نہیں آتی، لیکن آدمی اگر انتظار کرے تو کچھ دن کے بعد وہ خود سمجھ لے گا کہ ایسا ہونا اس کے حق میں بہتر تھا۔ ایسا واقعہ اس کے لیے زحمت میں رحمت (blessing in disguise) کے ہم معنی تھا۔
20 اکتوبر 2009 کی صبح کو میں ہوٹل کی بالکنی پر بیٹھا ہوا تھا۔ سامنے کی سڑک پر چمک دار کاریں دوڑ رہی تھیں۔ اوپر کی فضا میں کبھی کبھی ہوائی جہاز کے اڑنے کی آواز آتی تھی۔ ہوٹل کے ایک طرف شان دار عمارتیں پھیلی ہوئی تھیں۔ اس منظر کو دیکھ کر میں نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ میرا یہ حال ہے کہ جب میں خوب صورت کاروں کو سڑکوں پر دوڑتے ہوئے دیکھتا ہوں، جب میں ہوائی جہاز کو فضا میں اڑتے ہوئے دیکھتا ہوں، جب میں پر رونق شہروں کو دیکھتا ہوں، تو میں سوچنے لگتا ہوں کہ خدا کی قدرت کتنی عجیب ہے اُس نے مادی دنیا کے اندر ایسے امکانات رکھے جن کو دریافت کر کے ایک شان دار تہذیب وجود میں لائی جاسکے۔
پھر خدا کی یہ قدرت کتنی عجیب ہے کہ اُس نے انسان کو دماغ عطا کیا جس کو استعمال کر کے انسان یہ تمام کارنامے انجام دے سکے۔ میں نے کہا کہ ہوائی جہاز خدا کی قدرت کا اُڑتا ہوا نشان ہے۔ ٹیلی فون خدا کی قدرت کا بولتا ہوا نشان۔ حقیقت یہ ہے کہ پوری تہذیب خدا کی قدرت کا ایک زندہ مگر معرفت سے محرومی کی بنا پر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ تہذیب کی ترقیوں کو انسان کا کرشمہ سمجھتے ہیں، نہ کہ خداوند ذوالجلال کا کرشمہ۔
قرآن کی سورہ نمبر 47 میں جنت کے بارے میں کہا گیا ہے: یدخلهم الجنة عرفها لهم جنت اگلی دنیا میں انسان کے سامنے آئے گی، لیکن اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا ابتدائی تعارف موجودہ دنیا ہی میں کر دیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ جدید ٹیکنالوجی نے
یی کام انجام دیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے جو تہذیب پیدا کی ہے، وہ ایک اعتبار سے، آنے والی جنت کا ابتدائی تعارف ہے۔
مولانابو صالح انیس لقمان ندوی کا حافظہ بہت اچھا ہے۔ اُن کو واقعات بہت زیادہ یاد رہتے انھوں نے ایک مصری لطیفہ بتایا۔ انھوں نے بتایا کہ مصری لوگ لطیفہ بنانے کے ماہر ہوتے ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ مصر کے سابق شاہ فاروق (وفات: 1965) نے ایک فورڈ کار منگائی۔ وہ خود اس کو اُن کا مصاحب بھی ان کے ساتھ گاڑی میں موجود تھا۔ شاہ فاروق کو ڈرائیونگ کا زیادہ تجربہ نہ تھا۔ گاڑی چلاتے ہوئے انھوں نے گاڑی کو ایک درخت سے ٹکرا دیا۔ اُن کا مصاحب اس کے بعد فوراً گاڑی سے اترا اور اس نے مودبانہ انداز میں شاہ فاروق سے کہا: الخطأ ليس في قيادتك، وإنما الخطأ في من غرس هذا الشجرة في هذا المكان (جناب، غلطی آپ کی ڈرائیونگ میں نہیں ہے، بلکہ غلطی اُس شخص کی ہے جس نے اس مقام پر یہ درخت لگایا)۔ اس لطیفے کا ایک پہلو یہ ہے کہ عرب دنیا میں آزادی فکر نہ ہونے کا یہ عظیم فقدان ہوا ہے کہ عربوں میں فکری ارتقا (intellectual development) کا عمل جاری نہ ہوسکا۔ لطیفہ بنانا تو وہ جانتے ہیں، لیکن وہ تخلیقی معنوں میں کوئی علمی بات نہیں کہہ سکتے۔ سعودی عرب کے بارے میں ایک شیخ نے کہا تھا: السعودية مقبرة لعلماء المسلمين (سعودیہ مسلم علماء کا قبرستان ہے)۔ مذکورہ شیخ نے یہ بات دینی زوال کے معنوں میں کہی تھی، لیکن یہ بات فکری زوال کے بارے میں زیادہ صحیح ہے۔ قطر میں شیر یٹن ہوٹل (Sheraton) میں مجھ کو ٹھہرنے کے لیے کافی بڑی جگہ دی گئی تھی۔ میرے دوستھیوں کے لیے دو الگ الگ روم تھے۔ میرے قیام کے لیے ماڈرن انداز کا ایک بڑا سوئیٹ (Suite) تھا۔ کھانے کا نہایت اعلی انتظام تھا۔ یہ ہوٹل بحر عرب کے کنارے بنایا گیا ہے۔ طرح میرا سوئیٹ ساحل کے بالکل کنارے تھا۔ یہاں کے خارجی مناظر بھی کافی شان دار تھے، مگر مجھے مسلسل طور پر ایک نامعلوم قسم کی بے سکونی لاحق تھی۔ مجھے ایک لمحہ بھی یہاں خوشی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ میں نے سوچا کہ اس کا سبب کیا ہے۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس کا سبب غالباً یہ ہے کہ یہ دنیا ایک
محدود اور غیر کامل دنیا ہے، جب کہ انسان ایک لامحدود ذہن لے کر پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے اس دنیا کی کوئی بھی چیز انسان کو کامل معنوں میں مسرت نہیں دے سکتی۔ اس دنیا میں ہر صورت حال کے ساتھ حزن (sorrow) لازمی طور پر لگا ہوا ہے۔ جنت کی سب سے بڑی نعمت یہ ہوگی کہ وہاں حزن کا خاتمہ ہو جائے گا۔ چناں چہ قرآن میں آیا ہے کہ اہل جنت جب جنت میں پہنچیں گے تو وہ کہیں گے : الْحَمْدُ لِلّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ (فاطر : 34)۔
اس آیت سے بلاغت کا ایک نکتہ معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں ”حَزَنَ“ کا لفظ آیا قرآن کی ایک اور آیت میں اس کے بجائے حُزْن (یوسف : 86) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ کوئی پر اسرار بات نہیں۔ لغوی اعتبار سے حُزن اور حزن دونوں بالکل ہم معنی الفاظ ہیں۔ آیتوں میں اُن کا استعمال اصول بلاغت کی بنا پر ہے، کیوں کہ صوتی آہنگ کے اعتبار سے، ایک جگہ حُزْن کا لفظ زیادہ مناسب ہے اور دوسری جگہ حَزَنَ کا لفظ۔ یہ فرق صرف صوتی آہنگ کی بنا پر ہے، نہ کہ کسی پراسرار سبب کی بنا پر۔
ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنی ماں کی بہت تعریف کی۔ میں نے کہا کہ یہ آپ کی ماں کی بات نہیں، ہر آدمی اپنی ماں کے ساتھ اُسی طرح حب شدید کا تعلق رکھتا ہے، جس طرح آپ کو اپنی ماں کے ساتھ حب شدید کا تعلق ہے، لیکن میں اس کو صرف بے خبری کا ایک کیس سمجھتا ہوں۔ میں نے کہا کہ لوگوں کو اپنی ماں کے ساتھ حب شدید کا تعلق کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی ماں کے پیٹ سے ان کا جنم ہوا، پھر وہ دیکھتے ہیں کہ پیدا ہونے کے بعد ان کی ماں نے ان کو پالا پوسا ۔ مگر یہ ایک بے بصیرتی کی بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حب شدید کا تعلق آدمی کو صرف خدا سے ہونا چاہیے۔ خدا کے آپ کے اوپر جو احسانات ہیں، وہ بلین ٹریلین سے بھی زیادہ ہیں۔ آپ کو پیدا کرنے والی آپ کی ماں نہیں ہے، یہ دراصل خدا ہے جس نے آپ کی تخلیق کی۔ خدا نے آپ کو صوّر کم فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ (المؤمن : 64) کا درجہ دیا۔ پیدا ہونے کے بعد بھی یہ دراصل خدا ہے جو اس کی پرورش یا تربیت (upbringing) کرتا ہے۔ یہ خدا ہے جس نے آپ کو لائف سپورٹ سسٹم دیا۔
یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں 99 فی صد سے زیادہ حصہ خدا کا ہے اور ایک فی صد سے بھی کم حصہ آپ کی ماں ایسی حالت میں آپ کے اندر حب شدید کا تعلق خدا سے ہونا چاہئے، نہ کہ اپنی ماں سے۔ بات ہے کہ اس معاملے میں تمام دنیا کے لوگ اندھے پن کی حد تک بے خبری میں مبتلا ہیں۔ یہاں مجھ پر عجز کا ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد میری زبان سے یہ دعا نکلی— خدایا، تو نے انسان کو عجز کے ساتھ پیدا کیا۔ ساری قدرت تیری طرف اور سارا عجز انسان کی طرف۔ میں تو انسان کے معاملے میں غیر جانب دار (indifferent) نہیں ہو سکتا۔ یہ تیری شانِ خداوندی کے خلاف ہے کہ تیرے اور انسان کے درمیان عجز اور غیر جانب داری (indifferent) کا تعلق ہو۔ تعلق ’’قسمة ضيزى‘‘ کا مصداق بن جائے گا۔ ضروری ہے کہ خدا اور بندے کے درمیان محروم اور معطی کا تعلق ہو۔ یہی تعلق خدائے رحمان اور رحیم کی شان کے مطابق ہے۔
ایک حدیث میں ایک لمبی دعا آئی ہے، اُس کا حصہ یہ ہے: اللهم إني أسئلك بحق السائلين عليك (مسند احمد، جلد 3، صفحہ 21)۔ اس پیغمبرانہ دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ سائل اگر حقیقی سائل ہے تو اس کا بھی کچھ حق ہوتا ہے، جس طرح بندوں کے اوپر اللہ کے حقوق ہیں، اُسی طرح بندوں کا بھی اللہ کے اوپر کچھ حق ہے۔ تاہم یہ ایک بے حد نازک بات ہے۔ اس حقیقت کو صرف وہ لوگ سمجھ سکتے ہیں جو معرفت کے اعلیٰ درجے پر پہنچ چکے ہوں۔
کئی لوگوں سے قیامت کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ سیکولر لوگ جو سائنس کا علم رکھتے ہیں، وہی اس بارے میں سوچتے ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، وہ قیامت کے معاملے میں بالکل بے خوف ہیں۔ مسلمانوں کی نفسیات یہ ہوتی ہے کہ ان کے خیال کے مطابق، مہدی اور مسیح تو ابھی آئے نہیں، پھر اس سے پہلے قیامت کیسے آ جائے گی۔ اور اگر قیامت آتی ہے تب بھی مسلمانوں کے لیے وہ کوئی مسئلہ نہیں، کیوں کہ مسلمان امت مرحومہ سے نسبت رکھتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ ہالی وڈ (Hollywood) نے ایک فلم بنائی ہے۔ اس کا نام یہ ہے: 2012 End of the world
اس انگریزی فلم میں قیامت کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ اس فلم میں بتایا گیا ہے کہ قیامت 21 دسمبر 2012 کو آئے گی ۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ مشہور سائنس داں آئن سٹائن (وفات: 1955) نے بھی کہا تھا کہ 2012 تک قطبین (South Pole, North Pole) کی برف پگھلنے کی وجہ سے زمین پر پول شفٹ (pole shift) کا واقعہ پیش آئے گا۔ اس فلم میں ایک سائنس داں بول کر کہتا ہے کہ قیامت قریب آ رہی ہے، کیوں کہ انسان خدا کے قانون پر نہیں چلا:
Doomsday is coming because man does not follow the path of God. قرآن میں بتایا گیا ہے کہ قیامت اچانک (بغتهً) آئے گی (الأعراف : 187)۔ 21 دسمبر 2012 کی محدد پیشین گوئی درست نہیں ہو سکتی، البتہ یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کہ قیامت بہت زیادہ قریب آچکی ہے، ممکن ہے کہ وہ اکیسویں صدی عیسوی کے ربع اوّل ہی میں آجائے۔ ایک مجلس میں مسلمانوں کی موجودہ عالمی حالت پر گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں، ایک ذہنی واہمہ (obsession) میں مبتلا ہیں اور وہ ہے، عظمت رفتہ کی واپسی۔ میں نے کہا کہ یہ ایک جاہلی مزاج ہے۔ وسیع تر پہلو سے دیکھا جائے تو انسان کا کیس جنت رفتہ کی واپسی کا کیس ہے، نہ کہ دنیوی معنوں میں عظمتِ رفتہ کی واپسی کا کیس۔ ایک عرب خاتون لیمانیل نے اسپین کا سفر کیا۔ وہاں مسلم عہد کی قدیم عمارتوں میں اُن کو عرب کی عظمتِ رفتہ نظر آئی۔ اس کو دیکھ کر وہ روپڑیں۔ انھوں نے کہا: إلی متی سیستمر هذا الليل العربي (عرب کی یہ تاریک رات آخر کب تک باقی رہے گی)۔
یہی موجودہ زمانے کے تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ ہر ایک قدیم سیاسی عظمت کے تصور میں گم اسپین کی عرب سلطنت 1492 میں ختم ہوئی، انڈیا کی مغل سلطنت 1857 میں ختم ہوئی، ترکی کی عثمانی خلافت 1929 میں ہوئی ۔ یہ مسلم ایمپائر کے دور کی باتیں ہیں ۔ ساری دنیا کے مسلمان ان واقعات کو پڑھتے ہیں اور اس کی واپسی کا خواب دیکھتے رہتے ہیں۔
یہ بلاشبہ ایک جاہلیت ہے۔ نہ صرف مسلمان، بلکہ تمام انسانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیق کے بعد اس کو جنت میں رکھا گیا، پھر اس کو وہاں سے نکال دیا گیا۔ اب مسلمان سمیت تمام انسانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کو جنت میں دوبارہ واپسی ملے، مگر شیطان نے ہر ایک کو بھٹکا کر ان کو اصل مسئلے سے غافل بنا رکھا ہے۔
ایک صاحب نے کہا کہ آپ اپنے کام کو دعوت الی اللہ کا کام بتاتے ہیں، لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ کلمہ نہیں پڑھاتے۔ آخر یہ کیسی دعوت ہے جس میں کلمۂ شہادت کی ادائیگی نہیں۔ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک داعی تھے۔ آپ کا طریقہ یہ تھا کہ آپ لوگوں کو کلمہ پڑھا کر اسلام میں داخل کرتے تھے، پھر یہ آپ کی کون سی دعوت ہے جس میں کلمہ پڑھانا نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ کو یہ غلط نہی سلیکٹیو رپورٹنگ (selective reporting) کی بنا پر ہے، یعنی کچھ اجزا کو بتانا اور کچھ اجزا کو نہ بتانا۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مشن میں کلمہ پڑھانے سے دعوت کا آغاز نہیں کرتے تھے، بلکہ شعوری بیداری سے آغاز کرتے تھے جس کو معرفت کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ کی دعوت تمام تر قرآن پر مبنی تھی۔ آپ افراد کے سامنے بھی اور مجمع میں بھی یہی کرتے تھے کہ آپ لوگوں کو قرآن پڑھ کر سناتے تھے (عرض عليهم الإسلام، وقرأ عليهم آپ کا اصل دعوتی کام یہی تھا۔ اس کے بعد جن لوگوں کا ذہن بدل جاتا اور وہ دائرہ اسلام میں داخل ہونے کی خواہش ظاہر کرتے تو آپ کلمہ شہادت کی ادائیگی کے بعد ان کو دائرہ اسلام میں داخل کر لینے۔ یہی وجہ ہے کہ سارے قرآن میں دعوت کی باتیں تو ہیں، لیکن قرآن میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ لوگوں سے کلمہ شہادت پڑھوا کر ان کو دائرہ اسلام میں داخل کرو۔
قطر کے زمانہ قیام میں جو دعوتی کام ہوئے، اُن میں سے ایک یہ تھا کہ پروفیسر ابراہیم صالح النعیمی کو ہمارے ساتھیوں نے تذکیر القرآن کے عربی ایڈیشن (التذكير القويم في تفسير القرآن الحكيم) کا ایک سیٹ بطور ہدیہ پیش کیا۔ اس کو انھوں نے شکریہ کے ساتھ قبول کیا۔ پروفیسر صالح النعیمی مرکز الدوحة الدولي لحوار الأديان کے ڈائریکٹر ہیں۔
تذکیر القرآن کا یہ عربی ایڈیشن تین جلدوں پر مشتمل ہے۔ وہ 2008 میں دار الوفاء (المنصورہ، مصر) سے چھپا ہے۔ اس ادارے نے راقم الحروف کی ایک اور کتاب ’’خاتونِ اسلام‘‘ کا عربی ترجمہ (المَرأۃ بین شريعة الإسلام وحضارة الغرب) شایع کیا ہے۔ ادارے کا مکمل پتہ یہ ہے : دار الوفاء للطباعة والنشر والتوزيع، جمهورية مصر العربية، المنصورة ش الإمام محمد عبده المواجهة لكلية الآداب، ص ب: 230 Tel: +2050 22 56 230, Fax: +2050 22 60 974 دارالوفاء (مصر) کا اپنا ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ پر تذکیر القرآن کے عربی ایڈیشن کا تعارف ان الفاظ میں دیکھا جا سکتا ہے:
• إن الغرض الرئيسي من هذا التفسير بصفة خاصة، هو (التذكير بالقرآن) ومن حيث أن القرآن نفسه إنما جاء من أجل تحقيق هذه الغاية، أي التذكير و الموعظة، فإن الجانب الذى أولاه المؤلف القسط الاوفر من إتمامه، فى طرح مضامين هذا التفسير هو أن يجد فى القارى منهلا فياضا أومرتعا خصبا يضمن له اشباع حاجته إلى التذكير والاعتبار والاتعاظ. • وحاول المؤلف اتباع اسلوب الفقرات فى طرح مضامين هذا التفسير أى أنه عمد إلى فقرة من فقرات القرآن، ثم تناول ما يندرج تحتها من فكرة أو توجيه معنوی بالتفسير والإيضاح كموضوع متسلسل، وذلك حرصا منه على ألا تنقطع من القارئ سلسلة المعانى والمفاهيم المطروحة خلال قراء ته فى فقرة تفسيرية معينة، ولكى يتمكن من التزود المستمر المتواصل (بالغذاء التذكيرى) للقرآن الكريم۔
• ولقد توخى المؤلف الشيخ وحيد الدين خان فى إعداد (تذکیر القرآن) من الحكمة، ما جعل كل فقرة من فقراته، مستقلة بذاتها، وذلك لاحتوائها على فكرة قرآنية واضحة محددة، فسواء قرأ القارئ صفحة واحدة من التفسير، أم
قرأ مجموعة كبيرة من الصفحات، فإنه لا يكاد ينتهى من قراءته إلا ويكون قد ظفر بنصيب من (الموعظة القرآنية) على أية حال. وقد توخى الايجاز إلى الحد الممكن، غير عارض للتفاصيل المتصلة بالجانب اللغوى، أو الجانب الفقهى أو الجانب الكلامى، أو ما إلى ذلك من الجوانب والوجوه الأخرى للمدلول القرآنّي، وإنما الشئ الذي جعله نصب عينيه، هو أن يتسم تفسير القرآن بطابع من البساطة التى يتميز بها القرآن نفسه، فإن القرآن، من جهة يعكس جلال الله وعظمته، ومن جهة أخرى، هو مرآة تنعكس عليه عبودية الإنسان بجميع نواحيها، وهذه هي النقاط الجوهرية التي يتمحور حولها هذا التفسير، ويحاول تجليتها بأسلوب موجز وبسيط، بعيدا عن تذکیر القرآن کا یہ عربی ترجمہ مولانا ابو صالح انیس لقمان ندوی نے کیا ہے۔ وہ مالے گاؤں (مہاراشٹر) میں 1965 میں پیدا ہوئے۔ اب وہ ابوظبی (عرب امارات) میں رہتے ہیں۔ بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو عربی زبان سے عشق ہے۔ عربی کے علاوہ، وہ انگریزی زبان میں بھی لکھنے پڑھنے اور بولنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
موجودہ زمانے میں عام طور پر عربوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ لکھنے میں تو فصیح عربی لکھتے ہیں، لیکن بولنے میں اکثر وہ غیر فصیح زبان بولتے ہیں۔ مولانا انیس لقمان ندوی کو عربوں کا یہ مزاج پسند نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 22 جون 1998 کو ابوظبی میں ڈاکٹر عزالدین ابراہیم سے ان کی ملاقات ہوئی۔ اس دوران اُن سے مختلف موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ابتدائی میں میں نے اُن سے درخواست کی کہ وہ مجھ سے صرف فصیح عربی میں بات کریں، کیوں کہ میں فصیح عربی کے معاملے میں اُس سے زیادہ غیور ہوں جتنا غیور کوئی مرد اپنی بیوی کے معاملے میں ہوتا ہے۔ اگر آپ مجھے فصیحی میں گالی دیں تو یہ بات مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ آپ عامی زبان میں میری تعریف کریں (كلّمنى من فضلك بالعربية الفُصحى، فإنّي والله أغار على اللغة العربية الفصحى أكثر مما يغار الرجل
ولو شتمتنی بالفصحى، فإنه أحبّ إلى من أن تمدحنى بالعامية) ۔ بات کوسن کر ڈاکٹر عز الدین ابراہیم بہت محظوظ ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات آپ نے اتنے خوب صورت پیرائے میں کہی ہے کہ وہ اس قابل ہے کہ ضرب المثل بن جائے (إنّ كلامك هذا مصوغ صياغة رائعة لدرجة أنه يكاد أن يكون مضرب المثل)۔
ریاض، کویت، بیروت اور قاہرہ سے راقم الحروف کی مختلف عربی کتابوں کے ترجمے شائع ہو چکے ہیں جن کی مجموعی تعداد تقریباً 40 ہوتی ہے۔ تذکیر القرآن کا عربی ترجمہ المنصورہ (مصر) سے اس عربی ترجمہ کی تحریک ابتداءً ایک عرب عالم محمد سلیمان القائد نے کی تھی۔ اس کے بعد مولا نا انیس لقمان ندوی نے اس کا عربی ترجمہ کیا اور پھر دو عرب شخصیتوں، استاد صالح شوکات اور دكتور عبد الحلیم عویس، کی کوششوں سے وہ چھپ کر شائع ہوا۔
شیخ سلیمان القائد کا خیال تھا کہ عالم عرب میں راقم الحروف کی کتاب ”الإسلام يتحدّى“ کی اشاعت سے اسلام اور سائنس کے متعلق میرے افکار پھیلے، لیکن ابھی تک وہاں میرے دعوتی افکار عام نہ ہو سکے۔ تذکیر القرآن کے عربی ایڈیشن کی اشاعت ان شاء اللہ دعوتی افکار کی اشاعت میں معاون ہوگی۔ دعوتی مشن سے شیخ سلیمان القائد کی گہری وابستگی کا اندازہ ان کے حسب ذیل اقتباس سے کیا جا سکتا ہے۔ یہ اقتباس اسلامی مرکز (نئی دہلی) میں 31 اگست 1984 میں کی گئی ان کی ایک تقریر سے ماخوذ ہے: ”ولعلك تسئل بعد هذا، لماذا أحببت وحید الدین۔ الحقيقة أن اكتشاف الشيخ وحيد الدين أعظم اكتشاف في حياتي۔ فالفضل يرجع إلى الله أولاً، ثمّ إلى وحید الدین خان في اكتشاف حقيقة الدعوة إلى الله۔ فهو أضاء لي الطريق الذي جعل به حياتي ذات معنى۔ وأكثر من هذا، فإنّي أحسب نفسي بكل تواضع أنني مجرّد تلميذ صغير جداً في مدرسة هذا العالم الرباني۔ والمسلمون حالياً لا يعرفونه معرفة كاملة، ولكن الأيام ستكشفه لهم۔ لقد زرت العالم الإسلامي كله، من إندونيسيا
واللہ وحدہ یشہده علی صدق ما أقول، وإِنّي أعلن شهادتي هذا متحدیا بها العصر الحاضر ومستقبل التاريخ الإسلامي والإنساني بأسره۔ (محمد سلیمان القائد، المركز الثقافي الإسلامي بکیجالی، إفریقیا)
ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ بیماری اور صحت انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہیں، مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے کا ایک بڑا مثبت پہلو ہے۔ ایک شدید بیماری کے بعد جب آدمی کو صحت حاصل ہوتی ہے تو یہ جزئی معنوں میں اُس حقیقت کا تجربہ ہوتا ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وقد خلقتك من قبل ولم تك شيئا (مریم: 9)۔ یہ ہر انسان کا معاملہ ہے کہ پیدائش سے پہلے وہ غیر موجود تھا۔ پیدائش کے بعد وہ وجود میں یہ ایک حیرت ناک واقعہ ہے۔ مگر آدمی اپنے بارے میں اس طرح سوچ نہیں پاتا۔ وہ اپنے وجود کو فارگرانٹید (for granted) طور پر لئے رہتا ہے۔ اِس بنا پر انسان کو شدید بیماری میں مبتلا کیا جاتا ہے اور پھر اس کو صحت دی جاتی ہے۔ یہ انسان کے ساتھ رحمت کا ایک معاملہ ہے۔ اس تجربے کی صورت میں خدا یہ چاہتا ہے کہ انسان اپنے بارے میں خدا کی اِس عنایت کو دریافت کرے کہ اِس نے ایک غیر موجود انسان کو موجود انسان بنا دیا۔ اس رحمتِ خداوندی کو شدت کے ساتھ محسوس کرنے کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آدمی شکرِ خداوندی کا گہرا احساس کرے، وہ شکر کے جذبے سے سرشار ہوجائے۔ ایک صاحب سے میں نے پوچھا کہ کیا آپ نے کبھی اپنی تخلیق کو لے کر سوچا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کیسا عجیب معاملہ ہے کہ میں ایک غیر موجود شخص تھا، پھر میں وجود میں آگیا۔ میں اچانک ایک ایسا زندہ انسان بن کر زمین پر چلنے پھرنے لگا جو سوچتا ہے، جو دیکھتا ہے، اور دوسرے بہت سے کام کرتا انھوں نے کہا کہ اس طرح میں بہت کم سوچتا ہوں۔
میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملے میں کم سوچنے کا مطلب ہوتا ہے نہ سوچنا۔ ایک انسان کی حیثیت سے وجود میں آنا اتنا بڑا واقعہ ہے کہ اُس پر کم درجے میں سوچا نہیں جا سکتا۔ جب بھی کوئی شخص اس پر سوچے گا تو وہ بڑے درجے میں سوچے گا۔ مثلاً ایک فقیر کو کوئی شخص اچانک ایک بلین ڈالر دے دے اور آپ اُس سے اس کا احساس پوچھیں تو وہ یہ نہیں کہے گا کہ ہاں، تھوڑ ا تھوڑا محسوس ہو رہا ہے، بلکہ وہ سرشاری کے انداز میں اپنی لغت کے تمام الفاظ استعمال کر ڈالے گا۔
میں نے کہا کہ ایک مرتبہ میں نے امریکی میگزین ریڈر ڈائجسٹ میں ایک مضمون پڑھا تھا۔ اُس میں بتایا گیا تھا کہ سعودیہ میں جب تیل نکلا تو ایک عرب بدو کو اچانک بہت زیادہ دولت حاصل اس کے ایک دوست نے اس کے پیسے سے سوئزرلینڈ میں اس کے لیے شان دار مکان خریدا، پھر وہ اس عرب کو ہوائی جہاز کے ذریعے سوئزرلینڈ لے گیا اور اُس عرب کو اس نئے مکان میں داخل کر کے کہا کہ یہ تمھا را مکان ہے۔ اُس وقت اُس عرب کا عجیب حال ہوا۔ مضمون میں بتایا گیا تھا کہ وہ عرب بار بار اپنے آپ کو چھو کر دیکھتا تھا اور پھر اس مکان کو چھو کر دیکھتا تھا اور کہتا تھا کہ کیا واقعی یہ میں ہوں اور یہ مکان میرا مکان ہے۔
زیادہ بڑی معرفت یہ ہے کہ آپ کو خود اپنے بارے میں اسی قسم کا انوکھا احساس ہونے لگے۔ آپ اپنے آپ کو دیکھیں اور اپنے آس پاس کی دنیا کو دیکھیں اور حیرت کے ساتھ سوچیں کہ کیا یہ واقعی میں ہوں اور کیا یہ دنیا میری دنیا ہے جس میں مجھے رہنے کا موقع دیا گیا ہے۔ لوگوں کے اندر اعلیٰ معرفت نہیں، اس لیے لوگوں کے اندر اعلیٰ شکر خداوندی کا جذبہ بھی نہیں۔ قطر کے حوالے سے ایک خبر نگاہ سے گزری۔ اس خبر میں بتایا گیا تھا کہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمانوف کے بیان کے مطابق، تاجکستان کے دارالحلافہ (دوشنبہ) میں دنیا کی سب سے بڑی مسجد تعمیر کی جائے گی۔ بیان کے مطابق، اس مسجد کو اٹھارہ ایکڑ زمین پر تعمیر کیا جائے گا۔ مسجد میں بیک وقت ڈیڑھ لاکھ نمازیوں کی گنجائش ہوگی۔ آئندہ سال اس مسجد کی تعمیر کا آغاز کیا جائے گا۔ اس مسجد کی تکمیل پر پانچ سال درکار ہوں گے۔ اس مسجد کی تعمیر کے تمام اخراجات
دبئی اور قطر کی حکومت نے ادا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
آج کل ہر جگہ شان دار مسجدیں تعمیر کی جارہی ہیں۔ فخر کے ساتھ ان کا تذکرہ کیا جارہا ہے، حالاں کہ حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، یہ کوئی فخر کی چیز نہیں۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ما أُمرتُ بتشييد المساجد (أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب في بناء المساجد) یعنی مجھ کو بلند و بالا مسجدیں بنانے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق، حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری امت پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ مسجدوں پر فخر کریں گے، مگر وہ اس کو (ذکر اور نماز سے) بہت کم آباد کریں گے (يأتي على أمتي زمان يتباهون بالمساجد، ثم لا يعمّرونها إلا قليلاً) فتح الباری، جلد 1، صفحہ 642۔ بلند و بالا عمارت اگر آدمی کو جنت کی یاد دلائے، وہ یہ سوچے کہ جب دنیا میں اس قسم کی خوب صورت عمارت بن سکتی ہے تو جنت کی عمارتیں کتنی زیادہ خوب صورت ہوں گی۔ اگر ایسا ہو تو یہ ایک قابلِ قدر بات ہوگی۔ لیکن اگر بلند و بالا عمارت آدمی کے مادی ذہن میں اضافہ کرے تو وہ بلاشبہ آدمی کے لیے ایک وبال بن جائے گی۔ جیسا کہ حدیث میں آیا ہے: كلّ بناء وبال على صاحبه إلّا مالا، إلّا مالا (أبو داؤد، كتاب الأدب، باب ما جاء في البناء)۔
کرنل شیخ عیسیٰ (77 سال) انڈیا میں پیدا ہوئے، پھر وہ پاکستان چلے گئے۔ آج کل وہ قطر میں رہتے ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ وہ دینی مزاج کے آدمی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں بہت دن سے مختلف انگریزی ترجموں کی مدد سے قرآن کو پڑھتا تھا، لیکن مجھے کسی ترجمے پر اطمینان نہیں ہوتا تھا۔ ترجموں میں دو چیزیں مجھے پسند نہ تھیں— ایک، ان کی زبان اور دوسرے، ان میں وضوح (clarity) کا نہ ہونا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کے ادارے سے قرآن کا جو انگریزی ترجمہ چھپا ہے، وہ اس معاملے میں ایک استثناء (exception) کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ترجمے کی زبان بھی وقت کے مطابق ہے، اور اس کے اندر وضوح (clarity) بھی پوری طرح پایا جاتا ہے۔
کرنل شیخ عیسیٰ سے پاکستان کے بارے میں گفتگو ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں
قیادت کا فقدان ہے، اور لیاقت علی خاں کے بعد کوئی صحیح لیڈر وہاں پیدا نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ اصل مسئلہ قیادت کے فقدان کا نہیں ہے، بلکہ اصل مسئلہ قبولیت (acceptance) کے فقدان کا ہے۔ پاکستان میں جنرل ایوب خاں بہترین لیڈر تھے، مگر پاکستانی عوام نے ان کو قبول نہیں کیا۔ 20 اکتوبر 2009 کی صبح کو ہوٹل کے ایک بڑے ہال میں کانفرنس کے افتتاح کی کارروائی ہوئی۔ یہ ایک بہت بڑا اور شاہانہ انداز کا ہال تھا۔ ہر طرف کیمرے والے دوڑتے ہوئے نظر آتے تھے۔ کے لوگ ہر طرف چلتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ہر طرف السلام علیکم ورحمۃ اللہ، کیف الحال، متی القدوم، أهلاً و سهلاً اور بارك الله فيكم جیسے الفاظ سنائی دے رہے اس پروگرام کی کوآرڈینیٹر ایک سینئر عرب خاتون تھیں ۔ اُن کا پورا بدن برقعہ سے ڈھکا ہوا تھا۔ ان کا نام یہ ہے: الأستاذة الدكتورة عائشة يوسف المناعي، عميدة كلية الشريعة بجامعة قطر۔ افتتاحی تقریر قطر کے ایک منسٹر احمد بن عبد اللہ المحمود نے کی۔ انھوں نے اپنی عربی تقریر میں جن باتوں پر زور دیا، وہ مختلف ادیان کے درمیان قدر مشترک کی تلاش تھی۔ انھوں نے کہا کہ قرآن اور حدیث وحدانیتِ خلق پر متفق ہیں۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے: انّ ربكم واحد، وإنّ أباكم واحد۔ دوسرے مقررین نے عام طور پر رسمِی انداز کی باتیں کیں۔ ایک مقرر نے کہا کہ ادیانِ سماوی کی یہ خصوصی ذمے داری ہے کہ وہ موجودہ زمانے کے انسانی مسائل میں ان کو رہنمائی دیں۔ کہا کہ ادیانِ سماوی سے وابستہ لوگ موجودہ عالمی آبادی کا 60 فی صد حصہ ہیں۔ ان کو چاہئے کہ وہ سب مل کر موجودہ مسائل پر سوچیں اور اس کا حل نکالنے کی کوشش کریں۔
یہاں ہر مقرر نے لکھی ہوئی تقریر پڑھی۔ صرف ایک صاحب نے انگریزی زبان میں تقریر اس کے علاوہ تمام تقریریں عربی زبان میں ہوئیں ۔ اس پروگرام میں مسئلہ فلسطین کا بھی ذکر آیا، مگر مقررین کی طرف سے اس کا کوئی متعین حل سامنے نہ آسکا۔
افتتاحی پروگرام کے موقع پر عرب دنیا کے اکثر بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔ اس کے علاوہ شاہی خاندانوں کے کچھ افراد بھی یہاں آئے ہوئے تھے۔ عرب حکومتوں سے متعلق بڑے بڑے
افسران اور وزراء بھی اس کانفرنس میں شریک تھے۔ میرے ساتھیوں نے ان تمام لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر دیا۔ لوگوں نے اس کو خوشی کے ساتھ قبول کیا۔ قطر کی اس کانفرنس میں تقریبا 15 پینل بنائے گئے تھے۔ ان کے عنوانات حسب ذیل ہیں: • Human Solidarity:
Human Action in Response to Wars and Disasters • Achieving Unity and Solidarity through Spiritual Values • Religious Responses to Natural Disasters and Famines • Religious Views on Human Solidarity in Response to Wars • Human Solidarity and Inter-dependence in Response to Wars • Solidarity and Economic Inter-dependence:
Religious Financial Systems and the Economic Crisis • Solidarity and Economic Inter-dependence:
Religious Analysis of the Economic Crisis and its Consequences • Solidarity in Defense of Religious Rights and Freedom • Solidarity in Support of Holy Sites • Solidarity and Economic Inter-Dependence:
Religious Responses to the Financial Crisis • Responses in Defense of Religious Rights and Freedom • Religious Responses for Supporting Holy Sites • Round Table Discussion • Closing Remarks & Recommendations اس کانفرنس میں ڈنمارک کے ایک نومسلم سے ملاقات ہوئی۔ ان کا نام یہ تھا: Abdul-Wahid Anderson, Muslim council of Denmark انھوں نے بتایا کہ ڈنمارک میں کارٹون کا جو واقعہ پیش آیا تھا، اس سے لوگوں کے اندر تجسس پیدا ہوا اور لوگوں نے اسلام کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کارٹون کے واقعے کے بعد ڈنمارک میں 75 افراد نے اسلام قبول کر لیا۔
میں نے بتایا کہ کارٹون کے واقعے کے بعد سعودی ٹی وی (عکاظ) کی ایک ٹیم ڈنمارک گئی تھی۔
یہ لوگ سیرت رسول کے موضوع پر راقم الحروف کی کتاب ”پیغمبر انقلاب“ کا انگریزی ترجمہ (Muhammad A Prophet for All Humanity) اپنے ساتھ لے گئے تھے۔ اس کو انھوں نے بڑے پیمانے پر ڈنمارک کے مقامی لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا۔
ہمارے یہاں سے چھپے ہوئے انگریزی ترجمہ قرآن کے بارے میں عام طور پر لوگوں نے مثبت رائے دی۔ فرانس کے ایک صاحب کو 20 اکتوبر 2009 کو ہمارے ساتھی مسٹر ر جت مہلوترانے قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ اس کو پڑھ کر اگلے دن انھوں نے میرے ساتھی مسٹر رامش صدیقی سے اس کے بارے میں اپنا تاثر بتاتے ہوئے کہا کہ میں نے اس سے پہلے قرآن کے دو انگریزی ترجمے پڑھے تھے، لیکن کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ مگر آپ کا یہ ترجمہ قرآن پوری طرح سمجھ میں آ رہا ہے۔ ان کا نام یہ ہے: Alain Micmel, Director General Mommes De Parole Faundation. اگلے دن انھوں نے ترجمہ قرآن کا ایک اور نسخہ طلب کیا جو انھیں دے دیا گیا۔ کانفرنس میں ترکی کے ایک پروفیسر الدکتور عبدالحمید براشق سے ملاقات ہوئی۔ قطر یونی ورسٹی میں وہ تفسیر کے پروفیسر ہیں۔ اس سے پہلے وہ پاکستان میں رہ چکے ہیں۔ اس لیے وہ اچھی اردو جانتے انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں دہلی میں ہر اتوار کو جو لیکچر ہوتا ہے اور جس کو لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے، اس کو وہ پابندی کے ساتھ انٹرنیٹ پر سنتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہماری یونی ورسٹی کی لائبریری میں آپ کی اردو کتابیں موجود ہیں۔
ہمارے ایک ساتھی مسٹر ر جت مہلوترانے کہا جب میں دعوت الی اللہ کا کام کرتا ہوں اور لوگوں سے مل کر انھیں دعوتی لٹریچر اور قرآن دیتا ہوں تو عجیب خوشی محسوس ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ فطری دعوت کا کام خدا کا کام ہے۔ اس کام کو قرآن میں خدا کی نصرت کا کام بتایا گیا ہے۔ کی نصرت سے بڑا کون سا کام ہو سکتا ہے۔ یہ احساس کہ میں خدا کے کام میں ہوں، بلاشبہہ اس سے بڑی خوشی اور کسی چیز سے نہیں ہو سکتی۔
یہاں قطر میں ملاقات کے دوران ایک واقعہ معلوم ہوا۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ایک
ہندوستانی عالم جو قطر میں رہتے ہیں، ان کی بیوی نے ان کے بارے میں اپنی ماں سے کہا کہ میں اُن کے نکاح میں ایک سال سے تھی، مگر انھوں نے کبھی خدا اور آخرت کی بات نہیں کی، اگرچہ وہ مدرسہ کے پڑھے ہوئے تھے۔ جب سے انھوں نے الرسالہ مشن کی کتابیں پڑھی ہیں، وہ مجھ سے صرف خدا اور آخرت کی بات کرتے ہیں، جب کہ اس سے پہلے وہ دوسری دوسری باتیں کیا کرتے تھے۔ یہی عام طور پر لوگوں کا حال ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ لوگوں نے اس حقیقت کو نہیں جانا کہ عورت کا رول ان کی زندگی میں کیا ہے۔ لوگ عام طور پر عورت کے صرف کم تر رول کو جانتے ہیں، وہ عورت کے برتر رول کو دریافت نہ کر سکے۔ مثلاً ایک صاحب نے اپنی بیوی کی تعریف کی۔ میں نے پوچھا کہ آپ اپنی بیوی میں کیا خاص بات پاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ روزانہ مجھ کو اچھے اچھے کھانے پکا کر کھلاتی میں نے کہا کہ آپ نے عورت کو صرف کچن پارٹنر کی حیثیت سے جانا، مگر آپ عورت کو اپنے انٹلیکچول پارٹنر کی حیثیت دریافت نہ کر سکے۔
20 اکتوبر 2009 کو ہوٹل کے ’سلوی ہال‘ میں ایک سیشن کا موضوع یہ تھا: القيم الروحية وتحقيق الوحدة والتضامن:
Achieving Unity and Solidarity Through Spiritual Values اس سیشن میں جن لوگوں نے تقریر کی، ان میں ایک صاحب وہ تھے جو یو کے (U.K) سے آئے ہوئے تھے۔ اُن کا نام یہ تھا— ڈونلڈ (Rev. Donald Reeves)۔ انھوں نے اپنی تقریر کا آغاز ساؤتھ افریقہ کے مشہور لیڈر نیلسن منڈیلا (Nelson Mandela) کے اس قول سے کیا: If you want peace, then talk to your enemies & not with your friends. یعنی اگر تم امن چاہتے ہو تو اپنے دشمن سے بات کرو، نہ کہ اپنے دوستوں سے۔ میں نے ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ قول ایک غیر فطری قول ہے۔ ہے کہ ”دوست اور دشمن“ کی اصطلاح میں سوچنا چھوڑ دیا جائے۔ انسان کو صرف انسان سمجھا جائے۔
میں نے کہا کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جس کو آپ اپنا دشمن سمجھ لیتے ہیں، وہی عملی اعتبار سے آپ کا سب سے بڑا دوست ہوتا ہے۔
اس معاملے کی ایک مثال خود نیلسن منڈیلا کا ملک ساؤتھ افریقہ ہے۔ ساؤتھ افریقہ کو ایک ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے۔ ساؤتھ افریقہ کو کس نے ترقی یافتہ ملک بنایا۔ یہ نیلسن منڈیلا یا ان کے ساتھی نہیں تھے، بلکہ وہ باہر سے آئے ہوئے انگریز تھے جن کو نیلسن منڈیلا اور ان کے ساتھی دشمن بتا کر اُن کے خلاف ’’آزادی‘‘ کی لڑائی لڑتے رہے۔
ہمارے ساتھیوں نے مسٹر ڈونلڈ کو انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی دی۔ اس کو دیکھ کر انھوں نے کہا: It looks very beautiful. It can fit into my pocket very easily. 20 اکتوبر 2009 کو میری تقریر سننے کے بعد کانفرنس میں فرینچ زبان کی مترجم مز نفیسہ (Nefissa El Bakly) نے میرے ایک ساتھی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:
Maulana Wahiduddin Khan has a unique perspective of Islam. اس کانفرنس میں عربی، انگریزی اور فرینچ زبان رائج تھی۔ میں نے انگریزی میں تقریر کی۔ اپنی تقریر میں کہا کہ موجودہ زمانے میں ہر عورت اور مرد پیس (peace) کی بات کرتا ہے، مگر یہ لوگ پوٹکل فارمولے کے ذریعے پیس کو حاصل کرنا چاہتے ہیں، جب کہ پوٹکل فارمولا اس معاملے میں قابلِ عمل نہیں۔ اسپر بچول فارمولا درکار ہے۔ یہ اسپر بچول فارمولا قرآن میں دیا گیا ہے، وہ الصلح خیر (النساء: 128) کا اسپر بچول فارمولے کا مطلب ہے— معاملے کو یک طرفہ بنیاد پر حل کرنا: To solve the problem on unilateral basis میں نے کہا کہ نزاع کے موقع پر اسپر بچول فارمولا ہی قابلِ عمل فارمولا ہے، نہ کہ پوٹکل فارمولا۔ ایک عرب اسکالر سے ملاقات ہوئی۔ وہ یہودیوں کے بارے میں بہت سخت الفاظ بولنے لگے— وہ ظالم ہیں، وہ سازشی ہیں، وغیرہ۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں، یہود کے بارے میں اسی قسم کے منفی خیالات رکھتے ہیں، مگر آپ جیسے لوگ یہود کے
بارے میں صرف اتنانہی جانتے ہیں کہ 1948 میں وہ فلسطین میں داخل ہوگئے اور یہاں کے ایک حصے پر اسرائیلی حکومت قائم کرلی، وغیرہ۔
مگر یہ ایک ناقص رائے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہود نے بہت بڑے بڑے علمی کارنامے انجام دیئے ہیں، قدیم مسلم اسپین میں بھی اور اسی طرح موجودہ دور میں بھی۔ اس وقت میں دورِ جدید کی نسبت سے ان کے صرف ایک کارنامے کا حوالہ دوں گا۔ یہ ایک ایسا کارنامہ ہے جس کے برابر کا کارنامہ موجودہ زمانے میں کوئی مسلم عالم بھی انجام نہ دے سکا۔
یہ کام پہلی بار ایک یہودی سائنس داں نے کیا، یعنی آئن اسٹائن (Albert Eienstei) آئن اسٹائن نے خالص سائنسی بنیاد پر یہ ثابت کیا کہ موجودہ دنیا میں انسان کسی شعبے میں صرف اضافی علم (relative knowledge) تک پہنچ سکتا ہے، حقیقی علم (real knowledge) تک پہنچنا انسان کے لیے ممکن ہی نہیں۔ ایسی حالت میں انسان کے لیے صرف دو میں سے ایک کا آپشن ممکن ہے—ایک، یہ کہ وہ ہمیشہ تشکیک (scepticism) میں مبتلا رہے۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ وہ علمی امکان (probability) پر اپنے یقین کی بنیاد رکھے۔ چوں کہ اس دنیا میں تشکیک کوئی قابلِ عمل نظریہ نہیں، اس لیے انسان مجبور ہے کہ وہ علمی امکان کو اپنے یقینی علم کی بنیاد بنائے۔ قرآن کے مطابق، یہی کسی انسان کا ٹسٹ پر پورا اترنا ہے۔ میری بات سن کر مذکورہ عرب اسکالر نے کہا کہ میں نے اس اعتبار سے کبھی نہیں سوچا تھا، اب میں اس پر غور کروں گا۔
قرآن میں مومن کی ایک صفت سیاحت (سفر) بتائی گئی ہے (التوبۃ: 112)۔ زمانے میں عام طور پر سفر تفریحی سفر کے ہم معنی بن گیا ہے، جب کہ قرآنی سیاحت کا مطلب معرفت کی مگر موجودہ زمانے کے مسلمان معرفت کے سفر سے تقریباً آشنا ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حج اور عمرہ کا سفر آج کل صرف آؤٹنگ (outing) کے ہم معنی بن گیا ہے۔ مسلم جرائد میں اکثر مسلمانوں کے سفر نامے چھپتے رہتے ہیں، لیکن وہ جدید اصطلاح میں ٹورازم (tourism) کے ہم معنی مثال کے طور پر حال میں ایک معروف عالم کا سفرنامہ ایک ماہ نامہ میں نظر سے گزرا۔
ارضِ اُردن (عُمّان) کے لیے تھا۔ اس سفر نامے کا آغاز کچھ اس طرح تھا:
”یہ ایک چمکیلی شام تھی۔ میری بیٹی کے یہاں سب جمع تھے۔ میرے ایک عزیز ابھی ابھی اردن میں بحرِ میت کے کنارے ایک کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس لوٹے تھے۔ ان کا بیگ یادگاری تحائف بانٹنے کا منتظر تھا۔ بیگ کھلتا چلا گیا اور آخر میں پانی سے بھری ہوئی ایک بوتل نکلی۔ میرے عزیز نے کہا: اب کچھ تماشا ہو جائے— بچوں سمیت ہر شخص بحرِ میت کے اس پانی کو چکھے گا اور اگر وہ اس کا ذائقہ سہارہ نہ سکا تو گلاس حاضر ہے، وہ اس میں تھوک دے۔ سب سے پہلے بچوں کی باری تھی۔ ایک کے بعد دوسرا اس پانی کا ایک ایک گھونٹ چکتا گیا اور منہ بنا کر اسے اُگلتا رہا۔ میرے بھائیوں میں سے ایک بھائی بھی مع اپنی اہلیہ کے حاضر تھے۔ وہ دونوں بھی اس تجربے سے محظوظ ہوئے۔ آخر میں گھر کے سب سے بزرگ فرد یعنی راقم کی باری تھی۔ میں نے تمغۂ شجاعت کا اعزاز حاصل کرنے کے لیے پانی کے دو گھونٹ گھٹا گھٹ چڑھا لیے۔ بحرِ مردار کے پانی میں نمک کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اس کا پینا آفتِ جان ہو سکتا جوں ہی یہ پانی معدہ سے ٹکرایا تو پیٹ میں ایک بھونچال برپا ہو گیا۔ اب ایسا معلوم ہوا کہ شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ اپنی بہت سی نادانیوں میں ایک اور کا اضافہ ہو گیا“۔
اول یہ کہ یہ زبان مومنِ سائح کی زبان نہیں ہے۔ مومنِ سائح کے کلام میں جو سنجیدگی ہونی چاہیے، وہ اس عبارت میں مفقود ہے۔ دوسری بات یہ کہ مومن کی سیاحت عبرت اور نصیحت کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ ”تماشا“ کے لیے۔ مذکورہ عبارت میں جس پانی کا ذکر ہے، وہ بحرِ مردار (Dead Sea) کا پانی تھا۔ بحرِ مردار اُس خدائی عذاب کے باقیات میں سے ہے جو قومِ لوط پر آیا تھا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ان آثار میں اہلِ ایمان کے لیے نشانیاں ہیں (الحجر : 77-75)۔ لیکن موجودہ زمانے کے مسلمان وہاں سے گزرتے ہیں اور وہاں انھیں تفریح اور تماشے کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے گھر کا جو ماحول ہوتا ہے، اس کی ایک تصویر مذکورہ اقتباس میں نظر آتی ہے۔ اس اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے گھروں کا ماحول بے حسی کا ماحول بن یہی وہ ماحول ہے جو موجودہ زمانے میں بچوں کو بگاڑ رہا ہے۔
مسلمان اپنے بچوں کے بگڑ کے لیے خارجی چیزوں کی شکایت کرتے ہیں، حالاں کہ یہ دراصل اُن کا اپنا گھر ہے جو اُن کے بچوں کے بگڑ کا اصل ذریعہ ہے۔ بچوں کی اصلاح کے سلسلے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بچوں کے اندر آخرت کا احساس پیدا ہو جائے، جب کہ مذکورہ قسم کے گھر میں بچوں کے اندر احساسِ دنیا پیدا ہوتا ہے، نہ کہ احساسِ آخرت۔ جو لوگ آخرت میں خدا کی رحمت سے محروم قرار پائیں گے، ان کے گھروں کی تصویر قرآن میں اس طرح بتائی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں میں خوش وخرم (الإنشقاق: 13) رہتے تھے۔ بچوں کی اصلاح کا تعلق خارجی ’’وعظ‘‘ سے نہیں ہے، بلکہ وہ تمام تر گھر کے داخلی ماحول پر منحصر ہے۔
میرے ساتھی اس سفر میں رات دن صرف ایک کام کے لیے دوڑ رہے تھے، اور وہ ہے— قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر لوگوں تک پہنچانا۔ اسی کا نام مشنری اسپرٹ ہے۔ دراصل اس احساس سے پیدا ہوتی ہے کہ آپ کے پاس دوسروں کو دینے کے لیے کوئی چیز ہے۔ اس سے بڑی کوئی قوت محرکہ (incentive force) نہیں۔ یہ سادہ بات نہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو حدیث کے مطابق، ’’ادخال کلمہ‘‘ کا کام انجام دے رہے ہیں۔ قطر کی اس کانفرنس میں ہر ملک کے مسلم علماء آئے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ، ہر مذہب کے نمائندے بھی یہاں موجود تھے۔ مگر کسی بھی ملک کے مسلمان نے یہ نہیں کیا کہ وہ قرآن کا ترجمہ یا اسلامی لٹریچر حاضرین کو مطالعے کے لیے دے۔ یہ صرف سی پی ایس کے لوگ تھے جو دوڑ دوڑ کر لوگوں کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دے رہے تھے۔ تمام لوگ اس کو بڑے شوق سے لے رہے تھے اور مزید نسخوں کا مطالبہ کرتے تھے، تاکہ وہ اسے دوسروں کو دے سکیں۔
ہمارے ساتھی ایک صاحب سے ملے۔ وہ مراکو سے آئے ہوئے تھے۔ وہ کئی ملکوں میں مراکو کے سفیر رہ چکے ہیں۔ اُن کو قرآن کے انگریزی ترجمہ کی ایک کاپی دی گئی۔ انھوں نے تین اور کاپی انھوں نے کہا کہ اس کو میں شاہی محل میں پہنچاؤں گا۔ اسی طرح ہر ایک نے نہایت شوق کے ساتھ قرآن کا انگریزی ترجمہ لیا، جیسے وہ پہلے سے اس کے منتظر تھے۔
قدرتی گیس کی دریافت سے پہلے قطر ایک غریب ملک تھا۔ اب وہ یورپ اور امریکا کی مانند ایک ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے۔ اس کا تقاضا تھا کہ لوگوں کے دلوں میں شکر کا دریا موج زن ہو جائے، لیکن مجھے اپنے زمانہ قیام میں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو حقیقی معنوں میں شکرِ خداوندی کی بات کرتا ہو۔ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ انسان اسباب شکر کے درمیان ناشکر ابنا رہتا ہے۔ اس کا جواب ایک حدیث رسول میں ملتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ینزل بالعبد الأمر فيدعو الله عزوجل، فيصرفه عنه، فيأتيه الشيطان فيضعّف شکره (الشكر لابن أبي الدنيا، رقم الحديث: 25) یعنی جب اللہ کسی انسان کو اپنی نعمت عطا فرماتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے اور وہ شکر کے احساس کو کم زور کر دیتا ہے۔ یہ ’’تضعیف‘‘، یعنی شکر کے اروژن (erosion) کا عمل کس طرح ہوتا ہے۔ اس طرح ہوتا ہے کہ شیطان شعوری یا غیر شعوری طور پر انسان کے ذہن میں یہ ڈال دیتا ہے کہ یہ نعمت تم کو خدا کی طرف سے نہیں ملی، بلکہ وہ فلاں سبب سے تم کو ملی ہے۔ مثلاً کسی اتفاق سے، اپنی کسی قابلیت سے، خاندانی وراثت سے، وغیرہ۔ مثال کے طور پر جب عرب کی سرزمین کے نیچے تیل کے ذخائر برآمد ہوئے تو مغربی’’ ماہرین‘‘ نے کہا یہ جغرافی حادثہ (accident of geography) کا نتیجہ ہے، یہی وہ باتیں ہیں جن کو حدیث میں شیطانی تضعیف کہا گیا ہے۔
20 اکتوبر 2009 کو ڈاکٹر عبد المجید عمر النجار سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ راقم الحروف کی کتاب ’’الاسلام يتحدى‘‘ پڑھ چکے ہیں۔ انھوں نے اپنی کتاب ’’الإيمان بالله وأثره في الحياة‘‘ (صفحات: 225) دار الغرب الاسلامی، بیروت (1997) میں ’’الإسلام يتحدى‘‘ کو مصادر میں سے شمار کیا ہے۔ ڈاکٹر عمر النجار کی ایک شاگرد رمز آمال حمیدی کے ذریعے مجھ کو یہ کتاب ملی۔ ڈاکٹر عمر النجار پیرس (فرانس) میں اسلامک اسٹڈیز اینڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ہیں۔
ڈاکٹر النجار کی یہ کتاب قدیم علم کلام اور جدید علم کلام کی روشنی میں لکھی گئی ہے۔ قدیم علم کلام یونانیات کے رد عمل میں پیدا ہوا تھا۔ اسی طرح مصنف نے لکھا ہے کہ دورِ جدید میں بحث و تجدید کی ایک نئی تحریک شروع ہوئی۔ اس کا محرک غالباً اسلامی عقیدے کے خلاف وہ شدید چیلنج تھا جو مغربی
استعمار کے دور میں ظاہر ہوا جس نے امت اسلامیہ کو اپنا نشانہ بنایا تھا (منذ حل يقارب القرن من الزمن بدأت تدبّ فى علم العقيدة حركة بعث و تجديد. ربّما كان الدار ع إليها شدّة التحدى للعقيدة الإسلامية من قبل الغرب - صفحہ (23)۔
قدیم علم کلام بلاشبہ یونانیات کے ردعمل میں پیدا ہوا تھا، لیکن جدید علم کلام کی نوعیت اس سے مختلف ہے۔ جدید علمِ کلام کی ضرورت اصلا کسی استعمارى حملہ کے نتیجے میں پیدا ہوئی، بلکہ وہ خود علم کے نئے ارتقاء کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ جدید سائنسی علم اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلامی عقیدے پر کوئی حملہ نہیں ہے، بلکہ وہ اسلامی عقیدے کے لیے علمی تائید کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ ایک مثبت ظاہر ہ ہے، نہ کہ منفی ظاہر ہ۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جدید سائنس موجودہ زمانے میں اسلام کا علم کلام ہے۔ عباسی دور کا علمِ کلام ایک دفاعی علم کے طور پر پیدا ہوا تھا، لیکن دورِ جدید کے علم کلام کی حیثیت اس سے مختلف ہے۔ دورِ جدید میں علم کلام کا مطلب ہے ۔ جدید علمی مُسَلَّمات کی روشنی میں اسلامی عقیدے کا از سر نو اظہار۔
22 اکتوبر 2009 کی شام کو مولانا محمد شاہد خان ندوی اپنی اہلیہ کے ساتھ ہوٹل میں ملاقات کے لیے آئے۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ آپ ہماری چھ کتابیں ضرور پڑھیں ــ خاتونِ اسلام ، عورت معمار انسانیت ، رازِ حیات ، تعمیرِ حیات ، رہنمائے حیات ، کتابِ زندگی ۔ اس کے بعد میں نے دونوں سے کہا کہ عورت صرف گھر کی رفیقہ نہیں ہے، بلکہ عورت اور مرد دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین اِنٹیلکچول پارٹنر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ دونوں شعوری طور پر اس کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں۔ دونوں بہت دیر تک ہوٹل میں ہمارے پاس رہے۔ دعوت الی اللہ کے موضوع پر بھی بات ہوئی ۔
22 اکتوبر 2009 کی شام کو قطر سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ ہوٹل سے روانہ ہو کر ہم لوگ قطر ائیر پورٹ پہنچے۔ یہاں انتظار کے طور پر کچھ دیر ائیر پورٹ کے لاؤنج میں ہمارا قیام تھا ۔ محل کے انداز میں بنایا گیا ہے۔ دیگر سہولیات کے علاوہ ، یہاں کھانے پینے کا بھی اعلیٰ انتظام تھا۔
لیکن اس کی ایک چیز میرے لیے پریشان کن تھی۔ یہ لاؤنج مکمل طور پر ائر کنڈیشنڈ تھا۔ میرے ذوق کے مطابق نہیں۔ لاؤنج کے باہر لان میں بیٹھنا ممکن تھا، لیکن انتظار کی مجبوری کی بنا پر ہمیں اسی لاؤنج کے اندر ٹھہرنا پڑا۔
ائرپورٹ کے لاؤنج میں ایک خاص شخص سے ملاقات ہوئی۔ یہ حسن ادریسی الحمادی تھے۔ وہ ابوظبی (امارات) میں منسٹر آف پریزیڈینشل ایگزیکٹیو سیکریٹری ہیں۔ میرے ساتھیوں نے ان کو قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ لاؤنج میں مزید کئی ٹاپ کے لوگوں سے ملاقات ہوئی۔ ہمارے ساتھیوں نے سب کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دیا۔ دوران پرواز قطر ائر لائنز کے میگزین بازار (Harper’s) کا شمارہ اکتوبر 2009 دیکھا۔ 300 صفحے کے اس میگزین میں تقریباً تمام آئٹم فیشن سے تعلق رکھتے تھے۔ میگزین کے صفحہ 250 پر ایک لگزری رزورت (The Body Holiday) کا اشتہار ان الفاظ میں چھپا تھا: Give us your body for a week, And we will give you back your mind. اس عنوان کے تحت ساحل پر تفریحی پروگرام کی تفصیل تھی۔ اس کے آخر میں یہ الفاظ درج تھے: You are guaranteed a remarkable experience in the persuit of health and well being. یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں دماغ (mind) کو بھی جسم (body) کے ماتحت بنا دیا گیا ہے۔ جدید کلچر میں یہ ذہن بنا دیا جاتا ہے کہ وہ جسم ہی کو سب کچھ سمجھے۔ چناں چہ اس زمانے میں پرسنالٹی ڈیولپ مینٹ (personality development) کا مطلب ہوتا ہے: فزیکل ڈیولپ مینٹ یا باڈی ڈیولپ مینٹ (physical development or body development)، ذہنی یا روحانی ارتقا (spiritual development) کا تصور جدید کلچر میں موجود نہیں۔ ہے کہ جدید انسان اس ارشادِ خداوندی کا کامل مصداق بنا ہوا ہے: يتمتعون ويأكلون كما تأكل الأنعام (محمد: 12)
23 اکتوبر 2009 کی صبح کو تین بجے ہمارے جہاز نے دہلی ائیر پورٹ پر لینڈنگ کی۔ یہ تین گھنٹے کی ایک اسموتھ فلائٹ (smooth flight) تھی۔ ائیر پورٹ کی ضروری کارروائیوں سے فارغ ہو کر ہم لوگ باہر ائیر پورٹ کے باہر ہمارے ڈرائیور پیشگی طور پر موجود تھے۔ پہلے زمانے میں ائیر پورٹ پر اترنے کے بعد ڈرائیور کو پانا ایک مشکل کام ہوتا تھا، لیکن اب موبائل کی ایجاد نے اس مسئلے کو بالکل آسان بنا دیا ہے۔ ائیر پورٹ کے باہر ہمارے ڈرائیور پیشگی طور پر موجود تھے۔ ائیر پورٹ پر اتر کر آپ اپنے ڈرائیور کو بتا دیجئے اور باہر نکلتے ہی آپ اس کو گیٹ پر موجود پائیں گے۔ یہ سہولت بھی اُن بے شمار انعاماتِ الہیہ میں سے ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: واتاكم من كل ماسألتموه (إبراهيم: 34)۔ ائیر پورٹ سے روانہ ہو کر بذریعہ کار ہم لوگ نظام الدین (ویسٹ) پہنچ گئے۔ دہلی سے قطر کا یہ سفر میرے لیے ایک خواب کی مانند تھا، ایک ایسا خواب جو دہلی سے شروع ہوا اور پھر دہلی پر ختم ہو گیا۔ سفر کے دوران جو کچھ پیش آیا، وہ گویا کہ کسی پر اسرار خارجی طاقت کے ذریعے پیش آیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس پورے سفر میں میری حیثیت صرف ایک معمول کی تھی، نہ کہ عامل کی۔ (یہ سفر نامہ مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے تیار کیا گیا)۔ ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن ماہنامہ الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن بمبئی سے شائع ہو رہا ہے۔ ایڈیشن کا نام دی اسپرچول میسیج (The Spiritual Message) ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے:
دی اسپرچول میسیج، فی کاپی -/15 روپے، سالانہ -/165 روپے۔
خط و کتابت کا پتہ ہے:
The Spiritual Message 302, Koldongri CHS, Sahar Road Andheri (East), Mumbai-400 099 (India)
Tel.: 65704898/99, Fax: 28236323
اسلام: ایک تعارف اسلام: ایک عظیم جدوجہد اسلام اور عصرِ حاضر اسلام پندرہویں صدی میں اسلام دورِ جدید کا خالق اسلام دینِ فطرت اسلام کا تعارف اسلام کیا ہے انسان اپنے آپ کو پہچان انسان کی منزل* تذکیر القرآن (مکمل) تاریخِ دعوتِ حق تاریخ کا سبق تعبیر کی غلطی تعمیرِ کی طرف حقیقت کی تلاش حل یہاں ہے خدا اور انسان دین کی سیاسی تعبیر دین کیا ہے دین و شریعت* راہیں بند نہیں رہنمائے حیات (کتابچہ) سبق آموز واقعات سفرنامہ اسپین و فلسطین سفرنامہ (غیر ملکی اسفار، جلد اول) سفرنامہ (غیر ملکی اسفار، جلد دوم) سوشلزم اور اسلام سوشلزم ایک غیر اسلامی نظریہ شتم رسول کا مسئلہ طلاق اسلام میں علما اور دورِ جدید عورت معمارِ انسانیت * فسادات کا مسئلہ قال اللہ وقال الرسول قرآن کا مطلوب انسان مارکسزم: تاریخ جس کو رد کر چکی ہے مذہب اور جدید چیلنج مذہب اور سائنس مسائلِ اجتہاد * مطالعہ حدیث * مطالعہ سیرت (کتابچہ) * مطالعہ سیرت * مطالعہ قرآن * منزل کی طرف مولانا مودودی، شخصیت اور تحریک * میوات کا سفر ہندوستان آزادی کے بعد ہند-پاک ڈائری * یکساں سول کوڈ نئی کتابیں *