Al-Risala · April 2010

ربانی دعا

Al-Risala, April 2010, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ آدم سے جب یہ غلطی ہوئی کہ انھوں نے شجر ممنوعہ کا پھل کھا لیا تو اچانک وہ اللہ کی رحمت سے محروم ہوگئے۔ اس کے بعد ان کو سخت ندامت ہوئی اور انھوں نے اللہ سے معافی کی دعا کی۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: فتلقى آدم من ربه كلمات فتاب عليه، إنه هو التواب الرحيم (البقرة: 37)۔

اس آیت میں تلقی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ تلقی کے لفظی معنی ہیں ملنا (to receive)، یعنی آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمات اخذ کئے، پھر اس کے مطابق دعا کی تو اللہ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا۔ یہاں یہ سوال ہے کہ اس تلقی کی صورت کیا تھی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے آواز دے کر آدم کو بتایا، یا کوئی فرشتہ آیا اور اس نے انھیں ان کلمات کی تلقین کی۔ یہاں اس قسم کا مفہوم لینا درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ الہام (inspiration) کا ایک معاملہ تھا۔ اسی طرح کے معاملے کی بابت امام مالک بن انس نے کہا ہے: نور يُلقى في قلب المؤمن۔ یعنی یہ ایک روشنی ہے جو مومن کے دل میں ڈالی جاتی ہے۔ جب کسی بندے پر شدید انابت طاری ہوتی ہے، وہ گریہ وزاری کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، وہ آخری حد تک اپنے آپ کو اللہ کے آگے ڈال دیتا ہے، اُس وقت نفسیات کی سطح پر اس کے اوپر ربانی کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ یہ کیفیات کچھ خاص الفاظ میں ڈھل جاتی ہیں۔ ربانی دعا کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی ربانی دعا اپنے آپ میں قبولیت کی پیشگی خبر ہوتی ہے۔ اس قسم کی ربانی دعا کی توفیق کس کو ملتی ہے۔ یہ توفیق اُس شخص کو ملتی ہے جو اپنے آپ کو کامل عبدیت کے مقام پر پہنچائے، جو اس حقیقت کو کامل سطح پر دریافت کرے کہ وہ پانے والا ہے اور خدا اس قسم کا گہرا احساس جب آدمی کے اوپر طاری ہو تو وہ ایک ایسا لمحہ ہوتا ہے جب کہ بندے کا خصوصی تعلق اللہ سے قائم ہو جاتا ہے۔ اُس وقت اس کی زبان سے ذکر ودعا کے الہامی الفاظ نکلنے اسی کا نام ربانی دعا ہے۔

Printed page